بسم الله الرحمن الرحيم
تائیوان: چینی اشتعال انگیزی اور امریکی الجھن کے درمیان
تحریر: استاد نبیل عبد الکریم
(ترجمہ)
ایک ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک پھیلی ہوئی جنگوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے، چین خاموشی اور تدبر کے ساتھ اکیسویں صدی کے سب سے خطرناک جغرافیائی و سیاسی مرکز یعنی تائیوان کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بحرِ تائیوان میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اب محض عارضی مشقیں یا سفارتی دباؤ کا حربہ نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک گہری سٹریٹیجک تبدیلی کا اشارہ بن چکی ہے۔ بیجنگ ایک ایسی نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایک عالمی طاقت کے طور پر اس کے عروج کو مستحکم کرے، جو ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
دوسری جانب، واشنگٹن کو ایک پیچیدہ مخمصے کا سامنا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ تائیوان کو کھونے کا مطلب مشرقی ایشیا میں اس کے سٹریٹیجک اثر و رسوخ کا زوال ہوگا، لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ چین کے ساتھ کسی بھی براہِ راست تصادم سے ایک ایسی عالمی جنگ کا دروازہ کھل سکتا ہے جس کے معیشت اور عالمی نظام دونوں کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
چنانچہ، بڑی طاقتوں کے درمیان غیر اعلانیہ مفاہمتوں کی نوعیت کے بارے میں سوالات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کے دور کے دوران، اور یہ کہ آیا تائیوان واقعی واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑے سودوں میں ایک ضمنی سودے بازی کا مہرہ بن چکا ہے، یا یہ چین کو علاقائی اور بین الاقوامی مسائل میں الجھانے اور غرق کرنے کے لیے ٹرمپ کی کوئی چال ہے۔
دنیا کسی حتمی اور فیصلہ کن لمحے سے ابھی بہت دور ہے، یہاں تک کہ عارضی طور پر بھی، کیونکہ ہم اپنے عہد کے خطرناک ترین بحرانوں میں سے ایک کا تجربہ کر رہے ہیں۔
جب بھی چین تائیوان کے گرد مشقیں کرتا ہے، تناؤ بڑھ جاتا ہے اور ہم طاقت کا ایک عارضی مظاہرہ دیکھتے ہیں۔ تاہم، آج ہم ایشیائی نظام کی شکل میں ایک تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ چین اب اس جزیرے کو ایک مؤخر شدہ مسئلے کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے اپنے قومی منصوبے کے مرکزی مسئلے کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس کے حل کا وقت قریب آ رہا ہے۔ دریں اثنا، امریکہ تائیوان کے تحفظ کے اپنے عزم میں پہلے سے کہیں زیادہ غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔
اول: تائیوان کے حوالے سے حالیہ چینی اشتعال انگیزی کن اشاروں کی حامل ہے؟
حالیہ مہینوں میں چین نے جزیرے کے گرد اپنی بحری اور فضائی مشقوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس میں تائیوان کی فضائی حدود کے قریب کام کرنے والے جہازوں اور طیاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تائپے نے اعلان کیا کہ تائیوان کے قریب بحیرہ اصفر اور بحیرہ جنوبی چین میں چین کے 100 سے زیادہ جنگی جہاز یا کوسٹ گارڈ کے بحری جہاز تعینات ہیں۔ (الجزیرہ، 23 مئی 2026)۔
تائیوان کے چھوٹے جزائر کے گرد مسلسل بحری دباؤ کی کارروائیوں کے علاوہ، چین کا مقصد محض فوجی دھمکی سے بڑھ کر نظر آتا ہے؛ اسے تین سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ بتدریج ناکہ بندی کا نفاذ: یعنی تائیوان کے گرد چینی فوجی موجودگی کو معمول بنانا، تاکہ جزیرہ نفسیاتی اور فوجی طور پر محاصرے میں آ جائے۔
2۔ تائیوان کے عزم کو کمزور کرنا: چین سمجھتا ہے کہ جنگیں ہمیشہ حملے کے ذریعے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ بعض اوقات تائیوان کی اپنی صلاحیت اور اس کے اتحادیوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر جیتی جاتی ہے۔
3۔ امریکہ کے اصل موقف کا امتحان: چین یہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر بحران انتہائی نازک موڑ پر پہنچ گیا تو امریکہ تائیوان کے دفاع کے لیے اصل میں کس حد تک جائے گا۔
اس لیے بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین ایک مہنگے براہِ راست حملے کے بجائے آہستہ آہستہ گلا گھونٹنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ وہ ہر ایک کے ارادوں کو بے نقاب کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔
دوسرا: اس اشتعال انگیزی کے بعد امریکی فضا کیسی ہے؟
امریکہ کے اندر، تائیوان کے معاملے پر واضح الجھن پائی جاتی ہے۔ امریکہ اب بھی باضابطہ طور پر موجودہ صورتحال (سٹیٹس کو) میں کسی بھی زبردستی تبدیلی کو مسترد کرنے کا اعلان کر رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ اس معاملے پر چین کو کوئی رعایت دے رہا ہے، یا وہ چین کو تائیوان کے تنازعے میں الجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دوران تائیوان کے لیے تشویشناک علامات سامنے آئی ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
· مشرقِ وسطیٰ سے متعلق دیگر فوجی ترجیحات کی وجہ سے تائیوان کے ساتھ امریکہ کے ہتھیاروں کے کچھ سودوں کے منجمد ہونے یا ان میں سستی آنے کی اطلاعات ہیں۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ اپنی جنگ کے لیے گولہ بارود کو محفوظ رکھنے کی خاطر تائیوان کو 14 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت روک دی جائے گی۔ (الجزیرہ، 22 مئی 2026)۔
· خود ٹرمپ نے تائیوان کے حوالے سے کاروباری رنگ کی زبان استعمال کی، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہتھیاروں کے سودے چین کے ساتھ سودے بازی کا ایک مہرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ (رائٹرز، 19 مئی 2026)۔
· موجودہ امریکی انتظامیہ چین کے ساتھ جنگ چھیڑنے کے بجائے اسے روکنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی معلوم ہوتی ہے، اور ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیا چھپا رہے ہیں؛ کیونکہ عیاری ان کی فطرت کا حصہ ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکیوں نے تائیوان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ فی الوقت امریکہ کی ترجیح اس تنازعے کو اس طرح سنبھالنا بن گئی ہے کہ بیجنگ کے ساتھ کسی بڑے تصادم کی نوبت نہ آئے۔
تیسرا: کیا تائیوان کے حوالے سے ٹرمپ اور چین کے درمیان کوئی ڈھکا چھپا معاہدہ تھا؟
آج تک کسی ایسے خفیہ معاہدے کا کوئی سرکاری ثبوت نہیں ملا جو چین کو تائیوان کے الحاق کی اجازت دیتا ہو، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس جزیرے کا مسئلہ اب دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر سودے بازی کا حصہ بن چکا ہے۔
چینی صدر کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقاتوں کے دوران، تائیوان کا مسئلہ بھرپور طریقے سے اٹھایا گیا اور چینی جانب سے شدید دباؤ ڈالا گیا، جس کا واحد نتیجہ جو سامنے آیا وہ تائپے کے لیے امریکی فوجی امداد کی معطلی تھی۔ (الجزیرہ، 23 مئی 2026)۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ خارجہ پالیسی کو روایتی نظریاتی اتحادوں کے بجائے تجارتی لین دین کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ صورتحال قدرتی طور پر تائیوانیوں کے لیے پریشان کن ہے، کیونکہ انہیں احساس ہو رہا ہے کہ ان کا مستقبل چین اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاشی، حفاظتی اور فوجی معاہدوں میں سودے بازی کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔
تاہم، کچھ ایسی گہری رکاوٹیں موجود ہیں جو امریکہ کو تائیوان کو مکمل طور پر تنہا چھوڑنے سے روکتی ہیں۔ ان میں چین کی روک تھام (کنٹینمنٹ) کے حوالے سے اس جزیرے کی سٹریٹیجک اہمیت، عالمی سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں اس کا کلیدی کردار، امریکی کانگریس کے اندر تائیوان کی حمایت میں پایا جانے والا دباؤ، اور واشنگٹن کا یہ خوف شامل ہے کہ تائیوان کے زوال سے اس کے ایشیائی اتحادیوں، جیسے جنوبی کوریا اور جاپان کا اعتماد متزلزل ہو جائے گا۔
اس بنا پر، امریکہ ایک ایسے طویل اور پیچیدہ عبوری مرحلے کو مینیج کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جو جنگ کو روکے رکھے، فیصلہ کن نتیجے کو التواء میں ڈالے اور تائیوان کی چین میں واپسی کو ایک طویل عرصے کے بعد ایک قدرتی عمل کے طور پر ممکن بنا دے۔
چوتھا: کیا تائیوان کی چین میں واپسی اب محض وقت کی بات ہے؟
چین تائیوان کے دوبارہ اتحاد کو محض ایک سیاسی انتخاب نہیں سمجھتا، بلکہ اسے مغرب کے ہاتھوں ایک صدی کی تذلیل کے بعد چین کے تاریخی وقار کی بحالی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے، جزیرے کا یہ مسئلہ ایک ایسا ہدف ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، چاہے اس کے حصول میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے۔ لیکن تائیوان کی واپسی کئی وجوہات کی بنا پر آسان نہیں ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
· تائیوانی معاشرے نے چین سے الگ اپنی ایک منفرد سیاسی شناخت قائم کر لی ہے۔
· کسی بھی براہِ راست حملے کے نتیجے میں ایک تباہ کن علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
· اگر تائیوان کی سیمی کنڈکٹر فیکٹریاں بند ہو جائیں، تو عالمی معیشت کو ایک بہت بڑا دھچکا لگے گا۔
· جاپان اور امریکہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ تائیوان کے زوال سے مغربی بحرالکاہل پر چین کا مکمل غلبہ ہو جائے گا۔
تاہم، طاقت کا توازن اب چین کے حق میں بدل رہا ہے، خاص طور پر چین کی بڑھتی ہوئی بحری فوجی طاقت اور کھلی جنگ میں شامل ہونے کے لیے امریکہ کی کم ہوتی ہوئی آمادگی کے باعث، جو کہ اس کی موجودہ داخلی تقسیم کا نتیجہ ہے۔
تائیوان کا بحران آج محض چین اور اس باغی جزیرے کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ پورے عالمی نظام کے مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ امریکہ کو ایک تاریخی مخمصے کا سامنا ہے: یا تو وہ تائیوان کا دفاع کرے اور چین کے ساتھ ایک بڑی جنگ کا خطرہ مول لے، یا پھر چین کی قیادت میں ابھرنے والے ایک نئے ایشیائی نظام کو بتدریج قبول کر لے۔ بین الاقوامی نظام میں آنے والی یہ گہری تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ دنیا، جو سرد جنگ کے بعد مطلق امریکی بالادستی کے زیرِ اثر ابھری تھی، اب اثر و رسوخ کی دوبارہ تقسیم کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایسی نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں جو روایتی مغربی مرکز کو سیاسی، معاشی اور فوجی طور پر چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہی تبدیلیوں کے دوران، ایک نئی بین الاقوامی طاقت کا ظہور ہو سکتا ہے۔ وہ واحد قوت جو انتہائی تیزی کے ساتھ چوٹی تک پہنچنے اور ایک ابھرتی ہوئی ریاست سے ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، وہ "نبوت کےنقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ" کی واپسی ہے۔
مغرب اس واپسی کے اثرات اور مضمرات کو بخوبی سمجھتا ہے کیونکہ خلافت ہی وہ واحد طاقت ہے جو امریکہ کے تکبر اور اس کے سرمایہ دارانہ نظریے کا خاتمہ کرنے، چین کو اس کے اصل سائز پر واپس لانے، اور اس پورے روئے زمین پر عدل و انصاف اور روشنی پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اللہ کے رسول ﷺ کی اس بشارت کی عملی تصویر ہو گی جس میں آپ ﷺ نے فرمایا:«إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا» "بے شک اللہ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا، اور یقیناً میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی"۔




