السبت، 20 ذو الحجة 1447| 2026/06/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

بڑی تبدیلیوں کا دور: غلامی اور قیادت کے درمیان ایک اہم موڑ

 

 

تحریر: استاذ یاسین بن یحییٰ

 

(ترجمہ )

 

آج کی دنیا پر غالب گہری جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے درمیان، جہاں قائم شدہ اصول بکھر رہے ہیں اور محض طاقت کے بل بوتے پر اتحاد تشکیل دیے جا رہے ہیں، مسلم دنیا خود کو ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی پاتی ہے جہاں اسے یا تو ان تبدیلیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنا راستہ خود متعین کرنا ہوگا، یا پھر دوسروں کے طے کردہ معمولی کرداروں کا انتظار کرنا ہوگا۔ تیونس میں مسلسل نویں سال "افریقی شیر مشقیں" (Exercise African Lion) منعقد کرنے پر امریکہ کا اصرار، اور اپنے فوجیوں اور ساز و سامان کی تعیناتی، اب محض معمول کا فوجی تعاون نہیں رہا۔ یہ درحقیقت ملک کو افریقہ میں امریکہ کے سیکورٹی مقاصد کے جال میں پھنسانا بن چکا ہے۔ تیونس کا یہ منظر نامہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ وسیع تر عرب حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں واشنگٹن کے ساتھ اتحاد کی بنیادیں تحفظ کی ڈھال بننے کے بجائے کمزوری کا باعث بن گئی ہیں۔ کیا مسلم دنیا کے پاس اب بھی مکمل غلامی سے بچنے کے لیے کوئی سٹریٹیجک  جواب موجود ہے، یا پھر انتظار کی قیمت اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ بعد میں کوئی بھی کردار بچانا ممکن نہ رہے گا؟

 

"افریقی شیر مشقیں": جب غلامی ایک سیاسی منصوبے کی شکل اختیار کر لے

 

تیونس میں، سالانہ بنیادوں پر "افریقی شیر" فوجی مشقوں کے ایک حصے میں شرکت ایک ایسی سیاسی روایت بن چکی ہے جو 2015 میں باجی قائد السبسی کی جانب سے تیونس کو نیٹو (NATO) کا ایک سٹریٹیجک غیر ملکی اتحادی نامزد کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سے آنے والی تمام حکومتوں میں منتقل ہوتی رہی ہے۔ تاہم، جسے ایک سٹریٹیجک شراکت داری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، گہری نظر ڈالنے پر وہ محض ملک کو ایک ایسے امریکی منصوبے میں الجھانا ثابت ہوتا ہے جو صرف افریقہ میں اس کے اپنے مفادات کو پورا کرتا ہے۔ امریکہ کی لغت میں، "سٹریٹیجک شراکت دار" کا مطلب دوست یا برابر کا نہیں ہے، بلکہ محض ایک ایسا مہرہ ہے جو امریکی تسلط کے نظام میں ایک مخصوص کام انجام دے رہا ہو۔

 

خلیجی ممالک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس وابستگی کے خطرے کی تصدیق کرتا ہے: وہاں بکھرے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر بار بار حملے ہوئے، اور ان ممالک کو کوئی حمایت حاصل نہ ہوئی، نہ اندرونی اور نہ ہی بیرونی۔ اس کے برعکس، عرب دنیا نے انہیں جارحیت میں شریک دشمن کے اڈے سمجھا۔ تیونس آج واشنگٹن کے لیے بحیرہ روم کے قلب میں، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک سٹریٹیجک محل وقوع کی حیثیت سے اہم ہے، لیکن اس کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ اسلام غیر مسلموں سے فوجی مدد طلب کرنے سے منع کرتا ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:«لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ» "مشرکین کی آگ (یعنی جنگ) سے روشنی (مدد) حاصل نہ کرو۔"

 

فوجی اتحاد فوجوں کو ایک مشترکہ دشمن کے خلاف مل کر لڑنے اور معلومات و فوجی ساز و سامان کے تبادلے کی اجازت دیتے ہیں۔ آج کا امریکہ، جو خود پسندی، سیاسی افراتفری، اور ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان گہری اندرونی تقسیم کا شکار ہے، اب اس کے اپنے اتحادی بھی اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ یہ وہی امریکہ ہے جس نے اسلام کے خلاف اپنی اصل جنگ چھیڑ رکھی ہے، جس کا ثبوت غزہ، ایران اور لبنان کے حالات سے ملتا ہے۔

 

تیونس اور دھڑے بندی کا خطرہ

 

نیٹو (NATO) کو ہلا کر رکھ دینے والے اس طوفان کے دوران، تیونس ان بڑی تبدیلیوں میں براہِ راست ہراول دستے (فرنٹ لائن) کے طور پر سامنے آیا ہے۔ لیبیا اور ساحل کے مسائل وہ تمام معاملات ہیں جن پر امریکہ کا غلبہ ہے۔ 2024 سے 2026 کے درمیانی عرصے کے اشارے تیونسی حکام کی جانب سے ایک واضح سٹریٹیجک دوغلے پن (Strategic Duality) کو ظاہر کرتے ہیں: بظاہر، تیونس غیر ملکی اڈوں اور غیر ملکی احکامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک آزادانہ بیانیے پر کاربند ہے اور اپنی غیر جانبداری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ تاہم، عملی طور پر یہ امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی و سیکورٹی تعاون کو مزید گہرا کر رہا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی مشیروں اور ماہرین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ ساتھ ہی وہ فطری طور پر یورپ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔

 

یہ نازک مساوات — یعنی معیشت کے لیے یورپ، سیکورٹی کے لیے امریکہ اور توازن برقرار رکھنے کے لیے محض سیاسی بیانیہ — اس صورت میں اچانک زمین بوس ہو سکتی ہے اگر 'ٹرانس اٹلانٹک' (یورپ اور امریکہ کے درمیان) دراڑ مزید گہری ہو جائے۔ کسی کھلی جنگ یا تنازع کی صورت میں، تیونس دوہرے دباؤ کی زد میں آ سکتا ہے: ایک طرف یورپ معاشی پابندیوں یا امداد روکنے کی دھمکیاں دے گا، اور دوسری طرف امریکہ اس سے بڑے فوجی کردار کا مطالبہ کرے گا جو تیونس کو شدید علاقائی ردعمل کا شکار کر سکتا ہے، بالخصوص الجزائر کی جانب سے، جو اپنی سرحدوں کے پاس کسی بھی قسم کی امریکی موجودگی کو اپنی 'ریڈ لائن' (سرخ لکیر) قرار دیتا ہے۔ تب اہم سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیا تیونس توازن برقرار رکھنے والے ایک کھلاڑی کے طور پر کامیاب ہو سکے گا، یا پھر اسے کسی ایک دھڑے کا ساتھ دینے پر مجبور کر دیا جائے گا؟ یقیناً، "روٹی کے لیے یورپ، ہتھیاروں کے لیے امریکہ اور ہمسائیگی کے لیے الجزائر" کی یہ مساوات اب کافی نہیں رہی۔ اگر تیونس ایک ایسے تنازع میں یرغمال بننے سے بچنا چاہتا ہے جس پر اس کا کوئی اختیار نہیں، تو اسے ایک بالکل نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

 

محکومی سے تمدنی قیادت تک

 

سب سے بڑا سوال یہی باقی ہے: ان تبدیلیوں کے درمیان امتِ مسلمہ کہاں کھڑی ہے، ہم جو قوت اور عزت کے تمام عناصر کے مالک ہیں؟ ہم اس محکومی کی حالت سے کیسے نکل سکتے ہیں اور وہ مقام کیسے حاصل کر سکتے ہیں جو رب العالمین، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمارے لیے فرض کیا ہے؟ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ آج بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشمکش اب نظریات کا تصادم نہیں رہی، بلکہ یہ اقتدار، اثر و رسوخ اور بالادستی کی خالص جدوجہد بن چکی ہے۔ عالمی سطح پر اب اسلام کے منصوبے کے علاوہ کوئی ایسا جامع اور نظریاتی منصوبہ موجود نہیں ہے جو انسانیت کے مسائل کے حل کے لیے ایک مکمل و مربوط وژن پیش کر سکے۔

 

امت کے پاس آج ایک تمدنی متبادل موجود ہے جسے نافذ کرنا اس پر فرض ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾

 

"پس تمہارے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا (حکم) تسلیم نہ کر لیں" (سورۃ النساء: 65

 

اس پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس متبادل کو تمام انسانیت تک پہنچائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ﴾

 

"اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ایسی بہترین (درمیانی) امت بنایا ہے کہ تم لوگوں پر گواہ بنو" (سورۃ البقرہ: 143

 

یہ متبادل ایک ایسے عقیدے پر مبنی ہے جو عقلی دلیل سے ثابت ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کے لیے ہدایت اور رحمت کا پیغام (رسالت) لے کر اٹھتے ہیں اور پوری انسانیت پر حجت قائم کرتے ہیں۔ مزید برآں، امت کی طاقت کے ذرائع بے پناہ ہیں: دولت، وسائل، زمینیں، اہم گزرگاہیں، جغرافیائی محل وقوع، نوجوان نسل، اور خلافت کی تاریخ، جس نے تقریباً تیرہ صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کی اور یورپ کو تاریک ادوار سے باہر نکالا۔ یہ تمام اثاثے اس وقت تک کاغذ پر محض الفاظ ہی رہیں گے جب تک انہیں متحد کرنے کے لیے سیاسی عزم موجود نہ ہو۔

 

حاصلِ کلام یہ ہے کہ، بین الاقوامی تبدیلیوں کی اس بے مثال تیز رفتار کے دور میں، اب مسلم دنیا کے لیے یہ بات ہرگز قابلِ قبول نہیں کہ وہ حاشیے پر کھڑی اپنی باری کا انتظار کرے۔ تیونس میں "افریقی شیر" فوجی مشقیں، امریکہ پر سیکورٹی کا انحصار، اور یورپ و امریکہ کے درمیان یہ نازک توازن، یہ سب اس بات کی پیشگی تنبیہ ہیں کہ محکومی اب صرف مہنگی ہی نہیں رہی بلکہ یہ خود مختاری اور مستقبل کے لیے مہلک بن چکی ہے۔

 

جنگوں نے مسلمانوں کی مزاحمتی صلاحیت کو ثابت کر دیا ہے؛ جیسا کہ ایران میں، اور اس سے پہلے عراق اور افغانستان میں دیکھا گیا۔ یہ تمام عوامل اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تبدیلی کا وقت آ چکا ہے، اور یہ تبدیلی ان جھگڑالو شراکت داروں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے کھیل میں ہے اور نہ ہی ندامت بھرے خطابات میں، بلکہ یہ عملی اقدامات میں پوشیدہ ہے: یعنی اپنی شناخت پر فخر کرنا، امت کی بکھری ہوئی قوتوں کو ایک وجود میں جمع کرنا، اور کسی بھی بڑی طاقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرنا، خواہ عارضی طور پر بائیکاٹ یا تنہائی کی قیمت کچھ بھی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ جو قیادت کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا، اسے محکومی کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

Last modified onجمعہ, 05 جون 2026 22:31

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک