الجمعة، 18 محرّم 1448| 2026/07/03
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اداریہ

 

 

خطے میں امریکی آلہ کاروں کی سرگرمی

 

 

تحریر: استاد سعید فضل

 

(ترجمہ)

 

اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف چھیڑی گئی اپنی جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اور ایران پر جارحیت کے ذریعے جو کچھ وہ حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اس کے نقائص اور کمزوری بے نقاب ہو چکی ہے، مگر خطے میں اس کے گماشتوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ اسی لیے جب سے تقریباً چار ماہ قبل ایران پر امریکی جنگ شروع ہوئی ہے، ان کی آنکھوں کی نیند اڑ چکی ہے، اور وہ اپنے آقا ٹرمپ کے لیے کوئی جیت یقینی بنانے، یا کم از کم اسے اس بحران سے باعزت نکالنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔

 

اسی رجحان اور دلچسپی کے پیشِ نظر، 21 جون 2026 کو قاہرہ میں مصر، ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا چوتھا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اس "چار فریقی رابطہ میکانزم" کے فریم ورک کے تحت ہوا ہے جو گزشتہ مہینوں سے علاقائی تناؤ اور بالخصوص ایران کے معاملے کے تناظر میں شکل اختیار کر رہا تھا۔ اس اجلاس کو علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے چاروں ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔

 

امت کے اہم مسائل پر بحث کے لیے ایجنٹوں کے روایتی اجتماعات کے برعک،, جہاں عموماً ان کی ملاقاتیں مسلمانوں کے مال کا ضیاع اور شرکاء و ناظرین کے وقت کی بربادی ہوتی ہیں، ان کا یہ اجلاس محض پروٹوکول کی حد تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ یہ براہِ راست امریکہ ایران افہام و تفہیم کے حوالے سے ایک علاقائی موقف وضع کرنے کی کوشش سے جڑا ہوا تھا، اور ساتھ ہی اس کے خلیج، مشرقِ قریب، توانائی، جہاز رانی کے راستوں اور بین الاقوامی سپلائی چینز کی سلامتی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر تھا۔ بعض سفارتی حلقوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اس چار فریقی گروپ نے اس میکانزم کو صرف ایران تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مستقل اور ادارہ جاتی فریم ورک میں تبدیل کرنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

 

ترک وزارتِ خارجہ کے سرکاری بیان کے مطابق، یہ اجلاس مصر کی دعوت پر قاہرہ میں منعقد ہوا۔ بیان میں ذکر کیا گیا کہ اجلاس نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر سیر حاصل تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا اور چاروں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت و ہم آہنگی کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ عرب میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا کہ یہ گفتگو محض ایران کے معاملے تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں غزہ کی جنگ، سوڈان اور لیبیا کی صورتحال، اور شاخِ افریقہ (Horn of Africa) کی پیش رفت بھی شامل تھی، تاہم ایران کا مسئلہ ایجنڈے میں سرفہرست رہا کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق امریکہ ایران مذاکرات اور اسلام آباد میں دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت سے ہے۔ ان میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ اجلاس ان وسیع تر سفارتی اقدامات کے تسلسل میں ہوا جن کا مقصد مذاکرات کے اس عمل کو سہارا دینا ہے جس کے ذریعے امریکہ وہ کچھ حاصل کر سکے جو وہ ایران کے خلاف عسکری طور پر حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا، اور اسے اس سے بھی آگے لے جانا ہے؛ یعنی اسے امریکہ کے "نیو مڈل ایسٹ" منصوبے اور "ابراہم معاہدے" کی طرف دھکیلنا، اور بالآخر یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کی بحالی تک پہنچانا ہے۔

 

چونکہ پاکستان میں امریکہ کے ایجنٹ وہ مرکزی سہولت کار تھے جنہوں نے ایران کو مذاکرات کے جال میں پھنسایا، اس لیے مشترکہ بیان میں 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمت نامے پر دستخط کا برملا خیرمقدم کیا گیا۔ اسے خطے میں استعماری طاقتوں اور بالخصوص امریکہ کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے اور ایک ایسے تنازع کو ختم کرنے کی جانب ایک تعمیری قدم قرار دیا گیا جو علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے شدید خطرات کا باعث تھا۔ اس کے ساتھ ہی توانائی کی منڈیوں، بحری گزرگاہوں، سپلائی چینز اور بین الاقوامی تجارت پر اس کے اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا، جن کا ان استعماری ممالک کی معیشتوں پر اثر خطے کے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔ ان ممالک پر ایسے لٹیروں کی حکمرانی ہے جن کے ذہن میں بحران کے ستائے عوام کی تکالیف دور کرنے کا خیال تک نہیں آتا، اور ان کے ذہنوں نے جو کچھ بھی سوچا وہ محض عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بہانہ بنا کر ٹیکسوں، فیسوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ ان "لٹیرے وزیروں" نے مذاکرات کے اگلے مرحلے تک تیز رفتاری اور کامیابی سے پہنچنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اپنی مالکن امریکہ کو بااختیار بنایا جا سکے، 'نئے ایران' کو اس کے زیرِ اثر لایا جا سکے اور اسے امریکہ کے مدار سے باہر نکلنے کا کوئی موقع نہ دیا جائے۔

 

امریکہ کا یہ خوف کہ خطے کے ممالک اس کے خلاف بغاوت کر دیں گے، جبکہ ایرانی مثال ان تمام لوگوں کے لیے حوصلہ افزا تھی جو مغربی اور بالخصوص امریکی تسلط سے آزادی کے خواہاں ہیں، اسی کے پیشِ نظر ان وزراء نے امریکہ کی ایماء پر مذاکراتی عمل کی حمایت کو خطے کے ممالک کے سیکیورٹی خدشات، خاص طور پر خلیجِ عرب اور مشرقِ قریب کی سلامتی سے متعلق خدشات کو ملحوظ رکھنے کی شرط سے جوڑ دیا۔ یہ عبارت بے نقاب کرتی ہے کہ ان چاروں ممالک کا سرکاری موقف کسی بھی عام امریکہ ایران معاہدے کی حمایت پر مبنی نہیں ہے، بلکہ ایک ایسے مشروط معاہدے کی تائید پر ہے جو امریکہ کے سامنے حقیقی طور پر گھٹنے ٹیکنے کی صورت میں سامنے آئے، اور جو ایسے دو طرفہ مفاہمت کے نمونے کو دوبارہ پیدا نہ کرے جو امریکی مفادات سے تجاوز کر جائے۔

 

چونکہ یہ ملاقات حقیقی خود مختار حکمرانوں کے درمیان مشاورت نہیں تھی، بلکہ یہ وہ گماشتے تھے جو اپنی مالکن امریکہ کے مفاد میں ایک مخصوص تفویض کردہ کام (فنکشنل ورک) انجام دے رہے تھے، اس لیے اس اجلاس سے سخت ادارہ جاتی معنوں میں کوئی اعلانیہ انتظامی فیصلے سامنے نہیں آئے۔ تاہم اس نے چند واضح سیاسی نتائج ضرور پیدا کیے جو اس اجلاس کی حقیقت، محرک اور مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں سے پہلا نتیجہ امریکہ ایران مفاہمت کی یادداشت کے لیے اس چار فریقی حمایت کی توثیق ہے، جو خطے میں امریکہ کی موجودگی کو برقرار رکھنے اور اس کے مفادات و تسلط کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ دوسرا نتیجہ حتمی تصفیے تک پہنچنے کے لیے مابعد کے مذاکرات کو تیز کرنے کی برملا اپیل ہے، جس کے ذریعے امریکہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کر سکے۔ تیسرا نتیجہ کسی بھی حتمی معاہدے میں خطے کے ممالک پر امریکی اثر و رسوخ کے سیکیورٹی تحفظات کو لازمی طور پر شامل کرنے کے اصول کو مستحکم کرنا ہے۔ سفارتی ذرائع نے اس چار فریقی ہم آہنگی کو ایک وسیع تر میکانزم میں تبدیل کرنے پر بحث کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو فلسطین اور سوڈان جیسے دیگر معاملات تک پھیل سکتا ہے۔ اگر یہ معلومات درست ہیں، تو یہ اجلاس محض ایک عارضی موقف کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک "چار فریقی سازشی فورم" کی تعمیر کا سنگِ بنیاد ہے جو مسلم ممالک میں امریکہ کے منصوبوں اور اسکیموں پر عمل درآمد کرتے ہوئے خطے میں غداری کے ایک وسیع تر کردار کی تیاری کر رہا ہے۔

 

قاہرہ کا یہ چار فریقی اجلاس ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ عسکری تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کو ترجیح دینے پر ایک علاقائی اتفاقِ رائے جنم لے رہا ہے، مگر یہ اتفاق اب بھی امریکی نقطہ نظر کے مطابق خلیج اور مشرقِ قریب پر امریکی تسلط مسلط کرنے اور مستقبل کے علاقائی سیکیورٹی انتظامات سے متعلق کڑی شرائط اور تحفظات سے گھرا ہوا ہے۔

 

ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

Last modified onجمعہ, 03 جولائی 2026 14:15

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک