بسم الله الرحمن الرحيم
الرايہ کے متفرقات — شمارہ 616
صفحۂ اول کی پیشانی کے لیے
اے اہلِ سودان! امریکہ اور اس کے حواریوں کو اپنے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی اجازت نہ دو۔یہ بات ہرگز نہ بھولو کہ تم اس عظیم امت کا حصہ ہو جس نے صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کی؛ اس وقت جب تمہاری خلافت قائم تھی اور ایک ایسا خلیفہ تمہاری قیادت کرتا تھا جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق حکومت چلاتا تھا۔ پس نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے سائے تلے امتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے جدوجہد کرو۔
===
ارضِ مبارک فلسطین میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے:
یہودی عورت کے بیٹے
بن غفیر کو جواب وہی ہے جو وہ دیکھے گا، نہ کہ وہ جو سنے گا
بن غفیر نے ایک نہایت سنگین اور شرمناک حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے ایک ایسی ویڈیو نشر کی جس میں وہ ارضِ مبارک کی آزاد، باعزم اور مومن مسلمان قیدی خواتین کے سامنے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ان خواتین کا محض قید میں ہونا ہی غیرت مند لوگوں کے سینوں میں خون کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا۔اگر غیرت صرف دلوں میں نہیں بلکہ عمل میں بھی دکھائی دیتی ،تو ان خواتین پر ظلم و ستم اور انہیں بنیادی ضروریات سے محروم کرنا ایسا واقعہ ہونا چاہیے تھا جو ان میں سے کسی ایک کے سر کے بال کی خاطر بھی پوری پوری فوجوں کو حرکت میں لے آتا۔
لیکن بن غفیر کا اپنی اس گھٹیا حرکت پر فخر کرنا تو ایسا آتش فشاں بن کر پھٹنا چاہیے تھا جو حکومتوں کو گرا دیتا، نظاموں کو بدل ڈالتا اور اس شخص اور اس کے پیچھے کھڑی قوتوں سے انتقام لینے کے لیے پوری امت کو حرکت میں لے آتا؛ یہاں تک کہ ہر مظلوم اور غیور خاتون کو اطمینان حاصل ہوتا، جس کی خاموش فریاد گویا یہ پکار رہی ہے: ہائے اسلام! ہائے خلیفہ!
بیان میں مزید کہا گیا:جہاں تک اس کافر ہ کے بیٹے کی جانب سے اس ویڈیو کو نشر کرنے اور اپنی اس گھناؤنی حرکت پر اترانے کا تعلق ہے، تو اس کا جواب سننے میں نہیں بلکہ دیکھنے میں ملنا چاہیے۔ آزادی اور نصرت کا وقت آ پہنچا ہے؛ ایسا وقت جس میں تاخیر کے بجائے جلدی کرنا لازم ہے۔ اسی موقع پر رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان صادق آتا ہے:«مَنْ كَانَ سَامِعاً فَلَا يُصَلِّيَنَّ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ»"جو شخص میری بات سن رہا ہے، وہ عصر کی نماز بنو قریظہ کے ہاں پہنچ کر ہی پڑھے۔"
لیکن اس کافرہ کے بیٹے کو مسلمانوں کے مردوں کی طرف سے کسی حقیقی ردِعمل کا خوف نہ تھا۔ اس کے مجرم یہودی وجود نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خون کی ندیاں بہا دیں، مگر اسے مردوں کی جانب سے کوئی ایسا طاقتور اور عبرت ناک جواب نہ ملا جو اسے روک سکتا؛ صرف غصے کی وہ آوازیں سنائی دیں جو عمل میں نہ ڈھل سکیں، اور ایسے نعرے بلند ہوئے جو کسی عملی اقدام کا پیش خیمہ نہ بن سکے۔
پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کی جائے اسراء، مسجدِ اقصیٰ، پر بھی دھاوا بولا، مگر وہاں بھی اسے مردوں کی طرف سے کوئی مؤثر مزاحمت نظر نہ آئی اور نہ امت کی جانب سے کوئی ایسی بڑی حرکت سامنے آئی جو اسے روک دیتی۔ یوں اس کی جسارت بڑھتی گئی، کیونکہ اسے محسوس ہونے لگا کہ شاید امت بھی اپنے حکمرانوں ہی کی طرح بے حس ہو چکی ہے اور اس کی فوجیں بھی انہی نظاموں کی طرح بے اثر ہو چکی ہیں۔
چنانچہ وہ سزا سے بے خوف ہو گیا اور ان نعروں کو بھی بھول گیا جو شام کے لوگوں کی جانب سے جہاد کی پکار بن کر دنیا میں گونج رہے ہیں: "ہم آ رہے ہیں، ہم آ رہے ہیں!" مصر کے لوگ پکار رہے ہیں: "ہم جہاد کرنا چاہتے ہیں!" اردن کے لوگ کہہ رہے ہیں: "ہمارے لیے سرحدیں کھول دو!" اور مغرب، یعنی مراکش، کے وہ فوجی جو یوسف بن تاشفین کے سچے وارث ہیں، آزادی کے لیے بے قرار ہیں۔ اسی طرح ترکی میں محمد فاتح اور عبد الحمید کے وارث فوجی بھی تڑپ رہے ہیں اور بیٹھے رہنے کے بجائے حرکت میں آنے کے لیے تیار ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا:حقیقت یہ ہے کہ جس چیز نے اس کافرہ کے بیٹے کو ہمارے خلاف دلیر کیا، وہ یہ یقین نہیں کہ امت کبھی حرکت نہیں کرے گی یا مسلمان فوجی آزادی کے لیے بے تاب نہیں ہیں۔ بلکہ شام وغیرہ میں امت کے ہر ہتھیار کو نشانہ بنانے کی کوشش اس لیے کی جا رہی ہے کہ دشمن انجام سے واقف ہے اور جانتا ہے کہ جنگ آنے والی ہے۔
لیکن ان کافروں کے بیٹوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ نظام جو ان کے اور امت کے دشمنوں کے وفادار ہیں، امت کو لگام ڈالنے اور اس کے دل کی تڑپ کو ٹھنڈا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہی ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے، اور یہی گمان، اللہ کے حکم سے، ان کی تباہی کا سبب بنے گا۔
وہ نہیں جانتے کہ شیر بہت جلد اپنی زنجیریں توڑ کر نکلیں گے، اور امت بہت جلد اپنے حکمرانوں کا گریبان پکڑ لے گی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے وعدے اور رسول اللہ ﷺ کی بشارت کے مطابق نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہونے والی ہے۔ اس دن اس کا سپہ سالار پکارے گا:"لبیک اے میری بہن! تمہاری مدد کر دی گئی ہے۔"
اے کافرہ کے بیٹے! تمہارا جواب وہ نہیں جو تم سنو گے، بلکہ وہ ہے جو تم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے؛ ایسا جواب جو ہر آزاد اور غیور خاتون کے آنسو پونچھے گا، اس سے معذرت کرے گا اور تمہیں ایسا سخت اور عبرت ناک انجام دے گا کہ وہ مثال بن جائے گا۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا:جنگ کا آنا ناگزیر ہے، اور ارضِ مبارک بہت جلد یہودیوں کی ناپاکی سے پاک ہو جائے گی؛ بالکل اسی طرح جیسے سورج کا مشرق سے طلوع ہونا ایک یقینی حقیقت ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اسلام کا پرچم مسجدِ اقصیٰ پر ضرور لہرائے گا۔
امت اور اس کے سپاہیوں پر لازم ہے کہ وہ ان مردہ نظاموں کو دفن کرنے میں تاخیر نہ کریں اور اسلام کو بحیثیتِ نظامِ حکومت، جہاد، فتوحات اور آزادی دوبارہ نافذ کریں۔ اس دن غیور خواتین کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، اور اللہ کے حکم سے وہ دن بہت قریب ہے:
﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾
"اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹنے والے ہیں۔"(سورۃ الشعراء:آیت 227)
===
مسلمانوں کی کون سی فوج دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے نصرۃ (عسکری مدد) کا شرف حاصل کرے گی؟
امریکہ اپنی طاقت کے عروج پر نہیں بلکہ زوال کے ایک واضح مرحلے سے گزر رہا ہے۔ آج وہ مسلمانوں کے اندر موجود اپنے ایجنٹوں اور حواریوں کے سہارے ہی لنگڑاتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔اس کا معاشی زوال اس کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے بحران سے نمایاں ہے، جہاں سرمایہ دارانہ بینک اور کمپنیاں عام امریکی کی زندگی کا خون چوس کر اپنے خزانے سود سے بھر رہی ہیں۔ اس کا عسکری زوال اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اندر موجود اس گروہ پر بھی اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکا جو اس کے سامنے جھکنے سے انکار کر رہا ہے، جبکہ ایران پر زمینی حملہ کر کے اسے فتح کرنے کی اس کی نااہلی بھی اس کی فوجی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔اس کا سیاسی زوال اس کی گہری ریاست کے اندر پڑنے والی دراڑوں سے عیاں ہے، جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں، جبکہ دنیا بھر میں اس کے اتحادی اس کے تکبر اور انہیں تنہا چھوڑ دینے کے رویے پر غم و غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔
اے امتِ اسلامیہ اور اے اس کی افواج! یہ امر کس قدر افسوس ناک ہے کہ اگر ہماری فوجوں میں موجود مخلص افسران اس موقع سے فائدہ اٹھاتے، امریکہ کی بیساکھیوں کو گرا دیتے اور دوسری خلافتِ راشدہ کے سائے تلے اسلامی ممالک کو متحد کر دیتے، تو وہ امریکہ کو ہمارے ممالک سے نکلنے پر مجبور کر سکتے تھے۔اگر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اندر موجود مزاحمت کرنے والا گروہ بھی حزب التحریر کی پکار پر لبیک کہتا اور دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے نصرت فراہم کرتا، تو ایران اسلامی ممالک کو متحد کرنے کا ایک مضبوط مرکز بن سکتا تھا۔
لہٰذا پاکستان، حجاز، ترکی اور مصر کی طاقتور فوجوں میں موجود مخلص افسران کو چاہیے کہ وہ غدار حکمرانوں کا تختہ الٹنے اور حزب التحریر کو نصرت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں، تاکہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ وجود میں آ سکے؛ ایسی خلافت جو کافروں کے ساتھ اتحاد کا خاتمہ کرے اور مسلمانوں کے ممالک کو ایک وحدت میں متحد کر دے۔تو مسلمانوں کی کون سی فوج دینِ حنیف کے غلبے اور تمکین کے لیے سب سے پہلے نصرت پیش کرنے کا شرف حاصل کرے گی؟
===
ٹرمپ نے امریکہ کے استعماری کردار کی حقیقت بے نقاب کر دی
امریکی صدر ٹرمپ نے فنزویلا کے تیل کے 65 ارب بیرل سے زائد کے ذخائر پر امریکی کنٹرول حاصل کرنے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"وزیر خارجہ روبیو اور وزیر دفاع ہیگستھ میری ہدایات کے تحت فنزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد کے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر کے بڑے حصے پر امریکی کنٹرول محفوظ بنانے میں کامیاب رہے ہیں، اور یہ سب امریکی ٹیکس دہندگان پر کسی لاگت کے بغیر ممکن ہوا۔"
اس حوالے سے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا:
ٹرمپ نے اپنے پڑوسی ملک کے وسائل اور تیل پر بلاجواز قبضہ کرنے اور اسے لوٹنے پر فخر کر کے کوئی نئی حقیقت آشکار نہیں کی۔ امریکہ ایسا صرف اس لیے کر رہا ہے کہ وہ زیادہ طاقتور ہے اور طاقت کے اس قانون کو نافذ کرنا چاہتا ہے جس میں طاقتور کمزور کو نگل جاتا ہے۔امریکہ کی یہ حقیقت نہ کوئی راز ہے اور نہ نئی۔ یہ اس کے قیام کے زمانے ہی سے اس کے کردار کا حصہ رہی ہے، جب یورپی آباد کاروں نے لاکھوں مقامی باشندوں کو قتل کیا اور ان کی سرزمین پر اپنی ریاست قائم کی۔پھر گزشتہ صدی کے وسط کے بعد، جب امریکہ اپنی تنہائی سے نکل کر عالمی سیاست میں ایک بڑی قوت کے طور پر ابھرا، تو اس کی استعماریت اپنی بدترین شکل میں سامنے آئی۔ اس نے دنیا کے مختلف ممالک کو نوآبادیاتی نظام کے تابع کیا، مسلم ممالک پر قبضہ کیا، ان میں سے بہت سے ممالک کو اپنا محکوم بنایا اور ان کے عوام پر ایسے حکمران مسلط کیے جو اس کے مفادات کے محافظ بن گئے۔ ان حکمرانوں نے اپنے عوام پر ظلم کیا، ان کے ممالک کو پسماندہ رکھا اور ان کے وسائل لوٹنے میں استعمار کا ساتھ دیا۔یہاں تک کہ آج مسلم ممالک غربت، بھوک اور پسماندگی کی علامت بنے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کی سرزمینیں تیل، گیس اور معدنی دولت سمیت بے پناہ وسائل سے مالا مال ہیں۔ ان ممالک کے عوام بجلی، پانی، روٹی، دوا اور زندگی کی بنیادی ضروریات تک کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ ان کے وسائل ایسے حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہیں جو امریکی اور یورپی استعمار کے مفادات پورے کرتے ہیں۔
اسی لیے پوری دنیا کو دوسری خلافتِ راشدہ کی ریاست کی شدید ضرورت ہے؛ ایسی ریاست جو تمام انسانوں کے لیے عدل اور رحمت کا مظہر ہو اور ٹرمپ جیسے استعمار پسند، متکبر اور جابر حکمرانوں کے ظلم کی جڑیں کاٹ دے۔بلاشبہ اسلام انسان کا وقار بلند کرتا ہے اور اسے ظلم، غربت اور تنگ دستی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی، رحمت اور خوش حالی کی طرف لے جاتا ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی ریاست اس حقیقت کی گواہ ہے۔اسلام نے سرخ و سیاہ، عرب و عجم، غریب و امیر کے درمیان انسانی برابری قائم کی۔ اسلامی ریاست جب کسی سرزمین کو اپنے اقتدار میں لاتی تو اسے لوٹ مار اور نوآبادیاتی استحصال کا میدان نہیں بناتی تھی، بلکہ وہاں کے لوگوں کو تحفظ، خدمت اور عدل فراہم کرتی تھی، تاکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل ہو:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾.
"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔"(سورۃ الانبیاء:آیت 107)
===
آنے والی بہار، خلافتِ راشدہ کی بہار ہے۔
اے امتِ اسلامیہ کے بیٹو! اسلام کا کردار سرمایہ داری میں پیوند لگانا یا اس کے بدصورت چہرے کو خوب صورت بنا کر پیش کرنا نہیں ہے۔ اسلام ظلم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے نہیں آیا، بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے آیا ہے۔اسلام کا فرض انسانیت کو سرمایہ داری کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نور میں لانا اور اس کے ظلم و جرائم سے نکال کر اسلام کے عدل و امان میں پہنچانا ہے۔ اسلام انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلاتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں۔یہی وہ اسلام ہے جسے ہم نافذ کرنا چاہتے ہیں؛ وہ اسلام جو دنیا کی قیادت کرے، نہ کہ کسی گوشے میں مقید ہو کر رہ جائے۔
پس تم اس دین کے انصار بنو اور ان لوگوں کا ساتھ دو جو اسے اس کے حقیقی مقام پر واپس لانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں؛ ایسا دین جو انسانیت کا قائد ہو، پیروکار نہ ہو؛ حاکم ہو، محکوم نہ ہو؛ اور معزز ہو، ذلیل نہ ہو۔
امت کی نجات کا کوئی راستہ نہیں سوائے اس خلافت کے جو اس کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جمع کرے، اس کی حاکمیت بحال کرے، اس کی شریعت نافذ کرے اور اس کا پیغام دنیا تک پہنچائے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿إن تَنْصُرُواْ اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔"(سورۃ محمد:آیت 7)
اللہ کی نصرت اس کے دین کی مدد کرنے، اس کی شریعت نافذ کرنے اور اس کی ریاست قائم کرنے میں ہے۔ ہمیں اللہ کے فضل سے پورا یقین ہے کہ آنے والی بہار خلافت کی بہار ہوگی:
﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُواْ أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾
"اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹنے والے ہیں۔"(سورۃ الشعراء: 227)
﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيباً﴾
"اور وہ کہتے ہیں: یہ کب ہوگا؟ آپ کہہ دیجیے: امید ہے کہ وہ جلد ہی ہوگا۔"(سورۃ الاسراء: 51)
===
اے نوجوانانِ اسلام! اے مسلمانوں کی افواج! بیدار ہو جاؤ اور خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کرو۔
اے امتِ اسلامیہ کے بیٹو! ہم تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ مغرب کے ان ہاتھوں کو روکنے کے لیے جدوجہد کرو جو ہمارے ممالک اور ہمارے وسائل سے کھیل رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بقا کے بنیادی مسائل کی حفاظت کریں اور انہیں عملی طور پر حل کرنے کے لیے کام کریں۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ خلافت کی ریاست کا قیام ہے، جس کے ذریعے ہم مغرب کا مقابلہ کر سکتے ہیں، اسے اپنے ممالک سے نکال سکتے ہیں اور اپنے وسائل کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔غدار حکمرانوں، انسانوں کے بنائے ہوئے دساتیر اور ایسی حکومتوں سے وابستگی بہت ہو چکی جو ہماری حقیقی نمائندگی نہیں کرتیں، خواہ وہ جمہوری ہوں، سیکولر ہوں یا کسی اور انسانی نظریے پر قائم ہوں۔آئیے اس نظامِ حکومت کی طرف لوٹیں جس کے نفاذ کا اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے؛ اسی میں ہماری اور پوری انسانیت کی بھلائی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ﴾
"اور یہ کہ آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔"(سورۃ المائدہ: 49)
اے نوجوانانِ اسلام! اے مسلمانوں کی افواج! بیدار ہو جاؤ اور دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے ہمارے ساتھ مل کر جدوجہد کرو، جس کا رسول اللہ ﷺ نے بشارت دی ہے۔ اگر ہم اپنے دین کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے اور اللہ کی مضبوط رسی کو نہیں تھامیں گے تو ہمارے لیے نجات کا کوئی راستہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
"دین میں کوئی زبردستی نہیں؛ یقیناً ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے۔ پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جس کے لیے کوئی ٹوٹنا نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔"(سورۃ البقرہ: 256)
===
پاکستان کا حقیقی مسئلہ اس پر استعمار کی مضبوط گرفت ہے۔
اے پاکستان کے اہلِ قوت و منعت! پاکستان کا حقیقی مسئلہ اس کے معاملات پر استعمار کا مضبوط تسلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے تمام فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق نہیں کیے جاتے، جو کلمۂ حق "لا إله إلا الله، محمد رسول الله ﷺ" کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔اس کے باوجود سول اور فوجی اشرافیہ کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ ان کی اصل فکر صرف اپنا اقتدار برقرار رکھنا ہے، اور اسی مقصد کے لیے وہ دن رات مصروفِ عمل ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ آپ خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے اپنی ذمہ داری ادا کریں، ان فاسد اشرافیہ سے اقتدار چھینیں اور اسے اس کے حقیقی حق دار، یعنی امت، کے سپرد کریں۔ حزب التحریر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے ایک واضح منصوبے کے ساتھ موجود ہے۔ پس آگے بڑھیں اور اس فرض کی ادائیگی میں اپنا کردار ادا کریں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيماً﴾
"پس نہیں، آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح تسلیم کر لیں۔"(سورۃ النساء: 65)
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾
"کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟"(سورۃ المائدہ: 50)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»"جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں (خلیفہ کی) بیعت نہ تھی، وہ جاہلیت کی موت مرا۔"(صحیح مسلم)
===
کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم ظلم کی ریاستوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور رحمت کی ریاست قائم کریں؟
اے امتِ محمد ﷺ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ﴾
"اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔"(سورۃ الانبیاء: 107)۔
محمد ﷺ کے دین کے نفاذ نے اسلامی ریاست کو ایک شفیق، محفوظ اور باوقار پناہ گاہ بنا دیا اور اس کی خوش حالی کو یقینی بنایا۔ اس ریاست نے اپنے تمام شہریوں کو، ان کے رنگ، نسل یا مذہب سے قطع نظر، خوش حالی میں شریک ہونے کا موقع دیا اور کمزوروں اور مجبوروں کی جانب رحمت کا ہاتھ بڑھایا۔
امام ابو یوسف حنفی نے اپنی کتاب الخراج میں ذکر کیا ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عراق کے شہر حیرہ کے عیسائی باشندوں کے لیے معاہدۂ ذمّہ میں لکھا:"میں نے ان کے لیے یہ طے کیا ہے کہ جو کوئی بوڑھا ہو جائے اور کام کرنے کے قابل نہ رہے، یا اسے کوئی بیماری یا آفت لاحق ہو جائے، یا وہ مال دار تھا پھر محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب کے لوگ اسے صدقہ دینے لگے، تو اس سے جزیہ ساقط کر دیا جائے گا، اور اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو مسلمانوں کے بیت المال سے خرچ دیا جائے گا۔"
خلافت صدیوں تک ظلم سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کے لیے ایک شفیق، محفوظ اور باوقار پناہ گاہ رہی۔ ان میں وہ سفاردی یہودی بھی شامل تھے جنہیں 1492ء میں ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈینینڈ کے حکم پر اسپین سے نکال دیا گیا تھا اور جنہیں سلطان بایزید ثانی نے اپنی ریاست میں پناہ دی۔
اے امتِ محمد ﷺ! ہمارا دین اور ہماری اسلامی تاریخ کتنی خوب صورت ہے! پھر ہم یہ کیسے گوارا کر سکتے ہیں کہ مسلمان اپنے ہی ممالک میں امن، عزت اور وقار سے محروم ہوں، خواہ وہ مقامی شہری ہوں، تارکینِ وطن ہوں یا پناہ گزین؟
ہم مسلم ممالک کے موجودہ حکمرانوں کے ظلم، بے حسی، بخل، غفلت اور تعصب پر کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ہم ظلم پر قائم ان ریاستوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور ان کی جگہ دوسری خلافتِ راشدہ، یعنی ریاستِ رحمت، قائم کریں؟
===
ہمیں اپنے ہاتھوں میں بکھری ہوئی طاقت کی وسعت کا ادراک آخر کب ہوگا؟!
سرکاری حکام اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ پولینڈ ایک طرف یورپ کی سب سے بڑی فوج تیار کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ ایسے دور دراز سپلائرز پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی اور وسطی یورپ کی دفاعی کمپنیوں کی طرف رخ کر رہا ہے جو دفاعی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
الرایہ: اے مسلمانو! اگر پولینڈ جیسا ملک یہ سمجھ چکا ہے کہ آزاد اور خودمختار فیصلہ سازی کے لیے ایسی صنعت، طاقت اور وسائل ضروری ہیں جن پر ریاست کا مکمل اختیار ہو، تو آپ کے لیے اس حقیقت کو سمجھنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ آپ کے اپنے ہاتھوں میں کتنی عظیم طاقت بکھری ہوئی ہے۔
آپ کا خطہ وسائل سے خالی نہیں، نہ محلِ وقوع کے اعتبار سے کمزور ہے، نہ افرادی قوت سے محروم ہے اور نہ ہی ذہین اور باصلاحیت افراد سے۔ لیکن یہ تمام قوتیں ان ریاستوں میں بٹی ہوئی ہیں جنہیں استعمار کی کھینچی ہوئی سرحدیں ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ یوں ایک ہی امت کی طاقت درجنوں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی ہے، جن میں سے کوئی ایک بھی تنہا وہ وزن اور اثر و رسوخ نہیں رکھتی جو اس امت کے متحد ہونے کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے۔
اس لیے ہمیں عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو محض تماشائی بن کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں انہیں ایک ایسی امت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے جو دنیا کے سامنے ایک مکمل نظریۂ حیات پیش کرتی ہے۔
مادی طاقت کے توازن میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اور پرانے نظاموں کی شکست و ریخت ہمارے اس یقین کو مزید مضبوط کرنی چاہیے کہ موجودہ حقیقت خواہ کتنی ہی مستحکم کیوں نہ دکھائی دے، اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ہمارا فرض یہ نہیں کہ ہم امریکہ، چین یا یورپ کے بنائے ہوئے نئے عالمی نظام کا انتظار کرتے رہیں۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے ذریعے اسلامی طرزِ زندگی کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اور منظم جدوجہد کریں، تاکہ ہماری طاقت، ہمارے وسائل اور ہمارے سیاسی فیصلے ایک ہی ریاست میں متحد ہوں اور اقوامِ عالم کے درمیان ہمارا باوقار مقام دوبارہ بحال ہو۔
===
دنیا و آخرت کی فلاح اللہ کی رضا اور اس کی شریعت کے نفاذ میں ہے
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو یہ نعمت عطا کی ہے کہ وہ ایک ایٹمی قوت ہے، اس کے پاس مضبوط فوج اور صنعتی صلاحیت موجود ہے اور اس کے اندر اللہ کی رضا اور شہادت کے حصول کا جذبہ بھی پایا جاتا ہے۔ یہ سب اسے اس قابل بناتا ہے کہ خلافت کے سائے میں امت کے ممالک اور وسائل کو متحد کرنے کا ایک مضبوط مرکز بن سکے۔
00
مثلاً انصار و مہاجرین نے خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت کو تین دن اور تین راتوں سے زیادہ خلیفہ کے بغیر نہیں رہنے دیا۔ اس امت کے لیے دو خلفاء کا بیک وقت ہونا جائز نہیں، تو پھر پچاس سے زیادہ حکمرانوں کا وجود کیسے قابلِ قبول ہو سکتا ہے؟
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الآخَرَ مِنْهُمَا»"جب دو خلفاء کی بیعت کر لی جائے تو ان دونوں میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔"
اے پاک فوج کے بہادر افسران! دنیا و آخرت کی عزت اور حقیقی کامیابی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا میں ہے، اور اللہ کی رضا اس کے قانون کو نافذ کرنے میں ہے۔ ہم اس طاغوتی نظام کو مسترد کرتے ہیں جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے تجاوز کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾
"یقیناً ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے۔ پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جس کے لیے کوئی ٹوٹنا نہیں، اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے۔"(سورۃ البقرہ: 256)
پس ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جو دنیا کے بدلے آخرت خریدتے ہیں:
﴿إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيْهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
"بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس وہ مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ تورات، انجیل اور قرآن میں اللہ کے ذمے سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس اپنے اس سودے پر خوش ہو جاؤ جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔"(سورۃ التوبہ: 111)
بلاشبہ خلافت کی ریاست ہی مسلمانوں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید اور نجات کا راستہ ہے۔
===
فلسطینی انتخابات اس سراب کی مانند ہیں جسے پیاسا شخص پانی سمجھ لیتا ہے
فلسطینی اتھارٹی نے آئندہ نومبر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اگلے سال کے آغاز میں صدارتی انتخابات کرانے کی بات بھی کی گئی ہے۔یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اتھارٹی نے انتخابات کا اعلان کیا ہو، لوگوں کو اس میں مشغول کیا ہو اور پھر اسے منسوخ کر دیا ہو۔ انتخابات کرانے کا فیصلہ بھی اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ امریکہ اور یہودی وجود کے ہاتھ میں ہے؛ ان دونوں کی منظوری اور سرپرستی کے بغیر یہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔
اس حوالے سے ارضِ مبارک فلسطین میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے ایک پریس بیان میں کہا گیا:
اگر یہ انتخابات منعقد ہو بھی جائیں تو ان کی حیثیت ان "اصلاحات" کے مطالبے کو پورا کرنے سے زیادہ نہیں جو فلسطینی اتھارٹی پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یورپی ممالک نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں سیاسی اصلاحات بھی شامل ہیں، خصوصاً اس کے بعد جب خود اس کے سرپرستوں نے اس کی بدعنوانی کی نشاندہی کی۔ ان اصلاحات میں انتخابات بھی شامل ہیں۔
اسی طرح ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے میں بھی "اصلاحات" کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی طرف ایک معتبر راستے کے لیے حالات اس وقت سازگار ہو سکتے ہیں جب فلسطینی اتھارٹی کا اصلاحاتی پروگرام دیانت داری سے نافذ کیا جائے۔
جہاں تک اتھارٹی کا تعلق ہے، تو یہ انتخابات اس کے لیے اپنی بوسیدہ "قانونی حیثیت" کو نیا رنگ دینے کا ایک موقع ہیں؛ ایسی قانونی حیثیت جسے بدعنوانی کھوکھلا کر چکی ہے اور جسے عوام میں شدید نفرت اور حقارت کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اپنے سرپرستوں کے سامنے اپنی ساکھ بحال کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
یہ انتخابات، جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے، حقیقی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ اتھارٹی کے ساتھ مزید فریقوں کو اقتدار میں شریک کرنے کے لیے ہیں۔ انتخابات کے نام پر فلسطینی عوام اور مختلف دھڑوں کو اسی "سانپ کے بل" میں دوبارہ دھکیلا جا رہا ہے جس میں وہ اوسلو معاہدے کے ذریعے داخل ہوئے تھے اور جس سے بے شمار تباہ کن نتائج پیدا ہوئے۔
اس کے ذریعے انہیں آئندہ کی ناکامیوں اور ممکنہ غداریوں کا بوجھ بھی اٹھانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ ایسے کسی بھی اگلے مرحلے کے لیے ماحول سازگار ہو جس میں مزید دستبرداری، مزید پسپائی اور مزید زوال مطلوب ہو۔
خصوصاً اس لیے کہ اتھارٹی نے ایک سابق قانون میں انتخابی امیدواروں کے لیے یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ وہ پی ایل او کے معاہدوں کو تسلیم کریں اور ان کی پابندی کریں۔ گویا وہ امیدواروں پر بھی اسی دستبرداری، غداری، پسپائی اور ناکامی کے راستے کو مسلط کر رہی ہے جس پر وہ خود چلتی رہی ہے، اور جس کی تلخی فلسطینی عوام پہلے ہی چکھ چکے ہیں اور جس کے نتیجے میں ان کا پورا قومی مقدمہ تباہ ہو چکا ہے۔
اس لیے اس عمل میں حصہ لینا، خواہ امیدوار کی حیثیت سے ہو یا ووٹر کی حیثیت سے، اللہ کے ہاں ایک سنگین گناہ اور جرم میں شرکت ہے۔
اور جہاں تک زمینی حقیقت کا تعلق ہے، تو اتھارٹی اپنی "قانون ساز اسمبلی" کہاں قائم کرے گی؟ کس زمین پر، جسے یہودی بستیاں اور یہودی وجود کے بلڈوزر نگلتے جا رہے ہیں؟ کس عوام پر، جنہیں قتل و غارت گری کچل رہی ہے، بھوک ستا رہی ہے اور جبری ہجرت کے منصوبے مسلسل ان کا تعاقب کر رہے ہیں؟
یہ وہ اتھارٹی ہے جو اپنے ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق تک دینے سے عاجز ہے، تعلیمی اور طبی اداروں کی تباہی کو روکنے میں ناکام ہے، یہاں تک کہ وہ ایسے گھر کی مدد بھی نہیں کر سکتی جسے آباد کاروں نے گھیر رکھا ہو، نہ ان کے کسی گروہ کے پتھروں سے بند کی گئی سڑک کھول سکتی ہے اور نہ ہی پانی کے ایک نل پر اس کا کوئی حقیقی اختیار ہے۔پھر یہ کیسی خودمختاری، کیسی آزادی اور کیسے انتخابات ہیں جو قابض فوج کے بوٹوں تلے اور اس کی بندوقوں کے سائے میں منعقد کیے جانے والے ہیں؟
خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ فلسطین کو چاہیے کہ وہ ان انتخابات میں کسی بھی صورت شرکت سے ہوشیار رہیں؛ خواہ انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر، امیدوار کی حیثیت سے یا ووٹر کی حیثیت سے۔
اس عمل کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے، اس میں شر ہی شر نظر آتا ہے۔ اس کا پہلا شر فلسطین سے دستبرداری کے جرم کو تسلیم کرنا اور پی ایل او کی اس سنگین ترین غداری میں بالواسطہ شریک ہونا ہے جو اس نے کی۔دوسرا شر مسئلۂ فلسطین کو اس کے اسلامی اور عقیدتی پس منظر سے جدا کرنا ہے۔تیسرا شر، اور یہ آخری نہیں، ان لوگوں کے منصوبوں کے پیچھے چلنا ہے جنہوں نے غزہ کے لوگوں کا قتل کیا، ان کے خلاف دشمن کی مدد کی، آج بھی ان کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے، ان سے ہتھیار چھین رہے ہیں اور "امن کونسل" کے نام پر انہیں یہودی وجود کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
لہٰذا یہ معاملہ محض کھیل، تماشا یا وقت گزاری نہیں، بلکہ ایک سنگین جرم ہے جو اس میں شریک ہونے والے کے لیے گناہ اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں لائے گا۔ دنیا میں اس سے کوئی خیر حاصل نہیں ہوگی، بلکہ آخرت میں ذلت اور ندامت اس کا انجام ہوگی۔
===




