المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر
| ہجری تاریخ | 11 من ذي الحجة 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/085 |
| عیسوی تاریخ | جمعرات, 28 مئی 2026 م |
پریس ریلیز
یورپ مسلمانوں کے تیل اور گیس کے بغیر چند دن گزارنے سے خوفزدہ ہے؛ تو اگر مسلم دنیا بیدار ہو گئی، تب کیا عالم ہو گا؟!
فرانس کے وزیرِ خزانہ رولان لیسکیور (Roland Lescure) نے کہا ہے کہ حکومتیں ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر سے مزید تیل جاری کرنے کے بارے میں اس وقت تک فیصلہ نہیں کر سکتیں جب تک جنگ کے دورانیے کا واضح اندازہ نہ ہو جائے۔ اسی طرح قطر میں واقع راس لفان توانائی کمپلیکس (Ras Laffan Gas Facility)، جو دنیا کے سب سے بڑے LNG کے منصوبوں میں سے ایک ہے، پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد برطانیہ کے گیس ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی، یہاں تک کہ برطانیہ کے قدرتی گیس کے ذخائر صرف 48 گھنٹے کی مقامی کھپت کے لیے کافی رہ گئے۔ یہ بیانات اور واقعات ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں جسے ہر صاحبِ بصیرت شخص بخوبی جانتا ہے، مگر مغربی حکمران اور مسلمانوں کے حکمران اس خوف سے اسے ہم سے چھپاتے ہیں کہ کہیں امتِ اسلامیہ اس حقیقت کو سمجھ نہ لے اور صورتحال ان کے خلاف پلٹ نہ جائے۔
اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مغرب کتنا کمزور اور مسلمانوں کے وسائل پر کس قدر منحصر ہے۔ برطانیہ، جو یورپ کی سب سے طاقتور استعماری قوتوں میں شمار ہوتا ہے، قطری گیس کی فراہمی میں صرف دو دن کی رکاوٹ بھی برداشت نہ کر سکا، گویا کہ قطر برطانیہ کے صحن میں موجود کوئی ذخیرہ ہو جس سے وہ روز اپنی ضروریات پوری کرتا ہو۔ اسی طرح فرانس، جو یورپ کی دوسری بڑی طاقت ہے، جنگ کے اختتام کے وقت کے تعین کی فوری ضرورت کی بات کر رہا ہے تاکہ یہ فیصلہ کر سکے کہ اسے اپنے اسٹریٹجک تیل کے ذخائر سے کتنا تیل نکالنا ہو گا۔ دیگر یورپی ممالک کی صورتحال بھی اسی طرح ہے، بلکہ بعض کی حالت اِس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ مسلمانوں کا تیل اور گیس مغربی استعماری طاقتوں کی معیشت کا روزمرہ ایندھن ہیں۔ یہ حقیقت دو امور کو ثابت کرتی ہے:
اول: امتِ اسلامیہ ایسے اسٹریٹجک وسائل کی مالک ہے کہ اگر اسے دانشمندی سے استعمال کیا جائے، تو وہ مغربی معیشت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے، اور مغرب پر اپنی شرائط، اپنا استحقاق اور من مرضی کی قیمتیں منوا سکتی ہے، اور تابع و محکوم بننے کے بجائے ایک برابر اور خودمختار فریق بن سکتی ہے۔
دوم: استعماری کافر مسلمانوں کے وسائل اور دولت پر پَل رہے ہیں، اور اُن کی معیشت کی شہ رگ اُن چیزوں سے وابستہ ہے جو مسلم ممالک سے اُن تک پہنچتی ہیں۔ یہ معاملہ صرف تیل اور گیس تک محدود نہیں، اگرچہ یہ اس کی زیادہ نمایاں مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ معدنیات، زرعی مصنوعات، کیمیائی مواد، کھادیں اور بہت سی دیگر اشیاء بھی شامل اس لسٹ میں شامل ہیں۔ یہ بھی اُس صورت میں ہے جب ان وسائل کی حقیقی قیمت ادا کی جائے۔ تو پھر آج کی اِس صورتحال کے بارے میں کیا کہا جائے جب ہم جانتے ہیں کہ استعماری طاقتیں استعماری معاہدوں کے ذریعے یہ وسائل اونے پونے داموں پر حاصل کرتی ہیں، یہاں تک کہ وہ خرید کم اور تحفے یا خیرات زیادہ محسوس ہوتی ہیں؟!
یقیناً مغرب کمزور اور ناتواں ہے؛ وہ امتِ اسلامیہ کے جسم میں ایک طفیلی کیڑے (parasite) کی مانند ہے۔ اگر مسلم سرزمینوں میں گہرائی تک پھیلی ہوئی وہ رگیں کاٹ دی جائیں جو اسے زندگی فراہم کرتی ہیں تو ان کی ریاستیں بہت جلد ڈھیر ہو جائیں گی۔ چند دن کی جنگ نے ہی اس حقیقت کو آشکار کر دیا، بالکل ویسے جیسے مغرب کی ناقابلِ شکست فوجی طاقت کا افسانہ بے نقاب ہو چکا ہے۔
امتِ اسلامیہ کے پاس وہ وسائل، صلاحیتیں اور افواج موجود ہیں جن کی بدولت وہ استعماری طاقتوں کی غلامی سے نجات حاصل کر سکتی ہے اور عالمی سطح پر ان کا مقابلہ بھی کر سکتی ہے۔ اس کے لیے صرف ایک مخلص قائد، ایک صالح خلیفہ درکار ہے جو امت کی صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لائے اور اسے دوبارہ اس مقامِ قیادت پر فائز کرے جس پر وہ صدیوں تک دنیا کی رہنمائی کرتی رہی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ﴾
"اور یقیناً ہمارا لشکر ہی غالب آنے والا ہے۔" (سورۃ الصافات: 173)
انجنیئر صلاح الدین عضاضہ
ڈائریکٹر، مرکزی میڈیا آفس، حزب التحریر
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير مرکزی حزب التحریر |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon تلفون: 009611307594 موبائل: 0096171724043 http://www.muslimworld.today |
فاكس: 009611307594 E-Mail: E-Mail: media (at) muslimworld.today |




