بسم الله الرحمن الرحيم
چین غیر جانبدار نہیں ہے: سیاسی اسلام کو روکنے کے لیے ثالثی!
تحریر: استاد یوسف ارسلان
(ترجمہ)
جمعہ، 3 اپریل 2026 کو چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اعلان کیا کہ، "جب سے پاکستان اور افغانستان کے تنازع میں دوبارہ شدت آئی ہے، چین نے اپنے مخصوص انداز میں ثالثی کی کوششیں کی ہیں، متعدد ذرائع اور مختلف سطحوں پر دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے لیے حالات سازگار بنائے اور پلیٹ فارم مہیا کیے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی چین کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور اسے خوش آئند قرار دیتے ہیں اور دوبارہ بیٹھ کر بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مشاورت کا عمل مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ العمل اور آگے بڑھ رہا ہے۔ تینوں فریقین اس عمل سے متعلق مخصوص معاملات بشمول میڈیا رپورٹس پر مشترکہ فہم اور اتفاق رائے رکھتے ہیں"۔
افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز فروری 2026 کے آخر میں افغان سرزمین کے اندر پاکستانی فضائی حملوں اور دونوں اطراف سے الزامات کے تبادلے کے بعد ہوا۔ اسلام آباد کابل پر ٹی ٹی پی (TTP)، یعنی پاکستانی طالبان کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جبکہ کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ یہ جھڑپیں 2021 میں افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے بدترین سرحدی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں، جس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحد کو براہِ راست تصادم کے علاقے میں تبدیل کر دیا ہے۔
سطحی طور پر، چین خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماؤ ننگ اور دیگر چینی سفارت کاروں نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ بیجنگ کسی کی طرف داری کیے بغیر محض "مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے"۔ اس تاثر کو افغانستان کے اندر بھی بڑی احتیاط کے ساتھ فروغ دیا جا رہا ہے۔ کابل میں طالبان سے وابستہ میڈیا اور حکام چین کے "تعمیری اور دوستانہ کردار" کی بات کرتے ہیں اور اسے باہمی احترام کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم، جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) حقیقت یہ بتاتی ہے کہ چین غیر جانبدار نہیں ہے۔ بیجنگ کے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات تاریخ، معیشت اور سلامتی میں گہرے پیوست ہیں، اور طالبان، چینی سرمایہ کاری کی ضرورت کے باعث، عملی طور پر بیجنگ کی کھینچی ہوئی سرخ لکیروں کی پاسداری کرتے ہیں۔ لہٰذا، اس کی ثالثی کوئی غیر جانبدارانہ سفارت کاری نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اہم مفادات کے تحفظ اور انتظام کا ایک آلہ ہے۔
خطے میں چین کے بنیادی مفادات، سب سے پہلے اور اہم ترین، سلامتی (سیکیورٹی) سے متعلق ہیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان میں موجود اسلامی گروہوں کے بارے میں گہری تشویش رکھتا ہے۔ پاکستان میں چینی کارکنوں اور منصوبوں پر پاکستانی طالبان کے بار بار ہونے والے حملوں نے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، افغانستان میں جہادی گروہوں کی موجودگی، بشمول ایغوروں کی ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM)، چین کے لیے ایک براہِ راست خطرہ ہے، جو یہ نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین ایغور جنگجوؤں کا نیا ٹھکانہ بنے۔ لہٰذا، حالیہ ثالثی امن کے قیام کی کسی حقیقی کوشش کے بجائے پاکستان کے تعاون سے ان گروہوں کو مشترکہ طور پر قابو کرنے کی کوشش زیادہ معلوم ہوتی ہے۔
سلامتی کے ان خدشات کے ساتھ ساتھ، چین پاکستان کے موقف کے عین مطابق سیاسی اسلام کے اثر و رسوخ کو روک کر اپنے اقتصادی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ کشیدگی براہِ راست پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کو نشانہ بناتی ہے، جو کہ 60 ارب ڈالر کا منصوبہ اور 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو' کا بنیادی ستون ہے۔ سرحدی جھڑپوں نے نہ صرف تجارت اور ٹرانزٹ روٹس (آمد و رفت کے راستوں) کو درہم برہم کیا ہے، بلکہ افغانستان تک سی پیک (CPEC) کی توسیع بشمول سونا، تانبا اور لیتھیم تک رسائی اور وسطی ایشیا کے لیے نئے راستے کھولنے میں بھی تاخیر کر دی ہے۔ ثالثی کے ذریعے، چین بنیادی طور پر جنگ بندی قائم کرنے، سرحدی راستوں کو دوبارہ کھولنے اور اپنی سرمایہ کاری کو ان خطرات سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ دوہرا نقطہ نظر یعنی پہلے روک تھام اور پھر معاشی توسیع، جنوبی ایشیا کو اپنے اہم حلقہ اثر میں تبدیل کرنے کے حوالے سے بیجنگ کی سٹریٹجک ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔
چین خطے میں امریکہ کی پالیسی سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ ان تناؤ کو ہوا دے کر یا ان سے فائدہ اٹھا کر، امریکہ پاکستان کی توجہ بھارت کے ساتھ اس کی بنیادی دشمنی سے ہٹا کر افغان میدان کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے۔ اس منظر نامے کے مطابق، بھارت کو اپنی اقتصادی اور فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کا زیادہ موقع ملے گا، جس سے وہ چین کے خلاف ایک مدمقابل قوت (کاؤنٹر ویٹ) کے طور پر کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ چین نہیں چاہتا کہ خطہ ان امریکی اہداف کی طرف جائے، کیونکہ بھارت کی پوزیشن مضبوط ہونے سے بحرِ ہند اور جنوبی ایشیا میں چین کے سٹریٹجک اثر و رسوخ پر منفی اثر پڑے گا۔
نتیجتاً، چینی کمیونسٹ پارٹی کی پالیسی سیاسی اسلام کے خلاف ایک گہری اور اصولی دشمنی، اور خطے میں اس کے ابھار کے شدید خوف پر مبنی ہے۔ پارٹی اسلامی تحریکوں کو مشرقی ترکستان میں اپنے قائم شدہ کنٹرول اور یہاں تک کہ اپنے علاقائی قرب و جوار کے لیے بھی ایک وجودی خطرہ تصور کرتی ہے، اور اسے 'ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ' (ایغور) جیسے گروہوں کا خوف ہے جو افغان سرزمین سے کارروائیاں شروع کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں چینی منصوبوں پر پاکستانی طالبان کے حملوں نے سلامتی کے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
علاوہ ازیں، معاشی محرکات بھی ایک کلیدی عنصر ہیں۔ سرحدی کشیدگی پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور افغانستان تک 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو' کی توسیع بشمول لیتھیم، تانبے اور سونے تک رسائی کے لیے خطرہ ہے۔ جغرافیائی سیاسی طور پر، چین اس امریکی حکمتِ عملی کی مخالفت کرتا ہے جس کے تحت ان تناؤ سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی توجہ بھارت کے ساتھ اس کی دشمنی سے ہٹائی جا رہی ہے، تاکہ بیجنگ کے مدمقابل ایک قوت کے طور پر نئی دہلی کی پوزیشن کو مضبوط کیا جا سکے۔ لہٰذا، چین کی ثالثی محض امن کے حصول کی کوئی غیر جانبدارانہ کوشش نہیں ہے، بلکہ یہ کشیدگی کو منظم کرنے، مشترکہ خطرات پر قابو پانے اور اپنے معاشی و سلامتی کے اثر و رسوخ کو گہرا کرنے کا ایک آلہ ہے۔
حزب التحریر ولایہ افغانستان کے میڈیا آفس کے رکن۔