بسم الله الرحمن الرحيم
یمن میں اس وقت کیا ہو رہا ہے
استعماری مقاصد کے حصول کے لیے آتشیں بیانات اور فوجی کارروائیاں
تحریر: انجینئر شفیق خمیس – ولایہ یمن
(ترجمہ)
مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے رواں ماہ 20 جولائی کو یمن کی آٹھ رکنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کا ایک ٹیلی ویژن خطاب نشر کیا، جس میں انہوں نے عوام کے تمام طبقات سے مطالبہ کیا کہ وہ دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے 12 سالہ قبضے کو ختم کرنے اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے فوجی دستوں کا ساتھ دیں۔ دوسری جانب حوثیوں نے 2014 سے اپنے زیرِ قبضہ ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کروانے کے لیے کشیدگی بڑھاتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔
یہ رشاد العلیمی کا ڈیڑھ ماہ کے دوران دوسرا سخت بیان ہے، جو ان کے اس وژن کا حصہ تھا جو انہوں نے 11 جون 2026 کو اقوام متحدہ کے مندوب کو پیش کیا تھا۔ اس میں انہوں نے ذکر کیا تھا کہ اصل حل حوثیوں کے ساتھ اقتدار کی بندر بانٹ میں نہیں ہے۔ یہ بیان عمان میں 7 جون 2026 کو عدن اور ریاض کے درمیان رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد اور اقوام متحدہ کے مندوب گرنڈ برگ کی جانب سے صنعاء، عدن اور ریاض کے نمائندوں پر مشتمل رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی میزبانی کی دعوت کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا تھا۔
العلیمی کا حالیہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ریاض نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر بمباری کی تاکہ 13 جولائی 2026 کو تہران سے آنے والے ماہان ایئر کے طیارے کو وہاں اترنے سے روکا جا سکے، جب کہ اس سے قبل 3 جولائی 2026 کو یہی طیارہ وہاں اترا تھا تاکہ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے حوثی وفد کو لے جا سکے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کا آغاز حوثیوں نے ابہا ایئرپورٹ پر حملے سے کیا،جو کہ آخری مسلم ریاست یعنی ریاستِ عثمانیہ کے دور میں یمن کے زیرِ انتظام 'عسیر' صوبے کا دارالحکومت رہا تھا۔ حوثیوں نے 20 جولائی کو ایک بیان جاری کیا جس میں سعودی بحری جہازوں کے باب المندب سے گزرنے پر پابندی عائد کر دی گئی، اور تین دن بعد دو سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا کر اس کا عملی مظاہرہ کیا۔ جواباً ریاض نے 25 جولائی 2026 کو صوبہ الحدیدہ اور بحیرہ احمر میں جزیرہ کمران پر بمباری کی، جس کے جواب میں اسی دن حوثیوں نے جیزان اور ینبع میں آرامکو کمپنی کو نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ ہی مآرب اور البیضاء کے سرحدی علاقوں میں شبوہ صوبے کے سرحدی محاذوں بیحان اور حریب میں جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔
ہرمز اور باب المندب کی گزرگاہوں میں تہران اور صنعاء کے حملے واشنگٹن کے اس مطالبے کو پورا کر رہے ہیں کہ ریاض یمن کے راستے بحرِ عرب تک تیل کی پائپ لائن بچھانے کے کام میں تیزی لائے، تاکہ بحرِ الکاہل کے ذریعے مشرق کی جانب تیل پہنچایا جا سکے۔ بین الاقوامی کرائسز گروپ (International Crisis Group) نے باب المندب میں جہاز رانی پر حوثیوں کی پابندیوں میں تہران کے ملوث ہونے کو مدنظر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب یورپ کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں اس کا "ایسپائڈز" (Aspides) آپریشن اپنے بحری جہازوں کے گزرنے کو کامیابی سے یقینی بنا رہا ہے؛ یہ ایک دفاعی بحری فوجی آپریشن ہے جسے یورپی یونین نے 19 فروری 2024 کو اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا تھا۔
یمن میں دونوں متحارب فریقوں کی جانب سے مذکورہ تمام سیاسی اور فوجی اقدامات دراصل اقوام متحدہ کی جانب سے اس 'روڈ میپ' کی بحالی کے لیے مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاری ہے، جسے 7 اکتوبر 2023 کے 'طوفانِ اقصیٰ' آپریشن نے روک دیا تھا، اور جس میں امریکہ اور اس کے پروردہ یہودی وجود کی ایران کے خلاف جارحیت بھی شامل ہو گئی ہے۔ یمن میں امن و استحکام کو پہلے خود سبوتاژ کرنے سے لے کر اس کی مبینہ بحالی تک، یہ سب یمن کے لوگوں کے خون سے ہولی کھیل کر کیا جا رہا ہے!
اس کا مطلب یہ ہے کہ عدن (حکومت) اقوام متحدہ کے سامنے اپنے مطالبات بڑھا رہی ہے، جو عدن اور صنعاء کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا ذمہ دار ہے۔ اس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ عدن حکومت نے اکتوبر 2022 سے تعطل کا شکار تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر دی ہیں، جس نے اس پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ اس کے مقابلے میں صنعاء نے بھی اپنے مطالبات بڑھا دیے ہیں کہ روڈ میپ کے مطابق تیل کی برآمدات کی بحالی کے بعد پورے ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔ اس کے عوض غیر ملکی تیل کمپنیوں کو تیل کی تلاش کے ٹھیکے دینے سے چشم پوشی برتی جائے گی، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، البتہ صنعاء میں وزارتِ پٹرولیم کی بین الاقوامی ٹینڈر کمیٹی نے ان معاہدوں کی ظاہری شکل اور ٹھیکے حاصل کرنے والی کمپنیوں کی شناخت میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ اب ان یورپی کمپنیوں کا وقت ختم ہو چکا ہے جو ملک میں من مانی کرتی تھیں، اور اب ان کمپنیوں کا وقت آ گیا ہے جنہیں ماضی میں قبول نہیں کیا جاتا تھا، چاہے وہ جنوبی کوریا اور انڈونیشیا کا لبادہ ہی کیوں نہ اوڑھ لیں! اور یہ بات یقینی ہے کہ ان کا تعلق امریکہ سے ہی ہے۔
دوسری طرف ریاض اور ابوظہبی، جو یمن میں متصادم استعماری مفادات، یعنی پرانے برطانوی فوجی استعمار اور نئے امریکی معاشی استعمار، کی خدمت میں سرگرم دو نمایاں علاقائی قوتیں ہیں، انہوں نے بھی حرکت شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن کے خادم، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان بن عبدالعزیز اور لندن کے خادم، منصور بن زاید آل نہیان کے درمیان 21 جولائی کو بحیرہ احمر میں سندالہ جزیرے کے قریب ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کی تائید ابوظہبی کی وزارتِ خارجہ کے اس بیان سے بھی ہوئی جس میں حوثیوں کی جانب سے باب المندب سے سعودی جہازوں کا راستہ روکنے کے اعلان کی مذمت کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ ملاقات ایران کے خلاف امریکہ اور یہودی وجود کی جنگ کے اثرات کے تناظر میں ہو رہی ہے، تاہم ریاض اور ابوظہبی کے درمیان یہ قربت اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اہل یمن کے ساتھ ان کی خیانت پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔
رشاد العلیمی کو اس بین الاقوامی نظام نے مسلط کیا ہے جس نے یمن کو 'چیپٹر 7' کے تحت رکھا ہوا ہے! اور اس نظام نے ہی ان کی آٹھ رکنی کونسل کو قبول کیا، جیسا کہ جمال بن عمر کے دستخطوں کے ذریعے حوثیوں کے معاملے میں کیا گیا تھا۔ اہل یمن اس بات کے گواہ ہیں کہ اقوام متحدہ ہی وہ ادارہ ہے جس نے بین الاقوامی استعماری ایجنڈے کی خاطر ان کے ملک کے امن کو غارت کیا! اور یہ کہ اس کی کشمکش ملک کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کر دے گی، جو سائیکس-پیکو کی لکیروں سے بھی بدتر ہوں گے اور جن کے پاس کوئی طاقت یا اختیار نہیں ہوگا۔ اس کے نئے غلام ان استعماری منصوبوں کی تکمیل، ان کے مفادات کے تحفظ اور تیل کی مسلسل لوٹ مار کو یقینی بنانے کا عہد کیے ہوئے ہیں۔ تاہم، اپنے دنیاوی معاملات اور آخرت کے انجام کا فیصلہ کرنے کی آخری طاقت ایمان والوں کے پاس ہی رہے گی جو اپنے خالق کے سامنے جوابدہ ہیں۔
اے ایمان والو! بین الاقوامی کشمکش کی قوتوں کو اپنے آپ سے اور اپنے ملک سے دور کر دو اور اپنے اسلاف کی عظمتِ رفتہ کو بحال کرو۔ اللہ کی مدد اور قوت کا سہارا لو جو تم پر اللہ کے احکامات کی پیروی لازم کرتی ہے، کیونکہ اس کا فرمان ہے:
﴿وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾
"اور اللہ نے کافروں کے لیے مومنوں پر (غلبے کی) کوئی راہ نہیں رکھی۔" (سورۃ النساء:آیت 141)
پس اس حکم پر عمل کرتے ہوئے نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کمر بستہ ہو جاؤ، کیونکہ یہی یمن اور پوری دنیا کے مسائل کا اصل اور جڑ سے خاتمہ کرنے والا حل ہے۔ اللہ کے امین، خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ جنہیں اللہ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، کا ارشادِ گرامی ہے: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» "پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہوگی۔"





