الخميس، 16 صَفر 1448| 2026/07/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو پاکستان کی دہلیز پرایک مستقل صلیبی وجود کو تحفظ فراہم کر کے کیانی نے اپنی غداریوں میں مزید اضافہ کیا

امت کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کی دہلیز پر امریکہ کو مستقل فوجی اڈے قائم کرنے میں مدد فراہم کر کے جنرل کیانی غداری کی ہر حد کو پار کرتا جا رہا ہے۔ 25 مئی 2013 کو جنرل کیانی نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایساف کمانڈر جنرل جوزف ایف ڈنفورڈ سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران جنرل کیانی نے افغانستان میں امن کے قیام اور نیٹو افواج کے انخلأ کے لیے امریکہ کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ خطے میں امریکہ کے سب سے اہم آدمی جنرل کیانی کی یہ ملاقات مختلف امریکی و مغربی اہلکاروں اور بین الاقوامی اداروں سے ہونے والی ان ملاقاتوں کا تسلسل تھی جن کا مقصد افغانستان پر امریکی گرفت کو مضبوط بنانا تھا۔ اس سے قبل 20 مئی 2013 کو جنرل کیانی نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں آئی ای ڈیز (Improvised Explosive Devices) کے حوالے سے ایک پالیسی بنانے اور پاکستان سے کیمیائی کھاد کی افغانستان کے طالبان کو فراہمی روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ امریکی فوج کے تخمینوں کے مطابق 80فیصد افغان بم کیمیائی کھاد سے بنے ہوتے ہیں اور افغانستان میں ہونے والی امریکی اموات میں سے 60 فیصد انھی بموں (IEDs) سے ہوتی ہے۔ فوجی قیادت میں موجود اپنے ساتھی غداروں کے چھوٹے سے گروہ کی مدد لینے کے ساتھ ساتھ جنرل کیانی نے سیاسی قیادت میں موجود غداروں کی مدد بھی طلب کر لی ہے۔ لہذا نواز شریف اور دوسرے بِکاؤ سیاستدان اب مسلمانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور صلیبی قبضے کو تسلیم کرلیں۔ کراچی اور کوئٹہ میں آپریشنز اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں تاکہ مسلمانوں کو یہ بات کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ معاونت اس مدد کے علاوہ ہے جو جنرل کیانی نے فوج میں امریکی راج کی مخالفت کرنے والے افسران کو ہٹانے، نیٹو سپلائی لائن کو تحفظ فراہم کرنے اور امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دینے کی صورت میں فراہم کر رکھی ہے۔
جنرل کیانی اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود اس کے ساتھی پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان کو یہ کہہ کر دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ دراصل امریکہ کو خطے سے نکلنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ امریکی ایجنٹ پاکستان کے عوام اور افواج میں موجود شدید غصے سے باخبر ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں پاکستان کے مسلمان خطے میں امریکی موجودگی کو اپنے اور اپنے دین کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتے ہیں۔ لہذا امریکہ نے ان حکمرانوں کو ایسا ظاہر کرنے کی اجازت دی ہے کہ جیسے خطے سے امریکہ کو نکلنے میں مدد فراہم کر کے یہ لوگوں کی خواہش کو پورا کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت یہ غدار حکمران محدود انخلأ کے دھوکے میں افغانستان میں مستقل امریکی اڈوں کے قیام کے ذریعے خطے میں امریکی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے امریکہ کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ ہے ان غداروں کی مسلمانوں کے خلاف دوہری حکمت عملی کی حقیقت جس کا مقصد اپنے کافر آقاوں کے خوشنودی حاصل کرنا ہے۔
يُخَادِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلاَّ أَنْفُسَهُم وَمَا يَشْعُرُونَ
"وہ اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، مگر سمجھتے نہیں" (البقرة:9)
اے افواج پاکستان کے افسران! تمھارے حکمرانوں کا طرز عمل تمھارے سامنے ہے۔ یہ افغانستان پر حملے اور خطے میں امریکہ کو اپنے قدم جمانے کے لیے اس کی جانب دوڑے چلے جاتے ہیں اور پاکستان کی سرزمین اور فضائیں اس مقصد کے حصول کے لیے اس کے سامنے کھول دیتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شہروں میں مجاہدین کا پیچھا کیا، انھیں گرفتار کیا اور پھر انھیں امریکہ کے حوالے کیا۔ پھر جب امریکہ کی افغانستان میں مشکلات بہت بڑھ گئیں تو انھوں نے افواج پاکستان کو قبائلی علاقوں میں بھیج دیا تاکہ افغانستان جانے والے مجاہدین کا راستہ روکا جاسکے اور پاکستان میں فتنے کی جنگ کو بھڑکایا جائے جس کا ایندھن افواج پاکستان کے جوان اور پاکستان کے شہری بن رہے ہیں۔ اور اب بجائے اس کے کہ یہ بزدل، صلیبیوں اور ان کے دم توڑتے قبضے کے خلاف اپنی افواج اور مجاہدین کے طاقت کو یکجا کریں یہ مجاہدین کو اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ ہتھیار پھینک دیں۔
اے بھائیو! حزب التحریر کو نصرة فراہم کرو اور مشہور فقہی اور رہنما، امیر حزب التحریر، شیخ عطا بن خلیل عطا ابو رشتہ کی بیعت کرو، پاکستان میں خلافت کا فوری قیام عمل میں لاؤ اور اس امت کی تذلیل کے دنوں کا خاتمہ کر دو۔ بھائیوں یہی وقت ہے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کی بجائے اس امت، اس کے دین اسلام اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بن جاؤ۔ حزب التحریر تمھیں پکارتی ہے کہ تم میں جنھوں نے اب تک اس پکار پر لبیک نہیں کہا وہ لازمی اب اس کا جواب دیں۔

Read more...

جمہوریت کو ختم کرو اور خلافت کو قائم کرو بجلی کا بحران عوام سے جمہوریت کا بہترین انتقام ہے

ملک بھر میں جاری بجلی کا بدترین بحران عوام سے جمہوریت کا بہترین انتقام ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرتا کہ اس بحران کی بنیادی وجہ بجلی کی پیداواری صلاحیت کی کمی نہیں ہے تو پھر آخر کیوں عوام کو نہ تو مشرف و شوکت عزیز کی حکومت اور نہ ہی زرداری و کیانی کی حکومت اس بحران سے نجات دلاسکی۔ حکمران گردشی قرضے، مہنگے فرنس آئل،بجلی چوری، بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں موجود شدید بد انتظامی کو اس مسئلے کی وجوہات قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ ایسے مسائل ہیں جنھیں پچھلی دو حکومتیں بھی حل نہیں کرسکتی تھیں۔ جمہوریت کی بدولت بجلی کے پیداواری ادارے اور تقسیم کار کمپنیاں عوامی اثاثے نہیں بلکہ نجی کاروبار ہیں۔ جب حکومت ان کے واجبات ادا نہیں کرتی تو وہ بجلی کی پیداوار میں کمی یا پاورپلانٹ ہی بندکرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لہذا اس بات کے باوجود کہ بجلی کی پیداواری استعداد 21000میگاواٹ جبکہ انتہائی طلب 17500میگاواٹ ہے، بجلی کی پیداوار 9000میگاواٹ سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ جمہوریت ہی اس قسم کی پالیسی کی اجازت دیتی ہے جس میں چیز استعمال کرلینے کے باوجود اس کی قیمت ادا نہیں کی جاتی۔اس کے علاوہ جب عوامی غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بجلی کی پیداوار بڑھا بھی دی جاتی ہے تو اس کامطلب ریاست کے لیے مزید خسارہ اوراس خسارے کو پورا کرنے کے لیے مزید قرضہ اور لوگوں کے لیے مہنگی بجلی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ پالیسی اس لیے اختیار کی جاتی ہے تا کہ عوام شدید بد حالی کا شکار ہو کر ملک میں امریکی راج کے خلاف آواز بھی بلند نہ کرسکیں۔ درحقیقت بجلی کا کوئی بحران سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ مسئلہ حکمرانوں نے جانتے بوجھتے پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے مسلم دنیا کا طاقتور ترین ملک کسی کمزور ترین افریقی ملک سے بھی کمزور تر لگنے لگا ہے تا کہ حکمران امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا جواز فراہم کرسکیں۔
11مئی2013کے انتخابات کے نتیجے میں آنے والے حکمرانوں نے بھی قوم کو حکومت سنبھالنے سے قبل ہی یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ اس بحران کے خاتمے کی کوئی مدت متعین نہیں کرسکتے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ تائثربھی مستحکم کررہے ہیں کہ وہ ملک جس نے بغیر کسی بیرونی مدد کے شاندار ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی،اس بحران کو امریکہ،چین اور بھارت کی مدد کے بغیر حل نہیں کرسکتا۔ ایک طرف یہ حکمران اس بحران کے خاتمے کے لیے وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں لیکن بارہ سالوں سے امریکی جنگ کو لڑنے کے لیے معیشت کو 70ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا چکے ہیں اور پاکستان کے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی رقم کو نیٹو سپلائی لائن کوبرقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جمہوریت و آمریت صرف اور صرف امریکہ اور استعماری طاقتوں کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔ صرف خلافت ہی عوام کو بجلی کے اس بدترین بحران سے، توانائی سے متعلق اسلام کے احکامات کے نفاذ کے ذریعے، نجات دلائے گی۔ خلافت رسول اللہﷺ کے ارشاد ((المسلمون شرکاء فی ثلاث الماء و الکلا و النار)) ''تمام مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی ، چراگاہیں اور آگ'' (ابو داؤد)، کے مطابق بجلی کے تمام پیداواری کارخانوں،یونٹس،اداروں اور اس کی تقسیم کار کمپنیوں کو عوامی ملکیت قرار دے گی اور پیٹرول،ڈیزل،فرنس آئل وغیرہ پر عائد ٹیکسز کا خاتمہ کردے گی ۔ ان اقدامات کے نتیجے میں عوام کو نہ صرف بجلی گھروں کے نجی مالکان کی بلیک میلنگ سے نجات مل جائے گی بلکہ سستی بجلی بھی میسر آئے گی۔ اس کے علاوہ خلافت خود انحصاری کے حصول کے لیے بجلی پیدا کرنے کے لیے ریاست میں دستیاب وسائل جیسے پانی، کوئلہ،گیس وغیرہ کو استعمال میں لائے گی اور اس طرح بجلی کی پیداواری لاگت میں مزید کمی آئے گی۔
حزب التحریر عوام کو خبردار کرتی ہے جمہوریت و آمریت سرمایہ دارانہ نظام کو نافذاور استعماری ممالک کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ صرف خلافت ہی اسلام کے نفاذ کے ذریعے امت کو سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم اور استعماری ممالک کے شکنجے سے آزاد کرائے گی۔ لہذاخلافت کے قیام کی جدوجہد میں حزب التحریر کے ساتھ شامل ہوجائیں۔

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

حزب التحریر نے خلافت کی صحت پالیسی کا اعلان کردیا خلافت صحت کی سہولیات کی دستیابی کو تمام شہریوں کا حق قرار دے گی

حزب التحریر ولایہ پاکستان نےخلافت کے شہریوں کی صحت کو یقینی بنانے کے حوالے سے پالیسی دستاویزجاری کی ہے۔یہ پالیسی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صحت کی سہولیات کی دستیابی معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت اورحق ہے اور آنے والی خلافت میں بلا امتیازِ رنگ، نسل، جنس اور مذہب ،یہ حق تمام شہریوں کو حاصل ہوگا۔
پاکستان کی صحت عامہ کی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے ۔ قابل علاج مگر خطرناک بیماریاں عام ہیں، مریضوں کی صحت کے حوالے سے تعلیم کی کمی، ناقص طریقہ علاج جو صحت کے اصولوں سے متصادم ہے، صحت عامہ کا کوئی جامع نظام نہ ہونا، ناقص بنیادی کلینیکل تربیت اور بنیادی طبی تحقیق کی غیر موجودگی جو مقامی بیماریوں اور صحت کی ضروریات کی بنیاد پر کی جارہی ہو۔ اس وقت نجی شعبہ 80فیصد بیرونی مریضوں(outpatient) کی دیکھ بحال کرتا ہے۔ صحتِ عامہ کی سہولیات کی فراہمی میں نجی شعبہ کے غلبے نے اِن سہولیات کی فراہمی کوخدمت کی جگہ کاروبار اور بنیادی حق کی بجائے آسائش بنا دیا ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی نجی ڈاکٹر وںکی فیس، ادوایات اور میڈیکل ٹیسٹ کی قیمتوں نے پاکستان کے عوام کی اکثریت کے لیے ایک آسان اور سستا علاج انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
یہ افسوسناک صورتحال جمہوریت کے سب سے بڑے دعویدار ، اور ہمارے حکمرانوں کے آئیڈل ماڈل ، امریکہ کے نطام سے منسوب ہے۔ امریکہ میں جمہوریت نے مریضوں کو گاہک اور صحت کی سہولت کو ایک آسائش بنا دیا ہے۔ جمہوریت نے صحت عامہ کے شعبے اور ادویات میں تحقیق کو ایک چھوٹے سے اشرافیہ کے طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے نجی شعبے کے حوالے کردیا ہےاور یوں یہ اقلیتی طبقہ کروڑوں لوگوں کی پریشانیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ نجکاری کی بدولت طبی ادویات اور صحت کی سہولیات نہ صرف دنیا کے بیشتر لوگوں کے لئے بلکہ مغربی دنیاکے کئی لوگوں کے لیے بھی ایک ناقابل حصول شے بن چکی ہیں۔
یہ تکلیف دہ صورتحال خلافت کے دور سے کوسوں دور ہے۔ خلافت میں ریاست رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی بنیاد پر ایک مضبوط صحت عامہ کے شعبے کو چلاتی تھی۔ رنگ ،نسل، جنس یا مذہب سے قطع نظر ریاست کے تمام شہریوں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی ریاست خلافت پر فرض ہے۔ رعایاکے لیے صحت اور علاج معالجے کی ضروریات کو فراہم کرنا بھی ریاست کے فرائض میں شامل ہے۔ ڈسپنسریاںاورہسپتال وہ سہولیات ہیں جن سے مسلمان ادویات اور علاج معالجے کے سلسلے میں فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔
ریاست اپنے عام شہریوں کو ہر قسم کی طبی سہولتیں مفت فراہم کرے گی۔ تاہم ڈاکٹروں کو فیس پر بلوانے یا ادویات کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں لگائے گی۔
صحت عامہ کی اس قدر عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے درکار مالیاتی وسائل کو حاصل کرنے کے لیے ریاست خلافت محاصل کے نظام میں شریعت کے مطابق تبدیلیاں لائے گی اور تعلیمی ترقی کی رفتار کو بھی بڑھائے گی۔ خلافت عوامی اثاثوں جیسے توانائی کے وسائل اور ریاستی اداروں جیسا کہ تعمیراتی کمپنیوں اور بھاری صنعتوں سے وسیع مالیاتی وسائل حاصل کرے گی۔ خلافت صنعتوں پر زکوٰۃ اور زراعت پر خراج نافذ کرے گی اور ظالمانہ انکم ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس کا خاتمہ کرے گی جنھوں نے معاشی سرگرمیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
نوٹ :اس پالیسی اوراس سے متعلق ریاست خلافت کے دستور کی دفعات کے تفصیلی دلائل جاننے کے لیے اس ویب سائٹ لنک کو دیکھیے۔
http://htmediapak.page.tl/policy-matters.htm

Read more...

وضاحتی خط حزب التحریر پر جھوٹے الزامات خلافت کے قیام کو روک نہیں سکتے خلافت کے قیام کو قریب دیکھ کر امریکہ اپنے جھوٹے ایجنٹوں کو حرکت میں لے آیا ہے

10 فروری 2014 بروز پیر، پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر یہ خبر نشر ہوتی رہی کہ وزارت داخلہ نے کراچی پولیس اور رینجرز کو ایک رپورٹ بھیجی ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں القائدہ کی ذیلی تنظیم حزب التحریر قائم ہوچکی ہے جس نے وہاں پر لیفلٹ بھی تقسیم کیے ہیں۔ امریکی ایجنٹ حکمرانوں کی جانب سے اس قدر مزحکہ خیز جھوٹ واشنگٹن کے فکری دیوالیہ پن اور پاگل پن کا واضح ثبوت ہے۔ حزب التحریر ایک اسلامی سیاسی جماعت ہے جو خلافت کے قیام کے لیے رسول اللہﷺ کے منہج پر چلتے ہوئے صرف اور صرف فکری و سیاسی جدوجہد کرتی ہے۔ حزب خلافت کے قیام کے لئے عسکری جدوجہد کی راہ کو اسلام کی رو سے حرام تصور کرتی ہے۔ یہ بات ہر باخبر انسان جانتا ہے کہ 1952 میں حزب التحریر بیت المقدس میں قائم ہوئی تھی اور اپنے قیام کے وقت سے ، طریقہ کار کے اختلاف کے باوجود وہ تمام اسلامی جماعتوں کو دینی بھائی سمجھتی ہے۔ حزب نے کبھی بھی کسی جماعت کے پروگرام میں شرکت نہیں کی سوائے اس صورت کے کہ وہ سیاسی و فکری پروگرام ہو۔
ایجنٹ حکمرانوں کی جانب سے حزب التحریر کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے میں آنے والی تیزی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس حزب کی سیاسی و فکری جدوجہد کے خلاف سچ اور حقیقت پر مبنی بات کرنے کے لئے کوئی مواد سرے سے ہے ہی نہیں۔ وہ اور ان کے کافر استعماری آقا عوام اور افواج میں اسلام ، خلافت اور حزب التحریر کی بڑھتی ہوئی محبت سے ششدر ہوگئے ہیں۔ حزب التحریر سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو یہ بتا دینا چاہتی ہے کہ وہ حزب التحریر کے خلاف جتنا بھی جھوٹا پروپیگنڈہ کر لیں ، اللہ سبحانہ و تعالٰی کے حکم سے اسلام ایک ریاست کی صورت میں قائم ہو کر ہی رہے گا۔ وہ اپنی اس کوشش میں ویسے ہی بُری طرح سے ناکام و نامرادہوں گے جیسا کہ اس سے پہلے قریش کے کفار ناکام اور ذلیل ہوگئے تھے جب انھوں نے رسول اللہﷺ کو جادوگر، شاعر اور کاہن قرار دینے کے لئے زبردست مہم چلائی تھی۔
حزب التحریر پاکستان میں موجود میڈیا کے تمام اداروں کو بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ جھوٹی خبر کو شائع کرنا بھی گناہ ہے۔ پاکستان کا میڈیا اس بات سے پوری طرح باخبر ہے کہ حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے دنیا بھر میں اپنے شباب کی گرفتاریوں، ان پر تشدد یہاں تک کہ ان کی شہادتوں کے باوجود اپنے قیام کے دن سے لے کر آج تک، اس نے کبھی عسکری جدوجہد کہ راہ کو اختیار نہیں کیا کیونکہ وہ اس طریقہ کا ر کو حرام تصور کرتی ہے۔ لہٰذا ہم پاکستان کے میڈیا کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ حزب التحریر میں موجود اپنے بھائیوں اور بیٹوں کے خلاف حکومتی سازشوں اور جھوٹ کا حصہ نہ بنیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت "وہ جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔۔۔اسے سچ بولنا چاہیے یا پھر وہ خاموش رہے" (بخاری و مسلم)۔

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

روس تاتارستان کے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے حزب التحریر ولایہ پاکستان نے روسی قونصل خانے کے باہر مظاہرہ کیا

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے دو کروڑ کی آبادی پر مشتمل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں روسی قونصل خانے کے باہر مسجد عمر پر مظاہرہ کیا۔ حزب التحریر ولایہ پاکستان تاتارستان میں روسی سکیورٹی ایجنسیوں کےہاتھوں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے شدیدمظالم کی پر زور مذمت کرتی ہے۔ ان روسی غنڈوں نے مسلمانوں کو مارا پیٹا ، ان کی ہڈیاں توڑ ڈالیں اور انھیں بجلی کے ذریعے اذیت کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا: "اے تاتارستان کے مسلمانو! خلافت کا قیام قریب ہے جوتمہیں روس کے مظالم سے نجات دلائے گی"۔
روس کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس قسم کا جبر و تشدد اسلام کو اپنی منزل پر پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔ تاریخ ان جابروں کی ذلت آمیز شکستوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے مسلمانوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کی ہمت کی تھی۔ روس کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ وہ آج شام میں جس خلافت کے قیام سے شدید خوفزدہ ہے وہ اللہ کے حکم سے جلد ہی قائم ہو گی۔ اور چاہے پاکستان کو خلافت کا نقطہ آغاز بننے کا شرف حاصل ہوتا ہے یا نہیں ، لیکن مسلمانوں کی وسیع و عریض زمینیں اور طاقتور وسائل ایک بار پھر خلیفہ راشد کی قیادت میں ایک ہو جائیں گے۔
اے اللہ، الجبار، العزیز، مسلمانوں کو ان کی ڈھال خلافت اب ایک بار پھر لوٹا دیجئے! پھر ظالم و جابر افسوس سے اپنے سر پکڑے بیٹھے ہوں گے اور ان کے دل اس بات سے خوفزدہ ہوں گے کہ اب ان کے جرائم کا پورا پورا حساب لیا جائے گا! وہ مسلمانوں کی تمام افواج کو ایک فوج کی صورت میں دیکھیں گے جو جابروں کو ان کے انجام تک پہنچائے گی اور ایمان والوں کے دل اس سے سکون حاصل کریں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ
"ان سے تم جنگ کرو، اللہ تعالٰی انہیں تمھارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل و رسوا کرے گا، تمھیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا"(التوبۃ:14)
اے افواج پاکستان! ہر جگہ شیطان کی کی دوست مسلمانوں کے خلاف اکٹھا ہو چکیں ہیں ۔ یہی وقت ہے کہ آپ صرف اللہ سے ڈریں اور ذلت و رسوائی کی لہر کا رخ موڑ دیں اور خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کر کے ایک عظیم و شان فتح سے امت کو ہمکنار کریں۔
إِنَّمَا ذَلِكُمْ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلاَ تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِي إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
"یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہےجو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مؤمن ہو"(آل عمران:175)

Read more...

پاکستان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ کی پریس کانفرنس خطے میں امریکہ کی موجودگی بم دھماکوں اور انتشار کی بنیادی وجہ ہے شمالی وزیرستان کے لیے راحیل-نواز حکومت کی پالیسی امریکی سازشوں کوکامیاب بنانے کا ذریعہ بنے گی

حزب التحریر پاکستان کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ سعد جگرانوی نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ پریس کانفرنس شمالی وزیرستان کے حوالے سے راحیل-نواز حکومت کی پُر نقص اور پُر فریب پالیسی کو بے نقاب کرنے کے لیےمنعقد گئی تھی۔
مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ سعد جگرانوی نے کہا کہ پاکستان میں بم دھماکوں اور انتشار کوپیدا کرنے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں اس قسم کی افراتفری صرف اور صرف امریکہ کے لیے فائدہ مند ہے۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کی فوج اُن قبائلی جنگجوؤں کو نشانہ بنائے جو پاک افغان سرحد پار کر کے افغانستان پر قابض امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
سعد جگرانوی نے کہا کہ اگر حکومت نے شمالی وزیرستان میں بھر پور اور مکمل فوجی آپریشن شروع کیا تو اس کا مقصد افغانستان پر امریکی کنٹرول کو مستحکم کرنا اور اس کی موجودگی یقینی بنانا ہوگا۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آگ بھڑکے تا کہ ان جنگجوؤں پر دباؤ ڈالے جو افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑتے ہیں۔ اس طرح امریکہ یہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے کہ وہ افغان طالبان کی صلاحیت کو کمزور کردے تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے پر مجبور جائیں جس کے تحت طالبان افغانستان میں مستقل فوجی اڈوں اور نجی سیکورٹی کانٹریکٹرز کی صورت میں امریکہ کی موجودگی کو تسلیم کرلیں۔انھوں نے کہا کہ جہاں تک وزیرستان میں فوجی آپریشن کا تعلق ہے تو امریکہ کو اس کی جتنی اشد ضرورت اب ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ معاشی لحاظ سے تباہ ہوتا ہوا امریکہ اور اس کی بزدل افواج کا گرتا ہوا حوصلہ امریکہ کو اس بات پر مجبور کررہا ہے کہ وہ محدود انخلاء کے بعد افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کا سہارا لے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں کو متحرک کیا ہے کہ وہ مذاکرات اور آپریشن کے متعلق خوب شور مچائیں۔ اس طرح امریکہ افغانستان میں فتح کا خواہش مند ہے، ایک ایسی فتح جو وہ خود اپنے بل بوتے پر کسی صورت حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن امریکہ کو تحفظ فراہم کرنے کی صورت میں مسلمان مزید نقصان اٹھائیں گے جیسا کہ وہ اس سے قبل ماضی کے فوجی آپریشنز میں اٹھاچکے ہیں۔
مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ سعد جگرانوی نے مزید کہا کہ جب تک امریکہ ہمارے درمیان موجود ہے، امن کا قیام تو دور کی بات ہم امن کا تصور بھی نہیں کرسکیں گے۔ ہماری قیادت میں موجود غدار اس صورتحال کی ذمہ داری کبھی کسی پر ڈالتےہیں تو کبھی کسی اور پر، تاکہ اپنے آقا امریکہ کی خواہش پر ہمیں دھوکہ دے سکیں لیکن یہ کبھی اس بنیادی وجہ کی نشان دہی نہیں کریں گے جو کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلام، دشمن امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کی اجازت نہیں دیتا اور پاکستان سے امریکہ کی موجودگی، اس کے اڈوں ، سفارت خانے اور قونصل خانوں کا خاتمہ اور اہلکاروں کو ملک بدر کرنا لازمی ہے کیو نکہ خطے سے امریکہ کی موجودگی کا خاتمہ کیے بغیر امن کا تصور بھی محال ہے۔
نوٹ: اس تقریر کا مکمل متن اس پریس ریلیز کے ساتھ جاری کیا گیا ہے جس کو اس لنک http://pk.tl/1ewZ پر دیکھا اور ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

برائے ویڈیو : http://pk.tl/1eA4

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک