بسم الله الرحمن الرحيم
سوڈانی خاتون صحافی کی یہود کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی دعوت، جبکہ ان کے ہتھیار اب بھی مسلمانوں کے خون سے ٹپک رہے ہیں!
تحریر: استاد محمد جامع (ابو ایمن)
(ترجمہ)
یہ انتہائی توہین آمیز اور شرم ناک بات ہے کہ سوڈان،جو رکوع و سجود کرنے والوں، جنگجوؤں اور مجاہدین کی سرزمین ہے،میں کوئی خاتون صحافی یہودی وجود کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے (نارملائزیشن) کی دعوت دے، جبکہ پوری دنیا ان کے ان جرائم کا مشاہدہ کر رہی ہے جن سے صرف وہی شخص غافل رہ سکتا ہے جو یا تو اس سازش کا حصہ بن چکا ہو اور اس کی قیمت وصول کر رہا ہو، یا پھر عقل و بصیرت سے بالکل محروم ہو چکا ہو۔
خاتون صحافی رشان اوشی نے 29 اگست 2026ء کو ’’ہم اسرائیل کو ملیشیا کے لیے کیوں چھوڑ دیں؟‘‘ کے عنوان سے ایک طویل مضمون لکھا۔ گویا وہ کسی دوسری دنیا میں رہتی ہوں اور یہود کے ان جرائم سے بے خبر ہوں جنہوں نے دنیا کے گوشے گوشے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، یہاں تک کہ لوگ خود ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں؛ حتیٰ کہ امریکہ میں بھی، جو اس مسخ شدہ وجود کا سب سے بڑا سرپرست اور حامی ہے۔
انہوں نے اپنے صفحے پر یہ مضمون اس انداز سے تحریر کیا ہے جیسے ان کا اس عظیم امت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو، جس کے مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قید کرنے اور قتل کرنے میں یہود کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے۔
اپنے اس مذموم مضمون میں وہ لکھتی ہیں:’’اگر ملیشیا اسرائیل کو تلاش کر رہی ہے اور اس کے ساتھ رابطے کے ذرائع کھول رہی ہے، تو پھر سوڈانی ریاست نے اس میدان کو کیوں خالی چھوڑ رکھا ہے؟ اسرائیل برسوں سے ایک وسیع علاقائی اثر و رسوخ کے منصوبے پر کام کر رہا ہے، اور بحیرۂ احمر اس کے اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے۔ وہ بحری سلامتی، بندرگاہوں، زراعت، پانی، توانائی اور قدرتی وسائل کو اسٹریٹجک شعبوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری طرف، سوڈان کے پاس طاقت کے ایسے وسائل ہیں جو بہت سے ممالک کے پاس نہیں: ایک غیر معمولی جغرافیائی محلِ وقوع، بحیرۂ احمر پر طویل ساحلی پٹی، وسیع زرعی اراضی، مویشی اور معدنی دولت، اور پانی کے بے پناہ وسائل۔ تو کیا ہم ان تمام وسائل کو زمین کے اندر ہی دبا رہنے دیں اور پھر یہ شکایت کریں کہ دوسرے ان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟‘‘
اگر یہ ذلت، محکومی اور ایسے حملہ آور دشمن کے سامنے اپنی سرزمین اور وسائل کو سرنڈر کرنا نہیں ہے جو قتل و غارت گری اور لوٹ مار میں مصروف ہے، تو پھر اسے کیا نام دیا جائے؟!
حقیقت یہ ہے کہ کوئی صحافی اس نوعیت کی زہریلی اور مشکوک دعوت دینے کی جرأت اس وقت تک نہیں کر سکتا جب تک اسے ملک کے ان سیاسی اور فوجی رہنماؤں کی طرف سے ہری جھنڈی نہ مل چکی ہو، جو پہلے ہی یہود کے ساتھ اتفاقِ رائے کر چکے ہیں اور جنگ سے چند ماہ قبل خرطوم میں یہودی سیاسی، فوجی اور سیکورٹی وفود اور رہنماؤں کا استقبال کر چکے ہیں، یعنی ان قاتلوں کا، جن کے ہاتھ آج بھی مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
اور ذلت و رسوائی کی انتہا یہ ہے کہ سوڈانی وزیرِ دفاع یاسین ابراہیم نے جنوری 2021ء میں یہود کے اس وقت کے وزیرِ انٹیلی جنس ایلی کوہن کو ایک M16 رائفل تحفے میں دی تھی۔ کوہن نے اس وقت عبرانی ویب سائٹ ’’وائی نیٹ‘‘ (Ynet) کے ذریعے تصدیق کی تھی کہ وہ اس تحفے پر حیران رہ گئے تھے، اور انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ ایک حقیقی اسالٹ رائفل تھی، محض کوئی کھلونا نہیں۔ تو پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ ایک فوجی کمانڈر اپنا ہتھیار اپنے ہی دشمن کو تحفے میں دے رہا ہو؟!
آج بعض صحافیوں اور دیگر افراد کی جانب سے تعلقات معمول پر لانے (نارملائزیشن) کے حوالے سے جو ذلت آمیز بیانات سامنے آ رہے ہیں، ان کی صرف ایک ہی تشریح ہو سکتی ہے: یہ کہ یہود کے ساتھ ایک گندی سیاسی کھچڑی پکائی جا رہی ہے، جسے حکومت آگے بڑھانا چاہتی ہے، حالانکہ وہ خود جانتی ہے کہ یہ ایک گھناؤنا جرم ہے اور اس ملک کے لوگوں کے عقیدے پر حملہ ہے۔ وہ لوگ جو یہود کی غداری کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور وہ پوری دنیاسمیت امت کے خلاف یہود کے جرائم،قید و بند، بے دخلی، قتل اور تباہی،کا مشاہدہ کر رہے ہی۔
اس سے پہلے کہ اس کھچڑی کے عیوب یا اس متوقع غدارانہ معاہدے کے پردے چاک ہوں، اللہ انہیں رسوا کرے اور ان کے گناہ آلود منصوبے کو ناکام بنائے۔یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب استعمار اور غاصبانہ قبضے کے ساتھ کیے جانے والے جرائم اور معاہدوں نے شرم و حیا کے تمام پردے چاک کر دیے ہیں، اور ہمارے ملک کے سیاسی حلقے اور بعض فوجی رہنما ان حرکتوں کے عادی ہو چکے ہیں۔
اکثر حکومتیں متعدد صحافیوں کو اپنے لیے استعمال کرتی ہیں اور ان کے ذریعے آزمائشی غبارے چھوڑتی ہیں، تاکہ امت کے موقف اور اس کے ردِعمل کا اندازہ لگایا جا سکے: آیا ردِعمل معمولی ہوگا یا ایسا طاقتور، طوفانی اور حقائق کو بے نقاب کر دینے والا کہ پورے منصوبے کے چہرے سے نقاب اتر جائے؟ اور اس معاملے میں ردِعمل ایسا ہی ہونا چاہیے: طاقتور، طوفانی اور پردہ چاک کر دینے والا،بغیر کسی لگی لپٹی کے، کیونکہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔
یہ انتہائی ڈھٹائی اور غداری ہے کہ کوئی شخص،خواہ وہ صحافی ہو، سیاست دان ہو یا فوجی،ہمیں قاتل یہود ،جو بندر اور سور کے بھائی ہیں،کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی دعوت دے۔ہم مسلمان بہترین امت ہیں، اور ہمیں ان سے ہمیشہ تکلیف پہنچتی رہی ہے۔ جنوبی سوڈان کی جنگ اور اس کی علیحدگی کے اثرات آج بھی باقی ہیں۔ یہ وہ جرم تھا جس کی سرپرستی امریکہ نے کی اور جس میں یہودی وجود نے ابلاغی، عسکری اور سیکورٹی کے محاذوں پر کھلے طور پر حصہ لیا۔پھر یہود کے داخلی سیکورٹی کے ڈائریکٹر آوی ڈیکٹر کا ستمبر 2008ء کا وہ مشہور لیکچر بھی ہے، جو سوشل میڈیا پر نشر ہوا تھا اور جس میں سوڈان کے خلاف اس سازش اور گٹھ جوڑ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ جنوبی سوڈان کی علیحدگی میں شریک رہے ہیں اور اب دارفور کو الگ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔آج وہی منصوبہ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، اور اس میں سیاست دان، فوجی اور صحافی سب اپنے اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔چنانچہ اس خاتون صحافی کی جانب سے یہود کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی دعوت کو معصومانہ یا محض ایک ذاتی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وجوہات اور جواز کچھ بھی پیش کیے جائیں، یہ اسی سازش کے تسلسل کا حصہ ہے۔
پس ہمارے خلاف سازش کرنے والے ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم مسلمان ایک عظیم امت ہیں، اور دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند اور وسائل سے مالا مال خطوں کے مالک ہیں۔ ہمیں اپنی زمین اور اس کی دولت اپنے دشمنوں کے حوالے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اور ایسی مشکوک اور غداری سے لبریز دعوتوں کے پیچھے، خواہ وہ کسی صحافی کی طرف سے آئیں، کسی سیاست دان کی طرف سے یا کسی فوجی کی طرف سے، دشمن کی غلامی اور اس کی دلالی کے سوا کوئی حقیقی محرک نہیں ہو سکتا!
سوڈان کے معزز اور مخلص صحافیو! آپ مسلمان ہیں، اور آپ پر لازم ہے کہ اپنی امت کی صفوں میں کھڑے ہوں، نہ کہ ان دشمنوں کی صفوں میں جو ہمارے خلاف گھات لگائے بیٹھے ہیں۔
اور اے خاتون صحافی اوشی! اپنے نفس، اپنے ملک اور اپنی قوم کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ یہود جس سرزمین پر بھی اترے، وہاں فساد، بربادی اور تباہی کے آثار نمایاں ہوئے۔ اور مسجدِ اقصیٰ، جو رسول اللہ ﷺ کے سفرِ اسراء کی منزل ہے، آج بھی یہود کے قبضے میں اور غصب شدہ ہے۔
غزہ کے واقعات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں اور ان لوگوں کے جرائم کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں جن کے ساتھ یہ خاتون صحافی ہمیں معاہدہ کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کی دعوت دے رہی ہیں۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ غزہ کو حکمرانوں نے بے یار و مددگار چھوڑ رکھا ہے؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آزاد اور باعفت خواتین اس پر آنسو بہا رہی ہیں اور مرد اس کی مدد کرنے سے عاجز ہیں؟!تاریخ یہود کے جرائم کی گواہیوں سے بھری پڑی ہے، اور قرآن سب سے بڑی گواہی ہے۔ کیا آپ نسل کشی کے اس سلسلے کو نہیں دیکھ رہے جو غزہ میں اب تک جاری ہے؟! کیا آپ تاریخ نہیں پڑھتے؟! بلکہ کیا آپ قرآن نہیں پڑھتے؟!اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾
’’یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے سخت دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔‘‘(سورۃ المائدہ:آیت 82)
اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی ریاست کا سوال کرتے ہیں جو اسلام کو قائم کرے، تیری شریعت کو نافذ کرے، امت کو متحد کرے اور زمین پر کمزوروں اور مظلوموں کی مدد کرے۔اے رب العالمین! ہم تجھ سے نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کا سوال کرتے ہیں۔
ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے نائب ترجمان