بسم الله الرحمن الرحيم
امریکہ کے اثر و رسوخ کے رحم و کرم پر مصر-چین شراکت داری
تحریر: استاد سعید فضل
(ترجمہ)
چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ، 2 ستمبر 2026ء کو مصر کا دورہ کیا۔ اسے اگرچہ ایک اقتصادی دورہ قرار دیا گیا، لیکن یہ ان کے گزشتہ دورۂ مصر کے دس سال بعد ہوا ہے، اس لیے اسے محض ایک معمول کے اقتصادی دورے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ دورے کے دوران ’’مصر وژن 2030‘‘ اور ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ اقدام کے فریم ورک کے تحت باہمی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر معیشت، تجارت، صنعت، سپلائی چینز، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے شعبوں میں تعاون سے متعلق 20 سے زائد دستاویزی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ اسی طرح نہرِ سوئز کے علاقے میں قائم مصری-چینی صنعتی زون ’’تیڈا‘‘ کے تیسرے مرحلے کا بھی آغاز کیا گیا، جس میں قابلِ تجدید توانائی، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور انجینئرنگ جیسی صنعتوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعمیراتی منصوبوں یا محض چینی مصنوعات کی درآمد تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے صنعتی اور تکنیکی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بھی گفتگو ہوئی۔
اس دورے کا گہرائی سے جائزہ لینے والے کے لیے یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کی نظریں مسلم ممالک کے وسیع وسائل پر جمی ہوئی ہیں۔ وہ ان ممالک کو ایسے خزانے کے طور پر دیکھتی ہیں جو لوٹے جانے کے لیے تیار پڑے ہیں، اور ساتھ ہی اپنی مصنوعات کے لیے ایسی صارف منڈیوں کے طور پر بھی دیکھتی ہیں جہاں وہ اپنی تیار کردہ اشیا کھپا سکیں۔ ان مصنوعات کی تیاری میں مسلمانوں کے ممالک سے سستے داموں حاصل کیے گئے توانائی کے وسائل اور خام مال استعمال کیے جاتے ہیں، پھر انہی سے تیار شدہ مصنوعات انہی ممالک کو مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے بیس معاہدوں کا بڑا حصہ بالآخر چین کے مفاد میں جاتا دکھائی دیتا ہے، اور یہ بات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن میں موجود وسیع فرق سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔ صرف 2026ء کی پہلی ششماہی میں چین سے مصر کی درآمدات تقریباً 10.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مصری برآمدات 600 ملین ڈالر سے بھی کم رہیں۔ یوں صرف چھ ماہ میں تقریباً 9.8 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا۔اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ چین کی برآمدات میں زیادہ تر تیار شدہ صارف مصنوعات شامل ہیں، جبکہ مصر کی برآمدات میں زرعی و غذائی اجناس، کھادیں، کیمیکلز اور تعمیراتی سامان جیسے اہم اور بنیادی مواد شامل ہیں۔
افریقہ بالعموم اور مصر بالخصوص میں اپنی منڈیوں کو وسعت دینے کی چینی کوششوں کے ساتھ ساتھ چین نے مصر میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا کر تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچا دی ہے، جبکہ اسے تقریباً 14 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ مصر میں تقریباً تین ہزار چینی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے لگ بھگ 200 نہرِ سوئز کے اقتصادی زون میں سرگرم ہیں۔ اس کے ساتھ نہرِ سوئز کے علاقے میں صنعتی زون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز چین کو عالمی تجارت کے لیے اس غیر معمولی اہمیت کے حامل خطے میں مزید گہرا اقتصادی اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
چنانچہ چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ مصر کو محض دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کی تجارتی منڈیوں پر چین اور امریکہ کے درمیان جاری رسہ کشی کے ایک اہم مرحلے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اگرچہ شی جن پنگ کا یہ دورہ چین کے لیے، بالخصوص ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں، اہم اقتصادی اور تکنیکی مواقع رکھتا ہے، لیکن امریکہ نوازی میں ڈوبے مصر کے حقیقی حالات، اور اس کے حکمرانوں اور سیاسی و معاشی حلقوں کے امریکی کٹھ پتلی اور کارندے ہونے کی حقیقت سے ناواقفیت چینی صدر کی سیاسی بصیرت پر سوال اٹھاتی ہے۔ یا پھر یہ ان کی اس حرص کا نتیجہ ہے جس نے ان کے سیاسی شعور پر پردہ ڈال دیا ہے۔حقیقت بہرحال یہ ہے کہ یہ معاہدے عملی مرحلے میں چین کے لیے اس وقت تک کوئی خاص فائدہ نہیں لا سکتے جب تک ان پر عمل درآمد نہ ہو۔ اصل مسئلہ صرف معاہدے پر دستخط کر دینا نہیں، بلکہ اسے عملی جامہ پہنانا ہے۔ اور اس عمل درآمد کا اختیار مصری فریق کے دستخط کنندگان کے پاس نہیں؛ انہیں واشنگٹن میں موجود اپنے آقا ٹرمپ کی جانب سے سبز اشارے کا انتظار کرنا ہوگا۔اور یقیناً یہ سبز اشارہ اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک اس میں خود امریکہ کا کوئی مفاد پوشیدہ نہ ہو، یا اسے چین کے خلاف مختلف متنازع فائلوں میں دباؤ کے ایک ایسے کارڈ کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے جسے واشنگٹن ضرورت کے وقت چین کے خلاف بروئے کار لائے۔
وہ شخص سخت غلط فہمی میں مبتلا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے تجربہ کار سیاست دانوں، جن میں چینی صدر بھی شامل ہیں، کے پاس لازماً گہری سیاسی بصیرت اور غیر معمولی حکمتِ عملی ہوتی ہے۔ حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔یہ دورہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ چینی صدر سیاسی فہم و فراست سے محروم ہیں؛ کیونکہ چین اور مصر کے درمیان محض تجارتی معاہدے کر لینا اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں اربوں ڈالر جھونک دینا کافی نہیں۔ چین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ان سرمایہ کاریوں کو دیگر استعماری حریفوں، بالخصوص امریکہ، سے بھی محفوظ رکھے۔مثال کے طور پر، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ جن ممالک سے گزرتا ہے، ان میں سے بیشتر امریکی اثر و رسوخ کے تابع ہیں۔ چنانچہ امریکہ جب چاہے، چین پر دباؤ ڈالنے یا اسے بلیک میل کرنے کے لیے کسی بھی مرحلے پر اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر سکتا ہے۔اسی لیے چینی صدر کے اس دورے اور ’’ٹرمپ کے پسندیدہ ڈکٹیٹر‘‘ سیسی کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی کامیابی بالآخر امریکہ کی رضامندی پر منحصر ہے، اور یہ تصور کرنا بھی بعید از قیاس ہے کہ امریکہ کبھی ایسے معاہدوں پر خوش دلی سے رضامند ہوگا ۔
دنیا میں موجود استعماری قوتیں مسلم مملاک میں موجود وسائل کی وسعت سے بھی واقف ہیں اور ان کے سٹریٹیجک محلِ وقوع کی اہمیت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طاقتیں ان وسائل اور علاقوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔اور ان قوتوں کے درمیان جاری اس کشمکش کا سب سے اہم ہتھیار یہی کٹھ پتلی حکومتیں ہیں۔ اگر یہ کٹھ پتلی نظام موجود نہ ہوتے جو استعمار کو امت کے وسائل پر قابض ہونے کا راستہ فراہم کرتے ہیں، تو امت خود اپنی ان دولتوں اور نعمتوں سے فائدہ اٹھاتی اور معاشی، تکنیکی اور تجارتی اعتبار سے ایک خوش حال اور ترقی یافتہ امت بن چکی ہوتی۔اس لیے امت اور اس کے مخلص اہلِ قوت و اقتدار پر لازم ہے کہ وہ ان کٹھ پتلی نظاموں کا خاتمہ کریں اور ایسے خلیفۂ راشد کو قائم کریں جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکومت کرے، تاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے راضی ہو اور امت ان خیرات و برکات سے بہرہ مند ہو سکے جو اللہ نے اس کے لیے ودیعت کر رکھی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾
’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا، تو ہم نے انہیں ان کے ان کرتوتوں کی پاداش میں پکڑ لیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔‘‘ (سورۃ الاعراف:آیت 96)
ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن