الأربعاء، 27 ربيع الأول 1448| 2026/09/09
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

نائجر: ریاست کو کمزور کرنے سے لے کر اس کی دوبارہ تشکیل کی جنگ تک!

 

 تحریر: انجینئر وسام الاطرش

 

(ترجمہ)

 

 ہفتہ، 29 اگست 2026ء کی صبح دارالحکومت نیامی کو ہلا دینے والی فوجی بغاوت کے بعد نائجر ایک بار پھر سلامتی اور سیاسی عدم استحکام کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جولائی 2023ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل عبدالرحمن تشیانی کے نظام کو درپیش اب تک کا سب سے سنگین اندرونی چیلنج ہے۔

 

 وزارتِ دفاع کے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ کارروائی نصف شب کے بعد شروع ہوئی، جب فوجیوں کے ایک گروہ نے دیوری ہامانی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حدود میں واقع فضائی اڈہ 101 کے اندر اپنے متعدد ساتھیوں کو حراست میں لے لیا اور اس کے بعد دارالحکومت کے حساس مقامات پر فائرنگ شروع کر دی۔ وزیرِ دفاع کے مطابق دفاعی اور سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے باغیوں کے خلاف پیش قدمی کی اور نشانہ بنائے گئے مقامات کا بتدریج دوبارہ کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا۔ (الجزیرہ، 29/08/2026ء)

 

 لیکن یہ معاملہ محض کسی فوجی بیرک کے اندر محدود پیمانے کی بغاوت تک نہیں رہا۔ ہوائی اڈے، فضائی اڈے اور صدارتی محل کے گردونواح میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ باغیوں نے دارالحکومت کے قلب میں واقع مراکزِ اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کی۔ کارروائی کی زد میں قومی ٹیلی ویژن کا صدر دفتر بھی آیا، جس کی نشریات دوبارہ بحال ہونے سے پہلے کئی گھنٹوں تک معطل رہیں۔ اس اقدام کی سیاسی معنویت واضح ہے، کیونکہ دارالحکومت اور ریاستی اداروں پر قبضہ جمانے کی کسی بھی فوجی کوشش میں سرکاری میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنا ایک بنیادی ہدف سمجھا جاتا ہے۔ (روزنامہ الخلیج، 30/08/2026ء)

 

 رپورٹس کے مطابق صدارتی محافظین جنرل تشیانی کے وفادار رہے اور صدارتی محل سے باغیوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد ازاں حکام نے بغاوت پر قابو پانے، نشانہ بننے والے مقامات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور حالات معمول پر آنے کا اعلان کیا، جبکہ دیوری ہامانی ہوائی اڈے پر بھی سرگرمیاں بحال کر دی گئیں۔ جہاں تک جانی نقصان کا تعلق ہے، حکام نے تاحال کوئی حتمی اور تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم سرکاری ٹیلی ویژن نے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت اور گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔

 

 تاہم اس واقعے کی اہمیت صرف جانی نقصان کی مقدار میں نہیں، بلکہ ان اہداف کی نوعیت میں پوشیدہ ہے جنہیں بغاوت کا نشانہ بنایا گیا۔ فضائی اڈہ 101، نیامی ہوائی اڈا، صدارتی محل اور قومی ٹیلی ویژن ملک میں عسکری، سیاسی اور ابلاغی طاقت کے اہم ترین مراکز شمار ہوتے ہیں۔

 

 سب سے زیادہ معنی خیز بات یہ ہے کہ فضائی اڈہ 101 خود رواں سال دو مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ پہلا حملہ جنوری میں ہوا، جب ’’تنظیم الدولۃ فی الساحل‘‘ نے اس اڈے کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق اس حملے میں 20 حملہ آور مارے گئے جبکہ چار فوجی زخمی ہوئے۔ دوسرا حملہ جون میں ہوا، جس کی ذمہ داری ’’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین‘‘ نے قبول کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 22 حملہ آور مارے گئے اور تقریباً 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔

 

 اس اڈے کی اہمیت اس کے دیوری ہامانی ہوائی اڈے کے اندر واقع ہونے کے ساتھ ساتھ فوج کی فضائی اور جاسوسی صلاحیتوں، بالخصوص ڈرونز، میں اس کے اہم کردار کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ کسی مسلح گروہ کے نشانے پر رہنے والا یہ اڈہ جب اندرونی فوجی بغاوت کا مرکز بن جائے تو یہ تشیانی کے نظام کو درپیش سکیورٹی کی سنگین کمزوری کی ایک مجسم علامت بن جاتا ہے۔

 یہ امریکہ نواز نظام آج ایسی مختلف اور بظاہر متضاد قوتوں کے سامنے کھڑا ہے جو مسلح گروہوں سے لے کر باغی فوجیوں تک پھیلی ہوئی ہیں، لیکن عملی طور پر سب اسی مقام کو نشانہ بنانے پر متفق دکھائی دیتی ہیں۔ یہ وہی عسکری اور خودمختاری کی علامتی اہمیت رکھنے والا مقام ہے جس کا تعلق تاریخی طور پر نائجر میں فرانس کے اثر و رسوخ سے رہا ہے۔ یوں ریاست کے مضبوط ترین مراکز میں شمار ہونے والا ایک ایسا مرکز، جسے دارالحکومت کا مضبوط محافظ اور اس کی فضائی حدود کا نگہبان ہونا چاہیے تھا، خود ایک کھلی کمزوری میں تبدیل ہو گیا ہے۔ گویا حکومت کے مخالفین کے باہمی اختلافات بھی اس اہم مرکزِ اقتدار پر ضرب لگانے اور سکیورٹی کنٹرول کی اس علامت کو اس کی کمزوری کا پتا بنانے میں ان کے مفادات کے ملاپ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکے۔

 

 اس بغاوت کی معنویت فضائی اڈہ 101 کی حدود سے کہیں آگے جاتی ہے، کیونکہ یہ اس تضاد کو ایک بار پھر نمایاں کرتی ہے جو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنرل تشیانی کا تعاقب کر رہا ہے۔ جنرل نے جولائی 2023ء میں منتخب صدر محمد بازوم کا تختہ الٹتے ہوئے ان پر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت مسلح گروہوں کے خلاف جنگ اور امن و امان برقرار رکھنے میں حکومت کی ناکامی کو فوجی بغاوت کا سب سے بڑا جواز بنا کر پیش کیا گیا تھا۔

 

 لیکن تین سال بعد یہی نظام خود اسی دیرینہ مسئلے کے سامنے کھڑا ہے، البتہ اس بار صورتِ حال کہیں زیادہ سنگین ہے۔ سکیورٹی کا بگاڑ اب محض بیرونی دشمنوں کے خلاف فوجی وسائل کو کھپا دینے تک محدود نہیں رہا، بلکہ ریاست کے اندرونی ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مسلسل جانی نقصان اور عسکری دباؤ سے پیدا ہونے والی مایوسی ہی وہ محرک تھی جس نے بعض فوجیوں کو بغاوت کی راہ پر ڈالا۔

 

 یوں بحران ریاست اور مسلح گروہوں کے درمیان جنگ سے نکل کر خود فوج کے اندر اعتماد کے بحران میں تبدیل ہو رہا ہے، اور یہ کسی بھی عسکری ادارے کی قوت کو اندر سے نچوڑ دینے کا خطرناک ترین عمل ہے۔ درست ہے کہ حکومت بغاوت کو کچلنے اور نشانہ بننے والے مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن فوجیوں کے ایک گروہ کا اس طرح انتہائی حساس مقامات تک پہنچ جانا ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ریاست پر بظاہر مکمل کنٹرول کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عسکری ادارہ اندر سے بھی متحد اور مضبوط ہے۔

 

 2023ء کی فوجی بغاوت کے بعد نائجر میں رونما ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں نے اس منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عسکری حکومت نے فرانس کے ساتھ تعلقات منقطع کیے، اس کے فوجیوں کو ملک سے نکالا، اور پھر امریکہ کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا ایک ظاہری فاصلہ اختیار کیا، تاکہ امریکی گرین سگنل کے تحت روس کی طرف جھک سکے۔ اسی طرح امریکی حکم پر مالی اور برکینا فاسو کے ساتھ مل کر ’’اتحادِ دولِ ساحل‘‘ قائم کیا گیا۔ حالیہ بغاوت کے دوران بھی نائجر کی حکومت نے روس سے مدد طلب کی، کیونکہ نشانہ بننے والے اسی فضائی اڈے پر روسی افواج پہلے ہی موجود تھیں۔

 

 دوسری طرف، نائجر کی حکومت جنوری کے حملے کے بعد فرانس پر ملک کو غیر مستحکم کرنے، مسلح گروہوں سے گٹھ جوڑ کرنے اور اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات بھی عائد کر چکی ہے، جن کی پیرس نے تردید کی تھی۔ تاہم معاملہ اب محض ایک عسکری حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان تصادم تک محدود نہیں رہا۔ اس کا گہرا تعلق اس ملک کے اندر اثر و رسوخ کی نئی تقسیم سے ہے، جہاں مغربی اثر و رسوخ کے خاتمے کے پردے میں مختلف قوتیں اپنے اتحاد ازسرِنو ترتیب دے رہی ہیں اور اب ترکی سمیت دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں بھی اپنی موجودگی اور مفادات کو وسعت دے رہی ہیں۔

 

 اس زاویے سے دیکھا جائے تو حکومت کو لگنے والے پے در پے جھٹکوں کو محض اسے تھکانے اور کمزور کرنے کی کوشش قرار دینا کافی نہیں۔ یہ دراصل طاقت کے توازن کو ازسرِنو مرتب کرنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مسلح گروہ اسے باہر سے نچوڑ رہے ہیں، فوجی بغاوت نے اس کی اندرونی کمزوری کا پردہ چاک کر دیا ہے، جبکہ روسی مداخلت حکومت کے ساتھ اس کے عارضی تعلق کو مزید مستحکم کرتی ہے اور امریکہ کو اپنے پتے دوبارہ ترتیب دینے اور نئے کردار تقسیم کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ 2023ء کی فوجی بغاوت سے پہلے بھی اصل اقتدار کی باگ ڈور امریکہ ہی کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری جانب، حکومت کی مزید کسی بھی کمزوری سے دیگر قوتوں کے لیے اپنے قدم جمانے اور نائجر کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

 

 اس پورے منظرنامے میں ترکی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ترکی نے نائجر میں بالخصوص دفاع، انٹیلی جنس اور توانائی کے شعبوں میں اپنی موجودگی مسلسل مضبوط کی ہے اور وہ نائجر کو مغربی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کی توسیع کے لیے ایک اہم دروازہ سمجھتا ہے۔ (الجزیرہ، 28/07/2024ء)۔ یوں یہ میدان محض مغرب اور روس کے درمیان دو قطبی کشمکش تک محدود نہیں رہا، جیسا کہ یہ امریکہ نواز حکومت اپنے پروپیگنڈے میں ظاہر کرتی ہے، بلکہ اب یہ ایک وسیع تر مسابقت کا میدان بن چکا ہے جس میں یورپ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے والی کئی قوتیں سرگرم ہیں، جن میں امریکہ، ترکی اور روس نمایاں ہیں۔

 

 اور روس، جو اپنے زیرِ اثر ’’افریقہ کور‘‘ کے ذریعے افریقی ساحل کے ممالک میں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکا ہے، کفر اور جرم کی علامت امریکہ کے لیے ایک کرائے کے قاتل سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسے اس غلیظ کردار پر آمادہ کرنے والی اصل محرک وہ بین الاقوامی مفادات کی حرص ہے جن کی امیدیں امریکہ نے اسے دلا رکھی ہیں۔

 

 چنانچہ اس بغاوت کی ناکامی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بحران ٹل گیا ہے۔ بلکہ یہ نائجر کے مستقبل پر جاری کشمکش کے ایک نئے مرحلے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے اگرچہ نشانہ بننے والے مقامات پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے، لیکن اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ روسی سہارے کی محتاج ہے۔ دوسری طرف مسلح گروہوں کا دباؤ اور خود فوج کے اندر چھپی بے چینی بدستور موجود ہے، اور یہ سب ایک ایسی ڈرون جنگ کے سائے میں ہو رہا ہے جس نے باقاعدہ فوجوں کو تھکا دینے اور ان کی روایتی عسکری برتری کو گھِسا دینے کی اپنی بھرپور صلاحیت ثابت کر دی ہے۔

 لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ ریاست کا یہ مسلسل زوال جنگ کی پوری نوعیت کو بدل سکتا ہے۔ مسلح گروہ، بالخصوص طالبان کے ماڈل سے متاثر ’’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین‘‘، محض ریاست کے وسائل نچوڑنے والی قوت سے آگے بڑھ کر اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے فریق میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جیسا کہ شام کا تجربہ اس امر کو ثابت کر چکا ہے۔ یہیں سے ایک اور خطرہ سر اٹھاتا ہے: امریکہ اس تبدیلی کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے ایسی قوتیں پیدا کر سکتا ہے جو زبان سے اسلامی بیانیہ اختیار کریں، لیکن انجام کار عالمی نظام کے ضوابط اور مفادات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، حتیٰ کہ یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کی بحالی، یعنی تطبیع، بھی اسی کا حصہ بن جائے۔

 

 اور یوں مستقبل کی جنگ صرف اس سوال پر منحصر نہیں ہوگی کہ اس مسلم ملک پر حکمرانی کون کرے گا، بلکہ اصل معرکہ اس بات پر ہوگا کہ اگر امریکہ نے اپنے ایجنٹ تشیانی سے ہاتھ کھینچ لیا تو اس مسلسل تباہی کے ملبے سے کیسا اسلام اور کیسی ریاست وجود میں آئے گی؟

 

 ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سازش کرنے والوں کی سازشوں کو انہی کے خلاف پھیر دے اور مسلمانوں کو جلد از جلد نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ عطا فرمائے، جو استعماری کفار کی نیندیں حرام کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان  ہے:

 

﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾.

 

"اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست، حکمت والا ہے۔  (سورۃ آل عمران : آیت  126)

 

نائجر: ریاست کو کمزور کرنے سے لے کر اس کی دوبارہ تشکیل کی جنگ تک!

تحریر: انجینئر وسام الاطرش

(ترجمہ)

ہفتہ، 29 اگست 2026ء کی صبح دارالحکومت نیامی کو ہلا دینے والی فوجی بغاوت کے بعد نائجر ایک بار پھر سلامتی اور سیاسی عدم استحکام کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جولائی 2023ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل عبدالرحمن تشیانی کے نظام کو درپیش اب تک کا سب سے سنگین اندرونی چیلنج ہے۔

وزارتِ دفاع کے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ کارروائی نصف شب کے بعد شروع ہوئی، جب فوجیوں کے ایک گروہ نے دیوری ہامانی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حدود میں واقع فضائی اڈہ 101 کے اندر اپنے متعدد ساتھیوں کو حراست میں لے لیا اور اس کے بعد دارالحکومت کے حساس مقامات پر فائرنگ شروع کر دی۔ وزیرِ دفاع کے مطابق دفاعی اور سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے باغیوں کے خلاف پیش قدمی کی اور نشانہ بنائے گئے مقامات کا بتدریج دوبارہ کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا۔ (الجزیرہ، 29/08/2026ء)

لیکن یہ معاملہ محض کسی فوجی بیرک کے اندر محدود پیمانے کی بغاوت تک نہیں رہا۔ ہوائی اڈے، فضائی اڈے اور صدارتی محل کے گردونواح میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ باغیوں نے دارالحکومت کے قلب میں واقع مراکزِ اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کی۔ کارروائی کی زد میں قومی ٹیلی ویژن کا صدر دفتر بھی آیا، جس کی نشریات دوبارہ بحال ہونے سے پہلے کئی گھنٹوں تک معطل رہیں۔ اس اقدام کی سیاسی معنویت واضح ہے، کیونکہ دارالحکومت اور ریاستی اداروں پر قبضہ جمانے کی کسی بھی فوجی کوشش میں سرکاری میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنا ایک بنیادی ہدف سمجھا جاتا ہے۔ (روزنامہ الخلیج، 30/08/2026ء)

رپورٹس کے مطابق صدارتی محافظین جنرل تشیانی کے وفادار رہے اور صدارتی محل سے باغیوں کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد ازاں حکام نے بغاوت پر قابو پانے، نشانہ بننے والے مقامات کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور حالات معمول پر آنے کا اعلان کیا، جبکہ دیوری ہامانی ہوائی اڈے پر بھی سرگرمیاں بحال کر دی گئیں۔ جہاں تک جانی نقصان کا تعلق ہے، حکام نے تاحال کوئی حتمی اور تفصیلی اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم سرکاری ٹیلی ویژن نے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت اور گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔

تاہم اس واقعے کی اہمیت صرف جانی نقصان کی مقدار میں نہیں، بلکہ ان اہداف کی نوعیت میں پوشیدہ ہے جنہیں بغاوت کا نشانہ بنایا گیا۔ فضائی اڈہ 101، نیامی ہوائی اڈا، صدارتی محل اور قومی ٹیلی ویژن ملک میں عسکری، سیاسی اور ابلاغی طاقت کے اہم ترین مراکز شمار ہوتے ہیں۔

سب سے زیادہ معنی خیز بات یہ ہے کہ فضائی اڈہ 101 خود رواں سال دو مرتبہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ پہلا حملہ جنوری میں ہوا، جب ’’تنظیم الدولۃ فی الساحل‘‘ نے اس اڈے کو نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق اس حملے میں 20 حملہ آور مارے گئے جبکہ چار فوجی زخمی ہوئے۔ دوسرا حملہ جون میں ہوا، جس کی ذمہ داری ’’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین‘‘ نے قبول کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکار اور دو شہری ہلاک ہوئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 22 حملہ آور مارے گئے اور تقریباً 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔

اس اڈے کی اہمیت اس کے دیوری ہامانی ہوائی اڈے کے اندر واقع ہونے کے ساتھ ساتھ فوج کی فضائی اور جاسوسی صلاحیتوں، بالخصوص ڈرونز، میں اس کے اہم کردار کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ کسی مسلح گروہ کے نشانے پر رہنے والا یہ اڈہ جب اندرونی فوجی بغاوت کا مرکز بن جائے تو یہ تشیانی کے نظام کو درپیش سکیورٹی کی سنگین کمزوری کی ایک مجسم علامت بن جاتا ہے۔

یہ امریکہ نواز نظام آج ایسی مختلف اور بظاہر متضاد قوتوں کے سامنے کھڑا ہے جو مسلح گروہوں سے لے کر باغی فوجیوں تک پھیلی ہوئی ہیں، لیکن عملی طور پر سب اسی مقام کو نشانہ بنانے پر متفق دکھائی دیتی ہیں۔ یہ وہی عسکری اور خودمختاری کی علامتی اہمیت رکھنے والا مقام ہے جس کا تعلق تاریخی طور پر نائجر میں فرانس کے اثر و رسوخ سے رہا ہے۔ یوں ریاست کے مضبوط ترین مراکز میں شمار ہونے والا ایک ایسا مرکز، جسے دارالحکومت کا مضبوط محافظ اور اس کی فضائی حدود کا نگہبان ہونا چاہیے تھا، خود ایک کھلی کمزوری میں تبدیل ہو گیا ہے۔ گویا حکومت کے مخالفین کے باہمی اختلافات بھی اس اہم مرکزِ اقتدار پر ضرب لگانے اور سکیورٹی کنٹرول کی اس علامت کو اس کی کمزوری کا پتا بنانے میں ان کے مفادات کے ملاپ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکے۔

اس بغاوت کی معنویت فضائی اڈہ 101 کی حدود سے کہیں آگے جاتی ہے، کیونکہ یہ اس تضاد کو ایک بار پھر نمایاں کرتی ہے جو اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنرل تشیانی کا تعاقب کر رہا ہے۔ جنرل نے جولائی 2023ء میں منتخب صدر محمد بازوم کا تختہ الٹتے ہوئے ان پر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت مسلح گروہوں کے خلاف جنگ اور امن و امان برقرار رکھنے میں حکومت کی ناکامی کو فوجی بغاوت کا سب سے بڑا جواز بنا کر پیش کیا گیا تھا۔

لیکن تین سال بعد یہی نظام خود اسی دیرینہ مسئلے کے سامنے کھڑا ہے، البتہ اس بار صورتِ حال کہیں زیادہ سنگین ہے۔ سکیورٹی کا بگاڑ اب محض بیرونی دشمنوں کے خلاف فوجی وسائل کو کھپا دینے تک محدود نہیں رہا، بلکہ ریاست کے اندرونی ڈھانچے کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے لگا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مسلسل جانی نقصان اور عسکری دباؤ سے پیدا ہونے والی مایوسی ہی وہ محرک تھی جس نے بعض فوجیوں کو بغاوت کی راہ پر ڈالا۔

یوں بحران ریاست اور مسلح گروہوں کے درمیان جنگ سے نکل کر خود فوج کے اندر اعتماد کے بحران میں تبدیل ہو رہا ہے، اور یہ کسی بھی عسکری ادارے کی قوت کو اندر سے نچوڑ دینے کا خطرناک ترین عمل ہے۔ درست ہے کہ حکومت بغاوت کو کچلنے اور نشانہ بننے والے مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن فوجیوں کے ایک گروہ کا اس طرح انتہائی حساس مقامات تک پہنچ جانا ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ریاست پر بظاہر مکمل کنٹرول کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عسکری ادارہ اندر سے بھی متحد اور مضبوط ہے۔

2023ء کی فوجی بغاوت کے بعد نائجر میں رونما ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں نے اس منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عسکری حکومت نے فرانس کے ساتھ تعلقات منقطع کیے، اس کے فوجیوں کو ملک سے نکالا، اور پھر امریکہ کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا ایک ظاہری فاصلہ اختیار کیا، تاکہ امریکی گرین سگنل کے تحت روس کی طرف جھک سکے۔ اسی طرح امریکی حکم پر مالی اور برکینا فاسو کے ساتھ مل کر ’’اتحادِ دولِ ساحل‘‘ قائم کیا گیا۔ حالیہ بغاوت کے دوران بھی نائجر کی حکومت نے روس سے مدد طلب کی، کیونکہ نشانہ بننے والے اسی فضائی اڈے پر روسی افواج پہلے ہی موجود تھیں۔

دوسری طرف، نائجر کی حکومت جنوری کے حملے کے بعد فرانس پر ملک کو غیر مستحکم کرنے، مسلح گروہوں سے گٹھ جوڑ کرنے اور اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات بھی عائد کر چکی ہے، جن کی پیرس نے تردید کی تھی۔ تاہم معاملہ اب محض ایک عسکری حکومت اور مسلح گروہوں کے درمیان تصادم تک محدود نہیں رہا۔ اس کا گہرا تعلق اس ملک کے اندر اثر و رسوخ کی نئی تقسیم سے ہے، جہاں مغربی اثر و رسوخ کے خاتمے کے پردے میں مختلف قوتیں اپنے اتحاد ازسرِنو ترتیب دے رہی ہیں اور اب ترکی سمیت دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں بھی اپنی موجودگی اور مفادات کو وسعت دے رہی ہیں۔

اس زاویے سے دیکھا جائے تو حکومت کو لگنے والے پے در پے جھٹکوں کو محض اسے تھکانے اور کمزور کرنے کی کوشش قرار دینا کافی نہیں۔ یہ دراصل طاقت کے توازن کو ازسرِنو مرتب کرنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مسلح گروہ اسے باہر سے نچوڑ رہے ہیں، فوجی بغاوت نے اس کی اندرونی کمزوری کا پردہ چاک کر دیا ہے، جبکہ روسی مداخلت حکومت کے ساتھ اس کے عارضی تعلق کو مزید مستحکم کرتی ہے اور امریکہ کو اپنے پتے دوبارہ ترتیب دینے اور نئے کردار تقسیم کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ 2023ء کی فوجی بغاوت سے پہلے بھی اصل اقتدار کی باگ ڈور امریکہ ہی کے ہاتھ میں تھی۔ دوسری جانب، حکومت کی مزید کسی بھی کمزوری سے دیگر قوتوں کے لیے اپنے قدم جمانے اور نائجر کے مستقبل پر اثر انداز ہونے کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اس پورے منظرنامے میں ترکی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ترکی نے نائجر میں بالخصوص دفاع، انٹیلی جنس اور توانائی کے شعبوں میں اپنی موجودگی مسلسل مضبوط کی ہے اور وہ نائجر کو مغربی افریقہ میں اپنے اثر و رسوخ کی توسیع کے لیے ایک اہم دروازہ سمجھتا ہے۔ (الجزیرہ، 28/07/2024ء)۔ یوں یہ میدان محض مغرب اور روس کے درمیان دو قطبی کشمکش تک محدود نہیں رہا، جیسا کہ یہ امریکہ نواز حکومت اپنے پروپیگنڈے میں ظاہر کرتی ہے، بلکہ اب یہ ایک وسیع تر مسابقت کا میدان بن چکا ہے جس میں یورپ کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے والی کئی قوتیں سرگرم ہیں، جن میں امریکہ، ترکی اور روس نمایاں ہیں۔

اور روس، جو اپنے زیرِ اثر ’’افریقہ کور‘‘ کے ذریعے افریقی ساحل کے ممالک میں مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ چکا ہے، کفر اور جرم کی علامت امریکہ کے لیے ایک کرائے کے قاتل سے زیادہ کچھ نہیں۔ اسے اس غلیظ کردار پر آمادہ کرنے والی اصل محرک وہ بین الاقوامی مفادات کی حرص ہے جن کی امیدیں امریکہ نے اسے دلا رکھی ہیں۔

چنانچہ اس بغاوت کی ناکامی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بحران ٹل گیا ہے۔ بلکہ یہ نائجر کے مستقبل پر جاری کشمکش کے ایک نئے مرحلے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے اگرچہ نشانہ بننے والے مقامات پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے، لیکن اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ روسی سہارے کی محتاج ہے۔ دوسری طرف مسلح گروہوں کا دباؤ اور خود فوج کے اندر چھپی بے چینی بدستور موجود ہے، اور یہ سب ایک ایسی ڈرون جنگ کے سائے میں ہو رہا ہے جس نے باقاعدہ فوجوں کو تھکا دینے اور ان کی روایتی عسکری برتری کو گھِسا دینے کی اپنی بھرپور صلاحیت ثابت کر دی ہے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک امر یہ ہے کہ ریاست کا یہ مسلسل زوال جنگ کی پوری نوعیت کو بدل سکتا ہے۔ مسلح گروہ، بالخصوص طالبان کے ماڈل سے متاثر ’’جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین‘‘، محض ریاست کے وسائل نچوڑنے والی قوت سے آگے بڑھ کر اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے فریق میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جیسا کہ شام کا تجربہ اس امر کو ثابت کر چکا ہے۔ یہیں سے ایک اور خطرہ سر اٹھاتا ہے: امریکہ اس تبدیلی کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے ایسی قوتیں پیدا کر سکتا ہے جو زبان سے اسلامی بیانیہ اختیار کریں، لیکن انجام کار عالمی نظام کے ضوابط اور مفادات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیں، حتیٰ کہ یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کی بحالی، یعنی تطبیع، بھی اسی کا حصہ بن جائے۔

اور یوں مستقبل کی جنگ صرف اس سوال پر منحصر نہیں ہوگی کہ اس مسلم ملک پر حکمرانی کون کرے گا، بلکہ اصل معرکہ اس بات پر ہوگا کہ اگر امریکہ نے اپنے ایجنٹ تشیانی سے ہاتھ کھینچ لیا تو اس مسلسل تباہی کے ملبے سے کیسا اسلام اور کیسی ریاست وجود میں آئے گی؟

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سازش کرنے والوں کی سازشوں کو انہی کے خلاف پھیر دے اور مسلمانوں کو جلد از جلد نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ عطا فرمائے، جو استعماری کفار کی نیندیں حرام کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ﴾."اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست، حکمت والا ہے۔  (سورۃ آل عمران : آیت  126)

Last modified onبدھ, 09 ستمبر 2026 22:14

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک