بسم الله الرحمن الرحيم
آبی گزرگاہیں: عالمی تجارت کی چابیاں کس کے ہاتھ میں ہیں؟
تحریر: استاد مونس حمید – ولایتِ عراق
(ترجمہ)
آبی گزرگاہیں محض سمندری راستے نہیں ہیں، بلکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی شہ رگیں ہیں۔ آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب اور نہرِ سوئز تک پھیلی یہ گزرگاہیں مشرق کو مغرب سے جوڑتی ہیں، اور ان میں پیدا ہونے والا کوئی بھی خلل اپنے دائرۂ اثر کو محض اسی خطے تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ توانائی کی قیمتوں، جہاز رانی، بیمہ اور بالآخر پوری عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی اور قائم کردہ اتحادوں کے ذریعے ان گزرگاہوں کی سلامتی پر اثرانداز ہونے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے قانونی طور پر ان آبناؤں کا مالک بننے کی ضرورت نہیں؛ اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جہاز رانی کے تحفظ کی سب سے مؤثر قوت بن جائے، یا اس کے برعکس، کسی بھی مقام پر خطرے کی سطح کو اس حد تک بڑھانے کی قدرت رکھے کہ دنیا اس کی مداخلت کی محتاج ہو جائے۔
یہیں آبنائے ہرمز کی حقیقی اہمیت سامنے آتی ہے۔ یہ محض ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعے کا ایک نقطہ نہیں، بلکہ دباؤ کا ایسا اہم پتہ ہے جس کے اثرات سب سے پہلے چین اور یورپ تک پہنچتے ہیں۔ چین اپنی توانائی اور تجارت کی مسلسل اور محفوظ ترسیل پر انحصار کرتا ہے، جبکہ یورپ تیل و گیس کی قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات میں کسی بھی بڑے اتار چڑھاؤ سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ چنانچہ ہرمز میں پیدا ہونے والا کوئی بھی بڑا خلل خلیج کی حدود سے نکل کر ایک وسیع معاشی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
امریکہ کے لیے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کرنا ہرگز ضروری نہیں؛ کیونکہ اس کا مکمل انسداد عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا، اور ممکن ہے کہ خود امریکی معیشت بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ امریکہ اس آبنائے کی سلامتی، استحکام اور جہاز رانی کی آزادی پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت اپنے ہاتھ میں رکھے۔ یوں وہ ہرمز کو ایران اور اپنے دیگر حریفوں کے ساتھ کشمکش میں مذاکرات اور دباؤ کے ایک مؤثر پتے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں خطے، بالخصوص عراق میں، ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے امریکی اقدامات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ معاملہ شاید محض ایران کے بازو کاٹنے تک محدود نہیں، بلکہ مقصد اسے اپنے علاقائی اثر و رسوخ سے حتی الامکان محروم کرنا بھی ہے، تاکہ وہ امریکی مفادات یا جہاز رانی اور توانائی کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہ بن سکے۔
اس صورتِ حال میں ایک ممکنہ اور شاید سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ منظرنامہ یہ ہے کہ جہاز رانی بالآخر اپنی معمول کی حالت پر واپس آ جائے، لیکن کسی وسیع تر علاقائی مفاہمت کے فریم ورک کے تحت، جس کی تشکیل میں واشنگٹن ایک بنیادی اور فیصلہ کن فریق ہو۔
اور حیرت انگیز تضاد بھی یہی ہے: دنیا چاہتی ہے کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی اور محفوظ رہے، جبکہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی سلامتی کے باب میں فیصلہ کن اختیار اسی کے ہاتھ میں ہو۔ چنانچہ اصل معرکہ صرف آبنائے پر قبضے یا اس کی بندش کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ اس کی سلامتی کی چابی کس کے ہاتھ میں ہے، اور کون اس راستے پر اثرانداز ہونے کی قدرت رکھتا ہے جس سے عالمی تجارت گزرتی ہے۔
چنانچہ بعید نہیں کہ ہرمز بالآخر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایک ایسا اہم پتہ بن جائے جس کے اثرات خلیج کی حدود سے کہیں آگے، چین، یورپ اور پوری عالمی معیشت تک پہنچیں۔
کیونکہ اصل لڑائی آبنائے پر نہیں، اس کی چابیوں پر ہے۔
اور اسی لیے آبنائے ہرمز کو محض ایک الگ تھلگ جغرافیائی مقام سمجھنا درست نہیں۔ یہ درحقیقت توانائی، تجارت، سلامتی اور عالمی اثر و رسوخ کے درمیان جاری ایک بڑی کشمکش کا اہم ترین محاذ ہے۔
ایران ان قوت کے پتوں کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا جو اسے امریکہ کے مقابلے میں سیاسی وزن عطا کرتے ہیں۔ چین ایک محفوظ، مستحکم اور بلا تعطل تجارتی و توانائی کا راستہ چاہتا ہے۔ یورپ کی خواہش ہے کہ توانائی کے ذرائع اور سمندری گزرگاہیں جغرافیائی سیاسی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ہتھیار نہ بنیں۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، تو وہ مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے میدان میں خود کو ایسی ناگزیر قوت کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے جسے نظرانداز کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔
لہٰذا آبنائے ہرمز کا اپنی معمول کی حالت پر واپس آنا محض کسی عارضی بحران کے خاتمے کی علامت نہیں ہوگا، بلکہ یہ کسی وسیع تر معاہدے کا حصہ بھی بن سکتا ہے؛ ایسا معاہدہ جس کے نتیجے میں جہاز رانی بحال رہے، عالمی تجارت کا پہیہ چلتا رہے، مگر ایک نئے سکیورٹی انتظام کے تحت، جو بالآخر یہ طے کرے کہ اس اہم عالمی شہ رگ پر اثرانداز ہونے کی اصل صلاحیت کس کے پاس ہے۔
اور تضاد پھر وہی ہے: عالمی تجارت ایسی گزرگاہیں چاہتی ہے جو سب کے لیے کھلی اور محفوظ ہوں، لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ ان گزرگاہوں کی چابی اس کے ہاتھ میں رہے۔
اسی کشمکش میں آبنائے ہرمز ایران اور خلیج کے درمیان محض ایک آبی راستہ نہیں ہے، بلکہ توانائی، تجارت اور عالمی اثر و رسوخ کے مستقبل پر جاری بین الاقوامی کشمکش میں مذاکرات کے اہم ترین پتوں میں سے ایک بن جاتی ہے۔
پس جو قوت آبناؤں کی سلامتی پر اختیار رکھتی ہے، وہ لازماً ان راستوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے جن پر عالمی تجارت کا پہیہ گردش کرتا ہے۔
اور یہ ایسی دنیا ہے جہاں توانائی، معیشت، سیاست اور سلامتی ایک دوسرے سے اس قدر پیوست ہو چکے ہیں کہ ایک شعبے میں پیدا ہونے والا خلل دوسرے تمام شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اسی لیے آبنائے ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں؛ یہ عالمی طاقت کے توازن کا ایک ایسا پتہ ہے جو بلکل بھی معمولی نہیں ہے۔