السبت، 18 رمضان 1447| 2026/03/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

حزب التحریرنے خلافت کے عدالتی پالیسی کا اعلان کردیا یقینی،بروقت اور بغیر کسی امتیاز کے انصاف فراہم کرنے کے لیے عدالتی پالیسی

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے عدالتی پالیسی کے حوالے سے مندرجہ ذیل پالیسی دستاویزجاری کی ہے۔یہ پالیسی ایسے عدالتی نظام کو یقینی بنائے گی جو بدعنوانی اورامتیازی سلوک سے پاک ہو، لوگوں کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے اور حکمرانوں کے احتساب میں انتہائی سخت ہو۔
اسلام کا عدالتی نظام انسانی تاریخ کا سب سے سے زیادہ تفصیلی اور گہری سوچ پر مبنی نظام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وقت سے اسلام بروقت اور کسی بھی امتیاز سے مبرا انصاف فراہم کرنےکے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ لیکن خلافت کے خاتمے اور شریعت کے نفاذ کی منسوخی کے بعد سے لوگوں کےدرمیان اختلافات اور جھگڑوں کےتصفیے، حکمرانوں کے احتساب اور لوگوں کے حقوق کی فراہمی کے معاملات انتہائی دگرگوں صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔
بروقت، بلامتیاز اور شفاف انصاف کی فراہمی اسلامی کے عدالتی نظام کی پہچان ہے۔ اس کے علاوہ تیرہ سو سالوں تک شریعت دنیا بھر کی تہذیبوں کے لیے ایک راہنما تھی جس نے مغربی اقوام کو اپنے قانونی اور حکمرانی کے اصول و ضوابط میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا، مثلاًفرانس کا نیپولیونک کوڈ، برطانیہ کا میگنا کارٹا اور امریکی آئین۔
جمہوریت کے برخلاف اسلام میں یہ اللہ سبحانہ و تعالی ہی ہے جو جرم، اس کو ثابت کرنے کے لیے درکار ثبوت اور سزا سے متعلق قوانین سے انسانیت کو آگاہ کرتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ "کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا؟ پھر وہ باریک بین اور باخبر بھی ہو"(الملک:14)۔ لہٰذا اسلام میں طاقت، رتبے یا کسی بھی اور وجہ کی بنیاد پر کوئی امتیازی قوانین نہیں ہوتے کیونکہ یہ قوانین اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب سے نازل کیے گئے ہیں۔ کمزور کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ اس کا تعلق کس نسل، رتبے، جنس، مکتبہ فکر یا مذہب سے ہے۔ اسلام میں کسی حکمران کو اسلام کے احکامات سے استثناء حاصل نہیں ہوتا چاہے وہ خلیفہ ہو یا والی (گورنر)۔
اسلام نہ صرف طاقتور کو ظلم سے روکتا ہے بلکہ بروقت انصاف کی فراہمی کو بھی یقینی بناتا ہے۔ اسلام کا عدالتی نظام ایک منفرد نظام ہے جس میں اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور نہ ہی مختلف درجوں کی عدالتیں ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے آج لوگ ایک گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ جب ایک بار ایک مقدمے میں اللہ کا حکم ثابت ہوجاتا ہے تو مقدمہ ختم ہوجاتا ہے۔ صرف اُس صورت میں مقدمہ دوبارہ کھولا جاسکتا ہے کہ اگر فیصلہ اللہ کے حکم کے خلاف ہو یا مقدمے کی حقیقت کو نظر انداز کردیا گیا ہو۔
جہاں تک سزاؤں کا تعلق ہے تواسلام نے ایسی سزائیں تجویز کی ہیں جو مجرموں کو جرم کرنے سے باز رکھتی ہیں جبکہ مغربی سزائیں جرائم میں مسلسل اضافے کا باعث بنتی ہیں جس کے نتیجے میں جیلوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
اس پالیسی اوراس سے متعلق ریاست خلافت کے دستور کی دفعات کے تفصیلی دلائل جاننے کے لیے اس ویب سائٹ لنک کو دیکھیے۔
http://htmediapak.page.tl/policy-matters.htm

 

Read more...

سوال وجواب :  کیاواقعی عالمی معیشت بہترہورہی ہے

 

سوال : 6/9/2013کوجمعہ کے دن G-20کی سربراہی اقتصادی کانفرنس سینٹ پیٹرس برگ(روس) میں حتمی بیان کی منظوری کے ساتھ اختتام کو

پہنچی۔ 6/9/2013کوروئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق بیان میں کہاگیاکہ " عالمی معیشت روبصحت ہے " ۔ ایجنسی نے رشین فائنانس منسٹری کے ڈائریکٹر آف ڈیپارٹمنٹ آندرے بوکاریف کے حوالے سے کہا،جس نے جی ٹونٹی کے اختتامی بیان کی تیاری میں شمولیت کی،کہ" مشکل ترین اورطویل ترین بحث، عالمی اقتصاد کاجائزہ لینے اور اس کی تشخیص کی تھی"۔ تازہ ترین اعدادوشمار ا س بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہیں ،چنانچہ یورپی یونین نے بیان جاریکیاہے کہ ان کی معیشت بڑھ رہی ہے،اگرچہ اس کی شرح نموکم ہے ۔امریکہ نے کہاہے کہ سال 2013 میں اس کی معیشت 1٪ کی شرح سے بڑھی ہے اورچین نے ایسے اعدادوشمار جاری کیے جن کی مطابق سال رواں میں اس کی معیشت جولائی 2013تک 7٪سے زیادہ کی شرح سے بڑھی ہے۔
تو کیاواقعی عالمی معیشت بہترہورہی ہے ،جس کے نتیجے میں 2007میں امریکہ میں شروع ہونے والااقتصادی بحران ،جوچھ سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہا،میں کمی آئی؟ اوراگرمعیشت بہترنہیں ہوئی، توان معلومات اوراعداد وشمارکاکیامطلب ؟ امید ہے کہ اس کی کچھ وضاحت فرمائیں گے ،جزاک اللہ خیراً۔

 

جواب : ہم پہلے عالمی سطح پرمعاشی پہلوسے نمایاں طورپر اثراندازہونے والے ممالک ،یعنی امریکہ ،یورپی یونین اورچین کی اقتصادی صورتحال کوسامنے رکھتے ہیں کیونکہ ان ممالک کی معیشت دنیاکی50 ٪ سے زائد معیشت کی نمائندگی کرتی ہے ۔ اس کے علاوہ عالمی اقتصادی بحران کاامریکہ اوریورپی یونین کے اختیارکردہ سرمایہ داریت کے ساتھ گہرا رابطہ ہے،اس لئے اس بحران میں اصل کرداران ہی کاہے۔جہاں تک چین کی بات ہے ،توجیساکہ ہم آگے بتائیں گے کہ اس بحران کوکھڑاکردنے یااس پرقابوپانے میں اس کاکردارردِعمل کاتھا،نہ کہ اثراندازی کا۔ آپ کی معلومات کیلئے کہ تنہاامریکی معیشت دنیاکی تین بڑی اقتصادی طاقتوں ،چین ،جاپان اورجرمنی کی مجموعی معیشت کی لگ بھگ ہے ، جن کانمبرامریکہ کے بعد آتاہے،کیونکہ ورلڈ بینک اوراقتصادی ترقی و تعاون آرگنائزیشن کے بیانات کے مطابق ،سال 2012 میں امریکی معیشت کاحجم15.1ٹریلین ڈالر تھا،جوعالمی معیشت کا 22٪ ہے ،جبکہ چین کی معیشت 8.2ٹریلین ڈالرتھی۔جہاں تک جاپان اورجرمنی کی معیشت کی بات ہے ،تویہ بالترتیب 5.9اور3.4ٹریلین ڈالر تھی۔ امریکی معیشت کے اس وسیع حجم کے باعث امریکی اقتصادی بحران کے اثرات پوری دنیامیں رونماہوئے ،جوامریکہ میں جائیدادکی پراپرٹی مارکیٹ کے انہدام کے نتیجے میں پیداہوا ۔ اس بناپرہم بحث کو ان تینوں ممالک کی معیشت پرمرکوزرکھیں گے، جو عالمی معیشت پرسب سے زیادہ اثراندازہوتے ہیں ،اورچونکہ معیشت کی بہتری یاعدم بہتری کی حقیقت کی طرف اشارہ دینے والے نمایاں ترین عوامل : بے روزگاری کی شرح ،علاقائی قرضے ،انتظامی اداروںجیسے میونسپلٹی کے اخراجات مع سوشل اخراجات ، اورحکومتی قرضے، ہیں اوریہ تینوں عوامل لیبرمارکیٹ ،کرنسی ایکسچینج مارکیٹ ،نیز حکومتی اورپرائیویٹ منصوبوں کی مارکیٹوں کی سرگرمیوں کے غمازہوتے ہیں ،اس لئے ہماری بحث کامحور یہی تین عوامل ہوں گے ،اس بحث کے نتیجے میں ہی ہم عالمی معیشت کی بہتری یاعدم بہتری کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
پہلا : یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ :
1.بے روزگاری کی شرح : سنٹر ل بینک نے 2008 کےاواخرمیں جان بوجھ کر قرضوں پرشرح سود میں کمی کرکے صفرکے قریب لے آیااور جنرل بجٹ میں بانڈزخریداری پروگرام کے تحت تین گنااضافہ کیا،جولگ بھگ تین ٹریلین ڈالر کاتھااورسنٹرسل بینک نے اپنی آخری میٹنگ میں اس کےماہانہ شرح کو85 بلین تک برقراررکھا۔یہ سب کچھ طویل المیعاد قرضوںکے اخراجات میں کمی لانے کیلئے کیا اور اس طرح کاروبارکے مالکان اورمنصوبوں کوچلانے والوں کیلئے قرض کاحصول آسان بنایاگیاتاکہ لیبرمارکیٹ کوفروغ دیاجائے لیکن اس کے باوجود بے روزگاری کی شرح گزشتہ مہینے7.9%کی نسبت سے برھتی رہی،یہ5سال قبل کی شرح سے کچھ زیادہ مختلف نہیں جو8.9%تھی ۔باوجود یکہ یونائیٹڈ سٹیٹس نے ترغیبی بل کی منظوری دیدی ،یعنی شئیرز کی خریداری کرکے کمپنیوں میں سرمایہ کی فراہمی کابل،یہ بل 2009 سے نافذ کیاگیا،مگر معیشت کے تن ِمردہ میں جان آئی اورنہ ہی بے روزگاری کی شرح میں خاطرخواہ کمی ہوئی ۔اس سے پتہ چلتاہے کہ بڑا بحران برقرار ہے اور معیشت بہتر نہیں آئی ہے۔
2. سروسزر سیکٹرکاقرضہ ،مثلابلدیات ( municipalities): سکائی نیوز کی عربی ویب سائٹ نے 11/8/2013 کوذکرکیا کہ یونائیٹڈ سٹیٹس کے شہروں اورمیونسپلٹیز میں قرضوںکے بوجھ اوران کی ادائیگی سے قاصر ہونے کی وجہ سےدوسالوں میں 41شہروں کومالیاتی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے"۔ اس کامطلب ہے کہ کئی امریکی شہری آج تک عالمی مالیاتی بحران کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ ایکبارپھرامریکیشہروںپرماضیکیدیوالیہپنکیپرچھائیاںنظرآنےلگیں ہیںجب گزشتہ جولائی میں اپنے ذمہ اٹھارہ بلین ڈالر کاقرضہ واپس کرنے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے امریکی ریاست ڈیٹروئٹ نےسرکاری طورپردیوالیہ ہونے کااعلان کیا ۔ قرض خواہوں سے بچنےیابالفاظِ دیگرحقیقت سے فراراورآسان حل کیلئے مالیاتی دیوالیہ کا اعلان ہی میونسپل اداروں اورشہروں کی آخری اُمید ہوتی ہے۔ "امریکی انسٹی ٹیوٹ برائے دیوالیہ پن "کےاعدادوشمار کے مطابق 2007اور2011کے درمیانی عرصہ میںامریکی شہروں اوربلدیات کے40 سےزائددیوالیا ہونے کے کیسزسامنےآئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ سالانہ 8 دیوالیہ پن کے کیسز سامنے آرہے ہیں ۔یہ اخباری رپورٹ ظاہرکرتی ہے کہ پچھلے دو سالوں (2011اور2013 )کےدوران شہروں کے دیوالیہ ہونے کے کیسز معاشی بحران کے عروج پر ہونے کے عرصے سے بھی زیادہ سامنے آئیں ہیں، جس سے امریکی اقتصاد کی بہتری کے بارے میں شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں۔
3. حکومتی قرضے: امریکی وزیرِ خزانہ جیکب لیو نے 26/8/2013کوکانگریس کوبھیجے گئے اپنےایک خط میں متنبہ کیاکہ : "حکومت کواپنےقرضوں کی ادائیگی کی نااہلی سے بچانے کیلئےگزشتہ مئی میں کیے گئےغیرمعمولی اقدامات کی مدت،اکتوبرکے وسط میں ختم ہونے والی ہے" اوراس نےکانگریس پرزوردیاکہ وہ قرض لینے کی حکومتی حق میں توسیع کرے( القدس ویب سائیٹ 27/8/2013) ۔امریکی وزیرخزانہ جیکب لیو نے اپنے خط میں اشارہ کیاکہ: اگر حکومت کےمجموعی قرضوں کی حد کو بڑھایا نہ گیا ،جس کی فی الحال جائزانتہائی حد16.7ٹریلین ڈالرزہے، تواس سال 15 اکتوبر کے آتے ہی امریکی حکومت اپنی ذمہ داریوں کوپوراکرنے کیلئے درکارضروری وسائلسےبہت جلد ہاتھ دھوبیٹھے گی" ۔اس نےانتباہ دیتے ہوئے کہا:"مالیاتی مارکیٹ میں بگاڑآسکتاہے ،اوراگرحکومتی قرضوں کی حد موجودہ سطح پر رہی تومعیشت گرسکتی ہے۔" اس نے مزید کہا:" کانگریس کا مشن یہ ہوناچاہئےکہ یونائیٹڈ اسٹیٹس کے اعتماد کی حفاظت کی جائے،کیونکہ کوئی دوسراادارہحکومتی قرضوں کی حداونچی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا" ( رشیاٹوڈےویب سائٹ 8/28/2013)۔ یعنی امریکہکے قرضے اب16.7ٹریلین ڈالرزکی آخری جائز حد کوچھورہے ہیں،لیکن اس کے باوجود اس کامطالبہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کوپوراکرنےکیلئے قرضوں کی حد اونچی کردی جائے۔
یہ امریکہ کی صورتحال ہے ،جہاں قرضوں کی سطح بہت بلندہوئی ہے اوراپنے اخراجات اور خسارےکوپوراکرنے اورمعاشی زوال سے بچنے کیلئے وہ قرض حآصل کرنے کی حد کومزید بلند کرنا چاہتا ہے ۔ یہ صورتحال کسی بھی طرح امریکی معیشت میں بہتری کااشارہ دیتی ہے اورنہ ہی بحران سے نکل جانے کی غمازہے۔
دوسرا : یورپی یونین :
1۔ بے روزگاری کی شرح :آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ (Christine Lagarde)نے بیان دیاہے کہ" اسپین اوریونان میں بے روزگار ہونے والوں کی شرح 27٪ہے" (یورونیوز ویب پیج ،26/4/2013) ۔اس نے 3/5/2013کومزید بتایاکہ " یہ توقع کی جاتی ہے کہ 17ریاستوں پرمشتمل یوروزون میں فروری میں بے روزگاری کی شرح 12٪تھی اور جنوری کے مہینے میں بے روزگاری کی شرح 11.9٪تھی لیکن بعد میں اعدادوشمار میں تبدیلی کے بعد وہ بھی 12٪ نکلی،لگسمبرگ میں یورپی یونین کے اعدادوشمار کے آفس نے آج کہا کہ یورپی یونین کمیشن اس سال بے روزگاری کی شرح 12.2٪ ہونے کی پیش گوئی کرتا ہے جبکہ 2014میں بے روزگاری کی شرح اوسطاً 12.1٪تک پہنچ جائےگی"۔
یورپین کمیشن کےوائس پریذیڈنٹ فاراکانومک اینڈ مانیٹری افئیرز،اولی رین Olli Rehnنے کہا کہ "کسادبازاری(recession)کےتسلسل کے پیش نظرہمیں یورپ میں بے روزگاری کے بحران کاسامناکرنے اوراس پرقابوپانے کیلئے بھرپورانداز میں ہرممکن کوشش بروئے کارلاناہوگی"۔
انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کےانٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فارلیبرسٹڈیز کے ڈائریکٹرریمنڈ ٹوریس Raymond Torresنے کہا " اگرہم نے واضح پالیسیاں اختیارنہ کیں، تویورپ میں کساد بازاری recessionکے بحران کے خطرات پیداہوں گے، جس کی وجہ سے طویل عرصے تک مزید لوگ بے روزگاری کاشکارہوں گے یا اس مارکیٹ سے ہی نکل جائیں گے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اب اس مارکیٹ میں موجود ہی نہیں ہیں "۔ اس نے مزید کہا" بالخصوص یوروزون میں تیز ترترقی کی پالیسی کواپناناوقت کی اہم ضرورت ہے ،اورسمال بزنس کوآسان قرضے فراہم کیے بغیرلیبرمارکیٹ میں حرکت پیداہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی " (یورونیوز 3/6/2013) ۔ ایرونیوز نے مزیدکہا کہ" آرگنائزیشن نے اشارہ دیاکہ 2010سےاب تک دوتہائی یورپین ممالک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اوریہ واضح کیاکہبے روزگاری کی شرح کو بحران سے پہلے والی شرح تک ،جوکہ5۔6٪تھی، لانے کیلئے 30 ملین روزگارکے مواقع پیداکرنے کی ضرورت ہے"۔
2.سوشل اخراجات : یورونیوزویب پیج نے 30/8/2013کوشائع کیاکہ " ڈنمارک کے وزیرخزانہ بجارنی کوریڈونBjarne Corydonکے مطابق،اسکنڈینویا(شمالی یورپ ) کے ممالک، جو ایک عرصے سے فلاہی ریاست کے حواکے سے شہرت رکھتی ہیں،اب مزید اپنے شہریوں کو ویسی سہولتیں فراہم نہیں کرسکتیں "۔اقتصادی ترقی وتعاون تنظیم نے حال ہی میں ممبرممالک کے اخراجات کے اعدادوشمارپیش کیے۔فرانس اس فہرست میں اپنی کُل قومی پیداوار کا33%فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کے حوالے سے پہلی پوزیشن پر ہے ،پھرڈنمارک اوربلجیم%30.8کی نسبت سے ، اس کے بعد 30.6%کی نسبت سےفین لینڈ ،سویڈن 28.6%ہیں۔ یہ اخراجات ان ممالک کے شہریوں کی تمام ضروریات کوپوراکرنے کیلئے ناکافی ہیں ،ماسوائے جرمنی کے کہ اس کے سماجی شعبے میں اخراجات کسی حد تک قابل قبول ہی۔ آپ اندازہ کریں یہ ان ممالک کی حالت ہے جواخراجات کے حوالے سے سب سے زیادہ طاقتورشمارکئے جاتے ہیں تو پھردیگرکمزور ممالک کی حالت کیاہوگی؟
3۔ قرضے :یورونیوز ویب پیج نے 22/7/2013کوشائع کیاکہ" یوروزون اس مالیاتی سال کے پہلےتین مہینوں میں مزید قرضوں میں دھنس گیا ہے باوجود اس بات کے کہ اخراجات میں کمی کی رفتار کو کچھ سست رفتار کیا گیا ہے جبکہ اس دوران یونان، اٹلی اور پرتگال نے کُل قومی پیداوار اور قرض کیے درمیان شرح کا بدترین ریکارڈ پیش کیا اور کم ترین شرح لیگسمبرک اور ایسٹونیا کی ہے"۔یہ بھی ذکرکیاکہ " واحد کرنسی بلاک کے کساد بازاری recessionکی دلدل میں پھنسا ہوا ہے جبکہ بے روزگاری کی شترح انتہائی بلند اور معاشی بہتری کی بہت کم توقع ہے"۔معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے یورپی حکومتوں یہ فیصلہ کیا کہ اخراجات میں کمی کی رفتار کو سست کیا جائے لیکن اس کے نتیجے میں قرضوں پر شرح سود میں تیزی سے اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کار اس حوالے سے پریشان تھے کہ کہی اتنے بڑے حکومتی قرضے ان کی رقم کی واپسے کے امکانات کو کم نہ کردیں"۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ یورپی یونین کے کئی ممالک نے یونین میں شامل ہونے کے بعد قرضےحاصل کرلئے، جن کاحجم ان کی معیشت سے تجاوز کرگیا ۔جب یہ بحران یورپ پہنچا تویورپی یونینکے کئی ممالک ایک ایسی صورتحال سے دوچار تھے کہ وہ بحران کے شروع ہونے سے قبل کے قرضے بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔یہ ذہن میں رہے کہ یورپی معیشت میں پہلے درجے کی مؤثرریاست جرمنی ہے،جواس قابل ہوئی کہ اس نے یورپی یونین میں موجود یورو زون کے ممالک پر اخراجات کم کرنے اورقوموں پرموجود مقروضوں میں کمی کرنےاورسادگی کی زندگی اپنانے کی پالیسی مسلط کی جبکہ اس کے برعکس امریکہ نے سرمائے کی ترسیل اورزیادہ قرضے لینے کی پالیسی اپنائی۔
لہذا یہ بیانات اوررپورٹیںاس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یورپی معیشت تاحال بحران کے اثرات سے دوچارہے ،اوروہ اس سے نکل نہیں پارہی،وہ اب تک کساد بازاری کا شکار ہے اوراس لئے اس میں کوئی قابل ذکر بہتری نہیں آئی ہے۔
تیسرا : چین
بلاشبہ چینی معیشت کامعاملہ مختلف ہے ،کیونکہ چینی معیشت کے تجزیہ کاریہ کہتے ہیں کہ " اس کی اقتصادی ترقی میں اضافے کاسہرابڑی حدتک برآمدات اورسرمایہ کاری کے سیکٹر پرہے ،مقامی کھپت پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام لوگ اپنے معیارِ زندگی بلندہونے کی حد کو گہرائی سے محسوس نہیں کرتے ۔" اگرچہ اس کی مقامی مارکیٹ بدستورانتہائی کمزورہے ،لیکن یہ کوئی پیمانہ نہیں اوریہ دیگرممالک کی معیشتوں پراثراندازنہیں ہوتا۔ چین پہلے نمبرپرامریکی منڈیوں کو برآمدات اوردوسری جانب امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پرسرمایہ کاری کے تبادلے پرانحصارکرتاہے ،اوروہ یوں کہ چین سینکڑوں بلین ڈالرزکےامریکی کمپنیوں کے شئیرزخریدتاہے،یاٹریلین ڈالرزکے امریکی خزانے کے بانڈز خریدتاہے ، جبکہ امریکی کمپنیاں چین کے اندرسرمایہ کاری کرتی ہیں اوراس طرح اس کے ڈالرکے ذخائر3 ٹریلین ڈالرتک بڑھ گئے ہیں۔توچین دنیائے سرمایہ داریت کی سربراہ ریاست نہیں،بلکہ اس کے زیراثرہے ،کیونکہ وہ سرمایہ دارانہ طریقہ کاراختیارکرتاہے اوراس کی معیشت امریکی معیشت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ،یوں چین امریکی اقتصادی پالیسیوں کے زیراثرہے ۔چین بہت عجلت ا ورمستعدی سے ان معاشی فیصلوں کی تعمیل کرتاہے،جن کی قیادت امریکہ کے زیراثرعالمی سرمایہ دار اداروں کی ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ہاں ! اپنے بارے میں یہ اعلان نہیں کرسکتاکہ وہ ایک سرمایہ دارریاست ہے اورپھرسرمایہ دارمعیشت کی قیادت کرے ،کیونکہ وہ سرکاری اورروایتی طورپریہ اعلان کرتاہے کہ وہ کمیونسٹ اوراشتراکی سٹیٹ ہے اور اپنےآزاد وجود کے خاتمے کے خوف سےاس سرکاری تاثر کی حفاظت کرتاہے ۔ ان کایہ خوف بھی اس حفاظت کاباعث ہے کہ اگروہ اس تاثرکی حفاظت نہ کریں ،توحکومت کی قیادت کرنے والے کمیونسٹ خیالات کے لوگ اپنااستحقاق کھوبیٹھیں گے ۔ اس لیے کمیونسٹ اوران کی پارٹی شرماتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظاموں کونافذکرتے اورسرمایہ داردنیاکے سربراہ ،امریکی معیشت کے ساتھ ربط وتعلق کوقائم رکھے ہوئے ہیں ۔اس لئے مستقبل قریب میں اس کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ چین اس پالیسی سے جان چھڑالے گااوردنیائے سرمایہ داریت کی قیادت کوسنبھال کرعالمی معیشت پراثراندازہونے لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم سرمایہ دارانہ اقتصادی بحران کوزیربحث لاتے ہیں توہم اول درجہ میں امریکہ پراس کومرکوزکرتے ہیں ،پھراس طرح دوسرے درجے میں یورپ پر۔ پس وہ دنیا،جس پراس وقت سرمایہ دارانہ نظام پنجے گاڑے ہوئے ہے ،معاشی لحاظ سے ان ہی دوممالک سے متاثر ہوتی ہے، امریکہ اوریورپ۔
چوتھا : دیگرریاستوں کی معیشتیں :
باقی ممالک کی معیشتیں عالمی معیشت کوکنٹرول کرنے میں کم اثرانداز ہوتی ہیں :
پس جاپان ،کاقرضہ آئی ایم ایف کے دیے ہوئے اعداد وشمارکے مطابق جی ڈی پی کی245٪تک پہنچتاہے ۔آئی ایم ایف نے ایک بارپھراس سے درمیانی مدت کاقابل اعتمادبجٹ پلان بنانے کامطالبہ کیاہے ،تاکہ بھاری قرضوں کے سلسلے کوروکاجائے ۔ان قرضوں کا نوے فیصدحصہ جاپانی لوگوں کی ملکیت ہے ۔جاپانی حکومت نے 8/8/2013میں جاپانی تحریکی پالیسی(Japanese stimulus policy) کے برعکس ،عمومی اخراجات میں سےدوسالوں میں85بلین ڈالر کی کٹوتی کے عزم کااعلان کیا۔
جہاں تک روسکی باتہے تووہ بھی ملکی سطح پرسرمایہ دارانہ نظامیں نافذ کرتاہے،اوران نظاموں کے نفاذ اوردوسرے ممالک کے ساتھ معاشی تنظیموں کے قیام میں مغرب کی تقلید کرتاہے ۔اس کے اندرکسی تخلیقی کارنامے کی قابلیت نہیں ،اس لیے اس نے یورپین کسٹمز یونین کی نقالی کرتے ہوئے2010میں اس کے زیراثرریاستوں کے ساتھ معاشی تنظیمات تشکیل دی ،جیسے بیلاروس اورقزاقستان کے ساتھ اس کاتشکیل دیاہواکسٹمز یونین .......بہرحال روسی معیشت سرمایہ دارانہ نظام کے زیراثرہے ،جس کی قیادت مغرب کررہاہے ۔ روس اسی سرمایہ دارانہ نظام کی نقش قدم پرچلتاہے ،اسی کے قراردادوں کونافذکرتاہے ،اوراقتصادی آرگنائزیشنز قائم کرنے میں سرمایہ دار ریاستوں کی تقلید کرتاہے۔اس لیےاس پہلوسے روس عالمی معیشت میں کوئی حرکت نہیں لاتا،بلکہ یہ خودمغربی سرمایہ دارمعیشت سے متاثر ہوتاہے ،چہ جائیکہ وہ ایک مؤثرکاکرداراداکرے۔
بریکس BRICS)(گروپ (برازیل ، انڈیااورجنوبی افریقہ )یامیکسیکواورترکی جیسےدوسرے ترقی پذیرممالک کاجہاں تک تعلق ہے،توعالمی معیشت پران کاکوئی قابل ذکراثرنہیں ،بلکہ یہ بلاواسطہ (ڈائرکٹ)مغربی معیشت کے زیراثرہیں اور امریکی ویورپی منڈیوں کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ان میںسے کچھ ممالک ،جیسے ترکی ،ترقی کوبڑھانے کے لئے بنیادی طورپرقرضوںکاسہارالیتے ہیں،ایسی معیشت حقیقی معیشت نہیں ہوتی ،اس طرح اس میں کھپت بڑھ جاتاہے ،کیونکہ لوگ قرضوں پرانحصارکرتے ہیں ،اس کے ریاستی ادارے یاپرائیویٹ ادارے اورکمپنیاں بھی قرضوں کاسہارالیتی ہیں۔ کچھ ممالک کے اندر ملک سے باہرسرمایہ کی کثرت سے منتقلی اوربڑے پیمانے پرکرپشن موجود ہے جیسے انڈیا،ان جیسے ممالک کی معیشتیں مستحکم نہیں اوران کاکوئی حقیقی معاشی سہارانہیں۔برازیل اورجنوبی افریقہ کااثراپنے دائرےتک محدود ہے یعنی جنوبی امریکہ اورافریقہ میں ،عالمی اقتصاد میں اس کاکوئی اثرنہیں۔
لہذا عمومی طور پر بحرانوں کے پیدا ہونے اوران کوختم کرنے کے مطالعے میں ان معیشتوں پرزیادہ توجہ مرکوز نہیں رکھی جائے گی۔

پانچواں : جہاں تک اعلان کیے گئےاعدادوشماراوربیانات کاتعلق ہے ،تویہ بیانات صادرکرنے والی ریاست کے اندرموجوداقتصادی ادارے کی مرضی کے مطابق تیارکیے جاتے ہیں۔
1۔ پس 2013میں یونائیٹڈ اسٹیٹس نےسرکاری طورپر جس شرح نمو کاذکرکیاہے،اس کاسبب درحقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت نےمعیشت کی پیمائش کےطریقہ کارکوتبدیل کردیا ، اس نے انٹالیکچول پراپرٹی (INTELLECTUAL PROPERTY)کومعیشت میں داخل کردیا ،جیسےموسیقی کے مصنوعات یامیڈیسن اورڈرگز مصنوعات کی ملکیتی حقوق........یہ تبدیلی معیشت کےاندر 370 بلین ڈالرزکے اضافے کاسبب بنی جو2.5% کی (اضافی) تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود امریکہ کی معیشت ایسے وقت میں ترقی کیلئے جدوجہد کررہی ہے ،جبکہ امریکی شہریوں نے اپنے اخراجات کم کردیے ہیں اس لیے یہ رپورٹیں جن سے کسادبازاری ختم ہونے کاتاثرابھرتاہے ،اصل میں یہ ایک طریقہ ہے کہ ایسے اعدادوشمارشائع کیے جائیں ،جن کے پیچھےکوئی حقیقت نہیں ہوتی اورسراسرمن گھڑت ہوتے ہیں۔
2۔ جہاں تک یورپین کے اہلکاروں کی طرف سے پیش کیے گئے مندرجات کا تعلق ہے ،تو یہ بھی مستقل ترقی کی بنیاد پرنہیں تھے ۔جن مندرجات کااعلان کیاگیاوہ محض ابتدائی اندازہ تھااوروہ بھی پورے یورپی معیشت کانہیں، کیونکہ اس میں وہ ممالک شامل نہیں کیے گئے، جومعاشی مشکلات سے دوچارہیں ،جیسے آئیرلینڈ اوریونان ۔ دیے گئے مندرجات صرف اورصرف وہ تخمینے ہیں جنہیں یورپین ڈیٹاایجنسی "یوروسٹاٹ" نے اکٹھاکیا،جومختلف انداز سے اعدادوشماراکٹھاکرنے والےقومی شماریات کے دفاترسے ،جوبڑی حد تک ترقی کیلئے ابتدائی تخمینوں کے سرویز پراعتمادکرتے ہیں ، فراہم کیے جانے والے ڈیٹاپرانحصارکرتی ہے ۔ ان تخمینوں پرعموماً کئی مرتبہ نظرثانی کی جاتی ہے۔ جرمن دفترشماریات اس بات کااشارہ دیتاہےکہ نظرثانی کی کاروائی ابتدائی تخمینوں کے کوئی چارسال بعد ممکن ہوتی ہے ،کیونکہ اس میں اضافی مندرجات کوبھی شمارکیاجاتاہے۔ اس لئے سرویز کی خامیوں کودیکھتے ہوئے یہ کہنامشکل ہے کہ یورپ میں حالات بہترہوگئے ہیں۔
3۔ بالخصوص ، اگرہم چین کی بات کریں،تو ہمیشہ سے ان بیانات کے بارے میں کچھ ایسے سوالات اورشکوک پائے جاتے ہیں جوچین کی طرف سے اس کی معیشت کے حوالے سے نشرکیے جاتے ہیں۔چین رقبہ اورآبادی کے لحاظ سے دنیاکی ایک بڑی ریاست ہے ،اس کی معاشی کارکرگردگی کے بارے میں تمام معلومات اکٹھاکرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔
مبصرین کے نزدیک شکوک کاباعث یہ ہے کہ چین نےاپنے سالانہ GDP کے اعدادوشمارگزشتہ سال جنوری کے تیسرے ہفتے میں شائع کیے ،حالانکہ چینی حکومت کیلئے پورے سال کے نتائج کاتین ہفتوں میں ترتیب دینامشکل امرہے ۔اس سے اس خیال کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ چین کی طرف سے پیش کیےجانے والے اعدادوشماردرحقیقت ایسے ہوتےہے ،جس کی بنیادپردنیااس کی معیشت کے بارے میں ویساہی سمجھے جیساوہ چاہتاہے۔
چھٹا: خلاصہ
بے شک عالمی مالیاتی بحران ابھیتک ختم نہیں ہواہے ،اوراس کے جھٹکے اب تک محسوس کیے جارہے ہیں ،امریکہ اس بحران کوسرمایہ ٹھونسنے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں لگاہواہے ،اوریورپ میں جرمنی سادگی کی زندگی اپنانے کی پالیسی کے ذریعے اس کے ساتھ نمٹ رہاہے ۔امریکہ نے 85بلین ڈالرز مارکیٹ میں ڈالتا ہے اوریہ سرمایہ کپنیوں کو زندگی برقراررکھنے کیلئے فراہم کرتا ہے تا کہ وہ چلتی رہیں،اوریورپ سادگی کی پالیسی پرچل رہاہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بحران اب تک خم ٹھونک کے کھڑاہےاور معیشت حکومت کی مداخلت اورتعاون کے بغیرطبعی انداز سے نہیں چل رہی، گویاریاست کی معیشت کے لیے ایک وینٹی لیٹرکاکرداراداکررہی ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ مارکیٹ میں ریاستی مداخلت سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی ضد ہے ،کیونکہ یہ نظام مارکیٹ کواتھارٹی کی چنگل سے آزادی کی ترویج کرتاہے ، سو یہ نظام کمپنیوں اورباقی مالیاتی اداروں کوبچانے کیلئے ریاست کومارکیٹ میں مداخلت کی یامارکیٹ کی حرکت کومحدودکرنے کی اجازت نہیں دیتا۔یہ نظام لازم قراردیتاہے کہ مارکیٹ کومطلق آزادی حاصل ہونی چاہئے ،اوریہ کہ مارکیٹ اپنے مسائل آپ ہی حل کرے گی ۔ پس سرمایہ دارانہ آئیڈیالوجی کے مطابق مداخلت ،ترقی کیلئے رکاوٹ ہے،اوربقائےاصلح کے اصول کے مطابق ،جوکمپنیاں کاروبار کے قابل نہ ہوں ،انہیں بندہوناچاہئے ،تاکہ ان کی جگہ دیگرکمپنیاں کام کریں، اس طرح مارکیٹ میں صرف وہی کمپنیاں باقی رہ جائیں گی جومقابلے کی دوڑمیں شریک ہوسکتی ہوں،چنانچہ معیشت کوترقی ملے گی اورآزادی سے کاروبارکرسکے گی۔یہ اس سرمایہ دارانہ نظریے کے مطابق ہے،حقیقت جس کی تصدیق نہیں کرتی اورسرمایہ دارریاستوں کی مسلسل مشقوں نے اس کوغلط ٹھہرایاہے ۔ تو اس بحران کے اسباب اورمسائل کےسرچشمےکاحل نہیں نکالاگیا،جوسرمایہ دارانہ نظام کے ڈھانچے میں موجودہے ،جہاں ہرلمحہ بیماری لوٹ آنے کاخطرہ موجود ہوتاہے ،اس مریض کی طرح جسے مختلف پرانی بیماریوں نے گھیررکھا ہو،کبھی توایسے رپورٹیں آتی ہیں جوفلاں فلاں نسبت سے اس کی صحت کی بہتری کااشارہ دیتی ہیں ،کچھ دیربعد ہی اس کے برعکس رپورٹیں سامنے آتی ہیں ،پھراس کی زندگی کوباقی رکھنے کیلئےاس کو آرام پہنچانے والی ادویات اورانجکشن دیے جاتے ہیں ،تاہم وہ مسلسل دردکی ٹھیسوں سے بے چینی کی کیفیت میں مبتلاہوتاہے۔
اس طرح عالمی معیشت کبھی بھی اچھی نہیں ہوئی ،بحران تاحال اپنی جگہ موجود ہے ،اورمسائل کھڑے ہیں ،اورجب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود رہے گا،مسائل سراٹھاتے رہیں گے۔یہ نظام غربت وتنگدستی کوجنم دیتاہے ،اربوں انسانوں کومحرومی کی دلدل میں دھکیل دیتاہے اورڈھیرسارے اموال ،قبل اس کے کہ لوگوں تک پہنچ کروہ اس سے بہرہ ور ہوجاتے،یہ نظام ان اموال کی بربادیکاباعث بنتاہے، نتیجۃًلوگوں کی ایک بڑی تعداد بدقسمتی اورزبوحالی کا شکار ہوجاتی ہےاورسرمایہ داروں کاایک چھوٹاساطبقہ وسائل کابہت بڑاحصہ ہڑپ کرلیتاہے ۔ اسی سبب ،بحران ایک آتش فشاں کی صورت میں موجود ہے ،جوکبھی لرزہ خیز دھماکے سے پھٹ جاتاہے توکبھی ساکن ہوجاتاہے ،مگرلاوااندرہی اندرجوش مارتارہتاہے ۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حقیقی حل اسلام کے علاوہ کہیں اورموجود نہیں ،جوصحیح طریقے سے وسائل کی تقسیم اورہرفرد کوان سے فائدہ اٹھانے اوراپنے حصے کے بقدرحصول کو معاشی مسئلہ کی نظرسے دیکھتا ہے،جوچندلوگوں کےجیبوں میں ارتکاز دولت کے راستے میں رکاوٹ ڈالتاہے ۔ جومعاشرے کوسرسری اور اجمالی نظرسے نہیں دیکھتاکہ اتنی اتنی قیمت کے کچھ سرمایہ جات اوروسائل موجود ہیں جس میں فرد کااتنااتناحصہ ہوگا،جبکہ حقیقت میں وہ فرد کاحصہ نہیں ہوتا ،بلکہ ایک انتہائی چھوٹے سے گروہ کاہوتاہے۔
ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت ،خلافت راشدہ پھرسے قائم ہو،تب آسودگی وخوشحالی اورتندرست معاشی زندگی کادوردورہ ہوگا،نہ صرف امت مسلمہ بلکہ چاردانگِ عالم میں خیراورامن وآشتی پھیل جائے گی، اللہ سبحانہ غالب اورحکمت والاہے۔

Read more...

جمہوریت سرمایہ دارانہ معیشت کے ذریعے انتقام لے رہی ہے ریاستی اور عوامی اداروں کی نجکاری پاکستان کو مزید بدحالی کا شکار کردے گی

کیانی و شریف حکومت نے بجلی و پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کے بعد اب اکتیس(31) قومی اداروں کی نجکاری کا اعلان کر کے پاکستان کو کنگال کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ یہ اعلان کیانی و شریف حکومت کا آئی۔ایم۔ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا نتیجہ ہے جس کے تحت حکومت کو 30ستمبر تک لازماً ان اداروں کی نجکاری کے منصوبے کا اعلان کرنا تھا تا کہ پاکستان کو آئی۔ایم۔ایف سے قرضے کی دوسری قسط مل سکے۔
سرمایہ داریت ریاستی اور عوامی اثاثوں کی نجکاری کر کے معاشرے کو بد حالی کا شکار کردیتی ہے۔ ریاست فقیر بن جاتی ہے اور مزید سودی قرضے لینے پر مجبور ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اُن اثاثوں سے محروم ہوجاتی ہے جن کو استعمال کر کے وہ لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کرسکتی تھی۔ عوام کنگال ہوجاتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی شدید جدوجہد کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ عوام کو تیل، گیس اور بجلی جیسے عظیم عوامی اثاثوں سے فائدہ اٹھانے سے محروم کردیا جاتا ہے۔لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام اس بات کو یقینی بناتاہے کہ معاشرے کی دولت معاشرے میں موجود چند دولت مندوں کے درمیان ہی گردش کرتی رہے۔ یہ صورتحال اسلام سے یکسر مختلف ہے جو کہ معاشرے میں موجود دولت کو ایک منفرد طریقے سے ریاستی ملکیت، عوامی ملکیت اور نجی ملکیت میں تقسیم کرتا ہے۔
اسلام کمیونزم سے بھی یکسر مختلف ہےجو کہ تما م چیزوں کو قومی ملکیت میں لے لیتا ہےجس میں نجی اور عوامی اثاثے بھی شامل ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ غربت اور مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے کمیونسٹ ممالک میں لوگ روٹی اور آلو تک حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے جبکہ ریاست کا خزانہ تیل و گیس سے حاصل ہونے والی آمدنیوں سے بھرتا چلا جارہا تھا۔
صرف خلافت ہی اسلام کے ان احکامات کو نافذ کرتی ہے جس کے نتیجے میں دولت پورے معاشرے میں گردش کرتی ہے اور ایسا توازن صرف اللہ سبحانہ و تعالی ہی قائم کرنے پر قادر ہے کیونکہ وہ کسی بھی خامی یا کمی سے پاک ذات ہے جو کہ معیشت کے قوانین بنانے کے لیے درکار ہے جبکہ انسان معیشت کے لئے خامیوں سے پاک قوانین بنانے سے قاصر ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں (كَيْ لاَ يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ) "تا کہ تمھارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے"(الحشر:7)۔
موجودہ حکمران لوگوں پر ایک عذاب بن کر نازل ہوئے ہیں اور اُن پر ایک بوجھ ہیں جس کا ہٹایا جانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ جان بوجھ کر ریاستی اور عوامی اداروں کو خسارے سے دوچار کرتے ہیں اور پھر ان اداروں کو ایک بار پھر منافع بخش ادارہ بنانے کے نام پر اُن کی نجکاری کے لیے شور مچانا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ حکمران ''سونے کے انڈے‘‘ دینے والے اداروں کو بھی بیچ دیتے ہیں حالانکہ وہ زبردست منافع دے رہے ہوتے ہیں جیسا کہ O.G.D.C.Lاور مواصلات کی دنیا کا بادشاہ P.T.C.L ۔ اور یہ سب کچھ استعماری طاقتوں کی خواہش پر کیا جارہا ہے جو مسلمانوں کو ان کی دولت سے محروم کردینا چاہتے ہیں جو انھیں اللہ سبحانہ و تعالی نے عطا کی ہے۔
اےافواج پاکستان ! کیا جو کچھ تم دیکھ چکے ہو وہ کافی نہیں ؟ یا تم اس وقت کا انتظار کررہے ہو جب لوگ ایک دوسرے کےمنہ سے نوالے چھیننا شروع کردیں گے؟ تم میں سے مخلص اور بہادر لوگوں کوخلافت کے قیام کے لیے نصرۃ دینے کے لیے اٹھ کھڑے ہونا چاہیے جس کے ذریعے ہی پاکستان کو اس معاشی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔

Read more...

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان کا عید پیغام افواج میں موجودمخلص افسران خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ فراہم کریں

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان شہزاد شیخ نے امت مسلمہ کے نام عید کا خصوصی وڈیوپیغام جاری کیاہے۔ شہزاد شیخ نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارک باد دی کہ اللہ نے انھیں رمضان کا مبارک مہینہ عطا فرمایا اور انھوں نے اپنی نمازوں،روزوں،زکوة اور صدقات کے ذریعے اپنے رب کو راضی کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ اس عید کے موقع پر ہمیں دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک طرف کفار افغانستان، کشمیر، برما، تھائی لینڈ،فلپائین، صومالیہ، چیچنیااور دیگر مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کا قتل عام کررہیں ہیں تو دوسری جانب مسلم حکمران شام، مصر، بنگلادیش اور دیگر مسلم ممالک میں اپنے ہی امت کا قتل عام کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ کے بیوی بچوں کو یہ دوسری عید بھی اپنے شوہر اور باپ کے بغیرمنانے پر مجبور کردیا گیا ہے کیونکہ نوید بٹ کو ظالم کیانی کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے کے جرم میں ١١ مئی ٢٠١٢ کو کیانی کے غنڈوں نے اغوا کرلیا تھا۔ لیکن آفرین ہے نوید بٹ اور ان کے اہل خانہ پر جنھوں نے اس ظلم کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا مگر ظالم حکمران کے سامنے مسلسل کلمہ حقْ بلند کر نے کے عظیم ترین کام سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔
شہزاد شیخ نے کہا کہ اس وقت پوری مسلم دنیا شدید اضطراب اور تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہے اور امت رسول اللہ ﷺکی بشارت ((ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة )) یعنی پھر نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم ہو گی کے پورا ہونے کی شدید خواہش رکھتی ہے۔ کفار کا سردار امریکہ بھی غدارمسلم حکمرانوں کی مدد سے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے وعدے کو روکنے کی بھر پور مگر ناکام کوشش کررہا ہے۔شام ، افغانستان، فلسطین ، صومالیہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر اللہ سبحان و تعالی کی مدد شامل حال ہو تو پوری دنیا مل کر بھی اس جدوجہد کو روک نہیں سکتی۔اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں: اِن یَنصُرْکُمُ اللّہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ " اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا"(ال عمران-160)۔
انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اقوام متحدہ، امریکہ،یورپ اور غدار مسلم حکمرانوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ صرف اپنے رب پرہی بھروسہ کرنا چاہے۔شہزاد شیخ نے امت کی اس عظیم جدودجہد کو اس کے منطقی انجام تک جلد ازجلد پہچانے کے لیے افواج میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے ایجنٹ حکمرانوں کو اتار پھینکیں اور صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہوئے حزب التحریر کو نصرة دیں اور خلافت کا قیام عمل میں لائیں تا کہ امت مسلمہ کو عید کی حقیقی خوشیاں دیکھنی نصیب ہوں۔
نوٹ: اس پیغام کی ویڈیو درج ذیل ویب لنک پر دیکھی جاسکتی ہے
http://www.dailymotion.com/video/x12qagw_eid-message-from-shahzad-shaikh_news
خصوصی نوٹ: حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر کے خطیبوں کے لیے ایک خصوصی عید کا خطبہ جارہ کیا ہے۔ یہ خطبہ مندرجہ ذیل ویب لنگ پر دیکھا جاسکتا ہے:
http://pk.tl/1cEg
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...

کراچی میں مستقل امن قائم کیا جائے افواج پاکستان کو ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کو دو ہفتوں کے اندر ختم کردینا چاہیے

حزب التحریر ولایہ پاکستان افواج پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن کے قیام کے لیے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کا مکمل اور ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیں۔ کراچی میں ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کی وارداتوں کی بنیادی وجہ امریکہ کی نجی فوجی تنظیموں اور امریکی قونصلیٹ کا گھناؤنہ کردار ہے۔ کراچی میں موجود امریکی دہشت گردوں کا یہ گروہ کراچی میں بہنے والے خون اور لوٹنے والی املاک کا ذمہ دار ہے۔ایک بار اگر اس امریکی بدمعاشوں کے گرو ہ کا خاتمہ کردیا جائے تو مقامی چھوٹے چھوٹے بدمعاشوں کے گروہ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ ان امریکی بدمعاشوں کو کیانی و شریف حکومت نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ امریکی صلیبی جنگ کو پاکستان کے اہم شہروں تک پھیلانے کے لیے آزاد ہیں۔
جہاں تک دہشت گردوں کی نشاندہی کرنے کا تعلق ہے تو اس کے لیے موبائل فون کی کال کو پکڑنے کے لیے آلات اوردیگر جدید و حساس آلات کی ضرورت نہیں ہے۔ اس مقصد کو صرف پاکستان کے اہم شہروں میں رہنے والے شہریوں کے تعاون سے حاصل کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ روزانہ امریکی غنڈوں کو بغیر کسی روک ٹوک کے آتے جاتے دیکھتے ہیں۔
حزب التحریر پاکستان کی افواج سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ:
1۔ تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصلیٹس کو بند کردیں اور اُن میں موجود اہلکاروں کو ملک بدر کردیں۔
2۔ ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک سے منسلک تمام امریکی دہشت گردوں کو گرفتار کریں ،اُنھیں نارنجی رنگ کا لباس پہنائیں اور مقدمہ چلنے اور سزائیں ملنے تک انھیں قید میں رکھیں۔
3۔ نیٹو سپلائی لائن کو کاٹ دیں تا کہ صلیبی امریکی افواج قبائلی مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی امداد سے محروم ہوجائیں۔
اگر افواج پاکستان یہ اقدامات اٹھائیں گی تو وہ نہ صرف پوری دنیا کے مسلمانوں کےبلکہ باقی دنیا کے بھی ہیرو بن جائیں گے کیونکہ پوری دنیا امریکی غرور اورجبر کے خلاف شدید غم و غصہ کا شکار ہے۔ یقیناً پوری دنیامیں لاؤس سے لے کر افغانستان تک اور اور عراق سے لے کر پانامہ تک، کروڑوں لوگ امریکی دہشت گرد نیٹ ورکس کی دہشت گرد کاروائیوں کا شکار ہوئے ہیں اور پھر امریکہ ان دہشت گردی کی کاروائیوں جن کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود بھی امریکہ ہی فراہم کرتا ہے کو بنیاد بنا کر اس خطے میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں مساجد ، اسکول اور بازار غیر محفوظ ہوگئے ہیں جبکہ امریکی سفیر اور سی۔آئی۔اے کے اہلکار بغیر کسی پریشانی کے پورے ملک میں گھومتے پھرتے، سازشیں تیار کرتے اور کیانی و شریف حکومت کو احکامات جاری کرتے نظر آتے ہیں۔
حزب التحریر ولایہ پاکستان افواج پاکستان کو یقین دلاتی ہے کہ خلیفہ راشد کی قیادت میں پاکستان کی مقدس سرزمین کو امریکی نجاست سے پاک کرنے اور اس پر امن قائم کرنے کے لیے اگر چند دن نہیں تو چند ہفتے ہی کافی ہوں گے۔

 

Read more...

جمہوریت ہٹاؤ، خلافت لاؤ حزب التحریر نے شام اور مصر کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں مظاہرے کیے

حزب التحریر نے ولایہ پاکستان میں شام اور مصر کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرتحریر تھا: " مصر کا فرعون مسلمانوں کی لاشوں پر امریکی راج کی حفاظت کر رہا ہے" ، " شام میں مسلمانوں کاقتل عا م ‏خلافت کےقیا م کو نہیں روک سکتا" اور " امریکی راج کی محافظ 'جمہوریت' ختم کرو، امت کی ڈھال' خلافت' کو قائم کرو"۔ یہ مظاہرے اس وقت کیے گئے ہیں جب پاکستان کے مسلمان واضع طور پر مصر میں اس کی افواج کے کردار اوراسلام کے لیے شام کے مسلمانوں کی استقامت کو دیکھ رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب امت امریکی تکبر اور جبر کے خلاف غصے سے بھری بیٹھی ہے ، حزب التحریر افواج پاکستان کے افسران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کفریہ جمہوریت اور امریکی راج کا خاتمہ کریں اور خلافت کے قیام کے ذریعے اسلام کی حاکمیت کو بحال کریں۔ افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران کا یہ عمل ہی مصر، شام، پاکستان اور پوری مسلم دنیا میں صورتحال کو مسلمانوں کے حق میں تبدیل کر دے گا۔ صرف اسی صورت میں تمام مسلمان ایک خلیفہ راشد کی قیادت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ایک عظیم قوت کی شکل اختیار کرلیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ "امام (خلیفہ) ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر تم لڑتے ہو اور اپنا تحفظ کرتے ہو۔ تو اگر وہ تقوی اور انصاف کی بنیاد پر حکمرانی کرتا ہے تو اس کے لیے اجر ہے اور اگر وہ اس سے ہٹ کر حکمرانی کرتا ہے تو یہ اس کے خلاف ہی جائے گا"(بخاری)۔

Read more...

جمہوریت کوہٹاؤ، خلافت کو لاؤ کتاب "طلوع خلافت" کا دوسرا حصہ جاری کردیا گیا

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے مشہور اور انتہائی پسند کی جانے والی کتاب "طلوع خلافت" کا دوسرا حصہ جاری کردیا ہے۔ اس اہم کتاب کا دوسرا حصہ اس لیے جاری کیا گیا ہے تا کہ یہ واضع کیا جاسکے کہ خلافت کے زیر سایہ پاکستان میں حکمرانی کے اہم شعبوں، عدلیہ، میڈیا، محصولات و اخراجات، زراعت، صنعت، کرنسی، معاشرے کی ترقی میں مردو عورت کا کردار، صحت، فوج اور خارجہ پالیسی کو کس طرح منظم کیا جائے گا۔
"طلوع خلافت" کے دوسرے حصے کو نہ صرف عوام الناس بلکہ دانشوروں، مختلف شعبوں کے ماہرین اور میڈیا کو بھی پہنچایا جائے گا۔ یہ کتاب حکمرانی اور اس سے منسلک اہم شعبوں سے متعلق اسلام کے نظاموں پر وسیع اور گھرائی پر مشتملحزب التحریر کی مختلف کُتب کا پاکستان کے مسائل پر ایک عملی حل پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کی تشکیل میں ریاست خلافت کے مجوزہ دستور"مقدمہ دستور" سے رہنمائی حاصل کی گئی ہے جس میں ریاست خلافت کے دستور کی ہر ایک شق سے متعلق قرآن و سنت کے تفصیلی دلائل کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حزب التحریر اپنے مشہور رہنما اور فقہہ، شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ کی قیادت میں پاکستان یا مسلم دنیا میں کسی بھی جگہ حکمرانی کے لیے تیار ہے۔حزب التحریر نے قابل سیاست دانوں کی ایک فوج تیار کررکھی ہے جو اللہ کے جانب سے حکمرانی عطا کیے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ اللہ سے یہ دعا ہے کہ وہ جلد خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے اسلام کی حکمرانی کو قائم فرمائے اور امت زمین پر اللہ کے اس سائے کی ڈھنڈک سے مستفید ہوسکے۔
نوٹ : یہ کتاب عربی، اردو اور انگریزی زبان میں اس ویب لنک سے ڈاؤن لاڈ کی جاسکتی ہے: http://pk.tl/1cPT

Read more...

الرقہ میں ہونے والی قتل و غارت گری نے امریکہ کی مجرمانہ فطرت کو ظاہر کردیا

ایک طرف تو شام کا جابر بشار اقوام متحدہ کی ٹیم کے ساتھ ان کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی میں مکمل تعاون کررہا ہے جن کو شام میں امت کے عظیم وسائل خرچ کر کے حاصل کیا گیا تھا، تو دوسری جانب اٹلی کے ٹی وی چینل رین نیوز24کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے اِس بات پر زور دیا کہ شام کی ریاست کا اِس وقت سب سے اہم ہدف دہشت گردوں،اُن کی دہشت گردی اور اُن کے نظریے کا خاتمہ ہے اور اُن پر الزام لگایا کہ وہ ان کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے میں ایک روکاوٹ ہیں۔
بشار کے "بہادروں" نے اُن دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے اتوار 29ستمبر2013 کو الرقہ شہر پر کئی پروازیں کیں جس کے دوران انھوں نے ابن طفیل ہائی اسکول کو نشانہ بنایا جب اس میں طلبہ موجود تھے۔ یہ ان طلبہ کا پہلا دن تھا اور وہ بہت جوش و خروش سے اسکول آئے تھے لیکن ان پر ہونے والی بمباری نےاُن کے جسموں کے پرخچے اُڑا دیے اور 16لوگ شہید ہوئے جن میں سے اکثریت اسکول کے بچوں کی تھی۔
امریکہ، جس نے خود سب سے پہلے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے اور پھر ویت نام میں کیمیائی ہتھیاروں کی بارش کردی، فضائی حملوں میں نہتے شہریوں کے سروں پر دھماکہ خیز مواد کے ڈرم گرائے جانے کو سرخ لکیر تصور نہیں کرتا بلکہ انھیں سبز بتی تصور کرتا ہے۔۔۔۔۔۔اس کے باوجود امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے دھوکے پر یقین کرلیں جو وہ شام کے سیاسی حل کے نام پر پیش کررہا ہے جس کی بنیاد جینوا 1 اور جینوا 2 کےمعاہدے ہیں جن میں فوجی ذرائع استعمال کرنے کی بھی دھمکی دی گئی ہے لیکن یہ دھمکی بشار اور اس کے جرائم میں شریک اس کے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے بلکہ اُن مخلص جنگجووں کے لیے ہے جو اس کے تجویز کردہ سیاسی حل کو مسترد کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ یہ وہ سیاسی حل ہے جس کی بنیاد اُن ہزاروں شہداء کے خون سے غداری پر رکھی گئی ہے جنھوں نے اس مقدس جدوجہد میں اپنی جانیں نیچھاور کردیں ہیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2118کی روشنی میں جس سیاسی حل کی بات کی جارہی ہے اس میں یہ بات تھوپی گئی ہے کہ "عبوری حکومت باہمی معاہدے کے تحت دو ٹیموں حزب اختلاف اور حکومت پر مشتمل ہو گی " جس کا مطلب یہ ہے کہ مظلوم کو ظالم کے ساتھ حکمرانی میں شراکت کو قبول کرنا ہوگا اور اس عمل کے پیچھے واشنگٹن میں واقع "کالے گھر" کی حمائت موجود ہوگی اور اگر اس عمل کو قبول نہیں کیا جاتا تو شام کے مظلوم لوگوں کو "صاف" ہتھیاروں یعنی دھماکہ خیز ڈرموں، سکڈ میزائل ، توپوں کی گولہ باری اور ٹینکوں کے گولوں سے قتل کرنے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔۔
جہاں تک مسلم حکمرانوں کا تعلق ہے تو ان میں معتصم جیسا عزم موجود ہی نہیں اور نہ ہی ان میں زندگی کی کوئی جھلک باقی ہے۔لیکن ہماری امید صرف اور صرف اپنے رب اللہ سبحانہ و تعالی سے ہے کہ وہ ہی ہمارا مددگار ہے ، لہذا اے اللہ ہم تجھ سے تیرے وعدے کو پورا کرنے اور اپنے دین کو کامیابی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اپنے کلمے کو بلند کریں اور ہمیں اس زمین پر خلافت کو قائم کرنے کے لیے طاقت عطافرمائیں تا کہ ہم امام کی بیعت کر سکیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به
"امام امت کی ڈھال ہے، جو امت کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے پیچھے رہ کر امت لڑتی ہے"
عثمان بخاش
ڈائریکٹرمرکزی میڈیا آفس
حزب التحریر

Read more...

وحشی حکومت شام کی مسلم عوام کو قتل کررہی ہے اور تم واقعات کا تماشا دیکھ رہے ہو

پریس ریلیز

گزشتہ ڈھائی سال سے شام میں روزانہ سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی بعث پارٹی کی مجرم حکومت نے منگل کی رات 20 اگست 2013 کو الغوطہ الشرقیہ اورالغربیہ کے علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کر کے ایک اور جرم کا ارتکاب کر لیا ۔یہ حملے کہ جس میں سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی ہے ایسے وقت میں ہوئے جب اقوام متحدہ کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق کمیٹی دمشق میں موجود تھی۔

بعث پارٹی کی حکومت حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے اس حملے کے ارتکاب پر ترکی کی وزارت خارجہ نے مندرجہ ذیل پالیسی بیان جاری کیا:"گزشتہ رات( 20 اگست )کو شام حکومت کی فورسز کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے مغربی اور مشرقی غوطہ کے علاقوں میں سینکڑوں مسلمانوں کے قتل کی خبروں کو ہم نے بڑی تشویش کے ساتھ سنا۔ شام کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیق کرنے والی اقوام متحدہ کی دمشق میں موجودکمیٹی کو چاہیے کہ وہ ان دعووں کی صحت کی تحقیق کرے اور اس سے متعلق جو بھی چیز ہاتھ آئے اس کو سامنے لائے۔اگر یہ خبریں درست ثابت ہوئیں تو بین الاقوامی برادری انسانیت کے خلاف اس ناقابل قبول جرم کے بارے میں مطلوبہ موقف اپنائے اور اس پر رد عمل کا اظہار کرے"۔
ہم نے دوسری بار ترکی کی وزارت خارجہ کے وضاحتی بیان سے دیکھ لیا کہ اسلامی ملکوں کے حکمران اب بھی اس خون ریزی کی خبروں کو "شدید تشویش"کے ساتھ سنتے رہتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ہم نے اس بیان میں دوسری بار یہ دیکھ لیا کہ کس طرح اسلامی ملکوں کے حکمران اقوام متحدہ سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے التجا کرتے ہیں اور مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلامی دنیا کے حکمران کس طرح ناگواری اور مذمت پر اکتفا کرتے ہیں جبکہ مسلمان قتل کیے جارہے ہیں۔
ہم حزب التحریر ولایہ ترکی کے میڈیا آفس کی طرف سے جمہوریہ ترکی کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:شامی عوام بے سروسامانی کے باوجود تن تنہا ڈھائی سال سے ہر قسم کے قتل وغارت کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس دورانانھوں نے اقوام متحدہ ، کافر مغرب اور امریکہ سے کوئی مدد طلب نہیں کی ۔دوسال پہلے بھی شامی بچے مدد کے لیے یہ کہہ کر چیخ وپکار اور فریاد کررہے تھے کہ''وا معتصماہ !وا
اردوگاناہ!"(ہائے معتصم! ہائے اردوگان!)۔اسی طرح بانیاس کے باشندوں نے بھی اردوگان سے جمہوریہ ترکی کا وزیراعظم ہونے کی وجہ سےمدد کا ہاتھ بڑھانے کے لیے آہو زاری کی لیکن انہوں نے اقوام متحدہ سے درخوست نہیں کی ۔آج ایک بار پھر وہ یہ فریاد کر تے ہوئے کہہ رہے ہیں" اے اردوگان ہم تمہیں پکار رہے ہیں اے امت کی افواج ہم تمہیں آواز دے رہے کہ امت کے بیٹھے اور بچے یہاں قتل کیے جارہے ہیں"۔یہ تم سے یہ فریاد کر رہے ہیں کہ افوج کو حرکت میں لاؤ۔تم کیا کررہے ہو؟کیا تم بڑی تشویش سے قتل غارت کو دیکھتے اور اقوام متحدہ سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے التجا ہی کرتے رہوگے؟کیا تم نے وہ چیخ وپکار نہیں سن لی جس نے امریکہ ،یورپ اور روس کو بھی ہلادیا؟تم کب تک شام میں قتل کیے جانے والے بچوں اور خواتین کی آہ و بکا سننے کی بجائے بہرے بنے رہوگے؟کیا تمہیں اپنے ماضی ، تاریخ اور اس میراث سے کوئی لگاؤ نہیں جس کو تمہارے اجداد نے چھوڑا ہے جو تمہاری عزت اور عظمت کی یادگار ہے؟کیا ذلت اور رسوائی کا لباس اتار پھینکنے کا وقت نہیں آگیا ہے؟تم آخر کب تک کفار کی جانب سے امت کی ذلت اور خونریزی کو دیکھتے رہوگے؟مجرم خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور تم کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے مسلمانوں اس خون خرابے کا نظارہ کرتے رہوگے؟
ہم حزب التحریر ولایہ ترکی کے میڈیا آفس کی طرف سے جمہوریہ ترکی کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:شامی عوام بے سروسامانی کے باوجود تن تنہا ڈھائی سال سے ہر قسم کے قتل وغارت کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس دورانانھوں نے اقوام متحدہ ، کافر مغرب اور امریکہ سے کوئی مدد طلب نہیں کی ۔دوسال پہلے بھی شامی بچے مدد کے لیے یہ کہہ کر چیخ وپکار اور فریاد کررہے تھے کہ''وا معتصماہ !وا اردوگاناہ!"(ہائے معتصم! ہائے اردوگان!)۔اسی طرح بانیاس کے باشندوں نے بھی اردوگان سے جمہوریہ ترکی کا وزیراعظم ہونے کی وجہ سےمدد کا ہاتھ بڑھانے کے لیے آہو زاری کی لیکن انہوں نے اقوام متحدہ سے درخوست نہیں کی ۔آج ایک بار پھر وہ یہ فریاد کر تے ہوئے کہہ رہے ہیں" اے اردوگان ہم تمہیں پکار رہے ہیں اے امت کی افواج ہم تمہیں آواز دے رہے کہ امت کے بیٹھے اور بچے یہاں قتل کیے جارہے ہیں"۔یہ تم سے یہ فریاد کر رہے ہیں کہ افوج کو حرکت میں لاؤ۔تم کیا کررہے ہو؟کیا تم بڑی تشویش سے قتل غارت کو دیکھتے اور اقوام متحدہ سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے التجا ہی کرتے رہوگے؟کیا تم نے وہ چیخ وپکار نہیں سن لی جس نے امریکہ ،یورپ اور روس کو بھی ہلادیا؟تم کب تک شام میں قتل کیے جانے والے بچوں اور خواتین کی آہ و بکا سننے کی بجائے بہرے بنے رہوگے؟کیا تمہیں اپنے ماضی ، تاریخ اور اس میراث سے کوئی لگاؤ نہیں جس کو تمہارے اجداد نے چھوڑا ہے جو تمہاری عزت اور عظمت کی یادگار ہے؟کیا ذلت اور رسوائی کا لباس اتار پھینکنے کا وقت نہیں آگیا ہے؟تم آخر کب تک کفار کی جانب سے امت کی ذلت اور خونریزی کو دیکھتے رہوگے؟مجرم خون کی ہولی کھیل رہا ہے اور تم کب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے مسلمانوں اس خون خرابے کا نظارہ کرتے رہوگے؟

میڈیا آفس حزب التحریر ولایہ ترکی

Read more...

14اگست یوم آزادی کا پیغام خلافت ہی پاکستان کے مسلمانوں کی آزادی کا حقیقی معنوں میں تحفظ کرے گی

آج کے دن پاکستان کے مسلمان ان لاکھوں مسلمانوں کو یاد کرتے ہیں جنھوں نے اسلام کے نام پر بننے والی اس مملکت کے قیام کے لیے عظیم ترین قربانیاں دیں تھیں۔ حزب التحریر ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے امت کو کچھ یاد دہانی کرانا چاہتی ہے۔
جہاں تک ماضی کا تعلق ہے تو اس میں کیے گئے اعمال اللہ سبحانہ و تعالی کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور وہی اس پر اجر عطا فرمائیں گے۔ خلافت راشدہ کے وقت سے مسلمانوں نے اس خطے پر اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کی اور لوگوں کو اس کے نور سے روشناس کرایا ۔ لیکن 1757 عیسوی کے بعد سے برطانوی راج نے مسلمانوں سے اقتدار چھیننا شروع کردیا ۔ہم نے اس کی شدید مزاحمت کی لیکن برطانیہ نے مسلمانوں اور ہندؤں میں موجود غداروں کی مدد سے ہماری پیاری اسلامی شریعت کو معطل کردیا اور اپنے استعماری سرمایہ دارانہ نظام کو زبردستی نافذ کردیا۔ مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہی کفر کی حکمرانی میں بھوک، افلاس اور غربت کا شکار ہوگئے جبکہ برصغیر ہندوستان کی معیشت اسلام کے زیر سایہ دنیا کے کل معیشت کا 25فیصد ہوا کرتی تھی اور اپنی سرحدوں سے باہر رہنے والوں کے لیے بھی غذائی اجناس کی فراہمی کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھی۔
ہم نے اس ظلم کی شدید مزاحمت کی اور اس کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ہم نے مزاحمت اور شدید جدوجہد کی، چاہے وہ 1857کی جنگ آزادی کا جہاد ہو،خلافت کی بحالی کی تحریک ہو یا اسلام کے نام پر ایک مملکت پاکستان کے قیام کی تحریک ہو۔ آج کی طرح اس وقت بھی اسلام ہی ہمارے لیے وجہ تحریک تھا کیونکہ یہی وہ واحد شے ہے جو کروڑوں مسلمانوں کو متحرک کردیتی ہےکیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہمارے دلوں میں رچی بسی ہوئی ہے۔پاکستان کے قیام کے وقت کو یاد کریں ،ستر لاکھ سے زائد مسلمانوں نے پاکستان ہجرت کی تاکہ ہندو حکمرانی کے ظلم سے نجات حاصل کی جاسکے۔ لاکھوں لوگوں نے اپنی املاک چھوڑ دیں ،لاکھوں شہید کردیے گئےاور ہزاروں ماؤں، بہنوں،بیٹیوں کی عصمتوں کو تار تار کردیا گیا لیکن مسلمانوں نے اس پر کبھی بھی افسوس کا اظہار نہیں کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُن کی اِن عظیم قربانیوں کا اجر صرف اور صرف ان کے رب ہی کے پاس ہےجو الرحیم ہے۔ جن مسلمانوں نے ہجرت کی اُن کو خوش آمدید کہا گیا کیونکہ مسلمان مہاجرین و انصار کے بھائی چارے کی شاندار روایت سے آشناہ تھے۔ یقیناً پاکستان کا قیام ممکن ہی نہ ہوتا اگر اس کے پیچھے اسلام کی قوت موجود نہ ہوتی کیونکہ اسلام کا عقیدہ ہی مسلمانوں کو اپنے بھائی سے محبت اور اس دین کے لیے عظیم ترین قربانیاں دینے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔
جہاں تک آج کا تعلق ہے ، تو اسلام آج بھی مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا محور ہے۔ ہم اب ایک نئے ظلم و جبر، ایک نئے راج کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں یعنی کہ امریکی راج، جو یہ چاہتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کی تاریخی عظیم شان قربانیاں ضائع ہوجائیں ۔ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار، میر جعفر اور میر صادق کی اولادوں نے پاکستان کی مقدس سرزمین کوامریکی انٹیلی جنس اور نجی فوجی تنظیموں کے نجس وجود سے ناپاک کردیا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے دہشت گرد مساجد اور بازاروں میں بم دھماکے کروارہے ہیں جبکہ امریکی سفارت خانہ ،قونصلیٹس اور اڈوں کو شیطانی منصوبے بنانے اور ان پر عمل درآمد کی مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ان غدار حکمرانوں نے شریعت کی احکامات کو پَس پُشت ڈال کر کفار اور اس کے سرمایہ دارانہ نظام کے احکامات آنکھیں بند کر کے نافذ کررہے ہیں جس کے نتیجے میں بے تہاشہ قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود انھوں نے ہماری معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ جہاں تک ہندو ریاست کا تعلق ہے جس کے سامنے یہ غدار آج ہمیں گھٹنے ٹیکنے کا کہتے ہیں، تو اس کی چھوٹی سی اشرافیہ سرمایہ دارانہ نظام کے نفاذ کے ذریعے مستقل اپنے عوام کا استحصال کررہی ہے اور چاہتی ہے کہ تعلقات کو "معمول "پر لانے کے نام پر پاکستان کی طاقت کو اپنے کمزوراور ٹکڑے ٹکڑے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرے۔
اور جہاں تک آنے والے وقت، مستقبل کا تعلق ہے تو ہمیں اللہ سبحانہ و تعالی ، اس کے رسول ﷺ اور اس کی شریعت کی اطاعت کرنی ہے۔ اسلام کی ریاست خلافت ہی صرف وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے ہم خود کو امریکی راج سے آزاد کرواسکتے ہیں۔ لہذا حزب التحریر ان تمام لوگوں کو دعوت دیتی ہے جو اپنے ہزار سالہ اسلام کی بنیاد پر حکمرانی اور کفار کے ظلم اور ان کے نظام کے خلاف مزاحمت کی شاندارتاریخ پر فخر کرتے ہیں کہ وہ حزب کے شباب کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں اور پاکستا ن کو خلافت کے ازسر نو قیام کا نقطہ آغاز بنا دیں جو پوری امت کی نگہبانی کرے گی۔ حزب التحریر خاص طور پر افواج میں موجود مخلص افسران کو پکارتی ہے کہ وہ انصار رضی اللہ عنھم کی مثال کی پیروی کریں جنھوں نے اسلام کے عملی، مکمل اور فوری نفاذ کے لیے نصرۃ فراہم کی تھی۔ ایک اور سال اس امریکی راج کی ظلم تلے نہیں گزرنا چاہیے ۔ اللہ خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعےاس سرزمین کو اسلام کے نور سے منور کردے اور خلیفہ راشد ہم پر اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف ہمیں متحد کردے۔ آئیں اور ایک ساتھ کھڑیں ہو اور ان غداروں کی اس دعوت کو مسترد کردیں جو ہمیں اس کفریہ جمہوری نظام میں شرکت کا کہتے ہیں اور مکمل طور پر اس جدوجہد کا حصہ بن جائیں جس کے ذریعے اسلام کی حکمرانی ایک بار پھر ہم پر قائم ہو، صرف اللہ سبحانہ و تعالی ہی پر بھروسہ کریں اور اس کامیابی کو حاصل کرلیں کہ پھر دنیا بھر کے مسلمان اس کا جشن مناسکیں ۔
وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ ٱلْمُؤْمِنُونَ ط بِنَصْرِ ٱللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَآءُ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ط وَعْدَ ٱللَّهِ لاَ يُخْلِفُ ٱللَّهُ وَعْدَهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ ط
"اس روز مسلمان شادمان ہوں گے اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اصل غالب اور مہربان وہی ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"(الروم:4-6)

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک