بسم الله الرحمن الرحيم
متفرقات الرایہ – شمارہ 610
پہلے صفحے کی سرخی
اے دنیا بھر کے مسلمانو: ہم ایک سنہری موقع کی دہلیز پر کھڑے ہیں کہ ہم اپنی اسلامی آئیڈیالوجی کو اس خلافتِ راشدہ کی ریاست کے ظہور کے ذریعے غالب کرنے کے لیے کام کریں جس کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے، پس اپنی کمر کس لیں اور اسلامی زندگی کے دوبارہ احیا کے لیے کام کرنے والوں کے مددگار بنیں تاکہ ہم اپنی وہ عزت، طاقت اور ہیبت دوبارہ حاصل کر سکیں جسے ہم نے اپنی اس وقت کھو دیا تھا جب ہم نے اپنے بنیادی مسائل کو پسِ پشت ڈال دیا تھا، جن میں سرفہرست اقتدار کی چوٹی یعنی وہ خلیفہ ہے جو اللہ کی شریعت کے مطابق حکمرانی کرے گا اور امت اور دنیا کو سرمایہ داری کے ظلم سے نجات دلائے گا۔
===
پہلے صفحے کے لیے
افریقہ کے مسائل کا حل صرف اسلام ہی میں ہے
گھانا کے دارالحکومت "اکرا" میں منگل اور بدھ 21 اور 22 جولائی 2026 کو صحت کے موضوع پر ایک افریقی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں صحت کی خودمختاری کے فروغ، صحت کی دیکھ بھال کی ہمہ گیر کوریج کے حصول اور خاص طور پر 2030 تک ایڈز اور تپِ دق کے خاتمے کی براعظمی کوششوں میں تیزی لانے، زچگی کے دوران شرحِ اموات میں کمی اور افریقہ میں مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس حوالے سے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سربراہی کانفرنس میں زیرِ بحث آنے والے مسائل پر نظر ڈالنے والا شخص یہ پائے گا کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے فطری نتائج ہیں، چاہے وہ افریقہ اور دیگر جگہوں پر اس کے اطلاق کی وجہ سے ہوں، یا بڑی سرمایہ دارانہ ریاستوں کی افریقی ممالک کو نوآبادی بنانے کی وجہ سے، وہ استعمار جس سے افریقہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ دوچار رہا ہے، خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد اور بالخصوص گزشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی سے افریقہ پر بڑی سرمایہ دارانہ ریاستوں کے درمیان استعماری کشمکش کی شدت کی وجہ سے۔
پریس ریلیز میں مزید افریقی براعظم کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اور ان کے ضیاع کے بارے میں کہا گیا ہے: یہ بات سب کو معلوم ہے کہ افریقہ دنیا کے امیر ترین براعظموں میں سے ایک ہے، خاص طور پر پانی، زراعت، جنگلات، قیمتی اور تزویراتی معدنیات وغیرہ، نیز تیل اور قدرتی گیس میں، لیکن بجائے اس کے کہ یہ دولت اس کے اپنے لوگوں کی ملکیت ہوتی، یہ استعماری ممالک کی ہوس کا نشانہ بن گئی، جس کے نتیجے میں اس کے عوام دنیا کے غریب ترین لوگ بن گئے، لیکن وہ جہالت کے مسئلے سے بھی دوچار رہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں اسلام کی حکمرانی نہیں رہی، اور اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ انہوں نے اپنے لاکھوں بیٹوں کی جانیں استعماری سرمایہ دارانہ ریاستوں کے درمیان جاری کشمکش کے ایندھن کے طور پر پیش کیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افریقہ جس مصیبت کا شکار ہے اس کی وجہ دنیا پر مسلط سرمایہ دارانہ نظام ہے، چنانچہ کہا گیا: دنیا میں مصیبتوں کی اصل جڑ یہ استعماری سرمایہ دارانہ نظام ہے، جس نے افریقہ اور دیگر خطوں سے ان کی دولت چھین لی، اور وہاں اپنی ذاتی آزادیوں کے تقدس کو چھوڑ دیا، اور ان پر اپنے ایسے ایجنٹ مقرر کر دیے جو اس کی خدمت اور اس کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے کوشاں رہتے ہیں... جہاں تک اس کی دولت چھیننے کا تعلق ہے تو اس نے وہاں شدید غربت پیدا کر دی۔ اور جہاں تک ذاتی آزادیوں کے تقدس کا تعلق ہے تو اس نے وہاں ایڈز جیسی مہلک بیماریاں پیدا کیں۔ اور جہاں تک ان پر اپنے ایجنٹوں کی تقرری کا تعلق ہے تو اس نے وہاں صحت کی دیکھ بھال کی خرابی، امور کی ناقص نگرانی اور شدید غربت پیدا کی۔ اور افریقہ کو اس تلخ حقیقت سے نجات دلانے کے لیے پریس ریلیز میں کہا گیا: افریقہ کے پاس اس تلخ حقیقت سے نجات کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ ایک درست آئیڈیالوجی کو اپنائے، اور واحد درست آئیڈیالوجی اسلام ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اس کے فرزندوں میں شعور کی سطح بلند ہو گی اور وہ استعمار سے نجات پائیں گے، اور اسی کے ذریعے وہ ایک درست نشاۃِ ثانیہ حاصل کریں گے، اور ایجنٹ حکمرانوں سے چھٹکارا پائیں گے، اور اسی کے ذریعے اس کے تمام مسائل حل ہوں گے اور وہ اپنی لوٹی ہوئی دولت واپس حاصل کر سکے گا۔
اور آخر میں بیان میں کہا گیا:حزب التحریر کا مرکزی میڈیا آفس افریقہ کے لوگوں، دانشوروں، اہل الرائے اور بااثر شخصیات کے سامنے اسلامی آئیڈیالوجی کو اس کے درست عقلی عقیدے کے ساتھ پیش کرتا ہے جو انسانی عقل کو مطمئن کرتی ہے اور اس کی فطرت کے عین مطابق ہے، اور اس کا وہ نظام جو اس عقیدے سے نکلتا ہے، اور انہیں اس آئیڈیالوجی کو اپنانے، افریقہ کے مختلف ممالک میں اس کے حق میں عوامی رائے عامہ پیدا کرنے کے لیے کام کرنے اور درست اور ہمہ گیر نشاۃِ ثانیہ کے حصول کی دعوت دیتا ہے، اور انہیں اس بیان کے نیچے دیے گئے اپنی ویب سائٹ، ای میل اور فون نمبروں کے ذریعے رابطہ کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ انہیں ایسی کتابیں اور مطبوعات فراہم کر سکے جن میں اس آئیڈیالوجی کی تفصیلات اور انسانی مسائل کے حل موجود ہیں۔
پریس ریلیز کا اختتام افریقہ کے مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کی یاد دہانی کے ساتھ کیا گیا:﴿فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى * وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً﴾"پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت آئے، تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی وہ نہ بھٹکے گا اور نہ ہی تکلیف پائے گا۔ اور جس نے میرے ذکر سے اعراض کیا تو اس کے لیے تنگی کی زندگی ہو گی"۔ (سورۃ طہ: آیت 123-124)
===
اداریے کے تحت
مسلم افواج کب اٹھیں گی تاکہ سرزمینِ مبارک کو یہودیوں سے پاک کر سکیں؟!
جمعہ 24/07/2026 کو نابلس کے علاقے میں واقع قصبے "تل" میں چار نوجوان شہید ہوئے، جو آباد کاروں کے حملوں اور مجرم قاتل یہودی وجود کی فوج کی جانب سے ان کی سرپرستی کے خلاف اپنا اور اپنے قصبے کا دفاع کر رہے تھے، اور اگرچہ ایک حملہ آور اپنے ہی اس اسلحے سے مارا گیا جو اس سے چھین لیا گیا تھا، لیکن گاؤں کے لوگ ہر طرح کی طاقت اور اسلحے سے محروم تھے، اور ان کے پاس اپنے دفاع کا کوئی ذریعہ نہیں تھا سوائے اپنے ننگے سینوں کے جن پر وہ نفرت اور جرم کی گولیاں کھا رہے تھے۔
اس حوالے سے سرزمینِ مبارک فلسطین میں حزب التحریر کے میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے: ایک جرم کے بعد دوسرا جرم جاری ہے، اور مذمت کے گھسے پٹے اور ناپسندیدہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ان کے بیانات سے بھی زیادہ قابلِ نفرت بات یہ ہے کہ انہوں نے پہلے لوگوں کو آباد کاروں کے غولوں کے خلاف "عوامی مزاحمت" کی دعوت دی تھی، اور عباس اتھارٹی نے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کر لی ہے اور اس کا بوجھ ان لوگوں پر ڈال دیا ہے جن کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے، پھر جب لوگ آباد کاروں کے سامنے ڈٹ گئے تو انہوں نے دیکھا کہ مجرم فوج اپنے آباد کاروں کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ انہیں اتھارٹی کی جانب سے عشرِ عشیر حرکت بھی نظر نہیں آئی، سوائے مذمت اور افسوس کے اظہار کے، اور یہ بات اس سے بعید نہیں ہے جس نے خیانت آمیز اوسلو معاہدے کو اپنا قبلہ بنا لیا، اور سکیورٹی کوآرڈینیشن (غداری) کو مقدس سمجھ لیا، اور غاصب وجود کو تسلیم کرنا ہر اس شخص کے لیے لازم قرار دے دیا جو بلدیاتی یا قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہو!
فلسطین کے لوگ، خاص طور پر مغربی کنارے اور غزہ کے، اپنے قیدیوں اور الاقصیٰ کے ساتھ یہ دیکھ رہے ہیں کہ: دشمن نے انہیں آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے گھیر رکھا ہے، چنانچہ وہ دشمن کے پیچھے سے کسی مددگار کے منتظر ہیں تو وہ ان حکومتوں کو پاتے ہیں جنہوں نے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے اور بیڑیاں مزید مضبوط کر دی ہیں، اور وہ قاتل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑی ہیں، اور انہوں نے ایک ایسی امت کو جو فلسطین کی آزادی کے لیے جہاد کے لیے بے چین ہے اور ان افواج کو جو مسجد اقصیٰ میں نماز کی گھڑی کی آرزومند ہیں، اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے حرکت کرنے سے روک رکھا ہے۔
فلسطین کے لوگوں کو اب یقینی موت سے کوئی جائے پناہ اور منصوبہ بند جبری بے دخلی سے کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی، اور ہر طرف سے اندھیروں نے انہیں گھیر لیا ہے، اے اللہ، سوائے ان کی امت اور اس کے سپاہیوں میں موجود روشنی کی ایک کرن کے، وہ کرن جو ان کے نفوس اور دلوں میں بجھنے کے قریب ہے کیونکہ انہوں نے امت اور اس کی افواج سے بارہا دہائیاں دی ہیں کہ وہ ایک ایسی معیاری حرکت کریں جو ہر حرکت سے مختلف ہو، ایک ایسی حرکت جو بزدلی، تعلقات کی بحالی اور مسلم افواج کی جانب سے یہودی وجود کی حفاظت کرنے والے تخت و تاج گرا دے، ایسی حرکت جو سپاہیوں کو ان کی بیرکوں میں، توپوں کو گوداموں میں اور طیاروں کو ہینگروں میں نہ رہنے دے، ایسی حرکت جو حطین اور عین جالوت کے دنوں کی یاد تازہ کر دے، جو قادسیہ اور یرموک کی یاد دلائے۔
===
مسلم افواج کے نام:اگر تم ہی مسریٰ (جائے معراج) کی مدد کے لیے حرکت نہیں کرو گے، تو پھر کون کرے گا؟!
نام نہاد ہیکلِ سلیمانی کی تنظیموں اور انتہا پسند آباد کار گروپوں نے جمعرات 23 جولائی 2026 کو مسجد اقصیٰ پر بڑے پیمانے پر دھاوا بولا، جس کا مقصد ایک ہی دن میں پانچ ہزار حملہ آوروں کی حد کو عبور کرنا تھا۔ تیاریاں صرف حملہ آوروں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں کے اندر تلمودی رسومات کی ادائیگی میں شدت لانا بھی شامل ہے، جس میں اجتماعی دعائیں، سجدے اور مذہبی طومار لانا اور انہیں اعلانیہ طور پر پڑھنا شامل ہے۔
الرایہ: معاملہ بہت سنگین ہے، اور ہر اس بااختیار شخص پر گناہ عظیم ہے جو اپنا فرض ادا نہیں کرتا، کیونکہ جب سے سرزمینِ مبارک فلسطین پر قبضہ ہوا ہے، یہودی وجود اس کے لوگوں کو بے دخل کرنے اور اس کے مقدسات کی بے حرمتی کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور اسے ان حکمرانوں کی کوئی پرواہ نہیں جن سے اس نے سوائے فلسطین اور امت کے خلاف سازشوں کے کچھ نہیں دیکھا، جبکہ مغربی ممالک نے اسے ہر قسم کی مدد فراہم کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔ چنانچہ اگر امت کی افواج اپنے اقصیٰ اور اپنے محبوب محمد ﷺ کے مسریٰ کی مدد کے لیے حرکت نہیں کریں گی، تو پھر کون کرے گا؟
آزادی کی آنے والی جنگ میں حصہ لینے والے کا شرف بہت عظیم ہے، اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ نے انہیں اپنے "سخت جنگجو بندوں" کے طور پر موصوف کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَإِذَا جَاء وَعْدُ أُولاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَاداً لَّنَا أُوْلِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُواْ خِلاَلَ الدِّيَارِ وَكَانَ وَعْداً مَّفْعُولاً﴾"پھر جب ان میں سے پہلی میعاد کا وقت آیا تو ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے بھیجے جو بڑے سخت جنگجو تھے، چنانچہ وہ تمہارے گھروں کے اندر تک گھس گئے اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے پورا ہونا ہی تھا"۔ (سورۃ الاسراء:آیت 5)
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَإِذَا جَاء وَعْدُ الآخِرَةِ لِيَسُوؤُواْ وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُواْ الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوْاْ تَتْبِيراً﴾"پھر جب دوسری میعاد کا وقت آیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں داخل ہوں جیسے وہ اس میں پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر وہ غلبہ پائیں اسے تباہ و برباد کر دیں"۔ (سورۃ الاسراء: آیت7)
پس ہر سپاہی اور افسر پر لازم ہے کہ وہ اپنی کمر کس لے اور مسجد اقصیٰ کی مدد کے لیے فوراً نکل پڑے، جو مسلمانوں کا قبلہ اول اور تیسرا حرمِ شریف ہے، اور جس نے ایسا نہ کیا تو اس کے حصے میں ندامت اور حسرت ہی آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾"اگر تم (جہاد کے لیے) نہیں نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ (سورۃ التوبہ:آیت 39)
===
حزب التحریر / ولایہ بنگلہ دیش:"قومی بجٹ کانفرنس - ایک خود کفیل اسلامی بجٹ کا خاکہ"
حزب التحریر / ولایہ بنگلہ دیش نے جمعہ، 10 صفر 1448ھ مطابق 24 جولائی 2026ء کو ایک سیاسی کانفرنس منعقد کی جس کا عنوان تھا: "قومی بجٹ کانفرنس - ایک خود کفیل اسلامی بجٹ کا خاکہ"۔
نگران حکومت نے، طلباء اور عوام کے خون کی قیمت پر اقتدار میں آنے کے باوجود، سابقہ حسینہ واجد دور کے چھوڑے ہوئے کمزور معیشت کے ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ بلکہ اس کے برعکس، آخری لمحات میں امریکہ کے ساتھ باہمی تجارتی معاہدے پر دستخط کیے، جس سے ملک کی معاشی خودمختاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔
عوامی پارٹی کی حکومت نے معاشی بحالی، مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے وعدوں کے ساتھ 9380 ارب ٹکا کا بجٹ منظور کیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ بجٹ، پچھلے بجٹ کے مقابلے میں، اعداد و شمار کے فرق کے علاوہ کسی حقیقی ڈھانچہ جاتی تبدیلی کی عکاسی نہیں کرتا۔ خاص طور پر، استعماری قرضوں کا جال اور ٹیکسوں اور استحصالی سیلز ٹیکس (VAT) پر مبنی ریونیو کا ڈھانچہ بنیادی تبدیلی کے بغیر برقرار ہے۔
کانفرنس میں ایک ایسے اسلامی بجٹ کا تصور پیش کیا گیا جس کا مقصد ایک خود کفیل معیشت کا حصول اور لوگوں کے مفادات کی خدمت کرنا ہے۔
پہلا لیکچر: استعماری قرضوں کے جال اور استحصالی سرمایہ دارانہ معاشی ماڈل میں پھنسے قومی بجٹ (2026-2027) کی حقیقت کو بے نقاب کیا گیا۔
دوسرا لیکچر: خود کفیل معیشت کے حصول اور مفادِ عامہ کی خدمت کے لیے ایک اسلامی بجٹ کی تصویر کشی کی گئی۔
===
سرمایہ داری سے پیدا ہونے والی دنیا کی بدبختی اور مصیبت کا خاتمہ صرف نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے قیام سے ہی ممکن ہے
امریکہ جو استعمار اور دوسروں کا خون چوسنے پر مبنی سرمایہ دارانہ آئیڈیالوجی کو اپناتا ہے، اور اس ریاست کا دنیا کی قیادت پر فائز ہونا، کسی دوسری توازن برقرار رکھنے والی طاقت کی عدم موجودگی میں جو اس کی عالمی قیادت میں مزاحمت کر سکے، دنیا کو مستقل بدبختی میں مبتلا رکھتا ہے جہاں یکے بعد دیگرے مسائل اور بحران جنم لیتے ہیں، اور امریکہ کی جانب سے دنیا میں فساد پھیلانے اور مسلسل بحران پیدا کرنے کا محسوس مشاہدہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔
سرمایہ دارانہ ریاستوں اور بالخصوص امریکہ سے پیدا ہونے والی دنیا کی بدبختی اور مصیبت کا خاتمہ نہیں ہو گا مگر اس خلافت کی ریاست کے قیام سے جو برحق آئیڈیالوجی یعنی اس عظیم اسلام کو نافذ کرے گی جسے اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر نازل کیا، اور تب اسلام کا عدل سرمایہ داری کی اس کے مادی نظریے اور استعماری طریقے میں موجود قباحت کو بے نقاب کر دے گا، اور اسی طرح اسلام کی خیر پر مبنی قوت امریکہ کی سرکشی اور تکبر کا خاتمہ کر دے گی، اور اسے اس کے اپنے گھر میں محصور ہونے پر مجبور کر دے گی، اگر اس کا اپنا کوئی گھر باقی رہا، پھر دنیا کے گوشے گوشے میں خیر پھیل جائے گی، اور دنیا طویل بدبختی اور مصیبت کے بعد سکھ کا سانس لے گی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور امتِ مسلمہ کو دنیا کی سربراہی اور قیادت دوبارہ حاصل ہو گی کیونکہ وہ بہترین امت ہے جو لوگوں (کی رہنمائی) کے لیے پیدا کی گئی ہے۔
===
قازقستان میں حقیقی تبدیلی اللہ کی شریعت کی طرف واپسی میں ہے
کاز انفرام نیوز ایجنسی نے یکم جولائی 2026 کو خبر دی ہے کہ 15 مارچ 2026 کو ملک گیر ریفرنڈم میں منظور ہونے والا نیا آئین نافذ العمل ہو گیا ہے؛ اور ملک کے نئے بنیادی قانون کو ایک حقیقی عوامی آئین کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے؛ نیز یہ بھی بتایا گیا کہ صدر قاسم جومارٹ توکایف نے ذاتی طور پر اس متن کی تیاری میں حصہ لیا، جس نے آئینی دستاویز کو ایک خاص قانونی حیثیت دی اور معاشرے کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ اخبار نے یہ بھی بتایا کہ قازقستان کی تاریخ میں پہلی بار ملک کے بنیادی قانون کو ملک گیر ریفرنڈم کے ذریعے منظور کیا گیا ہے، اور 87.15 فیصد آبادی نے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔ اخبار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: (نئے آئین کی نمایاں خصوصیت اس کا انسان دوست نقطہ نظر ہے کیونکہ یہ شہریوں کے حقوق اور مفادات کو مقدم رکھتا ہے، اور انصاف اور اعتماد کے اصولوں کو مقدس سمجھتا ہے، اور منصفانہ قازقستان کی ترقی کے لیے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ آئین ملک کے قانونی نظام کی بنیاد بناتا ہے، ریاستی ڈھانچے کے اصولوں کا تعین کرتا ہے، اور شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے، اور طویل مدت کے لیے ملک کی اسٹریٹجک ترقی کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ نیا آئین موجودہ حکمرانی کے نظام میں بنیادی اصلاحات لاتا ہے۔ یہ دستاویز ایک دیباچے، 11 ابواب اور 104 دفعات پر مشتمل ہے)۔
الرایہ: اب وقت آ گیا ہے کہ قازقستان کے مسلمان عوام اس بات کو سمجھ لیں کہ توکایف انہیں آئین میں درج چمکتے دمکتے نعروں سے دھوکہ دینا چاہتے ہیں، جیسے انسان کو توجہ کا مرکز بنانا، لوگوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ، انصاف اور سلامتی کے اصولوں کا تقدس، منصفانہ قازقستان کی ترقی کے لیے نئے افق کھولنا، لوگوں کے حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دینا، اور ملک کی طویل مدتی اسٹریٹجک ترقی کی ترجیحات کا تعین کرنا؛ تاکہ وہ انسان کے وضع کردہ کفر کے نظام کو قانونی حیثیت دے سکیں، اور ملک کی دولت کی لوٹ مار اور اسے مسلم اہل ملک کی رضامندی سے استعماری کفار کے حوالے کرنے کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔ پس شہد میں ملے ہوئے ان زہریلے الفاظ سے ہرگز دھوکہ نہ کھائیں؛ کیونکہ انسان کے وضع کردہ کفر کے نظاموں سے حقیقی نجات تمہارے اسلامی عقیدے کی طرف واپسی اور اس ریاست کی طرف واپسی میں ہے جو اس کے احکامات کو نافذ کرے گی؛ یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ۔
===
امریکہ کی دوستی دنیا اور آخرت میں کھلا خسارہ ہے
امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی نیٹ ورک فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے شام کے صدر احمد الشرع کی لبنان میں حزب ایران کے ساتھ نمٹنے کی خواہش کے بارے میں بیان دیا۔ انہوں نے اسے اس طرح تعبیر کیا کہ "وہ ایسا اسرائیلیوں سے مختلف اور زیادہ درست طریقے سے کریں گے"۔
الرایہ: اہلِ شام الشرع کے لیے ٹرمپ کے ان میٹھے الفاظ سے اور ان کے زخموں پر امریکہ کے کھیلنے سے ہوشیار رہیں۔ کیونکہ امریکہ ہی آلِ اسد کو اقتدار میں لایا تھا، اور وہی 2013 میں انقلاب کے خلاف ایران کی مداخلت کے پیچھے تھا اور اسی نے 2015 میں روس کو مداخلت کا اشارہ دیا تھا۔ اس کے باوجود جب ان کا کردار ختم ہوا تو اس نے ان سے آنکھیں پھیر لیں۔ امریکہ کے ساتھ اتحاد یا اس کے منصوبوں میں اس کی شراکت داری سیاسی خودکشی اور اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت ہے، اور استعماری کافروں سے دوستی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾"اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو بھی ان سے دوستی کرے گا تو وہ انہی میں سے ہے، بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا"۔ (سورۃ المائدہ:آیت 51)
اور مسلمانوں اور شام کے خلاف امریکہ کی دشمنی اصیل اور حقیقی ہے جو کبھی نہیں بدلتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ﴾ "اور یہودی اور نصرانی تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرنے لگو"۔ (سورۃ البقرہ:آیت 120)
خطے میں اپنے منصوبے کی تکمیل میں امریکہ کی کامیابی کا مطلب خطے میں اس کے اور یہودی وجود کے لیے مزید استعمار اور غلبہ ہے۔ پس اس کی دوستی اور اس کے منصوبوں میں اس کا ساتھ دینے سے بچو، کیونکہ یہی دنیا میں خسارہ ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔
===
پاکستان خلیج میں اپنی فوج تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی فوجی تنصیبات کا تحفظ کیا جا سکے!
رائٹرز نیوز ایجنسی نے 17 جولائی کو خبر دی ہے کہ پاکستان اور کویت سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان موجود ترتیب کی طرز پر ایک وسیع دفاعی معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان پہلے ہی ہزاروں فوجی اور فوجی ساز و سامان سعودی عرب منتقل کر چکا ہے۔ میڈیا میں قطر، بحرین اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدوں کی خبریں منظرِ عام پر آئی ہیں۔
حزب التحریر ولایہ پاکستان کے میڈیا آفس سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق: یہ معاہدے مسلمانوں کے ممالک کی حفاظت کے لیے نہیں ہیں، بلکہ پاکستانی فوج کو امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور خطے میں تعینات صلیبی کافر افواج کی حفاظت کے لیے استعمال کرنے کے لیے ہیں، تاکہ اس خطے میں امریکہ کے گرتے ہوئے سکیورٹی ڈھانچے کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس طرح، پاکستان کی غدار سیاسی اور فوجی قیادت نے، اپنے پیشروؤں کی طرح، کچھ معاشی فوائد کے عوض خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ کے تحفظ کے لیے دوبارہ سرگرمی شروع کر دی ہے۔
اے پاکستان کی فوج: امریکہ اب بھی عرب ممالک میں پھیلے ہوئے اپنے فوجی اڈوں سے ایران پر حملے کر رہا ہے، اور اس نے اب تک معصوم طالبات سمیت ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا ہے۔ ان اڈوں میں قطر میں العدید ایئر بیس شامل ہے، جو خطے میں امریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر ہے؛ بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر؛ کویت میں کیمپ عریفجان، علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بویرنگ؛ متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس، جو انٹیلی جنس، نگرانی اور فضائی کارروائیوں کا مرکز ہے؛ اور اردن میں موفق السلطی ایئر بیس۔ اسی طرح عراق میں عین الاسد ایئر بیس اور اربیل ایئر بیس، نیز سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس، بڑے امریکی اڈے ہیں جو ایران پر حملوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ پس کس بنیاد پر ان شر پسند اڈوں پر ایران کے حملوں کو عرب ممالک کی سلامتی پر حملہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا امریکی اڈوں پر ایران کے حملے مکمل طور پر جائز بلکہ حقیقت میں واجب نہیں ہیں؟
اے مسلح افواج: اس واضح صورتحال میں، کیا تم محض تماشائی بنے رہو گے، یا ان غاصب حکمرانوں کو ہٹا کر خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرنے کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے؟
===
اے مسلمانو، آؤ ہم اپنے کانٹے اپنے ہاتھوں سے نکالیں اور اپنے کندھوں سے ان "رویبدہ" حکمرانوں کو نیچے اتار پھینکیں
اے مسلمانو: ہم جس ذلت و رسوائی، بے گھری اور تباہی تک پہنچے ہیں، اس کی وجہ یہ غدار حکمران ہیں جو ہماری گردنوں پر مسلط ہیں، جنہوں نے اپنے لیے ہمارے ممالک میں استعماری کافر مغرب کے مفادات کے وفادار رکھوالے کتوں کا کردار پسند کیا، اور جنہوں نے ہماری عظیم افواج کو تمہارے اور تمہارے دین اسلام کے دشمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے گرین سگنل کا یرغمال بنا دیا، اور جنہوں نے تمہاری دولت ان استعماری کفار کی خدمت میں صرف کر دی۔
یہ طاغوت ہی ہیں جو امتِ مسلمہ کی قوتوں کو جکڑے ہوئے ہیں، اور یہی مخلصوں کی آوازوں کو خاموش کر رہے ہیں جو حق کا اعلان کرتے ہیں اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ اگر ان کی خیانت اور افواج کو جکڑنا نہ ہوتا، تو ہم دیکھتے کہ ہمارے جری افسران اور سپاہی ایک بپھرے ہوئے سیلاب کی طرح نکل پڑتے، طیاروں کے دستوں کی قیادت کرتے اور ٹینکوں کو اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے دوڑاتے، تاکہ یہودی وجود جیسے ناپاک وجود کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں اور سرزمینِ مبارک کو آزاد کروا لیں۔
اے امت کے سپاہیو اور اس کے اہل قوت و طاقت: وقت کا تقاضا اور تمام فرائض میں سے سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ ان ذلیل حکمرانوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ہمارے ممالک سے استعمار کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا جائے۔ پس اپنے رب کے حکم پر لبیک کہو، اور اسے اسی کی پہلی حالت پر لوٹا دو؛ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ،﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾"اختیار اللہ ہی کا ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی، اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔ اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہی غالب اور رحم کرنے والا ہے"۔ (سورۃ الروم:آیت 4-5)