امریکہ نے نئے صدر کی سربراہی میں اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کے لیے دوبارہ عہد کر لیا
- Published in پاکستان
- Written by Super User
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- الموافق
امریکہ نے نئے صدر کی سربراہی میں اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کے لیے دوبارہ عہد کر لیا
امریکہ نے نئے صدر کی سربراہی میں اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کے لیے دوبارہ عہد کر لیا
30 مارچ کی صبح جدید اسلحے سے لیس درجن کے قریب نامعلوم افراد نے لاہور کے علاقے مناواں میں پولیس ٹریننگ سکول پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے بلاتاخیر اس سانحے کو قبائلی علاقے سے منسلک کیا جہاں امریکہ جنگ کی آگ کو بھڑکائے رکھنا چاہتا ہے ۔
گزشتہ کچھ عرعے سے ہم کوپن ہیگن کے علاقوں میں مختلف گینگوں (gangs) کے مابین ایک بڑھتا ہوا تنازع دیکھ رہے ہیں ۔
17 رمضان کو غزوہءبدر ، جس میں رسول اللہ ﷺ نے کفار پر یقینی فتح حاصل کی تھی ،کے یادگار دن کے موقع پرحزب التحریر ولایہ پاکستان نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں "رمضان -غلبہ ء اسلام کا مہینہ" کے عنوان سے سمینارز منعقد کیے ۔ ان سمینارز میں یہ اعلامیہ جاری کیاجاتاہے:
17 فروری2009 کو امریکی صدر بارک حسین اوباما نے افغانستان پر امریکی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 17000فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ، جہاں پہلے ہی امریکہ کی 38000 فوج موجود ہے جبکہ دیگر ممالک کی 19000 فوج اس کے علاوہ ہے۔ وائٹ ہاﺅس سے جاری کردہ ایک تحریری بیان میں اوباما نے کہا: "پاکستان اور افغانستان کی صورتِ حال اس بات کا تقاضاکرتی ہے کہ اس پر فوری توجہ دی جائے اور تیزی سے اقدامات اٹھائے جائیں...فوج میں کیا جانے والا یہ اضافہ افغانستان کی گرتی ہوئی صورتِ حال کو سنبھالا دینے کے لیے ضروری ہے ، جسے (ماضی میں) وہ سٹریٹیجک توجہ ، ڈائریکشن اور وسائل مہیا نہیں کیے گئے کہ جس کی فوری ضرورت ہے"۔
اے مسلمانانِ پاکستان ! آمریت کی طرح اِس جمہوری تماشے کو بھی مسترد کر دو اور اُس خلافت کو قائم کرو جو پاکستان میں استحکام کی ضمانت ہو گی