الجمعة، 04 محرّم 1448| 2026/06/19
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اداریہ

 

ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے سے امریکہ کے نقصانات

 

 

تحریر: استاد اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

11 جون 2026 کو، امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا، "مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے یہ سنا ہے یا نہیں، لیکن ہم نے آج ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دی ہے۔ وہ اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کریں گے، یہ وہ چیز تھی جس پر ہم نے اصرار کیا تھا۔ سارا مقصد یہی تھا؛ ہمارے ہدف کا 95 فیصد یہی تھا، اور انہوں نے (امریکی مذاکرات کاروں نے) اسے ممکنہ حد تک بھرپور طریقے سے انجام دیا ہے"۔ ان کے یہ ریمارکس ان کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے کہ امریکی مذاکرات کاروں نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے ایک "عظیم سودا" (گرینڈ بارگین) حاصل کر لیا ہے، اور یہ کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو باضابطہ طور پر فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا، جو کہ بہت جلد، شاید ہفتے کے آغاز میں، یورپ میں ہو سکتا ہے۔ ان کے نائب صدر دستخطوں کی تقریب میں امریکہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

 

دریں اثنا، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے "امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، جبکہ مذاکراتی متن کا ایک بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے"۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' نے تبصرہ کیا، "ٹرمپ نے گزشتہ دو مہینوں میں 38 مرتبہ ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچنے کا اعلان کیا۔ ان کے بیانات کو تہران کی جانب سے کسی سرکاری موقف کے سامنے آنے تک احتیاط کے ساتھ لینا چاہیے"۔

 

یہ بیانات ٹرمپ کی جانب سے ایک بڑے حملے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔ وہ اپنے غیر متوقع رویے کے لیے جانے جاتے ہیں، اور تاریخ میں کسی بھی صدر نے اپنی ذات اور اپنے ملک کے موقف پر اس قدر وقار اور عوامی اعتماد نہیں کھویا جتنا کہ انہوں نے۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ کو بھی انتشار اور ابتری کا شکار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ کوئی مستقل موقف اختیار کرنے کے قابل نہیں رہے۔ کسی بھی ریاست کا سربراہ حالات و واقعات، مذاکرات، اور فوجی و سیاسی اقدامات کے بارے میں اس وقت تک روزانہ، یا گھنٹہ وار بیانات جاری نہیں کرتا جب تک کہ صورتحال اپنی حتمی شکل اختیار نہ کر لے۔

 

12 جون 2026 کو امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایکسیاس' نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس معاہدے کے نکات میں لبنان سمیت 60 دنوں کے لیے جنگ بندی میں توسیع؛ اس دوران جوہری مذاکرات کی بحالی؛ بغیر کسی فیس کے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنا؛ 30 دنوں کے اندر جہاز رانی کی آمد و رفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا؛ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ؛ جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے ایرانی عزم کی ضمانت؛ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں ایران کے اندر یورینیم کی افزودگی کی سطح میں کمی؛ ایران کو عارضی طور پر پابندیوں سے استثنیٰ دینا تاکہ وہ 60 دنوں تک تیل برآمد کر سکے؛ اور تہران کی جانب سے خیر سگالی کے اظہار کی صورت میں بتدریج پابندیوں میں نرمی شامل ہیں۔ واشنگٹن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اشیاء کی خریداری کے لیے ایرانی فنڈز کو اقساط میں رہا کرنے پر بھی اصرار کر رہا ہے۔

 

ان نکات کے ساتھ امریکہ خود کو اپنا ہدف حاصل کرنے والا نہیں سمجھتا، اور جس چیز پر دستخط کیے جائیں گے وہ حتمی معاہدہ نہیں بلکہ محض ایک مفاہمت کی یادداشت ہے۔ ٹرمپ جس بات پر ڈینگیں مار رہے ہیں، یعنی ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا، وہ ان کے لیے کوئی کارنامہ نہیں ہے، کیونکہ ایران اب بھی اپنے بانی خمینی کے اس فتوے پر قائم ہے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے قبضے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، آبنائے ہرمز پہلے ہی کھلی تھی، اور یہ ٹرمپ کی جارحیت ہی تھی جس کی وجہ سے ایران نے اس پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کیا۔ ٹرمپ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے وہاں فتح حاصل کی ہے جہاں وہ حقیقت میں ناکام رہے ہیں، وہ جنگ میں اپنے اصل مقصد سے آنکھیں چرا رہے ہیں جو کہ ایران کو امریکہ کی ایک مطیع ریاست بنانا تھا، لیکن اس کے برعکس امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مکمل کٹاؤ پیدا ہو گیا ہے۔

 

ٹرمپ جنگ کی طرف لوٹنے کے بجائے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے زیادہ بے تاب ہیں، اگرچہ وہ مسلسل جنگ کی دھمکیاں دیتے ہیں اور سخت حملے کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہے تاکہ وہ کسی ڈیل پر راضی ہو جائے، اور ایسا ہی ہوا، جس نے انہیں جھکنے اور مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ یہ امریکہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اس کے بعد مذاکرات شروع ہوں گے، اور دو ماہ کے اندر حتمی معاہدہ متوقع ہے۔ تاہم، یہ عمل طویل ہو سکتا ہے، اور ممکن ہے کہ اس مدت کے اندر معاہدہ طے نہ پا سکے، یا اس میں تبدیلیاں اور ترامیم ہو جائیں، کیونکہ اس میں کھینچا تانی اور سمجھوتوں کا سلسلہ چلے گا۔

 

تاہم، ٹرمپ اپنے پیدا کردہ اس بھنور سے خود کو نکالنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے بنیادی مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ صرف ایران پر توجہ مرکوز نہیں رکھنا چاہتے، کیونکہ اس مسئلے نے امریکہ کو الجھائے رکھا اور انہیں چین جیسے دیگر اہم مسائل پر توجہ دینے سے روکے رکھا۔ وہ ایران کے معاملے میں الجھے ہوئے ہی چین کے دورے پر گئے، جہاں ان کی توجہ ایران پر دباؤ ڈالنے پر مرکوز تھی، لیکن چین نے انہیں مایوس کر دیا۔ وہ چین کے ساتھ دیگر حل طلب مسائل پر توجہ دینے سے قاصر رہے، جن میں سب سے اہم ہتھیاروں کی تیاری کو محدود کرنا ہے، خاص طور پر ایٹمی وار ہیڈز والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل جو امریکہ کے لیے خطرہ ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل، بالخصوص تجارتی توازن، جو کہ بہت زیادہ چین کے حق میں ہے۔ ٹرمپ روس اور یوکرین میں اس کی جنگ کے مسئلے کو بھی حل نہ کر سکے، اور نہ ہی وہ ایسے معاہدوں تک پہنچ سکے جو روس اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات، دونوں کا احاطہ کرتے ہوں۔ مزید برآں، ٹرمپ یورپی مسئلے اور گرین لینڈ پر قبضے کی اپنی کوششوں کے ساتھ ساتھ کینیڈا کو ضم کرنے کی اپنی کوششوں پر بھی توجہ نہ دے سکے۔

 

ایسا لگتا تھا جیسے ٹرمپ ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہاں اپنے مقاصد کو پورا کرنا چاہتے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے انہوں نے پاناما اور وینزویلا میں کیا تھا، تاکہ ان دیگر مسائل پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکیں اور اپنے اہداف کے حصول میں آسانی پیدا کر سکیں۔ انہوں نے یہ توقع نہیں کی تھی کہ ایران مزاحمت کرے گا اور وینزویلا اور پاناما کی طرح ایک مطیع ریاست بننے سے انکار کر دے گا، اس طرح ان ممالک میں روسی اور چینی سرگرمیوں کو نقصان پہنچائے گا۔ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ کرانے میں اپنی کامیابی کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار تھے، اور خود کو دنیا کا وہ واحد شخص سمجھتے تھے جو یہودی وجود پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

ٹرمپ نے غزہ کے لیے ایک 'امن بورڈ' تشکیل دیا جو مصر، ترکی، پاکستان، انڈونیشیا، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر ممالک کے حقیر حکمرانوں پر مشتمل تھا۔ وہ ان تمام باتوں کو ایک بڑی کامیابی سمجھتے تھے، ایک مور کی طرح اکڑ کر چلتے ہوئے انہوں نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملہ کیا، جس کا مقصد چند دنوں میں اپنا ہدف حاصل کرنا تھا۔ تاہم، انہیں ایک سخت رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ایک ایسی ایرانی الجھن پیدا ہوئی جسے وہ شدت سے حل کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ دیگر مسائل کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ انہیں خوف تھا کہ ان کی اپنی پیدا کردہ یہ الجھن ان کی اور ان کے ملک کی کمزوری کا باعث بن جائے گی، جس کے نتیجے میں آئندہ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ان کی پارٹی کو شکست ہو گی اور نتیجتاً دو سال بعد صدارتی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ہار جائے گا۔ ٹرمپ اوباما کے معاہدے سے بہتر معاہدہ حاصل کرنے کے حوالے سے ایک نفسیاتی الجھن (کمپلیکس) کا شکار ہیں، جبکہ یہ واضح ہے کہ ان کا معاہدہ اوباما کے معاہدے سے کم تر ہے۔

 

ٹرمپ کے لیے ایک اور دھچکا ایران کی جانب سے بالمشافہ دستخطوں کے لیے وفد بھیجنے سے انکار کی صورت میں سامنے آیا۔ معاہدے پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط کیے جائیں گے، کیونکہ ایران نہیں چاہتا کہ اس کے وفد کو دستخط کے بعد امریکی وفد سے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا جائے۔ ایران امریکیوں کو دشمن سمجھتا ہے، جنہوں نے اس پر جارحیت کی، اس کے سپریم لیڈر اور دیگر اہم شخصیات کو قتل کیا۔ ایران یہ نہیں دکھانا چاہتا کہ اس نے ان کے ساتھ مفاہمت کر لی ہے اور ان کے ذلت آمیز مطالبات کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

 

ٹرمپ 14 جون 2026 کو معاہدے پر دستخط کرنے کے خواہشمند تھے کیونکہ یہ ان کی 80 ویں سالگرہ کا دن ہے۔ ایران ان کی اس خواہش سے آگاہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اس تاریخ کو دستخط ہونے کی تصدیق نہیں کی، جیسا کہ اس کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بیان دیا۔ ایران انہیں خوش کرنا نہیں چاہتا تاکہ یا تو بدلہ لے سکے یا ان سے مراعات حاصل کر سکے۔

 

ٹرمپ کے خادم، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے 13 جون کو ایکس (ٹویٹر) پلیٹ فارم کے ذریعے تصدیق کی کہ، "ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ اگلے 24 گھنٹوں میں حتمی شکل دیے جانے کے امکان کے ساتھ، پاکستان اس کے فوراً بعد امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخطوں کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے"۔

 

یہ امریکہ کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: جو کوئی بھی اس کے خلاف ثابت قدم رہتا ہے، قطع نظر اس کے کہ امریکہ کون سے ہتھیار استعمال کرتا ہے اور کتنا نقصان پہنچاتا ہے، وہ امریکہ کو شکست دے سکتا ہے۔ اس بات کو لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ عملی اقدام کریں اور خطے میں امریکی اڈوں کی بندش کا مطالبہ کریں تاکہ امریکہ کی فوجی موجودگی ختم ہو، اور اس کے ذلیل غلاموں کا تختہ الٹ کر اس کے سیاسی اثر و رسوخ کے خاتمے کی راہ ہموار کی جائے، اور خلافتِ راشدہ کے قیام کی راہ ہموار کی جائے جو امریکی صدر کی ناک، اس کے تکبر اور اس کے فیصلوں کو اسی طرح خاک میں ملا دے گی جیسے اس کے پیشرو رومی شہنشاہوں کی ناک کل خلافت نے خاک میں رگڑی تھی۔

Last modified onجمعہ, 19 جون 2026 22:08

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک