بسم الله الرحمن الرحيم
جنوبی یمن میں عوامی احتجاج: عوام پر ظلم و ستم جاری رکھنے والے حکمرانوں کی پالیسیوں کا نتیجہ
تحریر: استاد ابوبکر الجبلی – ولایہ یمن
(ترجمہ)
یمن میں المناک واقعات زندگی کے تمام پہلوؤں میں بدتر ہوتے جا رہے ہیں، لیکن بنیادی خدمات کی عدم دستیابی لوگوں کی روزمرہ کی زندگی اور معاش پر براہ راست اور شدید اثرات مرتب کر رہی ہے۔ بجلی کی طویل بندش کے باعث عدن کے بہت سے رہائشی گرمیوں کی تپتی ہوئی تپش سے بچنے کے لیے فٹ پاتھوں اور کھلی سڑکوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے ان کے گھر ناقابل برداشت حد تک گرم ہو چکے ہیں، اور المعلیٰ، صیرہ اور کرایٹر کے اضلاع میں سڑکوں پر سوتے ہوئے لوگوں کا منظر اب ایک عام سی بات بن گئی ہے، جو کہ عوام کی روزافزوں بڑھتی ہوئی تکلیفوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اس حقیقت کے پیشِ نظر، 10 جون 2026 کی شام کو مظاہرین نے عدن کے معاشیق محل کی طرف جانے والی سڑک کو بند کر دیا، اور بجلی کی مسلسل بندش اور گرتی ہوئی خدمات کے خلاف احتجاج کیا۔ درجنوں افراد نے سڑک بلاک کر کے اور ٹائر جلا کر احتجاج کیا تاکہ شدید گرمی کی لہر کے دوران بجلی کی غیر معمولی لوڈ شیڈنگ پر اپنے غصے کا اظہار کیا جا سکے۔ سرکاری حکومت کے زیرِ کنٹرول دیگر علاقوں میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔
حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقے بھی ابتر حالات کا شکار ہیں کیونکہ وہ ان علاقوں کے حوالے سے اپنی کسی بھی ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ مسلسل جاری 'جارحیت' کا بہانہ بنا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی اتھارٹی ہیں جو خدمات فراہم کرنے کی پابند نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ بجلی کے لیے نجی مالکان کے جنریٹروں پر انحصار کرتے ہیں، جن سے بھاری قیمتیں وصول کی جاتی ہیں اور یہ عوام کی تکالیف کی قیمت پر حکمرانوں کے لیے فنڈز جمع کرنے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔
یمن کے عوام کی تکالیف ہمہ گیر ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان پر کس کا کنٹرول ہے، اور مختلف نعروں اور بینرز کے باوجود ان کی حقوق سے محرومی ایک جیسی ہے۔
پورے یمن میں خدمات کا خاتمہ، وبائی امراض کا پھیلاؤ اور انتہائی غربت، شدید گرمی کے دوران بجلی کے شعبے کی بنیادی ضرورتیں بھی فراہم کرنے میں نااہلی، اور لازمی خدمات کی نجکاری، اب محض انتظامی کوتاہیاں یا عارضی تکنیکی غلطیاں نہیں رہیں۔ یہ اس بنیادی جرم کا ناگزیر نتیجہ ہیں جو عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے سرزد کیا ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کو ایسی اشیاء کے طور پر دیکھتا ہے جو سیاسی سودے بازی اور قوموں کی لوٹ مار کے لیے نجکاری کے تابع ہیں۔
بجلی کسی بھی ملک کی معاشی استحکام کی شہ رگ اور سنگِ بنیاد ہوتی ہے۔ ریاست اور حکومتی اداروں کا یہ بنیادی فرض اور حتمی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی خدمت اور اہم شعبوں کو فعال رکھنے کے لیے اس کو یقینی بنائیں اور برقرار رکھیں۔
یہ المناک منظر ان آفات کے سلسلے میں ایک اور اضافہ ہے جو یمن کے عوام پر زندگی کے ہر پہلو میں نازل ہوئی ہیں۔ بجلی کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اور اس کے نتیجے میں گرمی سے بچنے کے لیے لوگوں کا سڑکوں پر نکل آنا، مدد کی ایک ایسی دہائی ہے جس کا حکام کو بجلی کی فراہمی اور بحالی کے ذریعے فوری جواب دینا چاہیے، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ تاہم، عدن میں حکام نے عوام کو دبانے کے لیے اپنی سیکورٹی فورسز تعینات کر کے جواب دیا!
اندھیرے گھروں کی جھلساتی گرمی سے بھاگ کر سڑکوں پر اُمڈ آنے والے لوگوں کا یہ منظر، اور محض سیکورٹی کے نام پر متحرک حکومت کا شرمناک رویہ، ایک وحشی سرمایہ دارانہ نظریے کی اپنے عوام کی دیکھ بھال کرنے میں نااہلی کو مکمل طور پر بے نقاب کرتا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو ان کے گھروں اور سڑکوں پر سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ کٹھ پتلی حکمران اپنے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں عیش و آرام کر رہے ہیں۔
آج یمن کی یہ تلخ حقیقت، جہاں شدید گرمی کے موسم میں شہروں اور قصبوں کو مکمل اندھیرے میں دھکیل دیا گیا ہے، یمن کے ان حکمرانوں کی بے لگام بدعنوانی کو ظاہر کرتی ہے جو غیر ملکی طاقتوں کے غلام بن چکے ہیں۔ ان حکمرانوں نے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے یمن کے باقی ماندہ بنیادی ڈھانچے اور اہم تنصیبات کو جان بوجھ کر تباہ کر کے اپنے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ یمن کے لاکھوں مسلمان شدید مصائب کا شکار ہیں، اور پانی اور بجلی جیسی بنیادی خدمات اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی ذمہ داری کا کہیں نام و نشان تک نہیں۔ حکمران ان خدمات کو ریاست کی طرف سے شرعی ذمہ داری اور لازمی ضرورت سمجھنے کے بجائے ایسی اشیاء سمجھتے ہیں جو نفع و نقصان اور سیاسی سودے بازی کے تابع ہوں۔
یمن میں عوامی خدمات کی ابتر حالت اور بنیادی ڈھانچے کی دانستہ بدانتظامی محض اتفاقیہ نہیں، بلکہ یہ ایک نہایت مہارت سے تیار کی گئی صورتحال ہے۔ برسرِ پیکار دھڑے اس صورتحال کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جو نام نہاد "سرکاری" حکومت کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، لیکن جنگجو پارٹیاں ان مظاہروں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں، اگر سیکورٹی فورسز کا آہنی ہاتھ اور احتجاج پر سخت پابندی نہ ہوتی، تو چوک اور میدان مظاہرین سے بھرے ہوتے جو ان واضح ناگفتہ بہ حالات پر اپنے غصے کا اظہار کرتے۔
جنوبی یمن میں ریاض اور ابوظہبی کے گھناؤنے اقدامات، جو ایک دوسرے کے خلاف بحرانوں کو ہوا دے رہے ہیں، واشنگٹن اور لندن میں موجود اپنے آقاؤں کی خدمت کا محض ایک باب ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ علاقائی مہرے عارضی حل کے ساتھ مداخلت کرتے ہیں اور کٹھ پتلی حکمرانوں کی وفاداریاں خریدتے ہیں، جبکہ بجلی کے بحران کو اپنے استعماری منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک ہتھیار اور مذموم حربے کے طور پر برقرار رکھتے ہیں۔ وہ اسے ایک سیاسی مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ عوام کو اپنی مرضی کے مطابق ہانک سکیں۔
ایک طرف جہاں امریکہ ملک کے شمال میں حکمرانوں کو بااختیار بنانے اور وہاں ان کے مخالفین پر گھیرا تنگ کرنے کے لیے اپنے مہروں کو آگے بڑھا رہا ہے، وہیں دوسری طرف وہ عدن میں مالیاتی اور اقتصادی فیصلے کرنے کے اختیارات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ وہ عدن، حضرموت، مآرب اور مغربی ساحل میں برطانوی ایجنٹوں کو کچلنے کے قابل ہو سکے۔ امریکی استعماری رسوخ کا یہ دخول امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے پروگراموں کی شمولیت، اور عدن کے مرکزی بینک کی راہداریوں میں امریکی محکمہ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے احکامات کو منوانے سے بالکل واضح ہے! امریکی تکبر یہیں نہیں رکا، بلکہ اس نے برطانیہ کے 'فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس' کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور اسے بے دخل کرنے کی کوشش کی، جس کے لیے اس نے برطانویوں کے تاریخی علاقائی ایجنٹ ابوظہبی کے کردار کو کم کر دیا اور اس کی جگہ ریاض کی حکومت کو دے دی جو کہ امریکی منصوبوں کی سرگرم خادم ہے، اور جو مقامی اور غیر ملکی فوجی دستوں کو استعمال کر کے ملک کے تیل والے علاقوں اور اہم اسٹریٹجک بندرگاہوں پر گرفت مضبوط کر رہی ہے۔
ان لچکدار علاقائی مہروں اور ان کے ماتحت مقامی سیاسی محاذوں نے کب یمن اور اس کے عوام کے لیے کوئی بھلائی پیدا کی ہے؟ یمن پر قبضے کے لیے یہ امریکی-برطانوی استعماری کشمکش، جو اب اپنی چھٹی دہائی میں داخل ہو چکی ہے، ملک کے اہم مفادات کی قیمت پر لڑی جا رہی ہے، جس نے یمن کے وسائل کو نچوڑ لیا ہے اور اس کی دولت کو اس طرح ضائع کیا ہے کہ اب یمن کے پاس عملاً نہ کوئی معیشت ہے، نہ امید افزا تعلیم، نہ صحت کی دیکھ بھال، اور نہ ہی کوئی امن و امان!
یمن کا تیل، گیس اور قدرتی وسائل اسلامی شریعت کے مطابق بنیادی طور پر عوامی ملکیت ہیں۔ ان کا مقصد اصل میں امت کی ضروریات کو پورا کرنا اور توانائی کی تنصیبات کو فعال کرنا تھا تاکہ شہریوں کو ایک باوقار زندگی فراہم کی جا سکے۔ تاہم، ان غلام صفت حکمرانوں نے استعمار کے ساتھ اپنی اندھی وفاداری کے باعث مقامی پیداوار کو منجمد کرنے، خدماتی سہولیات کو معطل کرنے اور ملک کو قرضوں اور محتاجی کی دلدل میں دھکیلنے کا انتخاب کیا۔ ان کی شرمناک غلامی کے دو چہرے ہیں: ایک کا رخ لندن کی طرف ہے اور دوسرے کا واشنگٹن کی طرف، اور انہیں ملک کے ان شہریوں کی تکالیف کی کوئی پرواہ نہیں جو موسم گرما کی تپتی ہوئی تپش اور رات کے اندھیرے برداشت کر رہے ہیں۔
اے یمن کے لوگو! آپ کی تکالیف کا سبب معلوم ہے: سرمایہ دارانہ نظام اور وہ لوگ جو اسے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ، انہیں ہٹانا ضروری ہے اور ایک ایسی ریاست قائم کرنا لازم ہے جو آپ کے معاملات کو اسلام کے مطابق چلائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت (ماتحتوں) کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" [مسلم]
آپ کی تمام تکالیف کا حل نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ کے تحت اسلام کے سچے حکمرانی کے نظام کی طرف واپسی میں ہے، جسے قائم کرنے کے لیے حزب التحریر کام کر رہی ہے، تاکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل ہو سکے جس نے فرمایا:
﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً﴾
"تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہیں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلافت (اقتدار) عطا فرمائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو مستحکم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے امن سے بدل دے گا۔" [سورۃ النور: 55]




