السبت، 12 محرّم 1448| 2026/06/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اخبار الرایہ کے شمارہ نمبر 605 سے  متفرق مضامین

 

 

(ترجمہ)

صفحہ اول کی  سرخی

 

وہ واحد وجود جو ٹرمپ کو لگام ڈالنے اور اس کے تکبر و رعونت کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ نبوت کے قنشِ قدم پر قائم ہونے والی خلافتِ راشدہ ہے، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اذن سے عنقریب قائم ہو کر رہے گی۔ مسلمانوں کو اب فیصلہ کن انتخاب کرنا ہوگا اور اپنے غاصب حکمرانوں کو ہٹانے میں تیزی دکھانی ہوگی، تاکہ وہ اپنے اوپر ایک ایسے خلیفہ کو مقرر کر سکیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق ان کے معاملات چلائے۔ یہ رہنما جماعت 'حزب التحریر' ہی ہے جو اپنے لوگوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور جو خلافت کے جھنڈے (لوا) کی حقیقی علمبردار ہے۔ لہٰذا، اس کے ساتھ جدوجہد کرنے اور اس کی نصرت کے لیے پیش قدمی کرنے میں جلدی کریں۔

===

 

صفحہ اول کے لیے

 

اردگان کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟!

 

 

ترک صدر رجب طیب اردگان نے ترک پارلیمنٹ میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہم 'ارضِ موعود' (وعدہ کی گئی زمین) کے واہموں کے حتمی مقصد سے بخوبی واقف ہیں، اور اللہ نے چاہا تو ہم اسے کبھی شرمندہٴ تعبیر نہیں ہونے دیں گے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکی کی سلامتی صرف جنوبی صوبے ہتاے (Hatay) سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس کا آغاز حلب، دمشق اور بیروت سے ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "اگر اسرائیل کی غنڈہ گردی کو نہ روکا گیا تو اس کی قیمت صرف یہ خطہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت ادا کرے گی"۔ اردگان نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ یہودی وجود کے خلاف واضح موقف اختیار کریں؛ ان کا کہنا تھا کہ "اسرائیل کو قانون کی حکمرانی کا پابند بنانا اب صرف چند ممالک کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے"۔

 

اردگان کے ان بیانات کے تناظر میں حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: اردگان ایک ہی تقریر میں یہودی وجود کو ایک 'حقیر وجود' قرار دیتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اسے روکنے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی طاقتوں اور پوری انسانیت کی ضرورت ہے! جبکہ وہ خطے میں یہودی وجود کی خطرناک کارروائیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور اس کے توسیع پسندانہ تلمودی عزائم سے بھی مکمل آگاہ ہیں، لیکن وہ عملی اقدام کے بجائے محض تماشائی بنے رہنے اور مذمت کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں! حلب، دمشق اور بیروت کی سلامتی کو انقرہ کی اپنی سلامتی قرار دینے کے باوجود وہ ان شہروں پر یہودیوں کے وحشیانہ حملوں پر مسلسل خاموش رہے ہیں!۔

 

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا: یہ ہمیں ایرانی حکمرانوں کے ان بیانات کی یاد دلاتے ہیں جو سالہا سال تک یہودی وجود کو نقشے سے مٹانے اور ایران پر حملے کی صورت میں اسے آٹھ منٹ میں نیست و نابود کرنے کے دعوے کرتے رہے۔ وہ اس وقت تک محض انتظار کرنے، دیکھنے اور دھمکیاں دینے میں مصروف رہے جب تک یہودی وجود نے ایران پر براہِ راست وار کرنے، قتل و غارت گری اور تباہی مچانے کی جرات نہ کر لی۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا: کیا اردگان اپنے ملک کے لیے بھی اسی انجام کے منتظر ہیں جو ایران کا ہوا، کیا وہ تب اس کے دفاع کے لیے اٹھیں گے؟ کیا وہ یہودیوں کی سازشوں اور ایران کے بعد ترکی اور مصر پر یلغار کرنے کی مسلسل دھمکیاں نہیں دیکھ رہے؟ یا وہ خود کو ان لوگوں سے زیادہ عقل مند اور ہوشیار سمجھتے ہیں جنہوں نے کافر استعمار پر بھروسہ کر کے اپنی امت اور ملک سے غداری کی اور پھر اس کا عبرت ناک انجام بھگتا؟۔

 

بیان میں مزید اس بات پر زور دیا گیا کہ: یہودی وجود ایک کینسر کی مانند ہے جو صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، وہ کسی وعدے یا عہد کا پاسدار نہیں، اور میسوپوٹیمیا (عراق) میں اس کے عزائم اور مشرقِ وسطیٰ کے نئے نقشے کی باتیں بالکل واضح اور اعلانیہ ہیں، لہٰذا میدانِ جنگ کے بغیر خالی خولی دھمکیوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ: امتِ مسلمہ کے مسائل کو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں قوم پرستی یا وطن پرستی کے تنگ نظریوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مسلم امت ایک واحد امت ہے؛ اس کی جنگ ایک ہے اور اس کی صلح ایک ہے۔ جو کچھ غزہ یا القدس پر بیتا ہے، وہی دمشق، انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد کا مسئلہ ہے۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ ترکی، مصر، شام اور تمام مسلم ممالک کی افواج کو کسی بھی مسلم سرزمین کی نصرت کے لیے متحرک ہونا چاہیے، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔ کسی بھی حکمران کے لیے یہ انتظار کرنا کہ یہودی اس کے دروازے پر دستک دیں اور اس کا تخت الٹ دیں، سراسر حماقت ہے۔

 

پریس بیان کے اختتام پر کہا گیا: اردگان! یہ کھوکھلی بیان بازی اور تقریریں اب بند کرو! اگر تم مخلص ہو تو اپنی فوج کو یہودی وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور امت کو اس کے شر سے نجات دلانے کے لیے حرکت میں لاؤ۔ بصورتِ دیگر، یہ میدان ان مخلص قائدین اور رہنماؤں کے لیے چھوڑ دو جو حق کی آواز بلند کریں اور نبوت کے نقشِ قدم  پر خلافتِ راشدہ کا اعلان کریں، تاکہ مسلمانوں کے خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خلافت کو دوبارہ عزت، غلبے اور آزادی کے مینار کے طور پر بحال کیا جا سکے۔

===

 

مرکزی سرخی کے تحت

 

اے مسلم افواج: دنیا اور آخرت کی عزت کی طرف نکل کھڑے ہو

 

 

اے مسلم افواج کے سپاہیو اور افسرو! تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم اپنے لوگوں کے دکھوں سے اتنے بے نیاز کیوں ہو؟ تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ "اللہ کی راہ میں نکلو" تو تم زمین سے چمٹ کر رہ جاتے ہو؟! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تمہیں ارضِ مقدس فلسطین کی آزادی کے لیے پکارا جاتا ہے تو تم کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہو اور پیٹھ پھیر لیتے ہو؟! تم کب تک ہمارے شہداء کے لہو کو محض گنتی کے اعداد و شمار سمجھتے رہو گے اور اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ کو محسوس کرو گے؟!۔

 

اللہ کی قسم! تم سے ضرور بازپرس ہوگی، اور خون کا ہر قطرہ تمہارے خلاف اس ہولناک دن گواہی دے گا جب دل دہل جائیں گے اور آنکھیں دہشت سے پتھرا جائیں گی۔ اس دن کوئی حکمران یا افسر تمہارے کام نہیں آ سکے گا۔ بلکہ تم موت کا ذائقہ چکھ چکے ہو گے اور فرشتے تمہارا استقبال ان الفاظ میں کریں گے:

 

﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ﴾

 

"اور تم ہمارے پاس تن تنہا آ گئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں (دنیا میں) عطا کیا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھ رہے جن کے بارے میں تمہارا دعویٰ تھا کہ وہ تمہارے معاملے میں (اللہ کے) شریک ہیں۔ تمہارے آپس کے تمام تعلقات منقطع ہو گئے اور تمہارے تمام دعوے تم سے گم ہو گئے۔" (سورۃ الانعام: 94)

 

پس دنیا اور آخرت کی سر بلندی کے لیے نکل کھڑے ہو، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ان ارشادات کو یاد کرو:

 

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ * إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَاباً أَلِيماً وَيَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئاً وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

 

"اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم بوجھل ہو کر زمین سے لگ جاتے ہو؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ حالانکہ دنیا کی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ اگر تم (جہاد کے لیے) نہ نکلو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کر دے گا اور تم اللہ کو ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔" (سورۃ التوبہ: 38-39)

===

یہ جھوٹ کہ یہودی وجود امریکی پالیسی کو کنٹرول کرتا ہے

 

 

سی این این (CNN) نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر یہودی وجود کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ تبصرہ نقل کیا ہے: "صدر ٹرمپ اور میں ہمیشہ متفق نہیں ہوتے۔ وہ  امریکہ کے صدر ہیں اور میں اسرائیل کا وزیر اعظم ہوں۔ میں اسرائیل کے حفاظتی مفادات کا ذمہ دار ہوں، اور یہ کام دانشمندی سے انجام دینا ہوگا"۔

 

اخبار الرایہ: مسلمانوں میں یہ غلط تاثر عام کیا گیا ہے کہ یہودی وجود امریکی پالیسی کو کنٹرول اور اس کی سمت متعین کرتا ہے۔ امریکہ اور مسلم ممالک کے حکمران اس جھوٹ کو فروغ دینے میں پیش پیش رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہودی وجود ایک ناقابلِ شکست طاقت ہے۔

 

تاہم، اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے والے شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ہی اس کے لیے کافی ہیں، جیسا کہ ان کا یہ کہنا: "میرے بغیر اسرائیل کا کوئی وجود نہ ہوتا، کیونکہ کوئی دوسرا صدر وہ کرنے کو تیار نہیں تھا جو میں نے کیا۔ اگر میں مداخلت نہ کرتا تو اسرائیل بہت پہلے ہی تباہ ہو چکا ہوتا،" اور یہ کہ نیتن یاہو کو اب لبنان کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان بھی اہم ہے: "بی بی (نیتن یاہو) کے ساتھ میرے بہترین تعلقات رہے ہیں، لیکن اب بی بی کو لبنان کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار ہونا پڑے گا... آپ کو کسی ایک شخص کی تلاش میں ہر بار پوری رہائشی عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ان اپارٹمنٹس میں بہت سے لوگ رہتے ہیں اور میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ سب حزب اللہ نہیں ہیں"۔ ایسے بیانات واضح کرتے ہیں کہ امریکی فیصلے یہودی وجود کی مرضی کے محتاج نہیں بلکہ اصل قوتِ فیصلہ امریکہ کے پاس ہی ہے۔

 

یہیں سے سانپ کے سر اور اس کی دم کے درمیان فرق کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ دم پر وار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر سر کو جوں کا توں چھوڑ دیا جائے۔ اسلامی امت نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی یہودی وجود وہ ناقابلِ تسخیر قوتیں ہیں جیسا کہ انہیں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ افغانستان، عراق، طوفان الاقصیٰ اور ایران اس حقیقت کے زندہ گواہ ہیں۔ لہٰذا، اس امت کی افواج کو اپنے قدم تیز کرنے چاہئیں اور اس تاریخی موقع کو غنیمت جانتے ہوئے حزب التحریر کے ساتھ مل کر پوری سنجیدگی سے نبوت کے نقشِ قدم  پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کی جدوجہد کرنی چاہیے۔

===

خلافت ہی وہ ریاست ہے جو حقیقی معنوں میں امت کی نمائندگی کرتی ہے

 

 

خلافت وہ واحد ریاست ہے جو صحیح معنوں میں امت کی ترجمان ہے کیونکہ یہ امت کے عقیدے پر قائم ہوتی ہے اور اسی کی علمبردار ہے۔ خلیفہ امت کی اکثریت کی 'بیعت' کے ذریعے زمامِ اقتدار سنبھالتا ہے۔ جمہوری نظام کے برعکس، نہ تو مجلسِ امت اور نہ ہی مجلسِ ولایہ  کے پاس قانون سازی کا اختیار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بااثر اشرافیہ قانون سازی کے لبادے میں بدعنوانی کو قانونی تحفظ نہیں دے سکتی۔ اس سے ان لوگوں کی قانون ساز اداروں پر ہر قیمت پر قبضے کی ہوس کم ہو جاتی ہے اور انتخابات میں لٹائے گئے اربوں روپے واپس وصول کرنے کا مقصد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، حقیقی نمائندگی کو تقویت ملتی ہے اور ایسے مخلص لوگوں کے ابھرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جو عوام کے معاملات کی بے لوث فکر کرتے ہوں۔

 

خلیفہ اسلامی شریعت کو نافذ کرتا ہے اور اس کے نفاذ اور عوامی معاملات کے حل میں لوگوں سے مشاورت کرتا ہے۔ اسلام پولیس اسٹیٹ (جابرانہ نظام) کے طرزِ حکمرانی سے سختی سے منع کرتا ہے۔ اس طرح، خلافت ایک ایسی ریاست ہے جو امت کے معاملات کی نگہبان اور ذمہ دار (رعایتہ) ہے۔ اسلام میں سیاست کا اصل مفہوم ہی شرعی احکام کے مطابق عوام کے معاملات کی نگہبانی کرنا ہے۔ لہٰذا، امت کے تمام دکھوں کا حقیقی حل صرف اور صرف خلافت کے قیام میں ہے، اور یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کے لیے جدوجہد ہونی چاہیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

 

"تمہارے رب کی قسم! یہ تب تک سچے مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں (اے نبی ﷺ) اپنا منصف تسلیم نہ کر لیں، پھر تمہارے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری شرحِ صدر کے ساتھ تسلیم کر لیں۔" (سورۃ النساء: 65)

===

اے مسلمانو! کیا تم دوسرے تمام لوگوں سے ممتاز ایک ہی امت نہیں ہو؟

 

 

اے مسلمانو، تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تم باقی دنیا سے الگ ایک واحد امت نہیں ہو؟ کیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نہیں فرمایا:

 

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾

 

"بے شک مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔" (سورۃ الحجرات: 10

 

 

کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

 

﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾

 

"اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد طلب کریں، تو تم پر ان کی مدد کرنا فرض ہے۔" (سورۃ الانفال: 72

 

کیا اس نے یہ نہیں فرمایا:

 

 

﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ﴾

 

"پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے، تو تم بھی اس پر ویسی ہی جوابی کارروائی کرو جیسی اس نے تم پر کی ہے۔" (سورۃ البقرہ: 194

 

 

اور کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا: «الْمُسْلِمُونَ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاسِ، سِلْمُهُمْ وَاحِدَةٌ وَحَرْبُهُمْ وَاحِدَةٌ» "مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہی امت ہیں؛ ان کی صلح ایک ہے اور ان کی جنگ ایک ہے"۔

 

ہم نے بارہا آپ کو پکارا ہے۔ ہم آپ سے مخاطب ہوتے رہیں گے اور کبھی نہیں تھکیں گے، تاکہ آپ ان رستے ہوئے زخموں کی جڑ کو پہچان سکیں جو ان غافل حکمرانوں نے لگائے ہیں جو استعماری کافروں کے ساتھ ساز باز میں شریک ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری سرزمینوں کی تقسیم کو برقرار رکھا، استعماری طاقتوں کو اِن پر تسلط جمانے کا موقع فراہم کیا، اور ارضِ مقدس فلسطین میں یہودی وجود کے قیام پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ وہ فلسطین اور لبنان میں مسلمانوں کے خلاف یہودی بربریت پر خاموش رہے۔ انہوں نے امریکہ کے لیے اپنے فوجی اڈے، سمندر اور فضائی حدود کے دروازے کھول دیے، جس سے اس کے مغرور صدر اور منحوس یہودی وجود کے وزیر اعظم کو اپنی طاقت پر ناز کرنے اور ہماری سرزمینوں میں من مانی کرنے کا موقع ملا۔

 

ہم مسلمانوں اور ان میں موجود اہل ہِ قوت و نصرۃ  کو پکار رہے ہیں۔ ہم ان سے اس وقت تک مخاطب رہیں گے جب تک ہماری سرزمینوں کے معاملات درست نہ ہو جائیں۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ان بے وقعت 'رویبضہ' حکمرانوں کا تختہ الٹ دیا جائے جو تم پر حملہ کرنے والوں سے امن کی پینگیں بڑھاتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کی سرزمینوں اور افواج کو متحد کیا جائے اور اللہ کے نازل کردہ مکمل نظام کے مطابق حکمرانی قائم کی جائے، جو کہ ایک خلیفہ راشد کی بیعت کے بغیر ممکن نہیں۔ پس، نبوت کے نقشِ قدم  پر دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے اور اس کی نصرت کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ یہ تمہارے رب کا وعدہ ہے، اس کے رسول ﷺ کی نوید ہے، اور اسی میں تمہاری فتح، دنیا کی عزت اور آخرت کی کامرانی ہے، کیونکہ اللہ کی رضا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

===

مسلمانوں کی عزت، طاقت اور حقیقی سلامتی ان کے دین کے شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے میں ہے

 

 

اسلامی شریعت کے اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ سیاسی، اقتصادی اور فوجی وسائل کی بنیاد اسلام پر ہونی چاہیے، اور ان وسائل کو مقاصدِ شریعت کے حصول کے لیے وقف کیا جانا چاہیے۔ اسی لحاظ سے، فوجی قوت کا استعمال صرف اسلامی ریاست کے تحفظ، دینِ اسلام کی عالمی اشاعت اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے ہی جائز ہے، نہ کہ محدود قومی مفادات کے تحفظ کے لیے۔

 

اسلام مسلمانوں کو یہ درس دیتا ہے کہ وہ اپنی عزت، قوت اور حقیقی سلامتی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پاسداری، امتِ مسلمہ کی فکری، سیاسی اور جغرافیائی وحدت، سیاسی ارادے کی خود مختاری اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے میں تلاش کریں۔ مسلم امت یہ مقام اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتی، اور نہ ہی اپنے تمام تر فکری، سیاسی، فوجی اور معاشی وسائل کے ساتھ ساتھ اپنے ماہر انسانی سرمائے کو بہترین طریقے سے بروئے کار لا سکتی ہے، جب تک کہ وہ دوسری خلافتِ راشدہ کے پرچم تلے سیاسی اور جغرافیائی طور پر متحد نہ ہو جائے۔ اس اتحاد کے بغیر امت کی بے پناہ صلاحیتیں بکھری ہوئی اور بے اثر رہیں گی۔ اس بکھراؤ کی وجہ سے، وافر وسائل، اعلیٰ صلاحیتوں اور تزویراتی اہمیت رکھنے کے باوجود مسلمان دوسروں کے دستِ نگر بنے ہوئے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا﴾

 

"اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر (غلبہ پانے کا) کوئی راستہ نہیں دے گا۔"( سورۃ النساء: 141

===

 

اسلامی معاشی نظام دوسروں پر انحصار سے پاک ہے اور پوری دنیا سے کٹا ہوا نہیں ہے

 

 

وہ ریاستیں جو اپنے منصوبوں کی مالی اعانت کے لیے سود (ربا) پر انحصار کرتی ہیں، وہ ایسی ناکام ریاستیں ہیں جو ایک لامتناہی شیطانی چکر میں جکڑی ہوئی ہیں۔ وہ پرانے قرضوں کو اتارنے کے لیے نئے قرض لیتی ہیں، سود کی ادائیگی کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادتی ہیں، اور قرض دہندگان کو مطمئن کرنے کے لیے عوامی سہولیات کا گلا گھونٹتی ہیں۔ اس طرح معیشت لوگوں کی فلاح کے بجائے انہیں مفلس بنانے کا آلہ بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس، اسلام میں ریاست اپنے اخراجات کا انتظام حقیقی ذرائع سے کرتی ہے، شرعی احکام کے مطابق دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتی ہے، اجارہ داریوں کا خاتمہ کرتی ہے اور بازاروں کو بے لگام چھوڑے بغیر ان کی تنظیم کرتی ہے۔

 

اسلام کا معاشی نظام دنیا سے کٹ کر رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسروں کی غلامی سے نجات کا نام ہے۔ اسلامی ریاست تجارت کرتی ہے، عالمی معاہدے کرتی ہے، درآمدات و برآمدات میں حصہ لیتی ہے، لیکن وہ مالیاتی محکومی کا شکار نہیں ہوتی جو اسے اپنی پالیسیاں بدلنے پر مجبور کر دے۔ معاشی فیصلے اسلامی عقیدے سے پھوٹتے ہیں اور امت کے ان مفادات کی نگہبانی کرتے ہیں جنہیں شریعت نے متعین کیا ہے، نہ کہ وہ بین الاقوامی اداروں کی ڈکٹیشن کے پابند ہوتے ہیں۔

===

معاشرے کا اتحاد عملی پالیسیوں کے ذریعے محفوظ رہتا ہے، عارضی جذبات سے نہیں

 

 

جب مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات (بھائی چارے) کا تذکرہ ہوتا ہے، تو ذہن میں ایک اعلیٰ اخلاقی تصویر ابھرتی ہے: ایک بھائی کا اپنے بھائی کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دینا، اپنا رزق بانٹنا اور اسے اپنے اوپر ترجیح دینا۔ تاہم، اس بھائی چارے کو صرف جذباتی پیرائے میں دیکھنا اس کی حقیقی گہرائی کو کم کر دیتا ہے۔ یہ محض انفرادی نیکی نہیں تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے بطور سربراہِ ریاست اٹھایا گیا ایک خود مختار انتظامی اقدام تھا، تاکہ اس معاشی اور سماجی خطرے کا سدِ باب کیا جا سکے جو نو زائیدہ ریاست کے وجود کے لیے چیلنج بن سکتا تھا۔

 

یہاں بھائی چارے کا یہ رشتہ ایک فوری حل کے طور پر نافذ کیا گیا۔ مہاجرین کو نہ تو مارکیٹ کی بے رحم قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا اور نہ ہی اس معاملے کو بکھری ہوئی انفرادی کوششوں کے سپرد کیا گیا۔ بلکہ نبی ﷺ نے ایک منظم فریم ورک کے تحت ہر مہاجر کو ایک انصاری کے ساتھ جوڑ دیا جس سے معاشی ہم آہنگی اور مشترکہ مقصد حاصل ہوا۔ یہ محض اخلاقی فیاضی نہیں تھی بلکہ سماجی وحدت کے تحفظ اور ریاست کے اندر طبقاتی تقسیم کو روکنے کے لیے ایک باشعور ریاستی پالیسی تھی۔ کوئی بھی سیاسی وجود جو اپنی بقا چاہتا ہے، وہ اپنے عوام کی بنیادی ضروریات سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔ جب بھوک رقص کرتی ہے تو نعرے کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ جب دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے، تو یہ ایک خاموش لاوا پیدا کرتی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اسی لیے، اسلام میں معاشی نظام حکمرانی کے ایک مربوط نظام کا حصہ ہے جو عوام کی نگہبانی کو ترجیحِ اول بناتا ہے۔

 

یہ بھائی چارہ یکجہتی کی کوئی وقتی داستان نہیں تھی، بلکہ اس امر کا اعلان تھا کہ اسلامی ریاست میں معیشت عقیدے کے تابع ہے، اور دولت کی منصفانہ تقسیم اور عوامی معاملات کی نگہبانی کوئی سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ معاشرے کی یکجہتی عملی پالیسیوں سے مستحکم ہوتی ہے، عارضی جذباتی لہروں سے نہیں۔ جو اس حقیقت کو سمجھتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ ریاست کی تعمیر نعروں سے نہیں بلکہ شریعت کے نظام کے تحت انسانی ضروریات کی کفالت اور وقار کے تحفظ سے ہوتی ہے۔

===

 

امت اس وقت بیدار ہوتی ہے جب وہ اپنا سیاسی شعور دوبارہ حاصل کر لے

 

آج مسلمانوں کی زبوں حالی صلیبیوں اور تاتاریوں کے عہد سے بھی زیادہ سنگین نظر آتی ہے۔ ایک واحد قوت کے بجائے، ہم درجنوں بکھری ہوئی کمزور ریاستوں میں بٹے ہوئے ہیں جو مغرب کی محتاج اور اس کے گماشتوں کے زیرِ نگیں ہیں، جن کی اپنی الگ پالیسیاں، اتحاد اور سرحدیں ہیں۔ یہ بکھراؤ بیرونی دشمنوں کو ہر خطے سے الگ الگ نمٹنے کا موقع دیتا ہے اور ایک متحد سیاسی ارادے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ تاریخ کا وہی سبق دوبارہ دہرایا جا رہا ہے: سیاسی انتشار اور بکھراؤ امت کے دشمنوں کے لیے غلبے کا چور دروازہ ہے۔

 

ان المناک حادثات کے بعد امت تبھی اٹھی جب اس نے اپنا سیاسی شعور دوبارہ بیدار کیا اور ایمان کو عمل کے ساتھ، اور عقیدے کو ریاست کے ساتھ مربوط کیا۔ فتح محض جذباتی تقریروں کا صلہ نہیں تھی، بلکہ اسلام کی بنیاد پر اقتدار کی ازسرِ نو تشکیل اور ایک ہی جھنڈے تلے صف بندی کا ثمر تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے آج سمجھنے کی ضرورت ہے: کہ بیداری کا عمل صرف ردِعمل سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کے ایک واضح منصوبے سے شروع ہوتا ہے جس میں حاکمیت صرف شریعتِ الٰہیہ کی ہو، اختیار امت کے پاس ہو، اور پوری امت کو ایک ہی قیادت کے تحت متحد کیا جائے۔

 

صلیبی جنگیں اور تاتاری یلغار ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ امت بیمار تو ہو سکتی ہے، لیکن وہ مرتی نہیں بشرطیکہ وہ اپنی درست سیاسی بنیادوں کی طرف لوٹ آئے۔ لیکن اگر امت اسی طرح تقسیم رہی اور نظامِ حکومت کو اسلام سے الگ رکھا گیا، تو وہ کمزوری کے انہی اسباب کا شکار رہے گی۔ بغداد کے زوال اور القدس کی آزادی کے درمیانی وقفے میں ایک گہرا سیاسی شعور پوشیدہ ہے۔ صرف اسی شعور کی بدولت امت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے،  حالات کے رحم و کرم پر ایک مظلوم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک آفاقی پیغام کی حامل امت کے طور پر، جس کے پاس پوری دنیا کے لیے ایک عظیم تہذیبی منصوبہ ہے۔

===

 

 

Last modified onجمعہ, 26 جون 2026 23:58

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک