الأحد، 21 ذو الحجة 1447| 2026/06/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال و جواب

امریکہ – ایران کی جنگ اور ایران کی موجودہ پوزیشن

 

(عربی سے ترجمہ)

 

سوال:

 

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے اور ان حملوں کے جواب میں ایران کی کارروائیاں تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ”امریکی فوجی کمان نے بیان دیا کہ اس نے جزیرہ قشم پر ایران کی بَری فوج کے ایک عسکری کمانڈ مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے عین ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں۔ اس حملہ کے ردعمل میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں موجود ایک امریکی اڈے کو نشانہ بنایا ہے... “ [الجزیرہ، 3 جون 2026ء]۔ اسی طرح جنوبی لبنان پر یہودی وجود کی جانب سے کئے جانے والے حملے بھی مسلسل جاری ہیں۔ ”جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان رات بھر جھڑپیں جاری رہیں، حالانکہ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں فریق لبنان اور اسرائیل کے درمیان آج واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے نئے دور سے قبل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں...“ [بی بی سی، 2 جون 2026ء]۔ واضح رہے کہ  28 فروری 2026ء کو امریکہ نے اپنے چیلے، یہودی وجود کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک جارحیت کا آغاز کیا تھا جو تقریباً چالیس دن تک جاری رہی۔ اس جارحیت میں ایران کے تقریباً چالیس کے قریب اعلیٰ سیاسی اور عسکری عہدیدار ہلاک ہو گئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔ امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا تھا یا پھر ایران کو مدار میں گردش کرتی ایک ریاست کی حیثیت سے تبدیل کرکے ایک مکمل تابع فرمان اور ایجنٹ ریاست بنانا تھا۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے بعد پاکستان میں، ایران اور امریکہ کے مابین بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں دونوں جانب سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ اور ان مذاکرات کے دوران امریکہ اور اس کے چیلے، یہودی وجود کی جارحیت اور ایران کے جوابی اقدامات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تاہم اب تک کسی بھی تجویز پر حتمی اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔ اس تناظر میں، ایران کا موجودہ مؤقف کیا ہے؟ کیا وہ ایک آزاد و خودمختار ریاست بن چکا ہے، یا اب بھی مدار میں گردش کرتی ہوئی ایک ریاست ہے، یا پھر ان دونوں حالتوں کے درمیان ڈانواں  ڈول اور تذبذب کا شکار ہے؟

 

برائے مہربانی وضاحت فرما دیں ! اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔

 

جواب:

 

مذکورہ بالا سوالات کے جواب کی وضاحت کے لئے ہم درج ذیل نکات کا جائزہ لیں گے :

 

1- جب امریکہ نے 28 فروری 2026ء کو یہودی وجود کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا اور ایران کے تقریباً 40 سیاسی و عسکری رہنماؤں کو قتل کر دیا، جن میں ملک کی اعلیٰ ترین شخصیت یعنی سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل تھے، تو یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ ایران کی قیادت اور ان کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں تھا۔ امریکہ اس قیادت کو ہٹانا اور ان پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہتا تھا، کیونکہ اس نے یہ بھانپ لیا تھا کہ اس قیادت میں خودمختاری کے رجحانات پائے جاتے ہیں، لہٰذا وہ ایسی قیادت لانا چاہتا تھا جو اس کی تابع فرمان اور فرمانبردار ہو۔ مورخہ 04 اپریل، 2026ء کو ”ایران کے خلاف جنگی آپریشن“ کے عنوان سے ایک سوال کے جواب میں ہم نے کہا تھا، ”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور یہودی وجود کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ جب انہوں نے ایران کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا تو انہوں نے جنگ کے لئے ایک مختصر عرصہ مقرر کیا تھا جس کا اندازہ چار دن لگایا گیا تھا؛ جس میں ایک بڑے اور بھرپور حملے کے ذریعے ایران کی اعلیٰ قیادت، جوہری تنصیبات، میزائل فیکٹریوں اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے ہی حکومت کی اعلیٰ قیادت اور پہلی صفوں کے لیڈران نشانہ بنیں گے، تو دوسرے درجہ کے قائدین خود بخود ہار مان لیں گے اور ان کی شرائط مان لیں گے، جیسا کہ وینزویلا میں ہوا تھا کہ جب امریکی افواج نے اس کے صدر کو اغوا کر لیا تو نائب صدر اور ان کے ساتھیوں نے امریکہ کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا۔ تاہم، ایران میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور بعض دیگر اعلیٰ رہنماؤں کے قتل کے بعد ایسا نہیں ہوا۔ پاسدارانِ انقلاب ڈٹے رہے اور انہوں نے اس جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمنوں پر جوابی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً، امریکہ اور ایران کے درمیان ایک واضح دراڑ پیدا ہو گئی، حالانکہ ایران پہلے امریکہ کے مدار میں ہی گردش کر رہا تھا۔ اور امریکہ تو اسی تعلق کو تبدیل کرنا چاہتا تھا؛ ورنہ وہ یہ جارحیت شروع ہی نہ کرتا اور نہ ہی یہودی وجود  کو یہ اجازت دیتا کہ وہ سپریم لیڈر سمیت ایرانی حکومت کی اہم ترین شخصیات کو قتل کر دے۔ یہ عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کا مقصد ایرانی حکومت کی پالیسی کو ایک سیٹلائٹ ریاست (مدار میں گھومنے والی) سے بدل کر ایک مکمل تابعدار ریاست بنانا تھا، تاکہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنی شرائط منوا سکے۔ تاہم، امریکہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس نے جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے“۔ لہٰذا، موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو چکے ہیں، سوائے اس کے کہ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے بعض حکام کے درمیان محدود ٹیلیفونک رابطے موجود ہیں، یا پھر پاکستان جیسے کسی تیسرے فریق کے ذریعے بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ ہو جاتا ہے

 

2-ایرانی ردِعمل مؤثر ثابت ہوا، کیونکہ ایران نے نہ تو پسپائی اختیار کی اور نہ ہی نیوکلئیر ہتھیاروں کے معاملے پر یا آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی رعایت دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس کے  جواب میں یہی مطالبہ کیا گیا تھا کہ 'تمام محاذوں پر جنگ بند کی جائے، جس میں لبنان بھی شامل ہے، نیز ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور برسوں قبل عائد پابندیوں کے تحت بیرونِ ملک منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی واپسی کی ضمانت کا مطالبہ بھی شامل ہے..' [العربیہ، 12 مئی 2026ء]۔ یہ سب عوامل اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کے معاملے سے نمٹنے اور اسے ایک مطیع و فرمانبردار ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے جو حربے اپنائے تھے، وہ سب ناکام ہو چکے ہیں؛ جس کی وجہ سے اب امریکی حکام ایرانی معاملے پر زیادہ صبر و تحمل پر مبنی نقطۂ نظر اپنانے کی تجاویز دے رہے ہیں۔

 

3-اب چونکہ ٹرمپ ایران کے خلاف اپنی 40 روزہ جارحیت اور قیادت کی پہلی و دوسری صف کے کئی رہنماؤں کو قتل کر دینے کے باوجود ایران کے حوالے سے اپنا بیان کردہ مقصد حاصل نہ کر سکا، تو اس لئے اس نے ایک 15 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے نکات سے یہ بالکل واضح ہے کہ یہ ایران کے لئے سرنڈر کرنے کا منصوبہ ہے! یعنی اس کا مطلب ایران کو اس کی مادی طاقت وقوت یعنی میزائل اور جوہری پروگرام سے محروم کرنا ہے... اسی لئے اس پر پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے شدید ردِعمل سامنے آیا، جنہوں نے ٹرمپ کے مطالبات کے آگے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔ جب ایران نے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور اپنے موقف اور لڑنے کی تیاری پر اصرار کیا، تو امریکہ نے ایک معاہدے پر دستخط کے لئے مذاکرات کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ امریکہ نے اپنے دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار، نائب صدر جے ڈی وینس (JD Vance) کو 11 اپریل 2026ء کو ایرانیوں سے مذاکرات کے لئے پاکستان بھیجا۔ وینس نے کہا، ”اب گیند مکمل طور پر ان کے کورٹ میں ہے... آپ پوچھتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا، میرا خیال ہے کہ اب ایرانی ہی طے کریں گے کہ آگے کیا ہونا ہے۔ میں صرف یہ نہیں کہوں گا کہ معاملات خراب ہوئے ہیں، بلکہ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ چیزیں ٹھیک بھی ہوئی ہیں۔ ہم نے بہت پیش رفت کی ہے... وہ ہمارے موقف کی طرف بڑھے ہیں، اسی لئے میرا خیال ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں کچھ اچھے اشارے ملے تھے، لیکن وہ اتنا آگے نہیں بڑھے جتنا آگے انہیں آنا چاہیے تھا... بہرحال ہمیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ ایرانی کس طرح مذاکرات کرتے ہیں، اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ہم پاکستان سے واپس چلے گئے... ہمیں جو بات سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ، میرا خیال ہے  - (ایران کی جانب سے) جو ٹیم وہاں موجود تھی، وہ کوئی حتمی معاہدہ کرنے کے قابل نہیں تھی... بہرحال ایرانیوں نے جو کچھ کر دیا ہے، وہ پوری دنیا کے خلاف اقتصادی دہشت گردی کی کارروائی ہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ خیر، جیسا کہ صدرِ امریکہ نے دکھا دیا ہے، یہ کھیل دونوں طرف سے کھیلا جا سکتا ہے...“ [فاکس نیوز، 13 اپریل، 2026ء]۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب امریکی صدر نے دیکھا کہ ایران نے ان کی بعض شرائط قبول کر لی ہیں تو وہ مزید مطالبات کرنے پر بے تاب ہو گیا، جیسا کہ اس کے نائب صدر نے کہا، کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی محدود معاہدہ نہیں چاہتے، بلکہ وہ ایک جامع اور بڑے پیمانے کے معاہدے (Grand Bargain) کے خواہاں ہیں۔

 

4- بعد ازاں، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کر دیا، اور یہ اعلان اس جنگ بندی کے ختم ہونے سے صرف چند گھنٹے پہلے کیا گیا جو اس نے تقریباً دو ہفتے قبل عائد کی تھی اور اس کی میعاد ختم ہونے ہی والی تھی۔ اس کے مطابق اس توسیع کا مقصد ”دونوں ممالک کو امن مذاکرات جاری رکھنے کا موقع فراہم کرنا“ تھا [الجزیرہ، 22 اپریل 2026ء]۔ تاہم، ایران نے دباؤ کے تحت مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے۔ 20 اپریل، 2026ء کو ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل (Truth Social) پلیٹ فارم پر، جون 2025ء میں یہودی وجود کی جانب سے یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ”آپریشن مڈنائٹ ہیمر (Midnight Hammer) نے ایران میں جوہری تنصیبات کو مکمل اور فیصلہ کن طور پر تباہ کر دیا تھا، لہٰذا وہاں سے مواد نکالنا ایک طویل اور دشوار عمل ہوگا“۔ یہ بیان دراصل ٹرمپ کے اس مطالبے میں نرمی لانے کی کوشش تھی کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم کو امریکہ یا کسی تیسرے فریق کے حوالے کر دے۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ (ٹرمپ) اپنے ملک کے مقاصد کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی طرف زیادہ مائل ہے، کیونکہ اس کے نزدیک جنگ کے ذریعے ان اہداف کا حصول آسان نہیں۔ یہی بات اس کے مؤقف میں آنے والی نرمی کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ جنگ بندی کسی مقررہ مدت کی پابند نہیں، اور تقریباً 441 کلوگرام ایسے یورینیم کو حاصل کرنا، جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے، ایک مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔

 

5-13 اپریل، 2026ء کو، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے 'ایکس' (X) پلیٹ فارم پر پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت کا انکشاف کیا، جن میں وہ اپنے ملک کی جانب سے وفد کا حصہ تھے۔ انہوں نے بیان کیا، ”47 برسوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات میں، ایران نے جنگ کے خاتمے کے لئے  امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی۔ لیکن جب ہم 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU)' سے صرف چند قدم کے فاصلے پر تھے تو ہمیں مزید سے مزید تر مطالبات، مسلسل بدلتی ہوئی شرائط، اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا“۔ عراقچی کا یہ بیان ٹرمپ کے نائب صدر کے اس مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے کہ فریقین کسی حد تک ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے، لیکن ٹرمپ اس سے زیادہ چاہتا تھا ! وہ چاہتا ہےکہ ایران ہتھیار ڈال دے اور خطے کے دیگر ممالک کی طرح ایک تابع ریاست بن کر رہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ، ”ان کی 'قیادت' کے اندر شدید اختلافات اور انتشار پایا جاتا ہے... کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے، حتیٰ کہ خود انہیں بھی معلوم نہیں... اگر وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف ایک فون کال ہی کرنی ہے!!!“ (فاکس نیوز، 25 اپریل، 2026ء)۔

 

6- ایران اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کی داخلی ملکی صورتحال کے پیشِ نظر اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے مڈٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ممکنہ ہار سے بچانے کے لئے، امریکہ ایک باضابطہ مکمل جنگ کئے بغیر کشیدگی کو کم کرنے کی اشد ضرورت محسوس کر رہا ہے۔ ان انتخابات میں شکست ٹرمپ کی صدارت پر منفی اثر ڈالے گی، کیونکہ اسے جنگیں لڑنے سمیت دیگر متعدد معاملات پر کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے، نیز مڈٹرم انتخابات کی یہ شکست آئندہ دو سال بعد ہونے والی اس کی صدارتی مہم کو بھی متاثر کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ٹرمپ کے پیشِ نظر معاملات میں امریکہ میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی بھی ہے، جس کا آغاز 11 جون 2026ء سے ہو رہا ہے۔ اسی بنا پر ایران نے اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اس کے چیلے، یہودی وجود کے ساتھ دوبارہ جنگ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ یوں یہاں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر کا ایک دھڑا، یعنی پاسدارانِ انقلاب، اب اپنے بل بوتے پر اور اپنے فیصلے پر عمل پیرا ہے، اور وہ امریکہ سے آزادی کا خواہاں ہے؛ یہ گروہ اس سیاسی دھڑے کے برعکس ہے جو امریکہ کے ساتھ روابط رکھنا چاہتا ہے اور ایک ماتحت ریاست بنے بغیر نہ سہی لیکن بہرحال کم ازکم امریکہ کے زیرِ اثر مدار میں رہ کر کام کرنے کا خواہش مند ہے۔

 

7- ٹرمپ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش میں ایک اور حربہ اپنایا۔ چنانچہ 4 مئی 2026 کو، اس نے ”آپریشن پروجیکٹ فریڈم“ (Operation Project Freedom) کے نام سے ایک مہم کا اعلان کیا، جس کا ظاہری مقصد ان ممالک کے بحری جہازوں کی مدد کرنا تھا جنہیں اس نے غیر جانبدار قرار دیا تھا اور جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تھے اور جن کا مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے کوئی تعلق نہیں تھا، تاکہ ان بحری جہازوں کو اس گزرگاہ سے گزرنے میں مدد کی جائے۔ لیکن جب یہ مہم ناکام ہو گئی، تو اس نے اس پروجیکٹ کو روک دیا اور 6 مئی 2026ء کو علی الصبح اپنے 'ٹروتھ سوشل' (Truth Social) پلیٹ فارم پر اس آپریشن کو معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ، ”پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست، ایران کے خلاف مہم کے دوران حاصل ہونے والی ہماری زبردست فوجی کامیابی، اور اس کے علاوہ اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی طرف بڑی اہم پیش رفت ہوئی ہے، چنانچہ ہم نے باہمی طور پر اتفاق کیا ہے کہ اگرچہ (بحری) ناکہ بندی پوری قوت کے ساتھ نافذ العمل رہے گی، لیکن 'پروجیکٹ فریڈم' (آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی نقل و حرکت) کو ایک مختصر مدت کے لئے روک دیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں... “

 

8- مورخہ 06 مئی، 2026ء کو امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ایک پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کرتے ہوئے بیان کیا کہ، ”وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور مزید تفصیلی نیوکلئیر مذاکرات کے لئے ایک فریم ورک طے کرنے کے مقصد سے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) کے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ بات دو امریکی حکام اور اس معاملے سے باخبر دو دیگر ذرائع نے بتائی ہے... دیگر شقوں کے علاوہ، اس معاہدے میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی پر عارضی پابندی قبول کرنا، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اٹھانا اور منجمد ایرانی فنڈز میں سے اربوں ڈالر جاری کرنا، اور دونوں فریقوں کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت پر عائد پابندیوں کو ختم کرنا شامل ہوگا“۔ اس بیان  سےاس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے، کیونکہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کے لئے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی، جس کا ملنا یقینی نہیں۔ مزید یہ کہ دوبارہ جنگ چھیڑ دینا غیر متوقع نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی اس راستے کو آزما چکا ہے اور ناکام رہا ہے۔ اسی طرح خلیج میں پھنسے ہوئے جہازوں کو بچانے کے لئے اس کا منصوبہ، آپریشن پروجیکٹ فریڈم، کامیاب ہونے میں طویل وقت لے سکتا ہے اور خطرات سے بھرپور ہے، کیونکہ ایران جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے، جس سے ان جہازوں کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے جنہیں بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ ٹرمپ، جو پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ایک معروف تاجر ہے، سیاسی معاملات میں بھی جلدازجلد اور منافع بخش سودے کرنا چاہتا ہے، گویا وہ سیاست کو بھی ایک کاروباری لین دین کی طرح سے ہی دیکھتا ہے !

 

9- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اس جواب کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے جو ایران نے خطے میں جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر پاکستانی ثالث کے ذریعے پیش کیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا، ”میں نے ابھی ابھی ایران کے نام نہاد ”نمائندوں“ کی طرف سے بھیجا گیا جواب پڑھا ہے، یہ مجھے بالکل بھی پسند نہیں آیا - یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے“۔ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب کو مسترد کیے جانے پر اپنے پہلے ردعمل میں ایرانی ٹیلی ویژن نے کہا کہ، ”تہران نے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر جو جواب دیا تھا،جسے ٹرمپ نے ناقابلِ قبول قرار  دےدیا ہے، اس میں ایرانی عوام کے بنیادی حقوق پر اصرار کیا گیا تھا“۔ ایرانی ٹیلی ویژن نے مزید کہا کہ ”تہران نے امریکی تجویز کو اس لئے مسترد کیا کیونکہ اسے قبول کرنے کا مطلب ”سرنڈر کرنا“ تھا۔ ٹیلی ویژن نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایرانی جواب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا تھا کہ امریکہ جنگ کا ہرجانہ ادا کرے، اور آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول اور خود مختاری کو قبول کر لے... “ [العربی الجدید، 11 مئی، 2026ء]

 

10- ایران کے اس جواب نے امریکی صدر ٹرمپ کو غصہ دلا دیا، اس نے 12 مئی، 2026ء کو کہا: ”میں یہ کہوں گا کہ جنگ بندی اس وقت انتہائی نازک حالت میں ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی ڈاکٹر آ کر کہے: ”جناب، آپ کے عزیز کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً صرف 1 فیصد رہ گئے ہیں“۔ ٹرمپ نے مزید کہا، ”ان کا خیال ہے کہ میں اس معاملے سے تھک جاؤں گا، یا اکتا جاؤں گا، یا مجھ پر کسی قسم کا پریشر پڑے گا — لیکن ہرگز کوئی پریشر نہیں ہے، بالکل بھی کوئی پریشر نہیں“۔ اس نے یہ بھی کہا: ”کچرے کا وہ ٹکڑا جو انہوں نے ہمیں بھیجا ہے، اسے پڑھنے کے بعد میں اسے اس وقت کی کمزور ترین پوزیشن کہوں گا–میں نے تو اسے پورا پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا... “ [الشرق الاوسط، 12 مئی، 2026ء]۔ تاہم، ٹرمپ نے یہ بھی کہا، ”میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ایران کے معاملے میں کسی کی مدد کی ضرورت ہے“، اور اس نے اعلان کیا کہ امریکہ یہ جنگ ”کسی نہ کسی طریقے سے“ جیت ہی جائے گا۔ اس نے مزید کہا، ”مجھے صرف یہ پرواہ ہے کہ : ہم ایران کو کسی صورت میں بھی نیوکلئیر ہتھیار رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے، اور یہ بات قطعی طے شدہ ہے۔ اور صرف یہی ایسا معاملہ ہے جو مجھے متحرک رکھتا ہے“ [الجزیرہ، 12 مئی، 2026ء]۔

 

11- اس کے بعد فریقین نے معاہدے میں ترمیم یا اسے بہتر بنانے کے بارے میں بات چیت شروع کر دی۔ نیوز ویب سائٹ، Axios کی ایک رپورٹ، جس کا 23 مئی، 2026ء کو 'النجاح نیوز' نے حوالہ دیا، اس رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا: ”امریکہ اور ایران جس معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب ہیں، اس میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع شامل ہے۔ اس مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، ایران آزادانہ طور پر تیل فروخت کر سکے گا، اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بارے میں مذاکرات کیے جائیں گے“۔ اسی امریکی عہدیدار کے مطابق، ... ”اس 60 روزہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، وہاں کسی قسم کا ٹول یا محصول عائد نہیں ہوگا، اور ایران اس آبنائے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو ہٹانے پر رضامند ہوگا تاکہ جہاز آزادانہ طور پر گزر سکیں“۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آزادیٔ جہاز رانی (جہازوں کی نقل وحرکت میں آزادی) مجوزہ معاہدے کی بنیاد ہوگی۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور بعض  دیگر پابندیوں میں چھوٹ  دے گا تاکہ ایران آزادانہ طور پر اپنا تیل فروخت کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے مسودے میں یہ شقیں بھی شامل ہیں کہ ایران کبھی بھی نیوکلئیر ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایران اپنے یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی پر مذاکرات کرے گا، اور تقریباً مکمل طور پر افزود کردہ یورینیم کے اپنے ذخائر کو ختم کرنے کے بارے میں بھی بات چیت کرے گا۔ Axios  کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ 60 روزہ مدت کے اندر ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کے حوالے سے مذاکرات کرنے پر آمادہ ہوگا۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق، اس خبر پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔

 

12- العربیہ نے 29 مئی 2026ء کو رائٹرز (Reuters) کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے خاتمے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے، اور ایران پر عائد بعض پابندیوں کو اٹھانے کے بارے میں ایک معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم، اس معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اس جنگ کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا، جس نے دنیا کو توانائی کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اختلافات پر آئندہ چند ہفتوں میں ہونے والے مذاکرات میں ہی بات چیت کی جائے گی۔ ٹرمپ کے نائب صدر، جے ڈی وینس (JD Vance) نے جمعرات 28 مئی، 2026ء کو کہا: ”ہم ابھی (حتمی نتیجے تک) نہیں پہنچے ہیں، لیکن ہم اس کے بہت قریب ہیں اور ہم اس پر کام جاری رکھیں گے“۔ ایران نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم، ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی 'تسنیم' نے مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کا متن ابھی تک نہ تو حتمی ہوا ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ 2015ء میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے کے لئے اسپیشلسٹ اور ماہرین کی بڑی ٹیموں کے درمیان کئی سال تک مذاکرات جاری رہے تھے۔ بعد ازاں، ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران 2018ء میں اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا۔ [العربیہ، 29 مئی، 2026ء]

 

13- وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ  تہران کے ساتھ اس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں کریں گے جب تک ان کی تمام شرائط پوری نہ ہو جائیں۔ ویب سائٹ Axios نے امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے اعلان میں کئی دن یا ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ اپنی مطلوبہ شرائط منوا لیں۔ ویب سائٹ کے مطابق، ٹرمپ کے تحفظات میں چند ایسے نکات شامل ہیں جن میں وہ معاہدے میں ترمیم چاہتے ہیں، جیسا کہ : آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا، امریکہ کو افزودہ یورینیم حاصل ہونا، اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مسودۂ معاہدہ میں مزید تبدیلیاں۔ اسی دوران، The New York Times نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کی نئی ترامیم، پاکستانی ثالثوں کی شرکت کے ساتھ، غور و خوض کے لئے دوبارہ تہران بھیج دی گئی ہیں تاکہ ایرانی قیادت ان پر فیصلہ کر سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ براہِ راست رابطے کی دشواری کے باعث معاہدے کے باضابطہ اعلان میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔ دریں اثناء، امریکی سنٹرل کمانڈ (USCENTCOM) ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی مسلسل سخت کر رہی ہے ... ]الجزیرہ، 31 مئی، 2026ء]۔

 

14- دریں اثنا، جبکہ ٹرمپ اور ایران کے درمیان معاہدہ تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اسی دوران، یہودی وجود نے جنوبی لبنان کے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے:

 

الف) ”'اسرائیلی' فوج نے بیان دیا کہ اس نے بھاری توپ خانے اور فضائی مدد کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں کے بعد قلعة الشقيف (Beaufort Castle) پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ کارروائی فروری 2026ء کے اواخر میں امریکہ-'اسرائیل'-ایران جنگ کے تناظر میں حزب اللہ کے ساتھ چھڑنے والے تصادم کے حصے کے طور پر النبطية، وادي السلوقي، اور وادي الحجير کے علاقوں میں ہونے والی وسیع پیمانے کی کشیدگی کے ساتھ ہی سامنے آئی ہے... “ [الجزیرہ، یکم جون، 2026ء]۔

 

ب) ”وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی جانب سے فوجی کشیدگی کی ہدایات کے اعلان کے چند گھنٹے بعد 'اسرائیلی' فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں (ضاحیہ) کے رہائشیوں کے لئے علاقہ خالی کرنے کی وارننگ جاری کی۔ پیر کی سہ پہر جاری ہونے والے ایک بیان میں 'اسرائیلی' فوج نے کہا کہ اگر حزب اللہ نے 'اسرائیلی' شہروں اور قصبوں پر راکٹ فائر کرنا جاری رکھا، تو وہ جواب میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنائے گی... “ [الجزیرہ، یکم جون، 2026ء]۔

 

ج) اگرچہ 'العربیہ نیٹ' نے 02 جون، 2026ء کو یہ خبر شائع کی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ”ایک فون کال میں اشارہ دیا تھا کہ ایک معمولی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہوں نے اس سے بہت جلدی نمٹ لیا ہے، اور وضاحت کی کہ یہ معاملہ لبنان پر 'اسرائیلی' حملوں کے حوالے سے ایرانی ناراضگی سے متعلق تھا، اور مزید کہا کہ، ”اس لئے، میں نے حزب اللہ سے بات کی، اور میں نے کہا کوئی گولی نہیں چلے گی، اور میں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بات کی، اور کہا، کوئی فائرنگ نہیں ہوگی، اور ان دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کرنا بند کر دی... “ [العربیہ نیٹ، 02جون، 2026ء]۔ تاہم، یہودی وجود نے اس ہدایت پر پورے لبنان تک کے لئے عمل نہیں کیا بلکہ صرف بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں تک ہی محدود رکھا، جبکہ جنوبی لبنان کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب ٹرمپ کی رضامندی اور حمایت سے ہی ہو رہا ہے، کیونکہ اسرائیل ٹرمپ کی ہدایات سے انحراف نہیں کر سکتا، اور اسی تناظر میں جنوبی لبنان پر حملے جاری رہے۔ اس حوالے سے ”'اسرائیل کے بارے میں ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوگا' کے عنوان کے تحت، نیتن یاہو نے کہا کہ اس نے ٹرمپ کو آگاہ کر دیا تھا کہ اگر حزب اللہ نے ”اسرائیل“ پر حملے بند نہ کئے تو اس کی افواج بیروت کو نشانہ بناتی رہیں گی۔ اس نے اپنے دفتر کے جاری کردہ بیان کے مطابق مزید کہا کہ، ”اس معاملے پر ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، اور اسی وقت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے گی“ [انڈیپنڈنٹ عربیہ، 02 جون، 2026ء]۔ اسی طرح ”جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان رات بھر جھڑپیں جاری رہیں، حالانکہ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ دونوں فریق جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، اور آج واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا انعقاد ہونا ہے“ [بی بی سی، 02 جون، 2026ء]

 

15- چنانچہ واقعات کے اس تسلسل اور ان کے نتائج سے درج ذیل امور واضح ہو جاتے ہیں:

 

الف) ایران اور امریکہ کے درمیان ناچاقی برقرار ہے، اور موجودہ حالات میں ان دونوں کے درمیان ایسا کوئی ربط اور میل جول نہیں ہے جس کے تحت ایران خطے میں ماضی کی طرح امریکہ کی ایک سیٹلائیٹ ریاست کے طور پر مل کر کام کرتا رہے۔ یہ بات خاص طور پر اس لئے درست ہے کیونکہ اب ایران میں حکومت پر پاسدارانِ انقلاب کا کنٹرول ہے، اور وہ آزادی و خودمختاری کے لئے زور دے رہے ہیں، جس کا مطلب امریکی دائرہ اثر میں واپس جانے سے انکار ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت پر ان کا کنٹرول برقرار رہے گا، کیونکہ نئے رہبرِ اعلیٰ، مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ اسی طرح حکمرانی کے اہم ترین معاملات، جیسے کہ جنگ اور اندرونی بغاوتوں کو کچلنے کے لئے، نئے رہبرِ اعلیٰ اپنی حکومت برقرار رکھنے کی خاطر انہی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگرچہ ایران میں سیاسی طبقہ اب بھی موجود ہے—جس میں صدر، وزیرِ خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر شامل ہیں—اور اگرچہ ان کا حتمی مقصد ایران کو دوبارہ امریکی دائرہ اثر میں واپس لانا ہے، لیکن ان کا حقیقی اثر و رسوخ پاسدارانِ انقلاب کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔

 

ب) اس کے برعکس، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اب تک ایران کی حکومت کو اپنے تابع بنانے میں ناکام رہا ہے، جیسا کہ اس نے مسلم ممالک کی دیگر کٹھ پتلی حکومتوں کو اپنا مطیع بنا رکھا ہے۔ اپنی ناکامیوں کے باوجود، ٹرمپ اب بھی اس بات پر بضد ہے کہ ایرانی حکومت اس کے تابع ہو جائے، نہ کہ صرف اس کے دائرہ اثر کے گرد ہی گھومتی رہے جیسے وہ کبھی ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ وہ ایران سے سب کچھ منوانا چاہتا ہے—اپنی شرائط کا 100 فیصد، نہ کہ 90 یا 95 فیصد، جیسا کہ وہ خود کہتا ہے: ”وہ اس طرح آئے جیسے سارے پتے (کارڈز) ان کے ہاتھ میں ہوں، لیکن پتے ان کے پاس نہیں ہیں... میری پیش گوئی ہے کہ وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں... مجھے 95 فیصد نہیں چاہیے۔ میں نے انہیں بتا دیا ہے۔ مجھے سب کچھ چاہیے“ [ٹی وی لبنان، 12 اپریل، 2026ء]۔ اور آج ہی، بدھ 3 جون 2026ء کو ٹرمپ نے کہا: ”ایران کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے—اور یہ بہت اچھی ہوگی“، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایران نیوکلئیر ہتھیار نہ رکھنے پر راضی ہو گیا ہے... “ [العربیہ، 03 جون، 2026ء]۔ اگرچہ ٹرمپ کے بیانات ہمیشہ مکمل طور پر درست نہیں ہوتے، لیکن یہ اس کے اعلانیہ موقف ہیں: وہ چاہتا ہے کہ ایران ایک ماتحت ریاست بن جائے جو اس کی مخالفت نہ کرے، حالانکہ ٹرمپ اس سلسلے میں اب تک ناکام رہا ہے! اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے، وہ الفاظ کا ہیر پھیر کرتا رہتا ہے، بار بار معاہدوں کی تجاویز پیش کرتا ہے اور بعد میں خود ہی ان کی مخالفت کرنے لگتا ہے... اور یہی سلسلہ چل رہا ہے!

 

ج) جہاں تک اس امر کا تعلق ہے جو ٹرمپ اور اس جیسے دیگر غیر مسلم استعماری طاقتوں کو، اگر انہوں نے مسلم سرزمینوں پر جارحیت کے بارے میں محض سوچا بھی تو ان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا،اور ہر کافر کو واپس اس کی کمین گاہ تک دبکا دے گا—اگر اس کے پاس اب بھی کوئی  باقی بچا ہو—تو وہ امر، خلافتِ راشدہ کا دوبارہ قیام ہے۔ اور خلافت، ان شاء اللہ، ضرور قائم ہوکر رہےگی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ ”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (اقتدار کی جانشینی) عطا فرمائے گا“ [سورۃ النور؛ 24:55]۔ اور یہ اس جابرانہ دورِ حکومت کے بعد، جس میں ہم جی رہے ہیں، اللہ  کے رسول ﷺ کی طرف سے دی گئی بشارت اور خوشخبری ہے۔ امام احمدؒ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ. ثُمَّ سَكَت» ”پھر جابرانہ بادشاہت (ظالم دورِ حکومت) ہوگی، اور یہ تب تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ یہ رہے۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔ پھر عین نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہوگی۔ اس کے بعد آپ ﷺ خاموش ہو گئے“۔ چنانچہ، ایک ایسا خلیفہ ہوگا جس کے پیچھے رہ کر مسلمان مل کر لڑیں گے اور اس کے ذریعے سے ہی وہ محفوظ رہیں گے، یوں اسلام اور مسلمانوں کو عزت ملے گی اور کفر و کفار ذلیل و رسوا ہوں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ  بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

 

”اور اس دن مومنین خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہی نہایت غالب، بہت رحم فرمانے والا ہے“ [سورۃ الروم؛ 30 : 4-5]۔

17 ذي الحجة، 1447ھ

بمطابق، 03 جون، 2026ء

Last modified onاتوار, 07 جون 2026 18:32

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک