بسم الله الرحمن الرحيم
متفرقاتِ الرايہ – شمارہ 614
صفحہ اول کی پیشانی پر
میلادِ نبی ﷺ کی بابرکت یاد دراصل پوری زندگی کی یاد ہے، نہ کہ محض کسی ایک مخصوص دن کی یاد۔ یہ ایک ایسی یاد ہے جس کی تعظیم و تکریم زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری سے ہوتی ہے، نہ کہ سال کے کسی ایک دن محض مذہبی تقاریب کا انعقاد کر لینے سے۔ یہ عمل کی یاد ہے، چھٹی منانے کی یاد نہیں۔ چنانچہ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اس معطر یاد کے سائے میں، یہ امتِ مسلمہ کے لیے اسلام کی عظیم الشان عمارت یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کا ایک قوی محرک بنے، تاکہ یہ پوری انسانیت کے لیے خیر اور ہدایت کا مینار ثابت ہو۔
===
صفحہ اول کے لیے
تونس کی دھرتی پر امریکی فوجی تنصیب، تو آزاد مرد کہاں ہیں؟!
امریکی حکام نے 29/07/2026 کو امریکی سرکاری خریداری کے پورٹل کے ذریعے بنزرت شہر میں 'بحری مرکزِ فضیلت' (میرین سینٹر آف ایکسیلنس) کے قیام کا منصوبہ دوبارہ پیش کیا ہے۔ افریقہ میں امریکی بحری افواج کے کمانڈر ایڈمرل جارج ایم وائکوف نے اس زیرِ تعمیر مرکز کا دورہ کیا اور اسے بحری کمانڈوز کی تربیت کے لیے مخصوص قرار دیتے ہوئے کہا تھا: "(بحری مرکزِ فضیلت علاقائی سلامتی میں ایک اہم سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے، اور یہ تنصیب انتہائی ہنرمند بحری عملہ تیار کرنے، شراکت دار ممالک کے درمیان باہمی عملیاتی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) کو مضبوط بنانے، اور کثیر القومی تربیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی)"۔ یہ بات یورپ اور افریقہ میں امریکی بحری افواج اور چھٹے بحری بیڑے کی جانب سے 14 جون 2026 کو جاری کردہ ایک بیان میں کہی گئی تھی۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ولایہ تونس میں حزب التحریر کے میڈیا آفس سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے: تو پھر کسی احتساب کے خوف کے بغیر، صدر قیس سعید تونس کی سرزمین پر ایک مستقل امریکی فوجی تنصیب قائم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، اور ہم حزب التحریر/ ولایہ تونس میں درج ذیل نکات کی تاکید کرتے ہیں:
1۔ اگر امریکی دشمن کے ساتھ فوجی مشقیں اور پینترے بازی 2015 میں 'ممتاز اتحادی' کے معاہدے پر دستخط ہونے کے وقت سے ہی جاری ہیں اور 2020 کے 'روڈ میپ' معاہدے کے بعد ان کی رفتار تیز ہو گئی تھی، تو پھر تونس کی سرزمین پر ایک امریکی فوجی تنصیب قائم کرنے اور اسے کثیر القومی تربیت کے علاقائی مرکز میں تبدیل کرنے کا کیا جواز ہے؟ سوائے اس کے کہ یہ تونس کو افریقہ میں امریکی افواج 'افریکوم' (AFRICOM) کے لیے ایک پیشگی فوجی اڈا بنانے کا پیش خیمہ ہو؟ مثال کے طور پر بحرین میں امریکی اڈا پہلے محض ایک چھوٹی سی بحری تنصیب تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک امریکی فوجی اڈے میں تبدیل ہو گئی اور ان کے پانچویں بحری بیڑے کا مرکز بن گئی۔
2۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ، بحری سلامتی کے فروغ اور علاقائی دفاع وغیرہ کے مقاصد کے تحت اس تنصیب کو کثیر القومی تربیت کے علاقائی مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں امریکہ کی گفتگو دراصل افریقہ میں عسکری مداخلت کو قانونی جواز فراہم کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ اس کا مقصد کمزور سیکولر حکومتوں کو اقتدار میں رہنے کے لیے مدد فراہم کرنا اور انقلابی عوام کو مغربی تسلط اور اس کے مقامی مہروں سے آزادی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ نیز شراکت دار ممالک کے درمیان جس نام نہاد 'باہمی تعاون' کی بات کی جا رہی ہے، وہ امریکی فوج کی نگرانی میں ان حکومتوں کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانا ہے تاکہ وہ بالواسطہ طور پر (پروکسی کے ذریعے) چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں، اور یوں امریکہ افریقہ اور بحیرہ روم میں براہِ راست عسکری شمولیت سے بچ سکے۔ خاص طور پر ایران کی جنگ میں الجھنے اور عراق و افغانستان کی جنگوں میں اپنی بدترین ناکامی کے بعد وہ ایسا ہی کرنا چاہتا ہے۔
3۔ تونس کی سرزمین کا ایک حصہ امریکہ کے حوالے کرنا اور اس کے ساتھ فوجی اور حفاظتی (سیکیورٹی) معاہدے کرنا شرعی طور پر حرام ہے، جس کا مرتکب دنیا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب مسلمانوں اور ان کے ممالک پر کفار کا تسلط قائم ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَن يَجْعَلَ اللّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾
"اور اللہ تعالیٰ کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ نہیں دے گا" (سورۃ النساء: 141)۔
اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنایا جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾
"مومنوں کو چاہیے کہ وہ مومنوں کے سوا کافروں کو اپنا مددگار اور دوست نہ بنائیں" (سورۃ آل عمران: 28)۔
بیان کے آخر میں تونس کے لوگوں کو، جو کہ بہادر مجاہدین کا ملک ہے، یاد دلایا گیا کہ: شرعی طور پر واجب یہ ہے کہ ان معاہدوں کو منسوخ کرنے اور ہمارے ملک سے امریکی اور تمام غیر ملکی فوجی وجود کے خاتمے کے لیے کام کیا جائے، تاکہ تونس دوسری خلافتِ راشدہ کی ریاست کا ایک اہم مرکز اور مقبوضہ مسجدِ اقصیٰ اور فلسطین کی آزادی کا نقطہ آغاز بن سکے۔ اگر ہم نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دشمنوں پر ہماری فتح کی ضمانت دی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ﴾
"اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اس کے لیے کافی ہے" (سورۃ الطلاق: 3)۔
===
مرکزی عنوان کے تحت
امریکہ سیاسی اور اقتصادی طور پر عراق کے معاملات چلا رہا ہے! یہ ایک بہت بڑی رسوائی اور سنگین جرم ہے
انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ عراق، جو کبھی خلافت کا مرکز ہوا کرتا تھا اور جس کا خلیفہ قیصرِ روم کو یہ مخاطب کرتا تھا کہ "جواب وہ ہے جو تم دیکھو گے، نہ کہ جو تم سنو گے"، اور پھر مسلمانوں کی فوجیں حرکت میں آتیں اور اسے ایسا سبق سکھاتیں کہ وہ اپنے ہوش تکانے لے آتا.. اس ملک کے معاملات کو آج امریکہ چلا رہا ہے، نہ صرف سیاسی طور پر، بلکہ عراق کے فنڈز (مالی اثاثے) بھی امریکہ کے قبضے میں ہیں، یہاں تک کہ عراق کی حکومت اپنے ملازمین کو تنخواہیں تک ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ امریکہ اس کے اپنے ہی پیسوں میں سے کچھ دینے کی اجازت نہ دے دے! واقعی یہ ایک بہت بڑی رسوائی اور سنگین جرم ہے۔ اور ان حکومتوں کے بارے میں اللہ قوی و عزیز کا فرمان بالکل سچ ہے:
﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ﴾
"ان مجرموں کو ان کی مکاریوں کے بدلے اللہ کے ہاں ذلت اور شدید عذاب پہنچ کر رہے گا" (سورۃ الانعام: 124)۔
اور امت اس ذلت سے تب تک نجات حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اس رہبر و رہنما جماعت، حزب التحریر ،جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی ،کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کر کے اپنی دوسری خلافتِ راشدہ کو دوبارہ قائم نہ کر لے اور تب اللہ کا وعدہ پورا ہو گا:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْض..﴾
"تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے، اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (حکمرانی) عطا فرمائے گا" (سورۃ النور: 55)۔
اور پھر اس جبری دورِ حکومت کے بعد، جس میں ہم اب جی رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی خوشخبری پوری ہو گی:فَقَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «.. ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ» حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "... پھر زبردستی اور جبر کی بادشاہت ہو گی، اور جب تک اللہ چاہے گا یہ رہے گی، پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہے گا تو اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہو گی، اس کے بعد آپ ﷺ خاموش ہو گئے"۔
اور پھر اللہ کی مدد اور فتح حاصل ہو گی:
﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيم﴾
"اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے * اللہ کی دی ہوئی نصرت (مدد) پر، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ غالب اور نہایت رحم کرنے والا ہے" (سورۃ الروم: 4-5)۔
(حزب التحریر کے امیر، جلیل القدور عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ کے جاری کردہ سوال و جواب سے اقتباس)
===
اے مسلم افواج! تمہارے کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ بھاری ہو گیا ہے
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "جنگ بندی" کے 300 دنوں کے دوران، غزا کی پٹی پر یہودی وجود کی مسلسل جاری رہنے والی جارحیت کے نتیجے میں 300 بچے جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس پر مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کے خواتین کے شعبے نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے:
یہ خبر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دنیا، اپنے نظاموں اور عالمی اداروں سمیت، پہلے درجے کی سازشی ہے، جس نے تین سال تک دنیا کے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ جنگ نہیں چاہتی اور امن کی خواہاں ہے، جبکہ مذاکرات کے مہینوں کے دوران غزہ میں مجاہدین کو اپنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ انتہائی شدید تھا۔ دوسری طرف، یہاں تک کہ جب ٹرمپ نے یہ فخر سے دعویٰ کیا کہ اس نے غزہ پر جنگ رکوانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کا لاڈلا بچہ اپنی بربریت میں حد سے گزر رہا ہے، اور اس کے برعکس ہمیں کسی کی آواز سنائی نہیں دیتی سوائے اس کے کہ وہ شہدا کی گنتی کریں اور ان کی شہادتوں کا اعلان ایک عام خبر کی طرح کر دیں!
اے امتِ محمدؐ! یہ خبر ظاہر کرتی ہے کہ تم اپنے دشمنوں کی نظر میں انتہائی بے وقعت اور ذلیل ہو چکے ہو، اور ہمارے بچوں، عورتوں اور نوجوانوں کا قتلِ عام اسی طرح بے رحمی سے جاری رہے گا جب تک ہم اپنے معاملات کو تنگ نظر قوم پرستانہ نظریات کی عینک سے دیکھتے رہیں گے اور اس سوچ کے حامل رہیں گے کہ: جب تک آگ میرے گھر کے دروازے تک نہیں پہنچتی، میں صرف دعا کرنے پر ہی اکتفا کروں گا!
اے اسلحہ کے مالکو اور اے افواج کے جرنیلو! اور ہر وہ شخص جو اپنی امت کی مدد کے لیے حرکت میں آنے کی طاقت رکھتا ہے اور پھر بھی خاموش رہتا ہے، یہ خبر ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنی پیٹھ پر گناہوں کے پہاڑ اور نافرمانیوں کا وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جس کے ساتھ وہ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور پیش ہو گا!
===
ریاستِ خلافت کا تعلیمی نظام اعلیٰ پائے کے مدبرین تیار کرتا ہے
اسلام کی بنیاد پر اس تعلیمی نظام کی تعمیر کسی ایسے سیاسی نظام کے تحت ممکن نہیں جو اسلام کو زندگی سے الگ کرنے (سیکولرازم) پر مبنی ہو، بلکہ اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام ایک ایسا عقیدہ ہے جس سے ایک پورا نظامِ زندگی جنم لیتا ہے، اور اس نظام کو نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کی ریاست ہی نافذ کر سکتی ہے جسے اسلام نے اوّل درجے کا سیاسی نظام بنایا ہے۔ خلافت کے نظام کا ایک واضح اور خود مختار سیاسی نظریہ ہے، جو تعلیم کو اعلیٰ ترین پائے کے مدبرین (رجالِ ریاست) بنانے والی فیکٹری اور ایک ایسی زرخیز زمین بناتا ہے جو ایسی مضبوط شخصیات کو جنم دیتی ہے جو قیادت کی آرزو مند ہوتی ہیں اور کسی کی ذلت آمیز محکومی کو کبھی قبول نہیں کرتی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے تعلیم کو معاشرے کی بنیادی ضرورتوں میں شمار کیا ہے، جنہیں صحت اور امن و امان کی طرح ریاست کی جانب سے مفت اور اعلیٰ ترین معیار پر فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس طرح اس نے رعیّت کے ہر فرد کے لیے خوراک، لباس اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کی تسکین کی ضمانت دی ہے۔ چنانچہ، ریاستِ خلافت عوامی ملکیت جیسے معدنیات، توانائی، زراعت، لائیو اسٹاک اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی بھاری آمدنی کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی تعمیر کے لیے وقف کرے گی جو پرائمری، مڈل، اور سیکنڈری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک ایک جامع نقطہ نظر پر مبنی ہو۔ اس تعلیمی نظام کے تحت اسلامی شخصیت کی اس طرح تربیت کی جائے گی کہ وہ امت کے بقا کے مسائل کی نگہبانی اور خدمت کرنے کی قیادت سنبھال سکے اور حکمتِ عملیاں وضع کرنے کی صلاحیت رکھے۔ اس طرح ایک ایسی نسل تیار ہو گی جو قائدانہ صفات اور مومن کے اخلاص کا حسین امتزاج ہو گی، اور زندگی کے میدانِ کارزار میں امت کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے گوناگوں مہارتوں اور مختلف شعبوں کے تجربات سے لیس ہو گی۔
===
وسطی ایشیا کی ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغرب کی پیشکشوں کو مسترد کریں اور اسلام کی بنیاد پر متحد ہو جائیں
آج وسطی ایشیا کے ممالک مغرب کی عسکری، معاشی اور سماجی پیشکشوں کو تیزی سے قبول کر رہے ہیں، اور امریکہ و مغرب کے زیرِ اثر علاقوں میں مزید گہرائی تک دھنستے جا رہے ہیں۔ حالانکہ بیرونی قوتوں کی محکومی سے گریز کرنا ہی ان کے اور ان کے عوام کے حقیقی مفادات کا ضامن ہو سکتا تھا۔ اور اس کا سب سے درست راستہ یہ ہے کہ علاقائی وسائل و صلاحیتوں کو یکجا کیا جائے، اپنی سرزمین پر بھاری اور دفاعی صنعتوں کو فروغ دیا جائے اور اپنی عسکری ضروریات کو جس حد تک ممکن ہو خود مختار طریقے سے پورا کیا جائے۔ کیونکہ بیرونی قوتوں کی محکومی نے کبھی کسی ملک کو حقیقی ترقی یا حقیقی آزادی نہیں دی۔
وسطی ایشیا کی ریاستوں کو اپنی سٹریٹجک جیو پولیٹیکل اہمیت، تاریخی حیثیت اور عالمی علوم میں اپنے عظیم کردار کو بھولے بغیر اسلام کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے اور ان مغربی پیشکشوں کو مسترد کرنا چاہیے جو استعمار کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ اسی صورت میں اسلام انہیں متحد کرے گا اور نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کی طرف بڑھنے کی بنیاد رکھے گا، اور وہ ان قوتوں کو جو خود کو دنیا کی سپر پاور کہتی ہیں، اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دے گا، ان شاء اللہ۔ اللہ تبارك وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ﴾
"اور ان کے مقابلے کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے طاقت اور گھوڑے تیار رکھو جس سے تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر ہیبت بٹھا سکو جنہیں تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے" (سورۃ الانفال: 60)۔
===
مسلم ممالک کے حکمران طبقے خون کی لکیریں کھینچنے میں حصہ دار ہیں!
بلادِ مسلمین کے حکمران طبقے سائیکس پیکو (Sykes-Picot) کی سرحدوں کو برقرار رکھنے میں حصہ دار ہیں، اور یمن, لیبیا، سوڈان، مراکش اور شام میں نئی سیاسی اکائیاں کھڑی کر کے امت کو مزید تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں کیا گیا تھا! تمام مسلم ممالک کے حکمران طبقوں کا سیاسی بیانیہ بلا استثناء یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے ذہن مغربی ثقافت سے مرعوب ہیں، جو اسلام کے خلاف گہری نفرت کا پتہ دیتا ہے۔ جبکہ مغرب کی سرمایہ دارانہ تہذیب دم توڑ رہی ہے اور اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے، اور اس کا عالمی مالیاتی نظام کفن پوش ہو کر دفن ہونے کا منتظر ہے، ایسے میں دنیا بھر میں مال کے محفوظ ترین ٹھکانے یعنی سونے کی طرف لازمی واپسی ہو رہی ہے، کاغذی کرنسی کا وجود ختم ہو رہا ہے اور سونے کے مقابلے میں اس کی نئی قیمتیں مقرر ہو رہی ہیں۔ یہ دراصل بلادِ مسلمین کے حکمران طبقوں کی اس خلاء کو پر کرنے میں بدترین غیر اعلانیہ ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو سال 1342ھ - 1924ء سے خلافت کی ریاست کے غیاب (خاتمے) کے بعد سے پیدا ہوا تھا، اور یہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کی صبحِ نو کے طلوع ہونے کا وقت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ﴾
"بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے" (سورۃ غافر: 51)۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہو گی"۔
===
مصر کی فوج کے لیے اپنے ملک کو خشک سالی اور اپنے لوگوں کو پیاس سے بچانے کے لیے آگے بڑھنا لازم ہے
اتوار کے روز ایک ذمہ دار مصری عہدیدار نے ایتھوپیا کے وزیرِ پانی و توانائی، ہابتامو اتیفا کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیا، جن میں انہوں نے دریائے نیل پر مزید ڈیم بنانے اور نچلے دھارے کے دونوں ممالک، یعنی مصر اور سوڈان کی طرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی۔ مصری عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ: "یہ بیانات ایتھوپیا کے ان بار بار کیے جانے والے دعووں کی قلعی کھولتے ہیں کہ اس کے اقدامات کا مقصد دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر صرف ترقی حاصل کرنا ہے۔ ایک بین الاقوامی دریا کے بہاؤ کو نچلے دھارے والے ممالک کی طرف جانے سے روکنے کی کھلم کھلا کوشش کا اعلان ایک انتہائی خطرناک عزائم کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مقصد جائز ترقی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ زمینی حقائق مسلط کرنے، ایک بین الاقوامی مشترکہ آبی وسیلے پر اجارہ داری قائم کرنے اور اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو نچلے دھارے کے دونوں ممالک کے آبی حقوق اور مفادات کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ اسے بین الاقوامی قانون تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی مصر اسے ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر مسلط کرنے کی اجازت دے گا"۔ (CNN)
الرايہ: پانی ان بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے جس کی کمی ہونے پر لوگ اس کی تلاش میں تتر بتر ہو جاتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے عوامی ملکیت قرار دیا ہے جس پر افراد کی اجارہ داری جائز نہیں ہے تاکہ وہ معاشرے کے لیے تنگی کا باعث نہ بنیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:«الْمُسْلِمونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ؛ فِي الْكَلَأِ، وَالْمَاءِ، وَالنَّارِ» "مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: چراہ گاہ، پانی اور آگ۔"
تو پھر اس صورتِ حال کا کیا کہنا جب ایتھوپیا جیسا ملک اپنی پالیسیوں، لالچ اور یہودی وجود جیسے استعماری کفار کے ساتھ گٹھ جوڑ کے باعث مصر کے لاکھوں مسلمانوں کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے؟! مصر کی ریاست پر واجب ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے اور مصر کے لوگوں کی بنیادی ترین ضرورت پر ہونے والی اس کھلی جارحیت کے خلاف فیصلہ کن، حقیقی اور سنجیدہ اقدامات کرے، چاہے اس کے لیے فوج کو حرکت میں لانا ہی کیوں نہ پڑے! اگر مصر کی فوج اپنے ہی لوگوں، بچوں اور ملک کی حفاظت کے لیے حرکت میں نہیں آتی، تو ہمیں ایسی فوج کی کیا ضرورت ہے؟! جبکہ محض بین الاقوامی خط و کتابت اور استعماری اداروں کی طرف رجوع کرنے پر اکتفا کرنا بزدلی، کمزوری اور مصر کی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے!
===