بسم الله الرحمن الرحيم
کیا شام میں ترکی کا وجود یہودی وجود کے لیے خطرہ ہے؟
تحریر: استاد سالم ابو سبیتان
(ترجمہ)
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ترکی کے وجود کی نوعیت، مغرب کے ساتھ اس کے تعلقات، بشار الاسد کے نظام کے زوال کے آخری مرحلے میں شام میں اس کے کردار، اور اس نظام کے سقوط کے بعد اس کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔
ترکی، شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کا رکن ہے اور افرادی قوت اور فوجی سازوسامان کے اعتبار سے اس اتحاد کی دوسری بڑی طاقت شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس اتحاد کی تشکیل امریکہ نے یورپ میں اپنے مفادات کے حصول اور دنیا بھر میں ان کے تحفظ کے لیے کی تھی۔ ترکی بھی اسی امریکی مدار میں گردش کرتا ہے، اور امریکہ ہی وہ طاقت ہے جو یہودی وجود کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اسے طاقت بخشتی ہے اور اسے مختلف طاقتوں اور بین الاقوامی قوانین کی گرفت سے بچاتی ہے۔
شام میں ترکی کی موجودگی کا مقصد شامی نظام کا تحفظ تھا، جس کے خلاف شامی عوام نے 2011ء میں اپنی مبارک تحریک کا آغاز کیا تھا۔ اس تحریک نے اوباما کے سر کے بال سفید کر دیے تھے اور روسی نظام کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دنیا اس انقلاب سے خوف زدہ تھی کہ کہیں یہ تاریخ کا رخ نہ بدل دے اور اس کے نقوش کو ہمیشہ کے لیے ازسرِنو مرتب نہ کر دے۔
چنانچہ جب اس بوسیدہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے روسی اور ایرانی کارڈز تقریباً بے اثر ہو گئے تو ضروری سمجھا گیا کہ شام کے عوام کے لیے قابلِ قبول نجات کی کشتی کے طور پر ’’سنی کارڈ‘‘ استعمال کیا جائے۔ تاہم اس کارڈ کا استعمال شامی عوام سے کسی محبت یا ہمدردی کی بنیاد پر نہیں تھا، نہ ہی اس کا مقصد اس مجرم اور روبہ زوال نظام کے جرائم کا سدباب کرنا تھا، جس نے بیرل بموں سمیت انتہائی مہلک ہتھیاروں اور تباہ کن گولہ بارود کا بے دریغ استعمال کیا۔
اس کے بجائے اس کا بنیادی مقصد بشار الاسد کے نظام کو سقوط سے بچانا تھا—وہی نظام جس نے جولان کی پہاڑیوں کو فروخت کر دیا اور نصف صدی سے زیادہ عرصے تک اور کسی متبادل کے تیار ہونے تک یہودی وجود کی سرحدوں کی حفاظت کی۔ پھر امریکہ بھلا ایسی ریاست کو کیسے آگے لا سکتا ہے جو ایک طرف اس نظام کو بچائے اور دوسری طرف خود یہودی وجود کے لیے خطرہ بن جائے؟
واقعات کے درست عملی فہم اور ان کے تسلسل پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ شام میں ترکی کے نظام کو استعمال کرنے کے پیچھے چار بنیادی مقاصد کارفرما تھے:
اول: بشار الاسد کے نظام کو اس وقت تک سقوط سے بچائے رکھنا جب تک اس کا متبادل تیار نہ ہو جائے۔
دوم: اس متبادل کی سرپرستی کرنا جو امریکی باورچی خانے میں تیار کیا گیا اور شام کے انقلاب کے آغاز سے گیارہ برس تک بتدریج پروان چڑھایا گیا۔
سوم: مبارک انقلاب کو سبوتاژ کرنا اور اس کے مخلص عسکری دھڑوں اور قیادتوں کا خاتمہ کرنا، جو اسلامی نظام کے قیام کی بنیاد رکھنے کے لیے کوشاں تھے؛ پھر اس منصوبے کا لبادہ احمد الشرع اور اس کے گروہ کو پہنا دیا گیا۔
چہارم: شام میں روسی اثر و رسوخ کو کم کرنا، خصوصاً اس کے بعد جب گرتے ہوئے نظام کو بچانے کے لیے روسی کارڈ کو پوری طرح استعمال کر لیا گیا تھا۔
شام کے انقلاب کے دوران ترکی نے اہلِ شام کو دھمکیوں اور وعدوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ حلب اور دیگر شہروں میں قتلِ عام کو دوبارہ ہونے نہیں دے گا۔ اس کی سبز بسیں اہلِ شام کو ان علاقوں سے نکالتی رہیں تاکہ شامی نظام کی افواج اور اس کے حامیوں کے لیے ان علاقوں پر دوبارہ قبضے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ دوسری جانب، جن جنگجوؤں نے ترک منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کیا، انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا تاکہ ان کا صفایا اور خاتمہ کیا جا سکے۔ لوگوں کی اس جبری بے دخلی کا منصوبہ ترکی کے خطرناک ترین اقدامات میں سے ایک تھا۔
شام کے مبارک انقلاب کو حقیقی نقصان پہنچانے والے اقدامات میں سے ایک یہ تھا کہ شامی تنظیموں اور گروہوں کو تین زمروں میں تقسیم کر دیا گیا: ایک وہ جو وفادار ہیں، دوسرا وہ جو تبدیلی کے لیے تیار ہیں، اور تیسرا وہ جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ پھر عملاً اسی تقسیم کے مطابق کارروائی کی گئی۔
اہلِ شام کی اس بے دخلی اور ہجرت کی سرپرستی بھی ترکی ہی کر رہا تھا، اور یوں وہ اپنے آخری ہدف کی جانب بڑھ رہا تھایعنی خطے میں ایک شراکت دار کی حیثیت سے یہودی وجود کا تحفظ۔
ترکی کے یہودی وجود کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور وہ ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس کے قیام کے اعلان کے بعد اسے تسلیم کیا۔ ترکی کے قائدین—یا ان میں سے بیشتر—دونمہ یہودی تھے جنہوں نے عثمانی خلافت کی ریاست کے کھنڈرات پر سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی۔
یہ تعلق اس وقت مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا جب طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد اس مسخ شدہ وجود کو مدد اور تعاون کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ ترکی ہی نے غزہ میں ہمارے لوگوں کے خلاف جنگ اور تاریخ کے ہولناک ترین قتلِ عام کے دوران یہودی وجودکو آذربائیجان کا ایندھن فراہم کیا۔ وہ اسے ایندھن، گولہ بارود، خوراک اور ادویات بھی فراہم کرتا رہا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس کے لیے کسی مزید تحقیق یا دلیل کی ضرورت نہیں؛ خود ایردگان کی جماعت کے متعدد افراد بھی اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔
امریکی اور ترک سرپرستی میں تیار کیے گئے، پرورش پانے والے اور محفوظ رکھے جانے والے اس متبادل کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، یہودی وجود نے شام پر تقریباً 600 فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں شامی فوج کی بیشتر عسکری صلاحیت تباہ ہو گئی۔ یہاں تک کہ صدارتی محل بھی ان حملوں سے محفوظ نہ رہا۔ اس کے طیارے دن رات شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے رہے، اور یہ سب کچھ ایردگان کے ترک نظام کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا۔
اس کے باوجود ہمیں ترک قیادت کی جانب سے محض کمزور مذمت، رسمی احتجاج، کھوکھلی دھمکیوں، بے بنیاد دعووں اور ڈان کیخوٹے (Don Quixote)جیسے فرضی کارناموں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیا۔
یہاں تک کہ یہودی وجود کی جارحیت کی آگ ابو الظہور کے فوجی ہوائی اڈے تک جا پہنچی، جو شام میں ترک موجودگی کے آغاز ہی سے ترکی کے تحفظ میں تھا۔ تو کیا اس کے بعد صورتِ حال بدل گئی؟ ہرگز نہیں۔
یہودی وجود نے وہی کچھ کیا جو سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اس وقت کہا تھا جب یہودی وجود خطے میں اپنے ’’طویل ہاتھ‘‘، ناقابلِ تسخیر طاقت اور جدید ترین ریاست ہونے کی سابقہ شبیہ کھو چکا تھا: ’’اس وجود نے اپنی کھوئی ہوئی دفاعی صلاحیت بحال کرنا شروع کر دی ہے۔‘‘
لہٰذا موجودہ ترکی، یہودی وجود اور خلافت کے بارے میں اپنے نظریے کے اعتبار سے مصطفیٰ کمال کے دور کے ترکی سے مختلف نہیں ہے۔ ایردگان ریاست کے سیکولرازم پر اپنے یقین کا بارہا اظہار کر چکے ہیں۔ چنانچہ ترکی، امریکہ کی غلامی اور اس کے مدار میں گردش کرنے کے باعث، یہودی وجود کے لیے خطرہ نہیں بن سکتا—اور یہودی وجود کے قائدین اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔
البتہ یہودی وجود کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت اور کھوئی ہوئی ہیبت بحال کرنا اور طوفان الاقصیٰ آپریشن سے پہلے والی اپنی شبیہ دوبارہ قائم کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے امریکہ، ترکی اور عرب حکومتوں کی ملی بھگت سے اس جارحیت کا سلسلہ جاری رہنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔