الأحد، 06 محرّم 1448| 2026/06/21
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

‫‏جمہوریت‬ کا خاتمہ کرو، ‫‏خلافت‬ کو قائم کرو ‫امریکہ‬ یا ‫چین‬ نہیں بلکہ خلافت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے

راحیل-نواز حکومت نے چینی صدر کے حالیہ دورے اور اس کے دوران ہونے والے معاشی عہد ناموں کے حوالے سے بہت جشن منارہی ہے۔ یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب ملک میں امریکہ کے خلاف جذبات شدید تر ین ہیں اور اس موقع کو ایسے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے امریکہ کے اثرورسوخ سے نکلنے کی زبردست کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن کمزور ارادے کی مالک اور کسی دور رس بصیرت سے محروم راحیل-نواز حکومت لوگوں کے سامنے ایک دھوکے پر مبنی متبادل سامنے رکھ رہی ہے کہ پاکستان کو امریکہ یا چین میں سے کسی ایک پر تو لازمی انحصار کرنا ہی ہے۔ درحقیت یہ سرے سے کوئی متبادل ہی نہیں ہے کیونکہ دونوں صورتیں پاکستان کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ملک ہمیشہ ایک غیر ملکی طاقت پر انحصار کرتا رہے گا اور کبھی بھی خود ایک حقیقی طاقتور ریاست نہیں بن سکے گا۔


رسول اللہﷺ اور خلافت راشدہ کے دور میں امت نے کبھی بھی مغرب و مشرق کی طاقتوں روم اور فارس کی ریاست کی جانب نہیں دیکھا تھا کیونکہ اسلام ایک عظیم نقطہ نظر فراہم کرتا ہے جو کہ دوسروں کے کندھوں کو خود کو بلند کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتا کہ جب کبھی کندھا دینے والا پیچھے ہٹ جائے تو دھڑم سے پستی پر آجائیں۔ امت کے لئے اسلام کا نظریہ ہے کہ وہ پوری انسانیت تک اسلام کی دعوت پہنچائے جس کے لیے لازمی ہے کہ ریاست خلافت دنیا کی صفِ اول کی ریاست ہو ۔ لہٰذا مسلمانوں نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور ایک طاقتور ریاست کی تعمیر کی جس نے بلاآخر اس وقت کی دو طاقتور ترین ریاستوں کو روند ڈالا جو اس سے قبل دنیا کے امور پر غالب تھیں اور ریاست خلافت کو دنیا کے امور کو چلانے والی ریاست بنا دیا۔


صرف خلافت ہی اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک پہنچانے کی بہترین بصیرت کو واپس لائے گی اور اسلام کو دنیا پر غالب کردے گی۔ خلافت طاقت کے حصول کے لئے کبھی مشر ق تو کبھی مغرب کے پیچھے بھاگنے کی بجائے امت کے عظیم وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دوسری ریاستیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس سے گزارش کریں۔ توانائی کے قحط کا شکار چین بھی مشرقی ترکستان اور چین کے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ رویہ اختیار کرنے سے قبل سوچنے پر مجبور ہو جائے گا اور اس وقت کو یاد کرے گا جب وہ خلافت کی افواج کے آنے سے خوف کھاتا تھا اور مسلمانوں کو جذیہ دیا کرتا تھا۔


خلافت جس کا قیام اللہ کے حکم سے قریب ہے، غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیے بغیر مضبوط صنعتی شعبہ قائم کرے گی۔ وہ بڑے بڑے منصوبوں کے لیے درکار وسائل کے حصول کے لئے قدرتی وسائل جیسا کہ تیل، گیس اور معدنیات پر عوامی ملکیت کے اسلامی قوانین کو لاگو کرے گی جن کو اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت نجی ملکیت میں دے کر ریاست کو عظیم وسائل سے محروم کردیا جاتا ہے۔ عوامی ملکیت سے حاصل ہونے والی عظیم دولت کو تعمیراتی منصوبوں پر خرچ کیا جاے گا اور ریاست کے اہم ترین شعبوں میں غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کرنے کی پالیسی کی مکمل نفی کی جائے گی۔ صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے خلافت اس بات کو یقینی بنائے گی مسلمان ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں تا کہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست بن سکیں۔ اس طرح سے خلافت کے خاتمے کے بعد شروع کی جانے والی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے استعماری پالیسی کا خاتمہ کیا جائے گا جس کے تحت مسلم دنیا محض استعماری ممالک کو خام مال فراہم کرتے ہیں اور اس سے اشیا استعماری ممالک میں تیار ہوتی ہیں اور پھر مسلم دنیا ان اشیا کو مہنگے داموں درآمد کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔


إِنَّ اللَّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ
"اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں تبدیل کرتا جب تک کہ وہ خود اس چیز کو نہ تبدیل کریں جو کچھ اس کے اپنے نفوس میں ہے"(الرعد:11)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

‫‏پاکستان‬ میں اسلام کو کچلنے کی ‫امریکی‬ مہم ‫راحیل-نواز‬ حکومت نے ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ ‫‏سعد‬ ‏جگرانوی‬ کو قید کرلیا ہے

22 اپریل 2015 کی رات کو حکومت کے غنڈوں نے ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکی مرکزی رابطہ کمیٹی کے انتہائی معروف اور معزز سربراہ سعد جگرانوی کو قید کرلیا۔ حزب التحریرکے خلاف کی جانے والی جبر و استبداد کی ایک طویل فہرست میں یہ واقع ایک نیا اضافہ ہے۔ حکومت نے ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکے ترجمان نوید بٹ، جن کو حکومتی غنڈوں کے ہاتھوں اغوا ہوئے 11 مئی 2015 کو تین سال مکمل ہوجائیں گے، سمیت ملک بھر سے حزب کے کئی اراکین کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔


حزب التحریرنے آج 23 اپریل 2015 کو پاکستان میں اسلام کو کچلنے کی امریکی مہم ، جس کو حکومت نیشنل ایکشن پروگرام کہنے پر اصرار کرتی ہے، کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کردیا ہے۔اس مہم کے حوالے سے 23 اپریل 2015 کو جاری ہونے والے لیفلٹ میں حزب التحریرولایہ پاکستان نے کہا ہے کہ،


" اس نیشنل ایکشن پلان کے بنیادی خدوخال اس ادارے نے طے کیے ہیں کہ جس کی بنیاد امریکی ایماء پر رکھی گئی تھی۔ اس ادارے کا نام پاکستان او رامریکہ کا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسدادِ دہشت گردی و نفاذ قانون(پاکستان امریکہ جوائنٹ ورکنگ گروپ آن کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ لاء انفورسمنٹ)JWD-CTLEہے۔ اس ادارے کا پاکستان پر وسیع اور گہرا اثر ہے کیونکہ امریکہ کا دفتر خارجہ، دفتر عدل، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اس کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے ۔ جب سے اس گروپ JWG-CTLEکافروری 2002میں اعلان کیا گیا ہےاس وقت سے یہ حکمران امریکی ایجنٹوں کو اسلام ، جہاد اور خلافت کی دعوت کو کچلنے کے لیے رہنمائی فراہم کر رہا ہے، خواہ یہ مشرف کی "روشن خیال اعتدال" (enlightened moderation)ہو یا پھر موجودہ راحیل -شریف حکومت کا نیشنل ایکشن پلان ہو۔


نیشنل ایکشن پلان اور دیگر اسالیب کے ذریعے امریکہ مسلمانوں کی اسلام سے گہری وابستگی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ یہ گہری وابستگی صدیوں تک اسلام پر کاربند رہنے ، اسلام کی راہ میں جہاد کرنے اور اسلام کے قوانین کے ذریعے حکمرانی کرنے کانتیجہ ہے ۔ اسلام کی طاقت ہی وہ بنیادی وجہ تھی کہ جس کے نتیجے میں اس خطے کے مسلمان پاکستان کے قیام کے لیے حرکت میں آئے اور انہوں نے اس وقت کی عالمی طاقت برطانیہ کو برصغیر پر اپنے فوجی قبضے کو ختم کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر برطانیہ کو دوبارہ یہاں قدم رکھنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ یہ اسلام کی طاقت ہی تھی کہ جس نے ایک اور سپر پاور سوویت روس کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ افغانستان پر اپنےتسلط کا خاتمہ کرے اور اسے فوجی اور معاشی لحاظ سے بد حال کر دیا اور بالآخر اس ریاست اور اس کے نظام کا انہدام ہو گیا۔ اور اب جبکہ امریکہ بذاتِ خود اس خطے پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے تو اسلام کی یہی طاقت اس کے رستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔


پاکستان اور خطے میں امریکہ کی موجودگی کو برقرار رکھنےاور مفادات کےحصول کے لئے اسلام کو کچلنا امریکہ کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دوسرے اسالیب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے امریکہ نے جہاد کو دہشت گردی قرار دینے اور افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف لڑنے والےمخلص مجاہدین کو ختم کرنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کو حرکت میں لے آیا ہے اور جو اپنے اس مکروہ عمل پر پردہ ڈالنے کے لئے فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر تشدد کرنے والے مجرموں کی گرفتاریوں کی تشہیر کررہے ہیں۔ امریکی ایجنٹوں نے میڈیا ، سوشل میڈیا اور سیاسی میڈیم میں بھی اسلامی تاثرات کو "نفرت انگیز تقریر"، "ریڈیکل ازم" اور "اسلام ازم" قرار دینا شروع کردیا ہے جبکہ ہزاروں مخلص علماء اور سیاست دانوں کو قید کردیا ہے جو افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف جہاد اور پاکستان میں خلافت کے قیام کی دعوت دیتے ہیں"۔


حزب التحریرافواج کو مندرجہ ذیل پیغام دیتی ہے،
اے افواج پاکستان کے افسران! موجودہ حکمران ہمارے دشمنوں کے سامنے کمزور ہوتے ہیں اور وہ نہیں کرتے جوانہیں ہر صورت فلسطین ، کشمیر، افغانستان، عراق، شام اور یہاں تک کے پاکستان کے حوالے سے کرنا چاہیے۔ لیکن مسلمانوں کے سامنے یہ بہادر بن جاتے ہیں اور اپنے غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کے تحفظ کے لئے سینہ تان کر ہر اس چیز پر حملہ کرتے ہیں جو ہمیں اسلام کی وجہ سے عزیز ہے۔ واضح طور پر یہ ہم میں سے نہیں ہیں اور ہم ان میں سے نہیں ہیں۔ تو پھر کس طرح آپ ان کی حکمرانی کو برداشت کرسکتے ہیں جبکہ یہ آپ کی طاقت اور حمایت پر انحصار کرتے ہیں؟ آپ کس طرح قبول کرسکتے ہیں کہ یہ غدار آپ کی طاقت کو کفار اور ان کے بنائے ہوئے جمہوری نظام کی حمایت کے لئے استعمال کریں؟ آپ کس طرح ان ایجنٹ حکمرانوں کو اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ اسلام اور اس کی امت پر ظلم و جبر مسلط کریں اورریاست خلافت کے تحت اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے ان کے حق کو مسترد کریں؟


اب یہ آپ پر لازم ہے کہ مشہور و معروف سیاست دان اور فقیہ شیخ عطا بن خلیل ابو الراشتہ کی قیادت میں حزب التحریرکو خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ فراہم کریں کیونکہ صرف اس کے بعد ہی اسلام کی سچائی ان مجرم حکمرانوں کے مکروہ منصوبوں کو ملیہ میٹ کردے گی۔اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،


لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
"تا کہ وہ (اللہ) حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو"(الانفال:8)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

Read more...

نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے راحیل-نواز حکومت خلافت کے قیام کی راہ میں روکاوٹ کھڑی کر کے غداری کی مرتکب ہو رہی ہے

آج 16 اپریل 2015 کی صبح ایک بجے دنیا ٹی وی سمیت تین چینلز نے بریکنگ نیوز نشر کی کہ سلمان جگرانوی کو گرفتار کرلیا ہے جس کا تعلق ایک کالعدم جماعت سے ہے اور کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت پہلا مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ جیو نیوز نے ٹِکر نشر کیا کہ حال ہی میں قائم ہونے والے کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے سلمان جگرانوی کے خلاف نفرت انگیز مواد تقسیم کرنے پر پہلا مقدمہ قائم کرلیا ہے۔

یہ بات مشہور و معروف ہے کہ حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے جس کا نظریہ اسلام ہے اور ہر رنگ، نسل، جنس اور مسلک کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ حزب التحریر کا شائع کردہ کوئی بھی مواد کسی بھی طرح نفرت آنگیز نہیں ہوسکتا کیونکہ حزب مسلم امہ کی یکجہتی اور اس کو عملی شکل دینے کے لئے ایک خلافت کے قیام کی دعوت دیتی ہے۔اس کے علاوہ حزب اسلام اور امت مسلمہ کے مفاد کے تحفظ کے لئے حکمرانوں کا احتساب اور ان کی غداریوں کو بے نقاب کرتی ہے ۔ چونکہ حکمرانوں کے پاس اپنی غداریوں کے دفاع میں ایک بھی سچی دلیل  موجود نہیں تو اب انہوں نے سیاسی اختلاف رائے اور احتساب کو "نفرت انگیز" اور "دہشت گردی" قرار دینا شروع کردیا ہے تا کہ مسلمان رسول اللہﷺ کے اس قول پر عمل کرنا ہی چھوڑ دیں کہ بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔

سلمان جگرانوی کو نام نہاد نفرت انگیز مواد کو تقسیم کرتے ہوئے نہیں بلکہ 13 اپریل 2015 کو شام 5:30 بجے رائے ونڈ میں موجود ان کے مشہور خاندانی مطب، جگرانوی دواخانہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کی رپورٹ پولیس ہیلپ لائن 15 پر کردی گئی تھی۔ یہ حقیقت ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہےکہ راحیل-نواز حکومت کی ایجنسیوں نے اس بات کو جانتے ہوئے کہ ان کے پاس حزب کے خلاف کاروائی کرنے کا کوئی اخلاقی، قانونی اور سب سے بڑھ کر اسلامی جواز موجود نہیں جو انہوں نے ایک صریح جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔ لیکن اس بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے ایک بار پھر میڈیا کے کچھ اداروں نے اپنی اخلاقی، پیشہ وارانہ اور اسلامی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا اور حکومتی ایجنسیوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کو پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالا جبکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،


إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا
"اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو" (الحجرات:6)۔

لیکن خبر چلانے والے میڈیا ہاوسز نے حزب سے اس خبر کی سچائی جاننے کے لیے رابطہ نہیں کیا جبکہ جگرانوی خاندان کا تو گھر ہی کئی میڈیا ہاوسز کے پڑوس میں واقع ہے۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے۔ اس حقیقت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ چونکہ امریکہ خلافت کے قیام سے خوفزدہ ہے اس لیے کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت پہلا مقدمہ حزب التحریر کے خلاف درج کیا گیا ہے جو خلافت کے قیام کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق صرف سیاسی و فکری جدوجہد کرتی ہے ۔ انشاء اللہ امریکہ اور راحیل-نواز حکومت خلافت کے قیام کو روک نہیں سکیں گے کیونکہ یہ رسول اللہﷺ کی بشارت ہے اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کا وعدہ ہے کہ وہ موجودہ ظالم حکمرانوں کو ہٹائے گا۔ حزب التحریر تمام تر مشکلات کے باوجود ظالم حکمرانوں کے سامنے مضبوطی سے کھڑی رہے گی اور امت کی نظروں میں باعزت رہے گی کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،


وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
"اور آخری کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں" (الاعراف:128)

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر میں یمن میں افواج کو بھیجنے  کے خلاف مظاہرے کیے مسلم افواج کو یمن نہیں بلکہ بیت المقدس  آزاد کروانے بھیجو

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے  یمن میں افواج کو بھیجنےکے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے۔مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ :" مسلم افواج کو یمن نہیں بلکہ بیت المقدس  آزاد کروانے بھیجو " ، " مسلمانوں کا اتحاد -صرف بذریعہ خلافت "۔

پاکستان کے عوام  ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ جب  کبھی اور جہاں بھی اسلام ، رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی ہو یا  مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہوں تو پاکستان کی مسلم افواج کو اپنی اسلامی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حرکت میں آنا چاہیے۔ لیکن یہ غدار حکمران ہی ہیں جو ہمیشہ  ایسی صورتحال میں اپنے آقا امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں اور اس کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی صورت میں اسلامی ذمہ داری کی ادائیگی سے بچنے کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں اور پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔

حزب  یہ سوال کرتی ہے  کہ  جب یہودی وجود فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کرتا ہے تو اس وقت یہ حکمران حرکت میں کیوں نہیں آتے، مسلمانوں کا قبلہ اول پانچ دہائیوں سے یہودی وجود کے قبضے میں ہے لیکن یہ حکمران حرکت میں نہیں آتے، شام کے مسلمان چار سال سے مسلم افواج کو پکار رہے ہیں کہ ہمیں بشار کے ظلم و ستم سے بچاؤ لیکن دو لاکھ مسلمانوں کے قتل ہو جانے کے باوجود یہ حکمران حرکت میں نہیں آتے، کشمیر کے مسلمان تقریباً تین دہائیوں سے ہندوستان کے ظلم و ستم کے خلاف  جدوجہد کررہے ہیں اور لاکھوں جانوں اور ہزاروں عصمتوں کو لٹا چکے ہیں لیکن یہ حکمران حرکت میں نہیں آتے۔ لیکن جب امریکہ کا حکم آتا ہے تو یہ حکمران   یمن میں  فوجیں بھیجنے کے لئے فوراًتیارہوجاتے ہیں۔

مظاہرین  نے افواج پاکستان کے مخلص افسران سے  مطالبہ کیا کہ وہ  اللہ  سبحانہ و تعالٰی کے احکام کے مطابق نصرۃ فراہم کر کے خلافت کا قیام عمل میں لائیں تا کہ وہ ڈھال قائم ہوسکے جس کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع ہوتا ہے اور صرف خلافت کے قیام کے ذریعے ہی سے مسلم علاقوں  میں خانہ جنگی اور فتنہ و فساد کا خاتمہ  اور قبلہ اول سمیت تمام مقبوضہ علاقوں کی آزادی ممکن ہے۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

حوثیوں‬ نے ‫حزب التحر‬ کے رکن کو " فیصلہ کن طوفان" آپریشن کو بے نقاب اور اس کی مذمت کرنے والے پمفلٹ کو تقسیم کرنے پر گرفتار کر لیا ؟!!

حوثی ملیشیا نے صوبہ عمران کے ضلع ریدہ میں ہمارے بھائی مطہر احمد الراشدی کو گرفتار کرلیا ہے جن کی عمر 43 سال ہے اور جو کہ اسی ضلع کے ایک اسکول کے پرنسپل ہیں۔ مطہر احمد الراشدی کو ان کے گھر سے پیر30 مارچ2015 کو گرف ری تار کیا گیا پھر ان کو صوبے کے مرکز روانہ کردیاکیا گیا۔ ان کی گرفتاری حزب کے پمفلٹ تقسیم کرنے کے بعد ہوئی جس کا موضوع تھا ، "بالآخر ایجنٹ حکمرانوں کے طیارے حرکت میں آگئے..... مگر دشمنوں سے لڑنے کے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کو قتل کرنےکے لئے!" پمفلٹ میں لکھا ہے کہ " حکمرانوں کے طیارے اور جنگی بحری جہازیہود یوں سے لڑنےکے لیے حرکت میں آتے وہ یمن پر بم برسانے کے لئے حرکت میں آئےحالانکہ سبا(یمن )کی سرزمین کی بنسبت یہودی وجود ان کے زیادہ قریب واقع ہے!اس کاروائی کے لیے جو جواز پیش کیے گئے ہیں ان میں سے بد ترین جوازیہ ہے کہ یہ حملہ مسلمانوں کے قبلہ کےتحفظ کی خاطر ہے، حالانکہ حرم شریف پر تو حملہ ہوا بھی نہیں جبکہ مسلمانوں کا قبلہ اول جس پر یہودی حملہ کر کے قبضہ کر چکے ہیں اور وہ کئی دہائیوں سے یہودیوں کے قبضے میں ہے ، اورپکار پکار کر اِن حکمرانوں سے مدد کے لئے فریاد کرتا آرہا ہے،اس کی خاطریہ حکمران حرکت میں نہیں آتے!ان کے طیارے یمن کی طرف اس لئے پرواز کرتے ہیں تاکہ استعماری کفار کے منصوبوں کو مکمل کیا جائے، یہ طیارے فلسطین کی ارضِ مقدس کو چھڑوانے کے لئےکبھی نہیں اُڑتے جس پرمسلمانوں کے شدید ترین دشمن قابض بنے بیٹھے ہیں!"۔


حوثی اور بعض دوسری سیاسی قوتیں اس پمفلٹ سے بوکھلا اٹھے جو حزب نے شائع کیا تھا حالانکہ یہ صرف حق کی للکار تھی جس میں کسی حکمران،جماعت یا گروہ کی چاپلوسی نہیں کی گئی تھی۔ حزب نے اپنے طویل سیاسی سفر کے دوران ایک خیر اندیش اور تنبیہ کرنے والی جماعت کا کردار ادا کیا ہے جو مغرب کی سازشوں،اس کے آلہ کار حکمرانوں اور ان کے پہلو بہ پہلو چلنے والوں اور ان کے گود میں پلنے والوں کو بے نقاب کرتی رہتی ہے چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ حزب معاملات کو صرف شریعت کی نظر سے دیکھتی ہے اور وہ ہمیشہ اپنا موقف اسی کے مطابق اختیار کرتی ہے ۔ وہ چپقلش کے دونوں فریقوں کو بد بودار گروہی تعصب کے عینک سے نہیں دیکھتی جس کو مغرب مسلمانوں کے درمیان ہوا دینے کی کوشش کرتا ہے بلکہ حزب کے تجزئیے اور واقعات پر گہری نظر ہو تی ہے اور وہ صورت حال کا درست نقشہ پیش کرتی ہےلیکن یمن تنازعے کے دونوں فریق کڑوی حقیقت کا سامنا کرنے اور سچی نصیحت سنے کی طاقت نہیں رکھتے۔


حزب نے اپنے پمفلٹ میں یمن میں جاری تنازعے کی حقیقت اور اس کے ایجنٹ فریقین کی حقیقت کو واضح کیا اوریہ بتا یا کہ یہ بین الاقوامی انگلو امریکن(امریکہ اور برطانیہ کی) کشمکش ہے۔ پمفلٹ میں کہا گیا کہ "امریکہ نے ایران کے ذریعے حوثیوں کو انواع واقسام کا اسلحہ اور سامان ِجنگ فراہم کرکے ان کی مدد کی تاکہ وہ طاقت کے بل بوتے پر یمن پر تسلط حاصل کرلیں ۔ امریکہ یہ جانتا ہے کہ سیاسی میدان میں زیادہ تر برطانیہ کے پروردہ سیاست دان چھائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا امریکہ نے حوثیوں کے ذریعے طاقت کے بل بوتے پریمن پر تسلط جمانے کی راہ اختیار کی ۔حوثیوں نے صدر کا محاصرہ کر لیااور اس پر زور ڈالا کے وہ ان کی مرضی کے قوانین منظور کرے۔ یمن کا صدر ہادی ان قوانین کے نفاذ پرحوثیوں کے ساتھ اتفاق کرلیتا اور پھر اِن معاہدوں اور قوانین کو عملی جامہ پہنانے میں ٹال مٹول کرنے لگتا تھا ، یہ کھیل جاری رہا اور پھر وہ وقت آگیا جب حوثیوں نے صدر کو اس کے گھر میں قید کردیا لیکن وہ کسی طرح فرار ہو کر عدن پہنچ گیا۔ حوثیوں نے عدن تک اس کا پیچھا کیا، مگر وہ دوبارہ ان کے ہاتھوں بچ نکلا۔۔۔۔یوں یہ کشمکش طویل ہوتی چلی گئی اور حوثیوں کی طاقت کسی ایک مرکز پر جمع نہ رہ سکی بلکہ پورے ملک کے اندر پھیل جانے سے کمزور ہوگئی اور حوثی وہ کچھ حاصل نہ کرسکے جو وہ چاہتے تھے سوائے اس کے کہ علی صالح اور اس کے حواریان کے ساتھ شامل ہوگئے تا کہ اگر حوثی ، صدر ہادی کے خلاف کامیاب ہو جاتے ہیں تو حاصل ہونے والے انعام میں سے وہ بھی اپنا حصہ وصول کرسکیں ۔ اور اگر حوثی ناکام ہو جاتے ہیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے۔ برطانوی ایجنٹوں کی اس حکمتِ عملی کے ابتدائی آثار دکھائی دے رہے ہیں"۔ پھر حزب نے اپنے پمفلٹ میں " فیصلہ کن طوفان" کے نام سے حوثیوں پر حملے کی حقیقت کے بارے میں تجزیہ کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ "جب امریکہ نے دیکھا کہ ان کے حوثی حواری مخمصے کا شکار ہیں ، انہوں نے اپنی قوت کو پورے یمن میں پھیلا دیا ہے جس کے باعث نہ تو وہ مکمل طور پر اپنی بالادستی کو قائم کر پارہے ہیں اور نہ ہی وہ شمال میں اپنے مرکزکی طرف واپس جاسکتے ہیں،تو امریکہ نے محدود فوجی آپریشن کے ذریعے انہیں اس صورتحال سے نکالنے کا فیصلہ کیاکہ ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں۔ پہلا :لوگ حوثیوں کو ایک جابر کی نظر سے دیکھنا شروع ہو گئے ہیں یہ فوجی حملے ان کے مظلوم ہونے کا تاثر قائم کریں گے اور دوسرا یہ کہ بحران کے بڑھنے سے ہنگامی مذاکرات کے لئے ماحول بن سکے گا اور کوئی مصالحتی حل سامنے آئے گا۔ ہر اس معاملے میں جہاں امریکہ تنہا کوئی مفاد حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ یہی روش اختیار کرتا ہے ۔۔۔ جو کچھ پہلے ہوچکا ہے اور جو کچھ اب ہورہا ہے اس نے صورتحال کو واضح کردیا ہے۔ سعودی عرب نے عسکری کاروائی سے قبل امریکہ سے مشاورت کی ، اورامریکہ کے ایجنٹ ہی اس آپریشن میں پیش پیش ہیں یعنی سعودی عرب کا شاہ سلمان اورمصر کا جنرل سیسی ۔ جہاں تک باقی خلیجی ریاستوں اور اُردن ومراکش کا تعلق ہے تو ان کا کردار زیادہ تر سیاسی ہے ، ان کا رویہ برطانیہ جیسا ہے، کہ برطانیہ امریکہ کا ساتھ دیتا ہے ، تا کہ یہ نظر آئے کہ وہ بھی متحرک ہے اور عنقریب ہونے والے مذاکرات میں اس کا بھی کچھ نہ کچھ کردار ہو اور اس طرح جو بھی حل سامنے آئے اس کے نتیجے میں طاقت کے مراکز میں اس کا بھی اثرو رسوخ موجود رہے۔اگر چہ فوجی کاروائی کو مسلط کرنا بسا اوقات مذاکرات کا سلسلہ شروع کرانے میں کا میاب رہتا ہے ، مگر کبھی یہ حربہ ناکام بھی ہو جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں یمن کی صورتحال مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور اسے جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب یمن مستحکم اور خوشحال تھا جب اس کی پاک مٹی پر ایجنٹوں اور استعماری کفار کے ناپاک قدم نہیں پڑے تھے"۔


ہم یہ جانتے ہیں کہ تحریکوں میں مخلص کار کن بھی ہیں جو بس اسلام کا نام ہی استعمال کرتی ہیں اور حوثی بھی ایسے ہی ہیں، لیکن بین الاقوامی موقف اور ایجنٹ حکمرانوں کی حقیقت کے بارے میں جانے بغیر صرف اخلاص ہی کافی نہیں ہوتا۔ اگر حوثی اور یمن میں تنازے کے فریقین کو ایجنٹ کہنا برا لگتا ہے تو وہ اس لفظ کے اصطلاحی معنی کو دیکھیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ایجنٹ وہ ہو تا ہے کہ جو دشمن کے منصوبوں کو کامیاب بنائے چاہے وہ اس حقیقت کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ ان سب کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ حزب التحریرکے جوان اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنے رب کے وعدے کو پانے کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ یا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے اپنے دین کو غالب کردیں گے یا وہ اپنی گردنیں کٹوالیں گے ۔ان کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ حزب ہی اس امت کی امیدوں کی محور اور اللہ کے اذن سے اس کے قائدین اور اس کو یکجا کرنے والے اور اس کی صفوں کو سیدھی کرنے والی ہے۔ وہی اس امت کے اندر سے فرقہ واریت کو ختم کرے گی اور دشمنوں کو رسوا کرے گی، اسلام کے اقتدار کو بحال،کلمہ حق کو بلند اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرتی رہے گی۔ یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ لہٰذا تم فورا ً مطہر الراشدی اور ہر اس شخص کو آزاد کرو جس کو تم نے ظلم سے گرفتار کیا ہے۔


﴿وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾
" اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کر تا "(آل عمران:57) ۔


ولایہ یمن میں حزب التحریرکا میڈیاآفس

Read more...

‏حزب‬ التحریرکے خلاف ‫‏راحیل_نواز‬ حکومت کا عدالتی جبر گرفتاریاں اور طویل قیدو بند ‫‏خلافت‬ کے قیام کو روک نہیں سکتیں

منگل 31 مارچ 2015 کو لاہور ہائیکورٹ کے بینچ نے تین ماہ تک تاریخوں پر تاریخیں دیتے رہنے کے بعد حزب التحریر کے 12 شباب کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ ان بارہ شباب کو 5 دسمبر 2014 کے دن لاہور گلبرگ سے ایک اسلامی درس کی محفل سے گرفتار کیا گیا تھا۔
راحیل-نواز حکومت حزب التحریر اور اس کے شباب کو خلافت کے قیام کی جدوجہد سے روکنے کے لئے برطانوی سامراجی عدالتی نظام کا سہارا لے رہی ہے۔ یہ نظام بنا ثبوت اور جرم کو ثابت کیے بغیر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو سالوں قید میں بند رکھنے کا قانونی جواز فراہم کرتا ہے۔ چار ماہ سے گرفتار ان افراد کے خلاف نہ تو مقدمہ شروع کیا گیا ہے اور نا ہی انہیں ضمانت فراہم کی جارہی ہے۔ تین ماہ تک تاریخیں دیتے رہنے کے بعد جب عدالتی بینچ نے استغاثہ سے مبینہ جرم کے حوالے سے ثبوت دیکھانے کا مطالبہ کیا تو اُس درس میں رکھی ہوئی حزب التحریر کی کتابیں پیش کی گئی لیکن بینچ نے ان کتابوں کو ایک نظر دیکھے بغیر ہی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔ حزب کی تمام کتابیں اسلام کے عقائد سے لے کر نظام ہائے زندگی تک صرف اور صرف قرآن و سنت پر مبنی ہیں اور آج تک کوئی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ ان کے پڑھنے اور پڑھانے سے اسلام کی نہیں بلکہ نفرت، فرقہ واریت یا دہشت گردی کی ترویج ہوتی ہے۔
یہ بارہ شباب معاشرے کے معزز خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اعلٰی تعلیم یافتہ اور اس معاشرے کے نگینے ہیں جو ایک طرف اپنے تعلیمی و کاروباری صلاحیتوں سے معاشرے کو فائدہ پہنچاتے آرہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ خلافت کے قیام کے لئے رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے سیاسی و فکری جدوجہد کررہے ہیں جس کا قیام پوری امت پر فرض ہے اور جس کے ذریعے سے امت ذلت و رسوائی کی دلدل سے نکل کر ایک بار پھر عزت و مرتبے کے مقام پر فائص ہو گی۔


حزب التحریر راحیل-نواز حکومت کو بتا دینا چاہتی ہے کہ تمھاری کوئی کوشش خلافت کے قیام کو کسی صورت روک نہیں سکتی کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا وعدہ ہے اور ان کا وعدہ سچا ہے۔ لہٰذا جو کوئی اس وعدے اور بشارت کو روکنے کی کوشش اور ظالموں کی معاونت کرتا ہے درحقیقت وہ انتہائی بدقسمت ہے۔ حزب التحریر یہ یاد دہانی کروا کر صرف حجت تمام کر رہی ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس وعدے کو روکنے اور اس وعدے کی تکمیل کے لئے کام کرنے والوں پر ظلم کرتے ہیں اور ظالموں کی معاونت کرتے ہیں وہ یہ جان لیں کہ جب خلافت قائم ہو جائے گی تو وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے اور جب وہ روز قیامت اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے تو ان کا خسارہ تو اس دنیا کے خسارے سے بھی شدید ہوگا۔
لہٰذا حزب التحریر اور اس کے شباب پوری قوت سے خلافت کے قیام کی جدوجہد کرتے رہیں گے اور اللہ کے حکم سے خلافت قائم ہو کر رہے گی۔ تو اے ظالموں اور ان کی معاونت کرنے والوں! تم اپنا زور لگا لو اور حزب التحریر اور اس کے شباب اللہ سبحانہ و تعالٰی ہی پر بھروسہ کرتے ہوئے اس جدوجہد سے کسی صورت تائب نہیں ہوں گے۔


إِنَّ ٱللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ
"اللہ اپنا کام پورا کر کے رہے گا" (طلاق:3)


شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک