المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان
| ہجری تاریخ | 13 من ربيع الاول 1448هـ | شمارہ نمبر: 1448/07 |
| عیسوی تاریخ | بدھ, 26 اگست 2026 م |
پریس ریلیز
مجوزہ حکومتی اصلاحات عوام کے حقوق کے نام پر اشرافیہ کی طاقت و اختیار کیلئے آپس کی لڑائی ہیں جس میں کوئی بھی عوام سے مخلص نہیں۔ خلافت میں اسلام کا واحدانی ڈھانچہ شریعت کے نفاذ کے ذریعے عوام کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی اصلاحات کے مسودے کی تیاری آخری مراحل میں ہے، جس میں پاکستان کے اندر مزید انتظامی یونٹس، وفاق کے اختیارات اور دائرۂ کار میں توسیع، صدارتی نظام حکومت اور لوکل باڈیز کے نظام کو مضبوط کرنے سے متعلق شقیں موجود ہیں۔ تاہم اس ترمیم کو میڈیا میں جتنا بھی عوام کے حقوق کے حصول کے لئے خوشنما اقدام کے طور پر پیش کیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ یہ سیاستدانوں اور فوجی اشرافیہ کے مابین طاقت، اختیار، وسائل اور اثر و رسوخ کی جاری لڑائی کے سوا کچھ نہیں ہے، جو پچھلی سات دہائیوں سے جاری ہے، اور جس میں عوام کو بہتر مستقبل کے جعلی خواب بیچے جا رہے ہیں، حالانکہ ان دونوں گروہوں کو عوامی بہبود، خوشحالی اور فلاح سے کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ وہ طاقت کے مراکز اور وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے عوام مختلف فوجی یا فوجی کنٹرول پر مبنی ہائبرڈ ادوار اور سویلین ادوار میں اس طاقت کی جنگ کا تماشا مسلسل دیکھتے آ رہے ہیں۔ فوجی یا فوجی کنٹرول پر مبنی ہائبرڈ ادوار میں سرکاری میڈیا، زر خرید دانشور اور سادہ لوح پیروکار عوام کو یہ بیانیہ بیچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ صدارتی نظام، لوکل گورنمنٹ سسٹم کی مضبوطی اور کرپٹ جمہوری سیاسی جماعتوں کے بجائے مغرب سے تعلیم یافتہ ٹیکنوکریٹس بہتر "پرفارمنس" کے ذریعے عوام کو بہتر گورننس اور سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ اس بیانیے کے ذریعے فوجی قیادت تمام معاملات پر فیصلہ کن کنٹرول حاصل کر لیتی ہے، تاہم پاکستان کے عوام اس بیانیے کا عملی مشاہدہ بار بار دیکھ چکے ہیں کہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے نفاذ کے ذریعے فوجی طبقہ اور اس سے جڑا ایک چھوٹا مراعات یافتہ طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا گیا، جبکہ عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے اور 'ہارڈ اسٹیٹ' کے ذریعے انھیں اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے سے بھی روک دیا جاتا ہے، تاکہ ایک چھوٹے سے اشرافیہ طبقے کی "ترقی" کے سفر میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکے۔
مزید برآں صدارتی ماڈل ہم پاکستان کے علاوہ شام، ترکی، مصر، سوڈان، ازبکستان، افغانستان، انڈونیشیا، نائیجیریا، مالدیپ، موریطانیہ جیسے دیگر مسلم ممالک میں پہلے ہی دیکھ چکے ہیں، تو یہ مغربی نظام مسلمانوں کیلئے کوئی نیا نظام نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں سویلین ادوار میں واپس پارلیمانی ماڈل، کمزور شہری حکومتیں، اور حالیہ ادوار میں طاقتور صوبائی حکومتوں کا منظر نامہ سویلین کی طاقت پر کنٹرول کا کامیاب نسخہ رہا ہے۔ اور اس ماڈل کی حقیقت بھی عوام سے ڈھکی چھپی نہیں، جہاں کرپٹ سیاسی جماعتوں نے آپس میں صوبے تقسیم کر کے قومی خزانے کو آپس میں بانٹ لیا ہے۔
تاہم دونوں ماڈلز میں بہرحال ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے استعمار کی غلامی اور مغربی کفریہ نظریات کے ذریعے حکمرانی ہے۔ پس دونوں جمہوری طرز حکومتوں میں پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف کا غلبہ رہا ہے، یہاں تک کہ آج پاکستان کا تقریباً آدھا بجٹ (43 فیصد) سود خوروں کو سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے، اور عوام کے خون پسینے کی کمائی لوٹ کر آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹ کی ادائیگیوں میں دی جا رہی ہے۔ ان دونوں طرح کے ماڈلز میں پاکستان کی عدالتوں میں انگلش کامن لاء کے کفریہ قوانین ہی نافذ رہے، جس کے باعث لاکھوں مقدمات عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں، یہی معاملات نظام کے دیگر شعبوں میں بھی ہیں جن پر استعمار کا مکمل کنٹرول ہے، اور جس پر سویلین و فوجی اشرافیہ دونوں کو کوئی اعتراض نہیں۔ پس حقیقی لڑائی تو یہ ہوئی کہ استعمار کی خدمت کون کرے گا، جبکہ عوام اس پوری مساوات میں کہیں پر بھی موجود نہیں!
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حکمرانی کے اس پیچیدہ مسئلے کو، جس میں حاکم و رعایا کے حقوق کا تعین، ریاستی ڈھانچہ، طاقت کی تقسیم، نمائندگی، احتساب، حکمران کی اہلیت، حکمران کی حکومت کا دورانیہ، حکام کو ہٹانے کا طریقہ کار وغیرہ، سب کچھ پہلے سے طے کر دیا ہے۔ اسلام وفاقی ڈھانچے کو مسترد کرکے واحدانی ڈھانچے کے ذریعے حکمرانی کرتا ہے جس میں امت ایک خلیفہ کو منتخب کر کے، شریعت کے نفاذ کی شرط پر، اس کی بیعت کرتی ہے۔
یہ خلیفہ کا اختیار ہے کہ وہ کس طرح اس واحد ریاست کو انتظامی یونٹس میں تقسیم کر کے ان پر والیوں (گورنرز) کا تقرر کرتا ہے، تاہم امت یا مجلس ولایہ کی شکایت پر والی کو ہٹانا خلیفہ پر لازم ہے۔ خلیفہ براہ راست شہروں کے اوپر عامل (مئیر) کا تعین کرتا ہے، یا چاہے تو یہ حق اپنے والیوں کو تفویض کرے۔ خلافت میں تمام علاقوں کے وسائل مشترکہ ہیں، اور کسی ایک صوبے کی ملکیت نہیں ہوتے، جنہیں امت پر مجموعی طور پر خرچ کیا جاتا ہے، یوں ریاستِ خلافت کے تمام خطے یکساں ترقی سے مستفید ہوتے ہیں۔ خلافت کے تمام حصوں میں یکساں قوانین لاگو ہوتے ہیں، تاہم بہتر کارکردگی اور مقامی ضروریات کے تناظر میں انتظامی امور غیر مرکزیت کی پالیسی کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ریاستی ڈھانچے سے متعلق محض چند قوانین ہیں جو ایک طاقتور، مضبوط، اور اعلیٰ کارکردگی کی حامل، مستحکم اور مضبوط حکمرانی کو جنم دیتے ہیں، جبکہ حزب التحریر نے تو قرآن و سنت سے ریاستِ خلافت کا 191 آرٹیکلز پر مشتمل مکمل آئین اخذ کر کے امت کے سامنے پیش کر کے رکھا ہے، جس کے ہر آرٹیکل کی دلیل تفصیلی شرعی دلائل سے پیش کی گئی ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم کفریہ جمہوریت کے مختلف ماڈلز میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں؟!
اے پاکستان کے اہل قوت!
پاکستان کا اصل مسئلہ ہمارے امور پر استعمار کی مضبوط گرفت اور شریعت اسلامی سے ہمارے تمام معاملات کا طے نہ ہونا ہے، جو کہ ہمارے کلمہ حق، لا إله إلا الله، محمد رسول الله ﷺ، کے ساتھ غداری کے مترادف ہے، لیکن سویلین اور فوجی اشرافیہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، بلکہ انھیں صرف اپنا اقتدار عزیز ہے، جس کو دوام بخشنے کیلئے وہ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ آپ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی ذمہ داری کو پورا کرو، اور ان کرپٹ اشرافیہ سے اقتدار چھین کر اس کے اصل حقدار حزب التحریر کے حوالے کرو، وہ حقدار جو ریاستِ خلافت کے قیام کی مکمل تیاری سے لیس ہے اور ایک مکمل منصوبے کے ساتھ آپ کے سامنے ہے۔ پس آگے بڑھیں، اور اس فریضے کی تکمیل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية»
"جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں خلیفہ کی بیعت کا طوق نہیں، تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔" (صحیح مسلم)
ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ پاکستان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: https://bit.ly/3hNz70q |
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com |