الخميس، 06 ذو القعدة 1447| 2026/04/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اداریہ

 

لبنان اور یہودیوں کے ساتھ مذاکرات

 

تحریر: ایم مجدی علی

 

(ترجمہ)

 

لبنان اور یہودیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ کھولنے کا خیال نہ تو کوئی نیا تصور ہے اور نہ ہی لبنانی حکام کی جانب سے کوئی نیا قدم ہے، جن کی نمائندگی صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام کر رہے ہیں جو 2025 میں برسرِ اقتدار آئے۔ لبنانی معاملات پر نظر رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کی راہ حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے، خاص طور پر جوزف عون کے صدارت سنبھالنے کے بعد سے۔ ان کی سیاسی بیان بازی نے مستقل طور پر مسلح جدوجہد سے امن کی طرف منتقلی پر زور دیا ہے، اگرچہ محتاط انداز میں۔ 11 جولائی 2025 کو ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا: "امن سے مراد جنگ کی عدم موجودگی ہے، اور اس وقت لبنان میں ہماری دلچسپی اسی سے ہے"۔ 7 اکتوبر 2025 کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد، 3 دسمبر 2025 کو لبنان اور یہودی وجود کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا، جس میں لبنانی فوجی اہلکاروں کے ایک وفد کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کر رہے تھے۔ وفد کے سویلین نمائندے کے طور پر ان کا تقرر اور انتخاب سیاسی مقتدرہ کے درمیان اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا۔ لبنان اور فلسطین کے درمیان ناقورہ میں ایک ملاقات منعقد ہوئی۔

 

اس سے قبل ٹام بارک نے 13 اکتوبر 2025 کو ٹویٹ کیا تھا کہ "تاہم امن کے اس ڈھانچے کے اگلے دو اہم حصے ابھی نامکمل ہیں... اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مکالمے کے اس تسلسل کو شمال کی طرف شام اور پھر بالآخر لبنان تک پھیلایا جائے"۔ تاہم، 28 فروری 2026 سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل اور اس کے بعد ایران اور لبنان میں اس کی 'حزب' کے ردعمل، اور لبنان کے جنگ کی لپیٹ میں آنے کے بعد سے لبنان اور یہودی وجود کے درمیان مذاکرات کا معاملہ زیادہ وسیع، بڑے پیمانے پر اور واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لبنانی مقتدرہ کے لیے یہ ایک موزوں موقع تھا کہ وہ لبنان کو علاقائی تنازعات سے نکالنے اور اسے کسی بھی غیر لبنانی راستے سے الگ کرنے کے بہانے یہ بڑا قدم اٹھائے، چنانچہ ایسے بیانات سامنے آئے جن سے تصویر واضح ہو گئی۔ 19 مارچ 2026 کو لبنانی وزیر اعظم نے CNN پر اعلان کیا کہ انہوں نے ٹرمپ کو ایک پیغام بھیجا ہے: "میں صدر ٹرمپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اسرائیلی فریق کے ساتھ فوری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں"۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 9 اپریل 2026 کو لبنانی صدر نے کہا: "ہم اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں"۔ پھر 11 اپریل 2026 کو 'ایکس' (ٹویٹر) پلیٹ فارم پر پاکستان میں مذاکرات کرنے والے ایرانی میڈیا وفد کے ایک رکن سید مرندی سے منسوب ایک بیان شائع ہوا جس میں کہا گیا: "لبنانی وزیر اعظم نواف سلام اس بات پر اصرار کر کے لبنان میں جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ براہِ راست لبنانی مذاکرات کے ذریعے ہونی چاہیے، جو کہ تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن) کے مذاکرات کے فریم ورک کے اندر ہو..."!

 

پھر، جوزف عون اور نواف سلام کے بیانات دوبارہ منظرِ عام پر آئے، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کر دی جو پہلے سے معلوم تھی۔ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور لبنان میں جنگ بندی، یا دس روزہ جنگ بندی، جو جمعرات 16 اپریل 2026 کی آدھی رات کو شروع ہوئی، کے بعد نیشنل نیوز ایجنسی اور اسی دن اسکائی نیوز عربیہ نے 18 اپریل 2026 کو خبر دی کہ "سلام نے ملاقات کے بعد وضاحت کی کہ صدر عون کے ساتھ بات چیت میں لبنان کی مذاکرات کے لیے آمادگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا..."۔ اسی دوران 17 اپریل 2026 کو عون نے یہودی وجود کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کے اپنی حکومت کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا: "مذاکرات کمزوری، پسپائی یا دستبرداری کی علامت نہیں ہیں، بلکہ یہ لبنان کے حقوق پر اعتماد پر مبنی ایک فیصلہ ہے..."۔

 

اس کے بعد شام کے لیے امریکی ایلچی ٹام بارک نے 17 اپریل 2026 کو اس حقیقت سے ہم آہنگ بیانات دیے۔ بارک نے لبنانی قیادت بشمول صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کی تعریف کی اور انہیں اپنی نظر میں "بہترین قیادت" قرار دیا۔ بلاشبہ، بارک اور بالواسطہ طور پر امریکہ کی جانب سے انہیں دی جانے والی یہ ترجیح یہودی وجود کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے اور ان کا اعلان کرنے کے حوالے سے امریکی مطالبات پر ان کے مثبت ردعمل کا نتیجہ ہے۔ اس کے ابتدائی آثار واشنگٹن میں 10 اپریل 2026 کو لبنان کے سفیر اور واشنگٹن میں یہودی سفیر کے درمیان لبنان کے لیے امریکی سفیر کی سرپرستی میں ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو سے سامنے آئے۔ اس کے بعد منگل 15 اپریل 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ میں ایک ملاقات ہوئی۔

 

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ولایہ لبنان میں حزب التحریر نے 2020 کے اوائل میں ہی لبنان کی اس پستی کی نشاندہی کر دی تھی، جب یہودی وجود کے ساتھ سمندری حدود کے تعین کا آغاز ہوا تھا، جس کا مقصد واضح طور پر یہ تھا: "امن، تعلقات کی بحالی (نارملائزیشن)، حدود کا تعین اور غاصب یہودی وجود کے ساتھ تعلقات قائم کرنا، یہ سب ایک ہی عمل کے مختلف نام ہیں: یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ غداری"۔ لبنان اس وقت سمندری حدود کے بعد دوسرے قدم کے طور پر زمینی حدود کے تعین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تاہم اکتوبر 2023 میں آپریشن 'طوفان الاقصیٰ' کے بعد خطے میں رونما ہونے والے واقعات اور ان واقعات میں ایران کے حمایت یافتہ 'حزب' کی شمولیت نے اس عمل کو کچھ وقت کے لیے درہم برہم اور معطل کر دیا۔ جب ٹرمپ نے دوسری مدت کے لیے امریکی صدارت سنبھالی اور اپنے اتحادیوں اور ماتحت حکومتوں کے ساتھ تکبر آمیز رویہ اپنایا، اور خطے میں اپنے نام نہاد "معاہدہ ابراہیمی" (Abraham Accords) منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے جنگ چھیڑی، تو لبنانی حکام اس بار کھل کر سامنے آئے تاکہ اپنے راستے کی حقیقی نوعیت اور خطے میں امریکی منصوبے اور مفادات کے ساتھ اس کے بنیادی تعلق کا اعلان کریں: یعنی مجرم اور قابض یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات، امن اور تعلقات کی بحالی۔

 

لبنان پہلے ہی اس راستے پر گامزن تھا، لیکن آج وہ اس میں بری طرح دھنس چکا ہے۔ اس معاملے کو حل کرنے میں کوئی بھی تاخیر لبنانی سیاسی مقتدرہ کے اہم کرداروں کے درمیان، بغیر کسی استثناء کے، اس راستے کے کرپٹ ہونے کے حقیقی یقین کی وجہ سے نہیں ہو گی، بلکہ اس کا سبب بین الاقوامی یا علاقائی مذاکرات، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے اس کا تعلق ہو گا، خواہ وہ تعطل کا شکار ہوں یا جاری ہوں۔

 

البتہ، وہ واقعہ جو لبنان اور اس خطے میں اس غدارانہ روش کو بدل کر رکھ دے گا، اور جو شرعی اور عملی دونوں لحاظ سے ناگزیر ہے، وہ مسلم ممالک میں اہل نصرۃ (عسکری طاقت رکھنے والوں) کی وہ حرکت ہے جس کے ذریعے اقتدار حزب التحریر کے سپرد کیا جائے تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔ یہ بات خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ان اہل قوت و نصرۃ نے اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کر لیا ہے کہ مسلمانوں کے فکری رجحانات، ان کے علاقوں کے جغرافیہ، دنیا کے ذہنوں میں امریکہ اور یہودیوں کے بدنما عکس، اور بین الاقوامی ضابطوں اور اداروں کی ناکامی کے پیشِ نظر، ان کے پاس بلا جھجھک یہ قدم اٹھانے کا ایک سنہرا موقع موجود ہے۔ اصل مسئلہ ہتھیاروں کی برتری یا طاقت کی وسعت نہیں ہے، بلکہ اصل قوت ان لوگوں کی ہے جو ان کے پیچھے کھڑے ہیں، اور وہ عام مسلمان ہیں جو اس تبدیلی کے لیے بے قرار ہیں اور جیسے ہی وہ اپنے سامنے ایک مخلص قیادت کو پائیں گے جو ان کے معاملات کی نگرانی کرے اور ان کے خون، مال، عزت اور گھروں کا دفاع کرے، تو وہ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

 

 

Last modified onجمعرات, 23 اپریل 2026 14:16

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک