Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

استعماری امریکہ پر انحصار کے تباہ کن اثرات

 

تحریر: استاد یوسف ارسلان

(ترجمہ)

 

جدید امریکی استعمار محض فوجی اور اقتصادی تسلط مسلط کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا اختاپوسی(Octopus)  نظام ہے جو کمزور اور مظلوم اقوام کے ذہن، طرزِ فکر اور کائنات کے بارے میں ان کے تصور پر سب سے پہلا اور سب سے مہلک وار کرتا ہے۔ اس بالادست قوت پر انحصار درحقیقت فکری اور سیاسی غلامی کی زنجیروں کو رضاکارانہ طور پر قبول کرنے کے مترادف ہے؛ کیونکہ مغربی استعمار پر کسی بھی بہانے تکیہ کرنا آزادی کو پامال کرتا ہے اور قوموں کو ایسے بے بس آلات میں تبدیل کر دیتا ہے جو بالآخر امریکہ کے مفادات ہی کی خدمت کرتے ہیں۔

ذیل میں اس تباہ کن انحصار کے نتیجے میں سامنے آنے والے پانچ فیصلہ کن اثرات کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے: 

اول: فکری اور ثقافتی شناخت کا چھینا جانا

 اس غلامی کا پہلا اور سب سے تباہ کن نتیجہ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی ثقافت اور اس کی عقیدتی بنیادوں کو مغربی بھٹی میں پگھلا دیا جائے۔ چنانچہ امریکہ امت کی شناخت چھیننے اور اس کے بیٹوں کے دلوں میں مزاحمت کی چنگاری بجھانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے؛ جن میں سیکولرازم کا فروغ، قوم پرستانہ نعروں کی ترویج، سیاسی حقیقت پسندی کی تلقین، اور شناخت کو مسخ کرنے والے منصوبے، مثلاً گمراہ کن ’’ابراہیمی معاہدات‘‘ اور ’’ابراہیمی وفاقیت‘‘ کے تصورات شامل ہیں۔اسی طرح امریکہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کی راہ روکنے، ان کی عظمتِ رفتہ اور وقار کی بحالی کو سبوتاژ کرنے اور خلافت کے پرچم تلے ان کے جغرافیائی و سیاسی اتحاد کو ناممکن بنانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ امت کے سیاسی طرزِ فکر کو تبدیل کرتا، اس کے حکمرانوں کو اپنا مطیع بناتا اور اسلامی ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے نرم و سخت، دونوں طرح کے استعماری حربے استعمال کرتا ہے۔اس جارحانہ پالیسی کا مقصد اسلامی عقیدے کی جگہ مغربی مادی اقدار کو مسلط کرنا اور اسلام سے پھوٹنے والی ہر آزاد سیاسی فکر کو کچل دینا ہے، تاکہ اسلامی ممالک پر اپنے مستقل تسلط کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

دوم: مفاد کا سراب اور منظم بے وفائی

 بعض مقتدر حلقے اور جماعتیں سیاسی حقیقت پسندی اور مفاد جیسے پرکشش مگر گمراہ کن نعروں کی آڑ میں مغرب اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ پہلے اقتصادی اور فوجی طاقت حاصل کی جائے، پھر کسی وقت امت کی امنگوں کو پورا کیا جا سکے گا۔مگر گزشتہ صدی کے تجربات نے اس دعوے کو یکسر باطل ثابت کر دیا ہے۔ یہ مفروضہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شیطان سے اس امید پر صلح کر لے کہ بعد میں اسے شکست دینے کے لیے طاقت جمع کر لی جائے گی!اسی مفاد پرستانہ منطق کے تحت ترکی، شام، پاکستان، سعودی عرب، خلیجی ممالک، اردن اور مصر کے حکمران غزہ اور امت کے دیگر مسائل کے ساتھ صریح غداری کر رہے ہیں۔ مظلوموں کی مدد کے لیے اپنی فوجیں حرکت میں لانے کے بجائے یہ حکومتیں امریکہ کے لیے حفاظتی حصار بن چکی ہیں اور اپنے کردار کو ایسے ثالثی اقدامات تک محدود کر چکی ہیں جن کا مقصد یہودی وجود کو تحفظ دینا، امریکی بحرانوں پر قابو پانا اور فوجی معاہدوں پر دستخط کرنا ہے۔ 

سوم: عہد و پیمان اور معاہدوں کی خلاف ورزی

 امریکی سفارت کاری عہد و پیمان اور معاہدوں کو کسی اخلاقی قدر سے عاری کر کے انہیں محض دشمن کو دھوکا دینے، وقت حاصل کرنے اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے سٹریٹیجک حربوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔متعدد بین الاقوامی واقعات اس بنیادی اور ساختی عہد شکنی کی گواہی دیتے ہیں؛ مثلاً ایران کے جوہری معاہدے سے یک طرفہ دست برداری، پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی، اور تحریکِ طالبان کے ساتھ دوحہ معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں۔اس غداری کی بدترین صورت غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ کے دوران یہودی وجود کو مالی اور فوجی امداد فراہم کرنے اور بارہا حقِ استرداد (ویٹو) استعمال کرنے کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ یوں ایک طرف امریکہ جھوٹے طور پر انسانی حقوق کا راگ الاپتا ہے، اور دوسری طرف قابض فوج کے اسلحہ خانے کو مسلسل ہتھیاروں سے بھرتا رہتا ہے، تاکہ دسیوں ہزار مسلمان عورتوں اور بچوں کے خون بہانے میں براہِ راست شریکِ جرم رہے۔ 

چہارم: گماشتوں اور آلاتِ کار کا ناگزیر انجام

 وہ گماشتہ حکمران جو قبضے اور استعمار کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ پر بھروسا کرتے ہیں، ان کا انجام بالآخر انتہائی ذلت آمیز ہوتا ہے۔امریکی سرپرستی میں چلنے والے ٹیکنوکریٹس کا شرم ناک فرار،جس کی ایک نمایاں مثال افغانستان سے اشرف غنی کا فرار ہے، اور جس پر زلمے خلیل زاد بارہا سرِعام الزام عائد کر چکے ہیں،اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔پاکستان کا سیاسی منظرنامہ بھی اسی حقیقت کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے۔ یہاں امریکہ نے اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کے لیے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو استعمال کیا، اور جب ان کی ضرورت ختم ہو گئی تو پاکستانی فوج کی قیادت کے ساتھ سازش کرتے ہوئے خفیہ سائفر پیغام نمبر I-0678 کے ذریعے ان کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ اقتدار سے بے دخل ہوئے اور پھر جیل بھیج دیے گئے۔امریکہ اپنے آلاتِ کار سے مقصد حاصل کر لینے کے بعد انہیں بے رحمی سے تنہا چھوڑ دیتا ہے؛ بلکہ ان کے معاشروں میں پھیلنے والی ناکامی، بدعنوانی اور افراتفری کا تمام تر ملبہ بھی انہی کے کندھوں پر ڈال دیتا ہے! 

پنجم: امریکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرہ ہے

 امریکی استعمار کا یہ سرطان صرف اسلامی دنیا تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانیت اس کے ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ یوکرین کا بحران اور نیٹو کے جغرافیائی و سیاسی تنازعے میں کیف کو قربانی کا بکرا بنانا اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔لاطینی امریکہ میں وینزویلا کے حالیہ واقعات نے بھی اس تسلط کے لٹیرا مزاج بے نقاب کر دیا ہے۔ کاراکاس پر برسوں تک مسلط کیے گئے تباہ کن اقتصادی محاصرے کے بعد امریکہ نے اپنا تسلط قائم کیا اور وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لیا۔ یہی استعماری چیرہ دستی دنیا کی مختلف قوموں کو دائمی غربت اور ہمہ گیر بدعنوانی کی دلدل میں دھکیلنے کی بنیادی وجوہ میں سے ایک ہے۔

 مسلمانوں کی ایک پوری صدی کی ذلت اور لاکھوں مظلوموں کے قافلوں کا انجام اس حقیقت کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے کہ استعمار کی زنجیروں سے نجات اس مسلط کردہ مغربی نظام سے مکمل علیحدگی اور نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کی ریاست کے قیام کے بغیر ممکن نہیں۔امریکہ دنیا میں اپنے گماشتوں پر جو ذلت و خواری مسلط کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور فوجوں کو جہنم کے دروازوں کی طرف بھی دھکیل رہا ہے۔ اس کے بدلے وہ اسلامی سیاسی فکر سے دست بردار ہو جاتے ہیں، دین کو قائم اور غالب کرنے سے منہ موڑ لیتے ہیں اور مظلوموں کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ یوں وہ انہیں بھی اپنے ساتھ اسی عبرت ناک انجام کی طرف لے جاتا ہے۔پس صرف خلافت ہی، اپنے حقیقی سیاسی استقلال اور اسلامی سیاسی فکرِ قائد کی بحالی کے ذریعے، اس مغربی استعماری اختاپوس کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؛ اور وہی سرمایہ دارانہ نظام کے ظلم و استحصال سے انسانیت کو نجات دلا کر اسلام کے عدل اور اس کی وسعت و فراخی سے بہرہ مند کر سکتی ہے۔

 

 ولایہ افغانستان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے سربراہ

Last modified onبدھ, 09 ستمبر 2026 21:59

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.