الثلاثاء، 15 محرّم 1448| 2026/06/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نے کافر استعماری طاقتوں کی اصلیت ظاہر کردی،مسلم ممالک میں قوت و طاقت کے ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے یہ سب ایک ہیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2118 پُر زور تالیوں کے شور میں منظور کرلی۔ یہ قرار داد اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی اور کسی بھی ملک کی جانب سے ویٹو کی طاقت کو استعمال نہیں کیا گیا۔یہاں تک کہ ان ممالک نے بھی اس قرارداد کو ویٹو نہیں کیا جو ایسے فیصلے کی مخالفت کررہے تھے، اور وہ فیصلے کے وقت غائب ہو گئے۔ شام کا ظالم و جابر تقریباً تیس ماہ سے شام کے مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے اور اس عرصے کے دوران یہ پہلا فیصلہ ہےجوکافرطاقتوں نے اتفاق رائے سے کیا ہے۔'بین الاقوامی برادری'جس کی قیادت امریکہ اور اس کے اتحادی کررہے ہیں، نے اس تمام عرصے کے دوران اُن لاکھوں بوڑھوں، بچوں اورعورتوں کی کوئی پروا نہیں کی کہ جن کو بے دریغ قتل کیا گیا۔ نہ ہی اس تما م عرصے کے دوران 'بین الاقوامی برادری' نے اُن لاکھوں زخمیوں کی پروا کی کہ جن کے اعضاء میزائل حملوں میں کٹ کر جسموں سے علیحدہ ہورہے تھے۔ اور نہ ہی انھوں نے اُن لاکھوں لوگوں کی پروا کی جو اس بمباری کے نتیجے میں اپنے گھروں سےمحروم اورہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ان تمام تر المناک واقعات کے باوجود بین الاقوامی برادری نے ان لوگوں کو شام کے جابرحکمران سے بچانے کے لیے کوئی عملی قدم نہ اٹھایا۔بلکہ امریکہ اور روس نے مل کر طےکرلیا کہ ایسے کسی بھی فیصلے کو رد کردیا جائے تا کہ شام کاجابرحکمران کسی رکاوٹ کے بغیر عوام کے خلاف اپنے جرائم کو جاری رکھ سکے،وہ جرائم کہ جن سے نہ تو کوئی انسان محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی درخت یا پتھر۔ اس قدر المناک واقعات بھی ان طاقتوں کو اکٹھا نہ کرسکے لیکن اب یہ طاقتیں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے اکٹھی ہوگئی ہیں، جبکہ اسرائیل اور دوسری ریاستوں کےگودام اس قسم کےاسلحے سے بھرے پڑے ہیں ۔ ان میں وہ بڑی طاقتیں بھی شامل ہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انھیں کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کا حق حاصل ہے۔ہر صاحب عقل آدمی یہ جانتا ہے کہ یہ طاقتیں اس قرارداد پر اس لیے اکٹھی ہوئیں کیونکہ یہ قرارداد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ تمام ممالک یہ جانتے ہیں کہ شام کا جابر بشار گررہا ہے اور یہ ہتھیارواپس مخلص مسلمانوں کے ہاتھوں میں آجائیں گے۔یہ ہے وہ صورتحال جو ان کے لیے اور ان کی لے پالک اولاد اسرائیل کے لیے انتہائی خوف و پریشانی کا باعث ہے۔ اور اسرائیل کا تحفظ جیسا کہ بین الاقوامی غنڈوں کے سربراہ اوبامہ نے کہا کہ خطے میں اس کے انتہائی اہم مفادات میں سے ایک ہے،اور ان مفادات میں سے ایک اور اہم مفاد اس خطے میں موجود دولت خصوصا'بلیک گولڈ' یعنی تیل کا حصول ہے۔
مسلمانوں کے خلاف کافر استعماری طاقتوں کا اکھٹے ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت میں تو یہ ایک معمول ہے۔ جیسےہی مسلمانوںسےمنسلک کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے کفار اپنے اختلافات کو بھلا دیتے ہیں ۔لہذا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی وہ کافر عرب قبائل کہ جو شاید ہی کبھی اکٹھے ہوئے ہوں ،بلکہ وہ ایک اونٹ کی خاطرایک دوسرے سے لڑتے تھے، لیکن جب معاملہ رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کا ہوا تو وہ ایک ہوگئے۔ہجرت سے قبل انھوں نے تمام قبیلوں سے چالیس جوان منتخب کیے تا کہ رسول اللہ ﷺ کو اُنہی کے گھر میں(معاذ اللہ) قتل کر دیا جائے۔روم اور فارس ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے لیکن انھوں نے 12 ہجری میں ،موجودہ عراق کے شہر بوکمال کے مقام پر، مسلمانوں کے خلاف ہونے والی جنگ الفراد میں ایک دوسرے سے تعاون کیا۔اوریورپ کے صلیبی پانچویںصدیہجریبمطابق گیارویں صدی عیسوی کےآخرکے بعد دو سو سال تک اکٹھے ہوکر مسلمانوں کے خلاف لڑتے رہے۔ پھر تاتاری آگئے ۔جنہوں نے کمزور ہوتی ہوئی صلیبی ریاستوں کو چھوڑ کر 615ہجری میں مسلم علاقوں پر حملہ کردیا۔صرف یہی نہیں بلکہ صلیبیوں نے پانچویں صلیبی حملے میں ناکامی کے بعد617ہجری میں تاتاریوں کواکسایا کہ وہ مسلم علاقوں پر حملہ کردیں۔پھر یورپی ممالک جو ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑتےرہتے تھے،لیکن سولہویں اور سترویں صدی عیسوی میں جب انھوں نے دیکھا کہ "عثمانی خلافت" ایک عظیم اور طاقتور ریاست بن گئی ہے تو یورپی بادشاہوں نے اپنے اختلافات کو ختم کیا اور اسلامی ریاست سے لڑنے کے لیے اکٹھے ہوگئے، کیونکہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ انھوں نے ایک"بین الاقوامی برادری" کا تصور پیش کیا اور یہ تصورسولہویں صدی عیسوی سے چلا آرہا ہے۔پھر جب اسلامی ریاست کمزور ہوئی اور بالآخر ختم ہوگئی تو پہلی جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی برادری کے اس تصور کو لیگ آف نیشنز کی شکل دے دی گئی،جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ کا نام دے دیا گیا۔لیکن ناموں کی اس تبدیلی کے باوجود ان تمام تنظیموں میں وہ بنیادی تصور برقرار رہا جو بین الاقوامی برادری کے تصور کو پیش کرنے کا باعث بنا تھا، یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ذرائع اور طریقہ کار تو تبدیل ہوتے رہے لیکن مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رہا ۔اور آج امریکہ جس کافر اتحادکی قیادت کررہا ہے،اس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کو جاری رکھا جائے۔اسی مقصد کا نتیجہ ہے کہ یہ استعماری طاقتیں فلسطین پریہودی ریاست کے قبضے کی حمایت کرتی ہیں، مسلمان ممالک کے کیمیائی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قراردادمنظورکرتی ہیں اور مسلم علاقوں کی دولت کو لوٹتی ہیں۔
اے مسلمانو! کافر استعماری طاقتوں کا اکٹھا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ یہ پہلے بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں، لیکن جو بات انتہائی شرمناک ہے وہ مسلم حکمرانوں کا امریکہ اور اور اس کے اتحادیوں کے سامنے جھک جانا ہے ۔ یہ حکمران اس قدر جھک گئے ہیں کہ اپنے قدموں کو چھونے لگے ہیں۔ یہ حکمران اپنے دین کو بیچ رہے ہیں اگر ان کا کوئی دین بھی ہے۔ اور یہ اپنی اقدار کو بیچ رہے ہیں اگر ان کی کوئی اقدار بھی ہیں۔ اور ایسا یہ صرف اس لیے کررہے ہیں تا کہ یہ اپنی کرسیوں پر مزید کچھ وقت گزار سکیں۔یہ بات بھی شرمناک ہے کہ وہ لوگ جو مسلم ممالک میں پلے بڑھے ہیں ،اب بھی مغربی ثقافت کو اپناتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں ،اُن کے موقف کی تائید کرتے ہیں ،وہ موقف جو انسانی گوشت اور ہڈیوں پر کھڑا ہے۔ یہ لوگ ان ممالک کے متعلق اچھا گمان رکھتے ہیں اور اُن کی مدد کرنے اور انھیں خوش کرنے کے لیے دوڑے چلے جاتے ہیں جبکہ اللہ سبحان و تعالیٰاعلان فرما چکا ہے:(هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ) "یہ (کفار)دشمن ہیں، لہذا ان سے ہوشیار رہو، اللہ ان پر لعنت کرے کہ یہ کس طرح سچے راستے کو جھٹلاتے ہیں"(المنافقون:4)۔ اس کے علاوہ جو بات انتہائی تکلیف کا باعث ہے وہ یہ ہےکہ کچھ "اسلامی تحریکیں" اور کچھ "اسلام پسند" جو خلافت کے قیام کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور جمہوریت کی نفی کرتے ہیں اور استعمار کے دیےہوئے قومی جھنڈوں کی جگہ رسول اللہ ﷺکا جھنڈا بلند کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ "چونکہ ہمیں اس بات کا خدشہ ہے کہ مغرب ناراض ہو جائےگا، لہٰذاہم بشار کے خلاف آپ لوگوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے"۔ وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ بشار اور اس کا باپ دونوں ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پیداوار ہیں اور امریکہ نے ہی بشار کی حمایت کی اور اس کے اقتدار کو طول دیا تا کہ امریکہ اس دوران اس جیسا کوئی اور ایجنٹ تیار کرلے جو گرتے ہوئے بشار کی جگہ لے سکے۔ امریکہ کبھی بھی ان مسلمانوں کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا جو اسلام کا جھنڈا بلند کرنا چاہتے ہوں ،چاہے وہ انھیں جھوٹی مسکراہٹوں کے ذریعے اپنے اخلاص کا یقین ہی کیوں نہ دلا رہا ہو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰنے ارشاد فرمایا: (كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ)"ان کے وعدوں کا کیا اعتبار،اگران کا تم پر غلبہ ہوجائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہد و پیمان کا، یہ اپنی زبانوں سے تو تمھیں مائل کررہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مانتے،ان میں سے اکثر تو فاسق ہیں" (التوبۃ:8)۔
اے مسلمانو!یقیناً کفار ایک ہی لوگ ہیں اور سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کا اکٹھا ہونے کا مقصد دراصل مسلمان ممالک کو طاقتور ہتھیاروں سے محروم کرنا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس فیصلے نے اُن کے عزائم کو واضح کردیا ہے اور جو کچھ انہوں نے ابھی چھپایا ہوا ہے وہ اس سے بھی زیادہ شدیدہے:( قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ)" بغض تو خود ان کی زبان سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ یقیناً ہم نے تمھارے لیے اپنی آیات کو بیان کردیا اگر تم سمجھ رکھتے ہو"(آل عمران:118)۔ کفار کی فطرت کو سمجھنا اور بڑی طاقتوں کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف موقف کو سمجھنا، اُن کی سازشوں کو ناکام بنانے اور انھیں شکست دینے کی جانب پہلا قدم ہے۔ یہ کوئی پہلی دفعہ ایسا نہیں ہورہا کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال تو اس وقت سے جاری ہے جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیاتھا اور مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی ،یہاں تک کے کفار نے مسلمانوں میں موجود غداروں کی مدد سے 1342ہجری بمطابق1924عیسوی کو خلافت کا خاتمہ کردیا۔ اور اس کے بعد انھوں نے ہمارے خلاف چڑھائی اپنی طاقت کی بنا پرنہیں بلکہ ہماری کمزوری کی وجہ سے کی، کیونکہ ہم نے اُس ریاست خلافت کو کھو دیا تھا جو ہماری طاقت کی وجہ تھی اور ہم نے اس کے دوبارہ قیام کی کوششوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔لہٰذا وہ ہمارے خلاف اکٹھا ہوئے اوراسی طرح اکٹھے ہوئے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاتھا جس کو ابو داود نے ثوبان سے روایت کیا کہ ((يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا))"قومیں تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے لوگ کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں"۔ کسی نے پوچھا :" تو کیا ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ ہماری تعداد کم ہوگی؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:((بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ))" نہیں بلکہ اس وقت تمھاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمھاری حیثیت پانی کی لہروں پر موجود جھاگ کی سی ہو گی اور اللہ تمھارے دشمنوں کے دلوں میں سے تمھارے رعب کو ختم کردے گا اور اللہ تمھارے دلوں میں کمزوری پیدا کردے گا"۔ کسی نے پوچھا:" اے اللہ کے رسول، کس قسم کی کمزوری؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ((حُبُّ الدُّنْيَا، وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ))" دنیا کی محبت اور موت سے نفرت"۔
اے مسلمانو! رہنما اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا۔ لہٰذا حزب التحریر آپ کو پکارتی ہے کہ آپ دل و جان سے اپنی ریاستِ خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں کیونکہ یہی آپ کی عزت اور بقا کا راستہ ہے۔ اور آپ جتنا اس کے قیام کی جدوجہد میں تاخیر کریں گے اُتنا ہی آپ کے دشمن مضبوط ہوں گےاور ایسا صرف آپ کی طاقت کے ذرائع کےخاتمے کے لیے قرارداد کی منظوری سے ہی نہیں ہو گابلکہ آپ کی سرزمین پر فوجی قوت سے قبضہ کرنے کی قراردادبھی منظور کی جائے گی۔لیکن اگر آپ خلافت کے قیام کو اپنا اہم ترین مقصد بنا لیتے ہیں، اس کو اپنے دلوں کی دھڑکن بنا لیں اور اس مقصد کو ہر وقت اپنی نگاہوں کے سامنے رکھیں،اور اس کے حصول کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگا دیں، اور آپ ایسا صرف اور صرف خالص اللہ سبحانہ و تعالی کی رضا کے لیے کریں توآپ ضرور اللہ کے وعدے کو حاصل کرلیں گے(وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ)" اللہ تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرما چکا ہے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کیے ہیں کہ انھیں ضرور زمین میں حکمران بنائے گا جیسے کہ اُن لوگوں کو حکمران بنایا تھا جو اُن سے پہلے تھے"(النور:55)اور اسی طرح آپ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے ظالم حکمرانوں سے نجات اور خلافت کے قیام کی خوشخبری کو بھی حاصل کرلیں گے((ثُمَّ تَكُونُ جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ))" پھر تم پر ظالموں کی حکمرانی ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا اور پھر اللہ اسے دَور کواٹھا لے گا جب وہ اسے اٹھانا چاہے گا اور پھر نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم ہوگی"۔ اور پھر خلافت کا سورج دوبارہطلوع ہوگا اور اللہ دشمنوں کے خلاف آپ کی مدد فرمائے گا(إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ)"اے لوگو جو ایمان لائےہو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا"(محمد:7)۔ اورپھر امریکہ اور اس کے اتحادی ناکام و نامرادواپس لوٹیں گے ،اور ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں (وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ)" اور اللہ پر یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں"(ابراھیم:20)۔

Read more...

کیا شام کی بیواؤں کی فریاد سننے والا کوئی خلیفہ معتصم ہے!

پریس ریلیز

سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نےاتوار کی شام 1ستمبر2013 کوقاہرہ میں منعقد ہونے والے عرب وزرا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پرزوردیا کہ شامی عوام کو بچانے کے لیے کسی بھی عمل کو غیر ملکی مداخلت نہیں کہا جاسکتا۔اس نے یہ مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی برادری شامی عوام کے خلاف اس یلغار کو روکنے کی کوشش کرے ،اس سے پہلے کہ سب کو قتل کردیا جائے۔
ہم سعود الفیصل سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اور دوسرے تمام احمق جنہوں نے قاہرہ کے اِس اجتماع میں اُس کو سنا، سب کے اندر سے خلیفہ معتصم کی سی غیرت کہاں چلی گئی؟شام کے ظالم و جابر اورسرکش کو لگام دینے کے لیے کفار کی قیادت اور کفر کی افواج کے سامنے سوالی بننےپرتم کو شرم نہیں آتی جبکہ تم سب بشار جیسےہی ظالم و جابر اور سرکش ہو!!وہ افواج کہاں ہیں جن کے ذریعےتم نے امت کی دولت لوٹی ہے اورمسلسل لُوٹ رہے ہو؟؟یا تم اِن افواج کو اس دن کےلیے جمع کر رہے ہو جب امت تمہارے ظلم اور خیانت کے خلاف بھڑک اٹھے گی؟
اے امت مسلمہ:
ان نام نہاد ''لیڈروں"کی حقیقت تمہارے سامنے آشکار ہو چکی ہے کہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جس کے اندر خلیفہ معتصم کی سی غیرت ہو بلکہ یہ پاک دامن خواتین اور بچوں کی مدد کے لیے ہمارے اُن صلیبی دشمنوں سے مدد مانگتے ہیں جو مومنوں کے بارے میں کسی قرابت یا رشتے کا لحاظ نہیں کرتے؟ہم اِن غدارقائدین کے جرائم کو ابھی بھولے نہیں ہیں،ان پر شاعر کا یہ قول صادق آتا ہے:
''کتنے یتیموں نے منہ بھر کر پکارا:ہائے معتصم ۔
جس کو ان (غدارقائدین)کے کانوں نے سن تو لیا لیکن یہ معتصم کی سی بہادری کی طرز پر حرکت میں نہیں آئے ۔
اگر چرواہا ہی اپنی بکریوں کا دشمن ہو تو بھیڑیے کو ملامت نہیں کی جاسکتی"
ہم الفیصل اور اس کے ساتھ قاہرہ میں اکھٹے ہو نے والوں سے کہتے ہیں:
تمہیں انسانی جان کی عصمت اور انسانی خون کی حرمت کا پورا علم ہے،اورتم یہ واضع طور پر جانتے ہو کہ تم سب احمق اور دنیا کے خواستگار اور اپنے مغربی آقا کی خدمت میں مشغول ہو۔۔۔اورہم نے تمھیں آج تک کبھی بھی یہود کے جرائم کو چیلنج کرتے بلکہ ان کے سامنے سر اٹھا کر بات کرنے کی ہمت کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھا ۔
لیکن ہم امت مسلمہ میں سے ہر اُس شخص سے مخاطب ہیں جس کے دل میں ایمان کی تھوڑی سی بھی چنگاری ابھی باقی ہے ،اُن میں سے بھی سب سے پہلے اُن سپاہیوں اور افسران سے جو اِس ذلت اور رسوائی کا رخ موڑنے پر قادر ہیں کہ کیا تم نے اللہ کے اس فرمان کو نہیں سنا ہے:
((وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا))
"تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راہ میں نہیں لڑتے حالانکہ ستائے گئے مرد،عورتیں اور بچے پکار رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس ظالم بستی سے نکال دے جس میں رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنی طرف سے سرپرست اور مدد گار مہیا کر دے"(النساء:75)۔
کیا تم نے رسول اللہ ﷺکی یہ حدیث نہیں سنی ہے کہ :
( إنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به)
"صرف خلیفہ ہی ڈھال ہے جس کی قیادت میں لڑا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے حفاظت ہوتی ہے"(مسلم)۔
آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "خلیفہ ہی ڈھال ہے"کا مطلب یہ ہے کہ وہ محافظ ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کو کفار کی جانب سے ایذا رسانی سے محفوظ رکھتا ہے اور اسلام کی حفاظت کرتا ہے،اور "جس کی قیادت میں لڑا جاتا ہے"کا مطلب ہے کہ خلیفہ کی مدد سے کفار اور دوسرے لوگوں بلکہ ہر قسم کے فسادیوں اور ظالموں سے لڑا جاتا ہے (یہ امام النووی کی صحیح مسلم کی تشریح سے ہے)۔
اے فوج کے سپاہیوں اور افسران !تم اس امت کے فرزند ہو جس نے سورماؤں کو جنم دیا اس لیے الرحمن و الرحیم ،اللہ سبحانہ و تعالی کی اطاعت اور خلیفہ کی بیعت کی طرف دوڑ کر آؤ جو اللہ کے دین کی مدد اور اس کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے تمہاری قیادت کرے گا ،یوں تم دنیا اور آخرت کی عزتوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ اورخبردار ان فرعونوں کے سپاہی مت بنو جو اللہ الواحد الاحد کی مدد سے عنقریب اپنی حکومتوں سمیت نیست ونابود ہو نے والےہیں۔
((وَاللَّـهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِ‌هِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ))
"اور اللہ اپنے فیصلے میں غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"(یوسف:21)

عثمان بخاش
ڈائریکٹر مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

 

Read more...

غدارشامی قومی اتحاد اور سازشی عرب لیگ، اللہ کے دشمن امریکہ سے اُسی کے ایجنٹ بشار کے جرائم کے خلاف مدد مانگ رہے ہیں!

پریس ریلیز

شامی انقلاب اور اپوزیشن قوتوں کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے اتوار یکم ستمبر کو عرب لیگ سے بشار حکومت کے خلاف عسکری کاروائی کی حمایت کا مطالبہ کیا۔عرب وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجتماع کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الجربا نے کہا:"میں مکمل بھائی چارے اور انسانیت کی بنیاد پر آپ سے شامی حکومت کی جانب سے استعمال کیے جانے والے آلہ قتل کے خلاف بین الاقوامی کاروائی کی حمایت کا مطالبہ کرتا ہوں"۔
31 اگست 2013 کو امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے فون کال کے ذریعے الجربا کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ صدر اوباما دمشق کے مضافات میں کیمیائی حملے کرنے پر بشار حکومت کا محاسبہ کرنے کے لیے بدستور پر عزم ہیں،اسی کے پیش نظر قاہرہ میں ہونے والی عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کےاجتماع کے اختتامی بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ" اس جرم کا ارتکاب کرنے والی شامی حکومت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے"۔
ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ کے پالے پوسے ایجنٹوں نے سرکش بشار کے سقوط کے بعد شام میں حکمرانی کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے جلد بازی میں اپنے منحوس چہروں سے نقاب ہٹادیا ہے،اور اپنی امریکہ کی خاطر دلالی اور کاسہ لیسی کو ظاہر کیا ہے اوراب وہ دھوکہ دہی اور فریب کی ضرورت بھی محسوس نہیں کر رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے بنا یا جانے والا یہ ایجنٹ قومی اتحاد، کافر مغرب کی دلالی میں سب کے سامنے بے ستر ہو گیا ہے۔اسی لیےاس نے سب سے پہلے شام کے خلاف امریکی حملے کو خوش آمدید کہا!
ہم اُن اندھوں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگوں سے کہتے ہیں کہ کیا اب بھی تم یہ نہیں سمجھ رہے ہو کہ امریکہ اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنین کا دشمن ہے۔پھر کس طرح ایک مسلمان اپنا معاملہ دشمنوں کے سپرد کرسکتا ہے؟!کس طرح کوئی عقلمند شخص امریکہ سے خیر کی توقع کرسکتا ہے؟!کیا تم یہ بھول گئے کہ امریکہ ہی نے سالہاسال سے اس حکومت کو پالا پوسا ہے ؟!امریکہ ہی شام میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کا خون بہانے کے لیے بشار کو مہلت پر مہلت دیتا رہا ہے؟!یا تم یہ بھول گئے کہ امریکہ نے مشرق ومغرب میں کس کس قسم کے قتل و غارت گری کا ارتکاب کیا ہے؟!پھر کیونکر ایک مسلمان امریکہ کی سازش سے بے فکر ہو سکتا ہےیا اُس سے بھلائی کا گمان کرسکتا ہے؟!سنو امریکہ ہی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک ہے۔اس لیے کسی بھی حالت میں شام کے سرکش سے جان چھڑانے کے لیے اس سے مددلینا جائز نہیں،
(( ولن يجعل الله للكافرين على المؤمنين سبيلا))
"اللہ کافروں کو مومنین پر کبھی بالادستی نہیں دیتا"(النساء:141)
اے شام کے نیکو کار انقلابیو :اپنی کمر کس لو اور اپنے زور بازو پر بھروسہ کرو،
((اصبروا وصابروا ورابطوا))
"صبر کرو صبر کی تلقین کرو اور ایک دوسرے کا دست وبازو بنو"(ال عمران:200)
یاد رکھو امریکی ایجنٹ بشار کو اللہ کے دشمن امریکہ کے نجس ہاتھوں سے نہیں اپنے باوضو ہاتھوں سے کرسی سے اٹھا کر پٹخ دو۔
((يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء تلقون إليهم بالمودة وقد كفروا بما جاءكم من الحق))
"اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! میرے اور(خود) اپنے دشمن کو اپنا دوست مت بناؤ۔تم تو دوستی سے اُن کی طرف پیغام بھیجتے ہواور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کا انکار کرتے ہیں"(الممتحنہ:1)

 


عثمان بخاش
ڈائریکٹر مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

Read more...

مسلم دنیا میں اردو بولنے والوں کے لیے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی اردو ویب سائٹ

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی ایک اردو ویب سائٹ ہے جس کو www.muslimworld.today کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی امت میں اردو بولنے ، لکھنے اور سمجھنے والےکروڑوں مسلمانوں کے لئے یہ اردو ویب سائٹ معلومات حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس ویب سائٹ پر پوری مسلم دنیا میں خلافت کے قیام کے لیے کام کرنے والی جماعت حزب التحریر کی انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک مختلف ولایات کی جانب سے جاری کی گئیں پریس ریلیزز اور لیفلٹ دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ویب سائٹ پر مسلم دنیا میں حزب التحریر کی خلافت کے قیام کی زبردست جدوجہد کے حوالے سے تحریریں ،تصاویر، آڈیوز اور ویڈیوز بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس ویب سائٹ کے ذریعے حزب التحریر کے امیر،مشہور رہنما اور فقیہ، شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ سے سوالات بھی پوچھے جاسکتے ہیں۔
یقیناً اردو زبان کی موجودگی خلافت کا تحفہ ہے کیونکہ یہ زبان ریاستِ خلافت کی مسلم افواج کی فوجی چھاؤنیوں میں وجود میں آئی تھی جن میں ترکی، فارس، عرب اور برِصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے مسلمان موجود ہوتے تھے۔درحقیقت لفظ اردو ترک زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "لشکر" کے ہیں۔ آج کے دن تک اردو کا رسمُ الخط، اس کےالفاظ اور طرزِ تحریر قرآن اور خلافت کی سرکاری زبان عربی پر بے حد انحصار کرتی ہے۔
حزب التحریر ولایہ پاکستان اردو زبان استعمال کرنے والے صحافیوں، میڈیا اور سوشل میڈیا کو اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ وہ حزب التحریر کی جدوجہد اور کام سے مسلسل آگاہی کے لیےاس بہترین ویب سائٹ کو استعمال کریں۔

 

 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

آل پارٹیز کانفرنس :امریکی راج کو برقرار رکھنے کی کوشش امریکہ کےہاتھوں ہماری خودمختاری کی دھجیاں اڑانے کے لیےکیانی و شریف حکومت نے مزید وقت حاصل کرلیا

9ستمبر2013 کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اور اس میں منظور کی جانے والی قرارداد پاکستان میں امریکی راج کو مزید دوام بخشنے کی ایک اور کوشش ہی ثابت ہوئی۔ ایک طرف تو قرارداد یہ اعلان کرتی ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کا تحفظ کیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خودمختاری سے ماضی کی طرح کھیلتا بھی رہے۔ اس قرارداد میں ڈرون حملوں کی مذمت کی گئ جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوچکے ہیں جبکہ پاکستان تن تنہا امریکہ کے ڈرون پروگرام کو تباہ و برباد کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ۔اس کے علاوہ اس بات کے باوجود کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے مسلمانوں کو اپنے معاملات کو کفار کے پاس لے جانے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ استعماری طاقتوں کی آلہ کار ہے جس کو امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے جب چاہتا ہے استعمال کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نظر انداز کردیتا ہے ،اس کانفرنس نے ڈرون حملوں کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ اِسی طرح اس قرارداد میں اُن لوگوں سے مذاکرات کرنے کی بات کی گئی ہے جو امریکیوں سے لڑ رہے ہیں جس کا مقصد صرف انخلاء کے دھوکے میں افغانستان میں امریکیوں کے لیے مستقل فوجی اڈوں کے قیام کو یقینی بنانا ہے۔
یہ کانفرنس درحقیقت پاکستان کو اِس امریکی جنگ سے نکالنے کے لیےنہیں بلکہ اِس جنگ کو مزید دوام بخشنے کا باعث ثابت ہوئی کیونکہ کانفرنس میں یہ کہا گیا کہ "دہشگردی کے خلاف جنگ کے طریقہ کار اور وسائل کا فیصلہ خود کرینگے"۔افسوس کہ وہ جماعتیں جو عوام کے سامنےدن رات اِس امریکی جنگ سے پاکستان کو نکالنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں انھوں نے بھی اس قرارداد پر دستخط کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ امریکہ مخالف عوام کے جذبات کو محض اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لہذا ایک بار پھر یہ ثابت ہواہے کہ جمہوری نظام میں کوئی بھی حکمران بن جائے وہ ہمیشہ امریکہ اور استعماری طاقتوں کے مفادات کا ہی تحفظ کرتا ہے۔
اس کانفرنس میں افغانستان میں صلیبیوں کی زندگی کو برقرا رکھنے والی نیٹو سپلائی لائن کی بندش کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جووحشی مغربی افواج کے لیے ہتھیار، شراب اور سور کے گوشت کی فراہمی کا باعث ہے۔ نہ اس کانفرنس میں ملک سے امریکہ کے فوجی، انٹیلی جنس اور نجی فوجی اہلکاروں کی ملک بدری کا مطالبہ کیا گیا جو پاکستان میں امریکی جنگ کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اور نہ ہی اس کانفرنس میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کی بندش کا ٖفیصلہ کیا گیا جہاں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبے بنائے جاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے کیانی و شریف حکومت کو احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔
حزب التحریر ولایہ پاکستان تمام جماعتوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اگر اُن کی عوام میں کوئی نیک نامی رہ گئی ہے تو اُسےپاکستان کو تباہ کرنے پر تلے، امریکہ اور اس کے ایجنٹوں ،کو مزید وقت فراہم کر کے مت ضائع کریں۔ اب وقت آچکا ہے کہ آپ بھی کھل کر ملک میں امریکی راج کی نگہبان جمہوریت کے خاتمے کا مطالبہ کریں اور خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔ ایک ایسے وقت میں جب امت اسلام اور اس کی حکمرانی کا مطالبہ کررہی ہے اور خلافت کی واپسی کے آثار بھی واضع ہیں ، اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو وہ وقت دور نہیں جب امت آپ کو بھی غدار حکمرانوں کے ساتھیوں کے حوالے سے ہی یاد کرے گی۔ اور اگر آپ میں کوئی شرم و حیا نہیں تو پھر آپ کا جو جی میں آئے کریئے!

 

Read more...

شام کےجابر اور امریکی ایجنٹ بشار الاسد کی جانب سے شام کے مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے کیمیائی حملے کے خلاف حزب التحریر کے مظاہرے

آج حزب التحریر نے ڈھاکہ، چٹاگانگ اور سلہٹ کی مساجد کے سامنے مظاہرے کیے ۔ یہ مظاہرے شام کے جابر اور امریکی ایجنٹ بشار الاسد کی جانب سے شام کے مسلمانوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف کیے گئے۔ مظاہروں میں مقررین نے ظالم بشار حکومت کی مسلمانوں کے خلاف گھناؤنے جرائم کی شدید مذمت کی۔ انھوں نے نام نہاد بین الاقوامی برادری خصوصاً امریکہ اور روس کی بشار حکومت کو فراہم کی جانے والی مددو وحمائت پر روشنی ڈالی اور اس کی مذمت کی۔ یہی وہ حکومتیں ہیں جنھوں نے بشار کو مسلمانوں کے خلاف اس قدر ظالمانہ اقدامات اٹھانے کی اجازت دی تا کہ شام کے مسلمانوں کی اس اسلامی مزاحمت کو ختم کیا جاسکے جس کے ذریعے وہ خلافت کا قیام چاہتے ہیں۔
مقررین نے اسلامی افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ بشار کے خلاف حرکت میں آئیں۔ انھوں نے بنگلادیش کی فوج سے بھی یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس عظیم سعادت کے حصول کے لیے سب سے پہلے حرکت میں آئیں تا کہ دنیا اور آخرت کی عزت حاصل کرسکیں ،جبکہ اقوام متحدہ کے لیے فوجی خدمات انجام دینے کے عوض انھیں"امریکہ اور مغرب کے کرائے کے فوجی" کے ذلت آمیز خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ آخر میں مقررین نے اللہ سبحانہ و تعالی سے یہ دعا کی کہ وہ شام میں مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائے اور بشار اور اس کے آقاؤں کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کرے۔
مظاہروں کے اختتام پر حزب التحریر کے اراکین اورحامیوں نے حزب التحریر ولایہ شام میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے سربراہ ہشام البابا کی مندرجہ ذیل پریس ریلز بھی تقسیم کی جس کا عنوان یہ ہے:
دمشق کے مضافات میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے قتل عام کے بارے میں پریس ریلیز
کیا امت کے شرفا کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ وہ اہل شام کی مدد کے لیے حرکت میں آئیں!!

ولایہ بنگلادیش میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

Read more...

شام کا نکمابشارالاسدبھی کیا عجوبہ ہے: ڈولتی ہوئی کرسی پر کچھ دیر اور بیٹھے رہنے کے بدلے میں اپنے دین، اپنے لوگوں، اپنے اسلحے اورمتاع کوبیچ رہا ہے!

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے کی غرض سے ان ہتھیاروں کوبین الاقوامی نگرانی میں دینے کا مطالبہ ڈرامے کی قسطوں کی طرح منظر عام پر آرہا ہے۔ اس کی ابتدا 9ستمبر2013کو جان کیری کی اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ لندن میں پریس کانفرنس کے دوران اس بیان سے ہوئی کہ بشار کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ بین الاقوامی برادری کے حوالے کر کے عسکری حملے سے بچ سکتا ہے۔ اسی کے تھوڑی دیر کے بعد روس کے لاروف نے کہا کہ اس نے جان کیری کی تجویز سن لی ہے اور عنقریب روس شام کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے تقریبا ایک گھنٹے کےبعدشام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نےماسکو میں صحافیوں کے سامنے کھڑے ہو کر شام کے سرکش کی حکومت کی طرف سے اس تجویز کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اوراس کے چند گھنٹے بعد10ستمبر 2013 کوفرانسیسی وزیر خارجہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ اس موضوع کے حوالے سے ایک منصوبہ سلامتی کونسل میں پیش کرے گا۔ ساتھ ہی برطانیہ سے لے کر جرمنی اور چین تک، کئی ممالک شام کے کیمیائی اسلحے کو تباہ کرنے کی حمایت کرنے لگے۔ حتی کہ ایران نے بھی اسے خوش آئند قرار دیا۔ یہ سب ان ممالک پر امریکہ کی بالادستی کو بے نقاب کر تا ہے!
اس تمام کے بعد سرکش بشار نےاس اسلحے کو تباہ کرکےراکھ کا ڈھیر بنا نے کی حامی بھری، جس کی قیمت امت نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے ادا کی تھی۔ رہی بات اس بہانے کی کہ جس کا ذکر شامی وزیر خارجہ معلم نے ماسکو میں کیا کہ شام اپنے لوگوں کا خون بہانے سے بچنے اور امریکی عسکری حملے کو روکنے کے لیے یہ تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ تو یہ سب جھوٹ ہے،کیونکہ اس کا آقا اور اس کے غنڈے تو پہلے ہی بے حساب خون بہا چکے ہیں،لوگوں کی عزتوں کو پامال کر چکے ہیں،ہزاروں کو گرفتار اور لاکھوں کو جلاوطن کر چکے ہیں،لوگوں پر ہوائی جہازوں اور میزائلوں کے ذریعے جلاکر راکھ کردینے والے مواد کے ڈرم گراچکے ہیں۔ اور اس تمام کے بعدوہ اُن کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے بھی شام کے لوگوں کو بے دریغ قتل کر چکے ہیں،کہ جن ہتھیاروںکی قیمت انہی لوگوں نے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر اس لیے ادا کی تھا کہ دشمن سے ان کی حفاظت ہو سکے ۔ لیکن یہ ہتھیاردشمن کے لیے توامن اور سلامتی بنے رہے اور ان کے اپنے لیے ایسی آگ ثابت ہوئے کہ جس نے ان کو جلاکر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ اوریہ کہنا بھی محض جھوٹ ہے کہ عسکری حملے سے بچنے کے لیے ایسا کیا جارہا ہے کیونکہ ان ہتھیاروں کو ضائع کرنے کے بعد عسکر ی مداخلت تو زیادہ آسان ہو گی کیونکہ طاقتور پر حملہ نہیں کیا جاتا۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ اگر امریکہ نے شام پر حملہ کر نے کا فیصلہ کر لیا تو اس کا پالتو بشارالاسدمخالفت کی جرات نہیں کر سکتا،بلکہ وہ امریکہ کی مرضی کے بغیرروتے ہوئے آواز کو بھی بلند نہیں کر سکتا! سرکش بشارکیمیائی اسلحے کے ذخائر کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نگرانی میں دینے کی حامی بھر کر شام کی سر زمین کی پامالی کی راہ ہموار کر رہا ہے،کیونکہ اس کے بعد ان ذخائر کے مقامات کے تعین کے لیے تفتیش کار وں کی اۤمد کا سلسلہ شروع ہو گا اور اس کے لیے امریکی اور مغربی افواج کی ضرورت پڑے گی،یوں سرکش بشارکی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کو حوالے کر نا امریکی مداخلت کو نہیں روکے گا۔
اے مسلمانو: حافظ الاسداور بشار کا خاندان تقریبا نصف صدی سےامریکہ کی خدمت کر رہے ہیں،انہوں نے خطے میں امریکہ کے مفادات کی حفاظت کی اور یہودی ریاست کے سیکیورٹی گارڈ بنے رہے۔ اورجب لوگ اِس سرکش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ہی سرکش بشارکو لوگوں کےقتل اور پکڑ دھکڑ کے وسائل مہیا کیے تاکہ وہ ان کو کچل سکے، لیکن بشارایسا نہ کر سکا۔ تب بشارکے آقاؤں نے سوچا کہ اس کا متبادل اسی جیسا خائن ایجنٹ لایا جائے جس کے لیے انہوں نے شامی قومی اتحاد اور قومی کونسل تیار کی۔ پھر اندرونی طور پر لوگوں کے سامنے ان کی مارکیٹنگ میں سردھڑ کی بازی لگادی لیکن وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکے،کیونکہ لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ''یہ (انقلاب)صرف اللہ کے لیے ہے،یہ(انقلاب)صرف اللہ کے لیے ہے"، ''ہمارے ابدی قائد اللہ کے رسول محمد ﷺ ہیں" ان نعروں اور فلک شگاف تکبیروں نے ان کی نیندیں حرام کردیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام کے سرکش حکمران بشار اور اس کے کارندوں کو قتل اور پکڑ دھکڑ کے لیے مہلت پہ مہلت دی۔ جبکہ شام سے باہر ان طاقتوں کے پالے ہوؤں نےلوگوں کو جمہوریت اورسِول عوامی حکومت کے لیے قائل کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کی،لیکن نامراد ہو کر الٹے پاؤں لوٹ گئے۔
اس کے بعد امریکہ عسکری کاروائی کرنے کے لیے طبل بجانے لگا، جس کا مقصد جنیوا 2 مذاکرات میں متبادل ایجنٹ حکومت کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ لیکن امریکہ عسکری کاروائی کے لیے مہلت پہ مہلت دیتا رہا تاکہ اس بات کا اطمنالن کیا جاسکے کہ حملے کے نتیجے میں سب کو عسکری دباؤ کے زیر سایہ جنیوا جانے کے لیے مجبور کیا جائے۔ اسی لیے اوباما کبھی بندوق ہاتھ میں اٹھاتا ہے اور کبھی اس کو زمین پر پھینکتانظر آرہا ہے۔ کبھی کہتا کہ میں نے فیصلہ کر لیا، کبھی کہتا کہ مجھے کانگریس کا انتظار ہے۔ اس دوران وہ اس حملے کے ممکنہ نتائج کابھی جائزہ لیتا رہا کہ کیا یہ حملہ جنیوا مذکرات اور متبادل ایجنٹ مسلط کر نے پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں، اوراگر نہیں کرسکتا تو کیااس کو نافذ کرنے کے لیے مزید مہلت دی جائے؟
لیکن شام کی سرزمین پر مسلمانوں کی تکبیروں نے سرکش بشارکے ساتھ مذکرات کے لیے جنیوا جانے کے امکان کو ختم کر دیا، کیونکہ جو بھی سرکش یا اس کے ہر کاروں کے ساتھ بیٹھے گا وہ بدنامِ زمانہ غدارابورغال کے نقشِ قدم پر چلے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دیکھ لیا کہ اس حملے کے نتیجے میں جنیوا مذاکرات تک پہنچنا مشکوک ہے،لہٰذا مزید وقت اور مزید دباؤ کی ضرورت ہے۔ امریکی مشکل وقت میں مہلت سے کام لینے کے عادی ہیں،چنانچہ وہ یہاں بھی اسی پر مجبور ہیں،کانگریس اور پارلیمنٹ میں بحث کو طول دے رہے ہیں اور ووٹنگ کو اس انتظار میں موخر کر رہے ہیں کہ لوگ قتل و غارت،پکڑ دھکڑ اور عسکری مداخلت کے خوف سے سرکش کے ساتھ مذکرات کے لیے جنیوا جانے پر راضی ہو جائیں۔ کیونکہ حملہ بذات خود مقصود نہیں،بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کے بعد جنیوا مذکرات میں متبادل ایجنٹ کی حکومت کو مسلط کیا جاسکے۔ کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنے ایجنٹ تیار کر نے سے قبل شام میں وہ مخلص مسلمان اقتدار حاصل کرلیں گے ، جوکفار کے آلہ کار اور مددگار بننے کے لیے تیار نہیں،اورجو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطے سے مار بھگانے کی کوشش کر رہے ہیں،جس کی وجہ سے ان کی لے پالک یہودی ریاست کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوجائیں گے، بلکہ اس کے وجود کو ہی صفحہ ہستی سے مٹانا ان مخلص مسلمانوں کا ہدف ہو گا۔ اس وجہ سے ان کفارکے شیطانی ذہن نے یہ منصوبہ بنایا کہ اس طاقت ور اسلحے کو ہی تباہ کردیا جائے جو یہودی وجود کی سیکیورٹی کو متاثر کر سکتا ہے،خاص طور پر جب ان کو معلوم ہے کہ ان کا پالتوبشار ان کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتا،بلکہ ان کے کسی اشارے کو بھی رد نہیں کر سکتا۔ اسی لیے یہ ڈرامہ قسط در قسط منظر عام پر آرہا ہے جس کا پروڈیوسر امریکہ ،اور"کامیڈین"روس ہے جبکہ "قربانی کا بکرا" امت کا خائن شام کا سرکش بشارہے۔
اے مسلمانو! کانٹوں کی سیج جواں مردوں کے لیے ہی ہوتی ہے،کیا ان مصائب سے بڑھ کر بھی کوئی مصیبت ہو سکتی ہےکہ جنہیں تم برداشت کر چکے ہو؟! تم تواُس امت سےتعلق رکھتے ہو جو غفلت میں نہیں پڑی رہتی،وہ امت جس نے صلیبیوں کو شکست سے دوچار کیا اور تاتاریوں کا صفایا کیا۔ یہ اس وقت ہوا کہ جب دشمنوں نے یہ گمان کر لیا تھا کہ یہ ختم ہو چکی ہے،لیکن یہ امت اپنے سرچشمے کی طرف لوٹ اۤئی،اپنے دین اور اپنی خلافت کی طرف اور اس کے بعد پھر دنیا کی قیادت سنبھال لی،تب دشمن کو یہ پتہ چل گیا کہ اس کا گمان محض ایک پراگندہ خواب تھا۔ اس لیے آج بھی تم اپنی قوت کے اسباب کی طرف لوٹ آؤ،اپنے دین اور اپنی خلافت کی طرف۔ کمر کس لو! اے بصیرت رکھنے والو! عبرت حاصل کرو،جان لو کہ مصیبت آتی ہے تو اکیلے سرکش ظالموں پر نہیں آتی بلکہ ظلم پر خاموش رہنے والے بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے﴿وَاتَّقُوا فتنَةً لَاتُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾"اس مصیبت سے ڈرو جو تم میں سے صرف ظالموں کو ہی اپنے لپیٹ میں نہیں لے گی،اور جان لو کہ اللہ سخت سزادینے والاہے"۔ اورامام احمد نے اپنے مسند میں مجاہد سے نقل کیا ہے کہ:ہمارے مولیٰ(آزاد کردہ غلام )نے روایت کیا کہ اس نے میرے دادا سے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:(ان اللہ لا یعذب العامۃ بعمل الخاصۃ، حَتَّى یرَوْا الْمُنْكَرَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ،وَهُمْ قَادِرُونَ عَلَى أَنْ ينُكِرُوهُ فَلَا يُنْكِرُوهُ فاذا فعلوا ذلک عذب اللہ الخاصۃ والعامۃ)"بے شک اللہ تعالیٰ خواص کے عمل کی وجہ سے عوام کو عذاب نہیں دیتا،یہاں تک کہ وہ اپنے سامنے منکر کو ہوتادیکھیں ،اور وہ اس کا انکار کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن انکار نہ کریں ،جب وہ ایسا کریں تو اللہ عوام وخواص دونوں کو عذاب دیتا ہے"۔ اسے ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔
اے مسلمانو! یہ یقینا ایک المیہ ہے کہ ہمارے اسلحے کو طاغوتی حکمرانوں کی رضامندی سے تباہ کیا جارہا ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ امت زمین میں فساد برپا کرنے والے اور ہر سیاہ وسفید کو تباہ کرنے والے ان طاغوتی حکمرانوں کو ہٹا نے کے لیے اپنی افواج پر دباؤ نہیں ڈالتی۔ یہ بھی انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنا خون بہتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور اسے روکتے نہیں،اپنے اسلحے کو تباہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں اوراس کی حفاظت نہیں کرتے،اپنی دولت کو لٹتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن اس کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو کاٹتے نہیں،ہم اپنے علاقوں کو گھٹتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن اس کوروکتے نہیں،عزتوں کو پامال ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور ہماری رگوں میں موجود خون نہیں کھولتا۔
اپنے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرو،اپنی امت کے بارے میں اللہ سے ڈرو،اپنی خلافت کے بارے میں اللہ سے ڈرو،اپنے اسلحے کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ ان سب کو دانتوں سے پکڑو۔ خلیفہ جو کہ ڈھال ہو تا ہے، کی قیادت میں اپنے دین کی مدد اور اپنے دشمن کو شکست دینے کے لیے تیار ہو جاؤ،اسی کی قیادت میں لڑو،تم اسی کے ذریعے محفوظ ہو گے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اپنی شان وشوکت کو بحال کرو گے اور دنیا وآخرت کی کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ اوراگر تم نے ایسا نہ کیا تو دشمن نہ صرف تمہارے اسلحے کوتمہارے ہی ہاتھوں تباہ کرے گا بلکہ تم اس کو اپنے گھروں میں گھسنے کی دعوت خو ددو گے۔ اوراس وقت تمہاری نجات کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا!
﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ ﴾"بے شک اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو دل رکھتا ہے یاسنتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے"

Read more...

شام اور مصر میں امریکی جرائم پر مذمتی جلسہ اللہ کے فضل سے اختتام کو پہنچا "ہمارا اسلام نہ کہ ان کی جمہوریت"  

اللہ کے فضل و کرم سے حزب التحریر ولایہ اردن کی جانب سے شام میں امریکی مداخلت اور اپنے ایجنٹ بشار اور مصر میں اپنے ایجنٹوں کے جرائم کی پردہ پوشی کی مذمت کے سلسلے میں منعقد کیا جانے والا جلسہ کامیابی سے اختتام کو پہنچا۔اس جلسے میں شرکت کے لیے شام کی سرزمین اردن کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے حزب کی دعوت پر لبیک کہا اورانتہائی گرم موسم کےباوجود جلسے میں بہت بڑہ تعداد میں شرکت کی۔

جلسے کا افتتاح قرآن حکیم کی تلاوت سے کیا گیا۔پھر حزب التحریر ولایہ اردن کے میڈیا آفس کے انچارج محمود قطیشات نے ابتدائی کلمات کہے،جس میں انہوں نے کفار کی طرف جھکاؤ اور ان پر اعتماد کرنے کے بارے میں محتاط رہنے پر گفتگوں کرتے ہوئے کہاکہ " یہی امریکہ اور کافر ممالک پسے پردہ خود اور اپنے ایجنٹوں اور کارندوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ صلیبی جنگ میں مصروف ہیں۔وہ افغانستان،پاکستان اور یمن میں اپنے اسلحے اور ڈرونز کے ذریعے مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں اور شام کی سرزمین پر اپنے ایجنٹ سرکش بشار کے ذریعے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اوراس کو جینے کے اسباب مہیا کر رہا ہے۔ یہی مصر میں اپنے ایجنٹ سرکش السیسی کے ذریعے رابعہ ، النہضہ میں،سڑکوں اور مساجد میں مسلمانوں کا قتل عام کروارہےہیں "۔انہوں نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو خبردار کیا کہ مشرقی یا مغربی کافروں کو کسی بھی بہانے اپنے اندرونی معاملات میں سیاسی یا عسکری مداخلت کی اجازت نہ دیں کیونکہ یہ کام اللہ،اس کے رسول اور مؤمنوں سے خیانت ہے۔انہوں نے مسلمانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس پر آشوب دور سے نکلنے کے لیے موجودہ حکمرانوں کو اتار پھینکنے ، اسلام کے اقتدار کو واپس لانے اوراس ریاست خلافت کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر یں جو امریکہ اور ان ممالک کے ہاتھ کاٹ دے گی جو اسلامی سرزمین میں دراندازی کی جسارت کریں گے۔

استاد بلال القصراوی نے بھی خطاب کیا اور شام میں میں سفاک بشار کی پشت پناہی اور شام کے انقلابی تحریک کے خلاف سازشیں کرنے کے بارے میں امریکہ کے کردار کو بے نقاب کیا۔انہوں نے شام کے مخلص انقلابیوں کو داد دی اور یہ کہا کہ شام کے مخلص انقلابی کبھی بھی اپنے انقلاب کا رخ موڑنے کی امریکی کوششوں کو کامیاب ہو نے نہیں دیں گے اوروہ ایک ایجنٹ کی جگہ دوسرے ایجنٹ کو قبول نہیں کریں گے۔اس کے بعد استاد ابو بکرالفقہاء نے بھی خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو کفار پر انحصار کرنے سے خبردار کیا اورشام اور مصر کے اسلامی تحریکوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دین کے کسی بھی جزء سے پیچھے ہٹھنے کو قبول نہ کریں اورآپ کا مقصد کسی صدر کو برطرف کر کے کسی اور کو اس کی کرسی پر برجمان کرنا نہیں،بلکہ آپ کا نصب العین ریاست خلافت کے قیام کے ذریعے اللہ سبحانہ وتعالی کے دین کو نافذ کرنا ہونا چاہیے۔

جلسے میں زبردست نعرے بھی لگائے گئے جن میں سے کچھ یہ ہیں،"شام کے انقلابی کہتے ہیں کہ ہم اپنے دین کو تمہاری جمہوریت سے نہیں بدلیں گے"،"کب تک شام اور مصر میں ہمارا خون مغرب کے لیے قربان ہوتا رہے گا"،"انہوں نے یہ کہہ کر جھوٹ بولا کہ :جمہوریت حل ہے جس کا شاخسانہ رابعہ العدویہ تھا!" اور"تماری مداخلت دشمنی ہےاور تمہارے مددگاروں کو بچانے کے لیے ہے"۔ علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا نے اس جلسے کو انتہائی درجے کے سیکیوریٹی کے باوجود کیوریج دی اوربہت سے ذرائع ابلاغ کے اداروں نے میڈیا آفس کے سربراہ اور دوسرے شرکا کا انٹر ویو بھی کیا۔

 

 

میڈیا آفس حزب التحریر
ولایہ اردن

 

Read more...

سوال و جواب :  مصر میں جاری واقعات

 

سوال:مصر میں جاری واقعات کو دیکھ کر میں پریشان ہو گیا ہوں اور معاملات میرے سامنے غیر واضح ہیں:
1 ۔ یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ مصر میں عملی بالادستی امریکہ کو حاصل ہے،پھر سعودی عرب،امارات اور کویت کیوں مصر کی نئی حکومت کی مالی مدد کررہے ہیں کیونکہ یہ ممالک برطانیہ کے زیر اثرہیں؟
2 ۔ امارات نے مالی میں بھی فرانس کی حمایت کی اور مالی کو بھی معاشی امداد دی ،حالانکہ مالی میں بالادستی برطانیہ کو حاصل نہیں؟
3 ۔ اسی طرح ہم نے امارات کے ٹی وی چینل العربیہ اور قظر کے ٹی وی چینل الجزیرہ کے موقف میں تضاد کا مشاہدہ کیا باوجود اس کے کہ قطر اور امارات دونوں انگریز ہی کے ایجنٹ ہیں،کیا یہ کہنا مناسب ہے کہ قطر میں حالیہ تبدیلی نے یہاں برطانوی پالیسی کو متاثر کیا؟
4 ۔ پھر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ شامی اتحاد میں موجود سعودی نواز مثال کے طور پر الجربا کا قطر نواز افراد کے مقابلے میں فعال کردار ہے ،کیا شام میں رونما ہونے والے واقعات میں قطرنواز افراد کمزور ہوگئے اور سعودی نواز مضبوط ہوگئے؟
5 ۔ آ خر میں کیا امریکہ نے مرسی کی پشت پناہی سے ہاتھ کھینچ کر نام نہاد ''اعتدال پسند"اسلام کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے راہ ہموار کرنے کے نظرئیے سے دستبردار ہو گیاہے؟مجھے امید ہے کہ اس سوال کی طوالت پر آپ تحمل کا مظاہرہ کریں گے اللہ آپ کو جزائے خیر دے،اس کی طولت اور کثرت پر میں پہلے ہی معذرت خواہ ہوں،لیکن ہمیں اپنے امیر کی وسعت علمی کے ساتھ ان کے فراخ دلی کا بھی ادراک ہے،ممکن ہے کہ ان کے جواب سے ہماری تشنگی دور ہو اور ہمارے دل ٹھنڈے ہوں۔

جواب:میرے بھائی یہ سوال نہیں بلکہ سوالات کی ایک ''گھٹڑی" ہے!!بہر حال مختصر جواب پیش خدمت ہے جو ان شاء اللہ آپ کو پریشان نہیں کرے گا:
برطانوی پالیسی کے کچھ خطوط(ھیڈ لائینز)ہیں جن کو جان کر جو کچھ ہو رہا ہے آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں:
1 ۔ موجودہ وقت میں برطانیہ اعلانیہ طور پر امریکہ کے مد مقابل آنے کی جرات نہیں کر سکتا ، بلکہ ایسا ظاہر کر رہا ہے کہ وہ بھی امریکہ ہی کے صف میں ہے،لیکن پس پردہ اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے ایسا لائحہ عمل مرتب کر کے جو بظاہر کچھ اور نظر آتا ہے امریکی پالیسیوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
2 ۔ برطانیہ اپنے ایجنٹوں کو اکثر ایسا کردار دیتا ہے جس سے بظاہر ایسا نظر آئے کے وہ بھی اسی سمت جارہے ہیں جس طرف امریکہ گامزن ہے تاکہ اس کے ساتھ کوئی تصادم نہ ہو،چنانچہ سیاسی بیداری سے محروم شخص کے لیے اردن کا امریکہ کے ساتھ تعلقات ایسے ہیں کہ وہ بھی امریکہ ہی کے صف میں ہے،حالانکہ اردن برطانوی سیاست کا بنیادی رکن ہے،یہی حال امارات اور دوسرے ایجنٹوں کا ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر برطانیہ اپنے بعض ایجنٹوں کو بعض دفعہ امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے کی اجازت دیتا ہے ،یہ دوسرے ایجنٹوں سے مختفج کردار ہو تا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کے مختلف ایجنٹوں کا مختلف کردار ہو تا ہے:ان میں سے اکثر بظاہر امریکہ کے سامنے مسکراتے ہیں اور پیار کا اظہار کرتے ہیں اور پس پردہ اپنے آقا برطانیہ کے طرز پر اس کو تنگ کرتے رہتے ہیں،ان میں سے بہت کم کا کردار واضح طور پر امریکہ کو تشویش میں مبتلا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
3 ۔ برطانیہ امریکہ کی پالیسیوں کا سامنا کر نے کے لیے فرانس کا سہارا لیتا ہے جو کہ یورپی خصوصا برطانیہ اور فرانس کی پالیسی کے ضمن میں ہو تا ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ انتہائی خباثت سے نرم ونازک انداز سے امریکہ کو دھوکہ دیتا ہے جبکہ فرانس چلاتا اور چنگاڑ تا ہے۔۔۔۔۔اکثر وبیشتر برطانیہ فرانس کے پشت پر اپنی پالیسی کو عملی جامہ پہنا تا ہے !مشہور مثل ہے کہ ''برطانیہ آخری فرانسیسی سپاہی تک لڑے گا"اگر چہ یہ پرانے زمانے کی بات ہے لیکن اس کا اثر اب بھی کسی حد تک ہے۔
4 ۔ سعودیہ میں حکومت کے سربراہ اگرچہ عبداللہ ہے جو کہ برطانیہ پیروکار ہے لیکن بعض شہزادوں پر امریکہ کا اثر ہے اسی اثر کی وجہ سے اس کی پالیسوں کے لیے راہ ہموار ہو تی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس کی روشنی آپ کے سوالات کے جوابات کی وضاحت ممکن ہے:
ا۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے اس کے سابق امیر نے وزیر خارجہ سے مل کر قطرکو خلیج میں برطانیہ کی توجہ کا مرکز بنانے میں کا میاب ہوگیا،یہی سے اس نے مختلف ملکوں میں دو موثر وسیلوں سے مداخلت شروع کردی:میڈیا''الجزیرہ" اورمال''پٹرول"سے۔۔۔۔۔۔یوں اس کی سرگرمیاں شام اور فلسطین حتی کہ مصر وغیرہ میں امریکی پالیسی کو ڈسٹرب کرنے میں موثر ثابت ہوئیں۔۔۔۔امریکہ کا پریشان ہونا برطانیہ سے پوشیدہ نہیں تھا،چونکہ برطانیہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ وہ امریکہ کو تنگ نہیں کر رہا اسی لیے اس نے امیر کو تبدیل کرنے کی حامی بھر لی،لیکن اس کا متبادل کسی اور کو نہیں اس کے بیٹے کو لایا گیا ،یعنی برطانوی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی،لیکن اس بیٹے کو امریکہ کو تنگ کرنے میں اپنے والد کی طرح موثر ثابت ہو نے کے لیے وقت درکار ہے،اس تبدیلی کے ذریعے برطانیہ نے امریکہ کی پریشانی کو کم کردیا ۔۔۔۔۔یعنی جو کچھ ہوا یہ امریکہ کو راضی کرنے کا برطانوی اسلوب تھا جو کہ صرف ظاہری ہے جس میں امریکہ کو کچھ حاصل بھی نہیں ہوا!
ب ۔ اس تبدیلی کے ساتھ قطر کا کردار تھوڑا پوشیدہ ہو گیا کیونکہ نئی حکو مت کے کارندے سیاسی داوپیچ میں پرانی حکومت کے کارندوں سے کم تجربہ کار ہیں،تاہم قطر بدستور برطانوی سیاست کے زیر اثر ہے اس لیے خفیہ اور خبیث انداز سے کام کرتا ہے،اس کا اعلانیہ کردار گزشتہ دور سےکم فعال ہے،یہی وجہ ہے کہ شام میں بھی اس کے کارندوں کی چستی پرانوں کے مقابلے میں کم ہے۔
ج ۔ جہاں تک سعودی نوازوں کا تعلق ہے تو وہ زیادہ فعال ہیں اور امریکہ اور برطانیہ سے زیادہ مقبول ہیں کیونکہ سعودی بادشاہ کی وفاداری برطانیہ کے لیے ہے اور امریکہ بھی شاہی خاندان میں بعض شہزادوں کو استعمال کرتے ہوئے جانفشانی سے تگ ودو کر رہا ہے۔
رہی بات الجربا کی تو اگر چہ یہ سعودیہ کا مقرب ہے لیکن یہ امریکی پالیسی کا حصہ ہے،سعودیہ چاہے اس کی کتنی ہی حمایت کرے یہ امریکہ کی اطاعت سے منہ نہیں موڑ سکتا،یہ اتحا د مکمل طور پر امریکہ کا بنا یا ہوا ہے،اس لیے یہ اسی شخص کی سربراہی میں ہی آگے بڑے گا جو امریکہ کی کٹ پتلی ہو۔
د ۔ جہاں تک مالی اور امارات کی معاشی امداد کا تعلق ہے ۔۔۔۔۔آپ کو معلوم ہے کہ امریکہ ہی مالی میں رونما ہونے والی پہلی تبدیلی کا پشت بان تھا جو 22/03/2012 کو واقع ہوئی،یہ فرانس کے لیے کاری ضرب تھی،اسی لیے فرانس نے انتہائی جانفشانی اور محنت سے اپنے اثرورسوخ کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش شروع کردی۔برطانیہ کو اس بات کا ادراک ہے کہ مالی میں اس کا کوئی اثرورسوخ نہیں بلکہ یہا ںفرانس کو بالادستی حاصل ہے اور امریکہ مزاحمت کر رہا ہے۔رسہ کشی امریکہ اور فرانس کے درمیان ہو تو برطانیہ فطری طور پر فرانس کا معاون ہوتا ہے۔امارات کی جانب سے مالی کی معاشی مدد بھی برطانیہ کی جانب سے فرانس کی مدد کے تناظر میں ہے۔
ھ ۔ رہی بات مصر میں جو کچھ ہوا اس حوالے سے امارات کے وفد اور اردن کے بادشاہ کی جانب سے مصرکا دورہ کرنے کی شکل میں برطانوی موقف کی تفسیر کی اور برطانوی ایجنٹوں کی جانب سے مصر کی مالی امداد کی تو یہ بھی مذکورہ بالا خطوط (ھیڈلائنز)سے باہر نہیں۔۔۔۔۔جہاں تک امارات اور قطر کے کردار کے تضاد سے پیدا ہونے والے التباس کا تعلق ہے تو یہ برطانوی پالیسی کے مطابق کرداروں کی تقسیم ہے،مصر کے واقعات کے نتائج کے انتظار میں ایک قریب ہوتا ہے تو دوسرا دور جاتا ہے۔۔۔۔۔امارات کی جانب سے مبارک حکومت کے عناصر کی میزبانی بھی ان خطوط سے ہٹ کر نہیں۔مبارک کے آدمیوں کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کی توقع بھی امارات کے ذریعے برطانوی پالیسی کاایک راستہ ہو گا اگر چہ یہ راستہ تنگ ہوگالیکن یہ بھی اچھا جواب دینے کے ضمن میں ہوگا!
و ۔ رہی یہ بات کہ کیا امریکہ کی جانب سے مرسی کے سر سے دست شفقت ہٹانے کا مطلب نام نہاد ''اعتدال پسندوں"کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے راہ ہموار کرنے سے دستبرداری ہے۔تو بات دستبردار ہونے یا نہ ہونے کی نہیں بلکہ مسئلہ مصر میں امریکی اثرو رسوخ کو برقرار رکھنے کا ہے،کیونکہ امریکہ کا اثر ورسوخ مصرکے غالب سیاسی طبقے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے راسخ ہے۔امریکہ چاہتا ہے کہ مصر میں امریکی بالادستی مستحکم مرکز رہے۔ وہ یہاں استحکام مصر کے باشندوں کی خاطر نہیں چاہتا،بلکہ امریکہ کو اپنی بالادستی اور منصوبوں کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم پلیٹ فارم چاہیے۔۔۔۔۔ جس وقت 25/01/2011 کی عوامی تحریک نے امریکہ کو پریشان کردیا اور مبارک اس تحریک کو دبانے اور مصرکو دبارہ امریکی مفادات کے حصول کے لیے ایک مستحکم ماحول مہیا کرنے میں ناکام ہو گیا توامریکہ نے اس کو ایک طرف کردیا اور عوامی تحریک کی موجوں پر سوار ہوگیا ۔اس کے بعد مرسی کو اس وقت لایا جب اس نے امریکی منصوبوں کو نافذ کرنے کی ضمانت دی خاص کریہودی وجود کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی تب امریکہ نے اس کی حمایت کردی۔۔۔،اس سے یہ توقع بھی کی کہ استحکام کو حاصل کرے گا کیونکہ اس کی جماعت الاخوان ہی نیشنل پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد سب سے بڑی اور منظم پارٹی ہے۔امریکہ یہ توقع کرتا تھا کہ یہ حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جیسا کہ نیشنل پارٹی نے معزول صدر کے ساتھ کیا تھا۔۔۔۔لیکن مرسی ایسا نہ کر سکا تو اس سے بھی دستبردار ہو گیا۔۔۔۔۔اور03/07/2013 کو نئی حکومت کا حمایتی اورپشت بان بن گیا ۔۔۔۔
اس بنا پر امریکہ کا مصر میں ''اعتدال پسند اسلام "والوں سے دستبردار ہونا حالیہ سالوں میں ''اعتدال پسند اسلام"والوں کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے راہ ہموار کرنے کی پالیسی سے باہر ہے،امریکہ نے اس پالیسی کو ایک تیر سے دوشکار والی کہاوت کی طرح استعمال کیا:
پہلا:ان عام مسلمانوں کو دھوکہ دینا جو اسلام کی حکمران چاہتے ہیں۔۔۔۔اگر چہ ''اعتدال پسند اسلام"والے اعلانیہ طورپر جمہوریت کی بات کرتے ہیں اوراسی کو قائم دائم رکھنے کا حلف اٹھاتے ہیں!لیکن ان کا نام کے لحاظ سے بھی ''اسلامی" ہونا مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکاتا ہے اور وہ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ان اسلام پسندوں کے اقتدار تک پہنچنے سے اسلام کی حکمرانی آئے گی اور یوں وہ اسلام کی حکمرانی یعنی خلافت کے نظام کے لیے صحیح معنوں کام کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹتے ہیں ۔۔۔۔۔اور امریکہ یہی چاہتا ہے کہ مسلمان خلافت کے قیام کے لیے کام کرنے کا عزم نہ کریں، کیونکہ خلافت ہی نے اس کی نیند حرام کر رہی ہے۔۔۔۔۔
دوسرا:اسلام پسندوں کے ذریعے لوگوں کے جذبات سے کھیل کر اپنی بالادستی کو برقرار رکھنا۔۔۔۔اگر وہ امریکی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے استحکام قائم نہ کرسکیں تو ان سے دستبردار ہونا،جیسا کہ مرسی کے ساتھ کیا،پھر دوسروں کی حمایت شروع کردی،خاص کر اس صورتحال میں کہ اس کے پاس ایجنٹ سیاست دانوں کی کوئی کمی نہیں جو اس نے مصر میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران تیارکیے ہیں!
ز ۔ اہل کنانہ(اہل مصر)کو چاہیے کہ اس بات کو سمجھیں کہ امریکہ کو معزول صدر مبارک کے دور میں جو بالادستی حاصل تھی وہی معزول صدر مرسی کے دور میں بھی حاصل تھی اور اسےہی اب بھی موجودہ حکومت کے دور میں حاصل ہے۔امریکہ ہی مصر کی بیماری اور مصیبت کی وجہ ہے ۔یہ ہر مسلمان پر واجب ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان رکھتا ہے کہ وہ امریکی بالادستی کا قلعہ قمع کرنے ،اس کے ایجنٹوں کو ہٹانے اور اسلام کی حکمرانی خلافت راشدہ کو دوبارہ کنانہ کی سرزمین میں لانے کے لیےزبردست جدوجہد کرے تاکہ یہ اسلامی دنیا کا مرکز بن جائے اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا صفایا کرے،یہودی وجود کو مٹادے ارض مقدس کو اسلام اور مسلمانوں کو واپس کرے جیسا کہ انہوں نے صلیبیوں اور تاتاریوں کا قلع قمع کرنے میں کیا اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل بھی نہیں۔

Read more...

بدھسٹ بے دھڑک سری لنکا میں مسلمانوں پر حملہ کر رہے ہیں، جبکہ ہماری مسلح افواج کو بیرکوں میں روکا جا رہا ہے

10 اگست 2013 بروز ہفتہ دارالحکومت کولمبو کے مرکزی علاقہ میں بدھوں کے ایک ہجوم نے ایک تین منزلہ مسجد اور قریبی گھروں پر حملہ کردیا ۔ یہ کسی لحاظ سے بھی کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔ حالیہ مہینوں میں بدھ مشرک گروہوں نےمسلمانوں اور عیسائیوں کو ہدف بنانے کی ایک منظم مہم چلا رکھی ہے۔جنوری 2013 میں بدھ راہبوں کے ایک ہجوم نے لاء کالج کو یہ کہتے ہوئے روند ڈالا کہ امتحانی نتائج مسلمانوں کے حق میں موڑ دیے گئے ہیں۔ چند ہفتوں بعد پجاری مشرکین نے دارالحکومت کے زبح خانوں پر بظاہر پولیس معاونت سے یہ الزام لگاتے ہوئے حملہ کر دیا کہ ان میں گائے زبح کی جا رہی ہیں جو دارالحکومت کی حدود میں غیر قانونی کام ہے۔ سری لنکا کے بدھ متوں نے اب ہر چند دنوں بعد ایک "براہ ِراست کاروائی" کرنی شروع کر دی ہے۔پس بدھ مت ،جو کہ ملک کی آبادی کا 70 فیصد ہیں، کی جانب سےمسلمان مخالف سرگرمیوں کی لہر بڑھ رہی ہے۔جبکہ دوسرا بڑا گروہ مسلمانوں کا ہے جو10فیصد ہےجو ان مسلمان تاجروں کی آل اولاد ہیں جو ساتویں صدی میں آئے۔ بے شک ہر قسم کے مشرکین ایسے ہی ہیں جیسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ انہیں بیان کرتا ہے۔
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا " "
(سورہ المائدہ 5 :82)
جو بات غم و غصہ میں اضافہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مشرکین گروہوں میں سب سے ممتاز Buddhist Strength Force (Bodu Bala Sena, BBS) کو حکومتی حمائت حاصل ہے۔ جو بات تشویش میں مزید اضافہ کردیتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حملے دارلحکومت اور حکومت کے مضبوط حامی علاقوں میں پولیس کی معاونت سے ہو رہے تھے جبکہ دارالحکومت میں BBS کے نئے ٹریننگ سکول کی افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی ایک زور آور سیکریٹری دفاع اور صدر کا بھائی گوتا بھایا راجا پکسا (Gotabhaya Rajapaksa) تھا۔کیا ہی وہ انصاف تھا جو برصغیرمیں صدیوں پر محیط اسلامی حکومت کے تحت اسلام مہیا کرتا تھاجو عین اس حدیث کے مطابق تھاجو اسلامی ریاست تلے غیر مسلموں کی حفاظت کا مطالبہ کرتی ہے۔ من آذى ذمياً فقد آذاني " جس کسی نے ذمی (اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری) کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔
جس بات سی خون کھولتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں پرحملے ہو رہے ہیں جبکہ مسلم دنیا کی مسلح افواج 60 لاکھ ہے جبکہ سری لنکا کی مسلح افواج محض 3 لاکھ ہے یعنی 20 : 1 کی نسبت۔ اور قریب ترین مسلح افواج پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس 7 لاکھ مسلح فوج ہے۔ تا ہم خلافت میں نہ سمندر اور نہ ہی فاصلے ظالم کو اس کے انجام سے بچا پائیں گے۔ جب ہندوستان کے مسلمانوں پر مشرکین نے حملہ کیا تو خلیج فارس سے محمد بن قاسم کی زیر قیادت خلافت کی افواج حرکت میں آئیں۔ انہوں نے ظلم کا خاتمہ کیا اوراسلامی حکومت کے نور سے اسے تبدیل کر دیا۔لیکن آج یہ حکمران حملوں پر محض مذمت کر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں جبکہ ان کے پاس بدھسٹوں اور دوسروں کو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے روکنے اور ان کی حفاظت کے لئے ضرورت سے زائد ذرائع موجود ہیں!
پس سری لنکا میں مسلمانوں پر ظلم وستم خلافت کے قیام کی اشد ضرورت کے حوالے سے ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے۔ اور یہ مسلح افواج میں موجود مخلصین کے لئے ایک محرک بھی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اورخلافت کے قیام کے لئے نصرۃ مہیا کریں جوایک بار پھر دو میں سے کسی ایک خیر کو حاصل کرنے کے لیے ان کی قیادت کرے گی، ظالموں پر فتح اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں شہادت دلائے گی ۔

 

 


مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک