السبت، 05 محرّم 1448| 2026/06/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُ "اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلہ میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو"(آل عمران:200)

حکومت کے وفادار میڈیا ذرائع نے    حکومت کی جانب سے حال ہی میں کیے جانے والے فیصلے کی پوری تفصیلات  شائع کیں ہیں جس کے تحت  نوجوان  سفر سے پہلے  لازما "شعبہ ریکروٹمنٹ" سے اجازت لیں گے۔ نیا فیصلہ ہر اس شامی کے لیے ہے جس کی عمر 18 سال سے 42 تک ہو۔ جو یہ اجازت لینے کا خواہشمند ہو   اس کو 300 امریکی ڈالر یا اس کے مساوی شامی لیرہ ادا کرنا ہوں گے۔ امیگریشن اور پاسپورٹ  ڈپارٹمنٹ نے   ایک ہنگامی ٹیلی گرام   بھیجا ہے  جس میں  لازمی خدمت سے فارغ ہونے والوں کو  ریکروٹمنٹ  کے شعبے کی اجازت کے بغیر  سفر کی اجازت نہ دینے کا   مطالبہ کیا گیا ہے۔

اے اسلام کے مسکن شام کے مسلمانو ! دور حاضر کے طاغوت بشار کے خلاف  شام کے مبارک انقلاب  کے چار سال ہونے پر  اور شام کے مسلمانوں کے امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی سازشوں  کے سامنے ڈٹ جانے کی وجہ سے   اور روس اور ایران کی جانب سے اس مجرم حکومت کو ہر قسم  کی مادی،عسکری اور افرادی قوت کے ذریعے مدد کے باوجود،بین الاقوامی  برادری کی جانب سے دور حاضر کے فرعون  کی اس خوف سے پشت پناہی کہ کہیں اس کے ختم ہونے سے  یہ انقلاب خلافت راشدہ علٰی منہاج النبوۃ میں تبدیل نہ ہوجائے ۔۔۔ اس سب کے باوجود اس انقلابی تحریک  نے  اس کی مادی ،عسکری اور افرادی طاقت  کا صفایا کر دیا جس سے  وہ ان لو گوں سے  عسکری خدمات لینے پر مجبور ہوا ہے جنہوں نے فوجی خدمات انجام نہیں دیں  یا دے چکے ہیں (جن کی عمریں 18 سے 42 سال کے درمیان ہیں )کہ انہیں   ریکروٹمنٹ  ڈپارٹمنٹ سے رجوع کرنے کا کہا گیا ہے اوراسی لیے ان کو بیرونی سفر سے روک دیا  گیا ہے بلکہ ان کو گرفتار کرکے  زبردستی  ان کے ذریعے حکومت کو بچانے  اور  ان کو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ یہ اس بات کا واضح مظہر ہے کہ  یہ حکومت کمزوری کے کس حد کو پہنچ چکی ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ عنقریب اللہ کے اذن سے یہ حکومت ختم ہوجائے گی ۔ حکومت  کا یہ قدم   ظاہر کرتا ہے کہ وہ یہ کہہ کر جھوٹ بولتی ہے کہ طاقتور ہے اور حلب کا محاصر کر سکتی ہے جبکہ  وہ تو اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتی۔

 

اے شام کی مبارک سر زمین  کے مجاہدو !

شام میں آج جو  ہو رہا ہے  اس کو صرف اللہ پر ایمان اور اس کے دین کی سربلندی  کی بنیادد پر اس کے سامنے ڈٹ کر ہی انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس سرکشی کو ختم کرنے کے  لیے تم نکلے ہو تو حق پر ثابت قدم رہو ،ظالم سرکشوں  کے سامنے کمزوری مت دکھاو اور ایسے ہی بنو جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل * فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ * إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

"ان لوگوں سے جب لوگوں نے کہا کہ  لوگ تو تمہارے خلاف اکھٹے ہو گئے ہیں ان سے ڈروتو  اس سے ان کا ایمان اور بھی مضبوط ہو گیا اور کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے  اور وہی بہترین کار ساز ہے اس لیے وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے ، انہیں  کوئی برائی (نقصان) نہیں پہنچی انہوں نے اللہ کی رضامندی کی پیروی کی اور اللہ ہی بہت فضل والا ہے  یہ تو بس شیطان ہے جو  اپنے دوستوں کو ڈرا تا ہے،  تم ان سے مت ڈرو مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو"(آل عمران:175-173)

اور اللہ تعالی نے ان سے کامیابی کا وعدہ کیا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

"اے ایمان والو صبر کرو اور مقابلے میں مضبوط رہو اور لگے رہو اور اللہ سے ڈرو  تاکہ  تم کامیاب ہو سکو"(آل عمران:200)۔

و مضبوطی سے کھڑے رہو اور صابر رہو اور اپنی جدوجہد جاری رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم کامیاب ہوسکو۔

احمد عبدالوہاب / ولایہ شام میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے سربراہ

Read more...

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر میں سانحہ پشاور کی مذمت میں مظاہرے کیے اے افواج پاکستان ! خطے سے امریکی شیطانی وجود کا خاتمہ کرو جو دہشت گردی کا ماخذ ہے

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے منگل 16 دسمبر کو پشاور میں ہونے والے اندوہناک اور وحشیانہ حملے کےخلاف آج  ملک بھر میں  مظاہرے کیے جس میں ایک سو بتیس بچےاورنو بڑوں کو بے دردی سے قتل کردیا  گیا تھا۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ :"اے پاک فوج!سانپ کا سر کچل دو، امریکی ایمبیسی اڈے بند کرو "، "دھماکے بدامنی اور عدم استحکام، وجہ ہے امریکہ اور غدار حکمران

مظاہرین کا یہ کہنا تھا کہ اس قسم کے شیطانی حملے اور قتل  و غارت گری امریکی انٹیلی جنس کرواتی ہے تا کہ خطے میں اپنے مفادات کو آگے بڑھا سکے۔اس قسم کے وحشیانہ حملے جس میں معصوم بچوں  تک کو قتل کردیا جائے دراصل اس امریکی خارجہ پالیسی کا براہ راست نتیجہ ہے جس کے تحت  خفیہ  طور پر  اس ملک کی فوج اور عوام پر حملے کرائے جاتے ہیں۔ یہ خفیہ حملے ثابت شدہ امریکی ہتھکنڈے ہیں جو اس کی انٹیلی جنس اور پرائیوٹ ملٹری دنیا بھر میں اختیار کرتی ہیں تا  کہ ہدف شدہ  ملک کو عدم تحفظ کا شکار کردیا جائے۔

مظاہرین نے ان  مخلص قبائلی مسلمانوں سے جو افغانستان میں قابض امریکی افواج کے خلاف لڑ رہےہیں مطالبہ کیا  کہ  وہ ان حملوں کی بھر پور مذمت کریں  اور اُن لوگوں کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں جو اسلام کے متعلق کچھ نہیں جانتے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے امریکی منصوبے کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

مظاہرین  نے افواج پاکستان کے مخلص افسران سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ  اللہ  سبحانہ و تعالٰی کے احکام کے مطابق  لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں کیونکہ وہی اس بات کی صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے حزب التحریر کو نصرہ فراہم کر کے خلافت کا قیام عمل میں لائیں۔ پھر خلافت امریکی  سانپ کے سر کو کچل دے گی،  امریکی سفارت خانے اور قونصل خانوں کو بند ، امریکی سفارت کاروں اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں کو  ملک بدر کردے گی جو آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں ،  لوگوں سے رابطے کرتے ہیں اور ڈالر بانٹتے ہیں اور اس طرح پاکستان کو امریکی نجس وجود سے پاک کردے گی۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

تصویرکے لئے یہاں پر کلک کریں

http://cms.muslimworld.today/info/images_topics/Image/wilayat/pakistan/2014/12/2014_12_18_PK/2014_12_18_PK_Pics%20(5).jpg

Read more...

نیشنل ایکشن پلان دراصل امریکی پلان ہے نیشنل ایکشن پلان امریکی صلیبیوں کے خلاف جہاد کرنے والوں کو ختم کرنےکا منصوبہ ہے

امریکہ کے حکم پر راحیل-نواز حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نیشنل ایکشن پلان پاکستان سے بدامنی کے خاتمے کے لئے نہیں بلکہ جہاد کے تصور اور امریکہ اور کفار کےخلاف جہاد کرنے والوں کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ بظاہریہ نیشنل ایکشن پلان ان لوگوں کے خلاف ہے جو ملک میں فوجی و شہری تنصیبات پر حملے اور فوجیوں اور شہریوں کو قتل کرتے ہیں لیکن جس طرح خصوصیت سے اس منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ "اچھے اور بُرے طالبان میں کوئی امتیاز نہیں رکھا جائے گا" وہ اس بات کو بے نقاب کردیتا ہے کہ بدامنی پھیلانے والوں کو ختم کرنے کی آڑ میں اُن مجاہدین کا خاتمہ کرنا مقصود ہے جو امریکہ کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔ چونکہ راحیل-نواز حکومت بھی پچھلی حکومتوں کی طرح پاکستان کے مسلمانوں کے سامنے اس بات کا اقرار کرنے کی ہمت نہیں رکھتی کہ امریکہ کے حکم پر انہیں اچھے طالبان (جو امریکہ کے خلاف افغانستان میں جہاد کررہے ہیں) کو ختم کرنا ہے لہٰذا انہیں اور بُرے طالبان (جو شہریوں اور فوجیوں کا نشانہ بناتے ہیں)کو ایک ہی درجے میں شامل کردیا گیا ہے۔

امریکہ اور راحیل-نواز حکومت اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ تمام تر مکرو فریب ، سازشوں اور بم دھماکوں کے باوجود پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان کو جہاد کے تصور اور افغان جہاد سے متنفر نہیں کرسکے ، لہٰذاکوئی بھی نیشنل ایکشن پلان عوام اور افواج پاکستان کی حمائت حاصل کر ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے اس نیشنل ایکشن پلان کو نافذ کرنے کے لئے فوجی عدالتوں کی صورت میں فوجی قوت کےاستعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسی بھی حکومت کا اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لئے فوجی قوت پر انحصار کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اِن پالیسیوں پر عوام کو قائل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ آئین کی بنیادوں کو تبدیل کرنے کے لئے اُس کی دفعہ 8 اور دفعہ(A-B) 212 میں ترامیم لائیں جارہی ہیں اور خود اپنے ہاتھوں یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ آمریت کی طرح جمہوریت میں بھی انسانوں کے بنیادی حقوق صرف اس وقت تک ہی محفوظ ہیں جب تک حکمران چاہتے ہیں۔

امریکہ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی مدد سے تیرہ سال سے تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کے عوام کے دل ودماغ کو جیتنے اور اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے کیونکہ مسلمان جانتے ہیں کہ جہاد اسلام کی شان ہے اور اس سے دست برادری دنیا و آخرت کی بربادی ہے۔ لہٰذا اب آخری حربے کے طور پر امریکہ پاکستان کے معاشرے کو جہاد سے دستبردار کروانے اور انہیں کفریہ سیکولر تصورات کو اپنانے کے لئے سیاسی وفوجی قیادت میں موجود غداروں کی مدد سے فوجی قوت کو استعمال کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

حزب التحریر پاکستان کے عوام، افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران اور ان لوگوں کو جو خود کو عوام کا رہنما کہتے ہیں، خبردار کرتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی حمائت اور مدد کرنا اللہ سبحانہ و تعالی، اس کے رسولﷺ اور مسلمانوں سے غداری کے مترادف ہے اور جس کی سزا بہت سخت ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کے معاشرے کو سیکولر بنانے اور جہاد کے تصور سے دستبرداری کا منصوبہ ہے لہٰذا اس کی ہر سطح پر مذمت اور مخالفت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا،

فمن كره فقد برئ، ومَن أنكر فقد سلم، ولكن مَن رضي وتابع

"تو جس نے برا جانا وہ بَری ہوا اور جس نے انکار کیا وہ (گناہ سے) محفوظ رہا۔ لیکن جو راضی رہا اور تابعداری کی وہ بَری ہوا نہ محفوظ رہا"

(مسلم)۔

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

راحیل-نواز حکومت کا قوم سے خطاب فوجی عدالتوں کا قیام خطے میں امریکی راج کو دوام دینے کے لئے ہے

بدھ اور جمعرات کے درمیانی شب وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کی حمائت سے تیار ہونے والے ان تجاویز کو پیش کیا جس کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کو ممکن بنائے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ان تجاویز میں سب سے اہم خصوصی عدالتوں کا قیام ہے جس کے جج فوجی افسران ہوں گے۔ دراصل یہ خصوصی عدالتیں فوجی عدالتیں ہی ہونگیں لیکن راحیل-نواز حکومت نے اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں خصوصی عدالتوں کا نام دیا ہے۔

سانحہ پشاور کی آڑ لے کر فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد ملک سے بدامنی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو سزائیں دینا ہے جو افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد کررہے ہیں اور عام عوام اور افواج میں موجود مخلص افسران کو خوفزدہ کرنا ہے جو اس ملک کو امریکی جنگ سے نکالنا اور خلافت کے قیام کی صورت میں اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن سے متعلق امریکہ نے جتنا دباؤ ڈالا، خاص کر حقانی اور گل بہادر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرنا ، سالانہ ایک ارب ڈالر کی امداد اس بات سے مشروط کرنا کہ امریکی سیکریٹری خارجہ کانگریس کو ہر سال اس بات کی یقین دہانی کروائے گا کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں کامیابی سے فوجی آپریشن کررہا ہے اور امریکہ کا یہ اقرار کر نا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کمزور ہوا ہے ، یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں فوجی آپریشن بدامنی کے خاتمے کے لئے نہیں بلکہ اس کی آڑ لے کر مخلص جہادیوں کو نشانہ بنانے کے لئے ہورہے ہیں۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے جواز میں یہ کہنا کہ حالت جنگ میں عام عدالتیں کام کرنے سے قاصر ہیں تو حقیقت تو یہ ہے کہ برطانوی راج کا چھوڑا ہوا عدالتی نظام عام حالات میں بھی انصاف فراہم کرنے سے یکسر عاری ہے تو کیا عام حالات میں بھی فوجی عدالتیں لگا دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ دس سال تک حکمران اور مسلسل حالت جنگ میں رہے اور اس کے ساتھ ساتھ منافقین اور یہود کی سازشوں کا بھی سامنا کرتے رہے لیکن کبھی بھی شہری حقوق غضب نہیں کئے گئے، نہ ہی اسلامی ریاست پولیس سٹیٹ میں تبدیل ہوئی ، بلکہ ان تمام حالات میں بھی ریاست کے شہریوں کو حکمرانوں کا احتساب کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔

دس سال سے قبائلی علاقوں اور ملک کے کونے کونے میں فوجی آپریشن جاری ہیں جس میں حکومت کے دعووں کے مطابق ہزاروں دہشت گردوں کا صفایا اور سیکڑوں بار ان کی کمر توڑی جاچکی ہے لیکن اگر اس کے باوجود ملک میں فوجی و شہری تنصیبات پر حملے اور قتل وغارت گری ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تو اس کی بنیادی وجہ افغانستان اور پاکستان میں امریکہ کی موجودگی ہے جو خصوصاًپاکستان میں فتنے کے آگ کو جلائے رکھنا چاہتا ہے تا کہ اس فتنے کو بنیاد بنا کر سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار قبائل اور پاکستان کے عوام میں موجود ان مخلص لوگوں کو نشانہ بنا ئیں جو امریکہ کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔

سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار پاکستان کو اس امریکی جنگ سے نکالنا ہی نہیں چاہتے بلکہ اب دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جہاد کے تصور کے خاتمے،لوگوں کے بنیادی حقوق کو غضب اور انصاف کے بنیادی اصولوں کا جنازہ نکال رہےہیں۔ جب کبھی بدامنی کے امریکی ماسٹر مائنڈز ریمنڈ ڈیوس اور جوئل کاکس گرفتار ہوئے تو سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے نہ صرف انہیں رہا کروادیا بلکہ حفاظت کے ساتھ ملک سے باہر بھی بھجوا دیا۔ پاکستان سے بدامنی کا خاتمہ اس خطے سے امریکہ کو نکالے بغیر ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اصل میں وہی اس کا ماخذ ہے۔ لہٰذا ملک سے بدامنی کے خاتمے کے لئے خطے سے امریکی وجود کا خاتمہ ضروری ہے جو صرف خلافت کے قیام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

پریس ریلیز شہریوں کی ہلاکتوں  میں اضافے کا براہ راست سبب غیر ملکی قبضہ اوراستعماریت ہے

افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کا مشن UNAMAنے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عام شہریوں کی  ہلاکتوں میں اضافہ ہوا،بالخصوص 2014 میں گزشتہ سالوں کی بنسبت یہ تعداد 19فیصدکی  شرح سے بڑھی۔ اقوام متحدہ کا مشن برائے افغانستان کی طرف سے 2009سے تا حال      17252 افغانیوں  کے قتل  اور 29536 کے زخمی ہونے کو ریکارڈ کیا گیاہے  جبکہ دوسری طرف اس رپورٹ میں یہ ذکر بھی  کیا گیا کہ ان نقصانات  اور ہلاکتوں  میں سے 75فیصدکے ذمہ دار طالبان ہیں کیونکہ اس علیحدگی پسند گروہ نے ہی بین الاقوامی اور افغان فوجیوں پر شدید  حملے کئے۔

حقیقت  میں ان تمام انسانی نقصانات کا اصل سبب  افغانستان میں امریکہ اور ناٹو کی جنگی مشینری کی موجودگی ہے۔       یہ مشینری مظلوم افغانی قوم کے خلاف مختلف   فورسز کے ذریعے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جیسا کہ سپیشل امریکن اینڈ افغان فورسز، باہمی سیکورٹی معاہدوں  کے  امن فورسز، بلیک واٹر ، مائیکل نیٹ ورک،علاقائی پولیس اور قومی انقلابی فورسز،اس  کے ساتھ جنگی طیاروں سے بمباری اور ڈرون  حملے شامل ہیں۔

افغانستان کی صلیبی جنگ تیرہ سال کا عرصہ پوراکرچکی ہے مگر بالآخر امریکہ اور ناٹو کو  شرمناک اور ذلت آمیز فوجی شکست کا سامنا کرناپڑا۔  لہٰذابھاری نقصانات اوربڑے خساروں کے  بغیرکم قیمت کے ساتھ جنگ کی قیادت کرنے کے لئے  امریکہ اور ناٹو نے افغانستان میں اپنی افواج میں کمی کر کے جنگ کو مقامی اور افغان باشندوں کے مابین جنگ کی سطح پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔  جنگ کو جاری رکھنے کے لئے اُنہوں نے افغان فورسز کے لئے میدان جنگ  چھوڑدیا ۔ مزید برآں ، کابل اور واشنگٹن کے درمیان باہمی سیکورٹی معاہدے  (BSA) کے مطابق امریکی اور ناٹو فورسز رہنمائی کا کردار ادا کریں گے اور اپنے اڈو ں میں تعینات رہیں گی۔

بہر حال ، افغانستان کی عسکری وسیاسی قیادت کے لئے  ضروری ہے کہ  وہ قابض  مغربی استعماریوں کے آلہ کاروں اور مزدوروں  کا کردار ادا نہ کریں اور اپنے بھائیوں کے قتل سے اپنا ہاتھ روکیں۔    کیونکہ اسلام دشمن اور استعماری اہداف کے حصول کے لئے مغرب مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کرواناچاہتا ہے۔  بحران کی اس کیفیت کو  جڑوں سے تبدیل کرنے اور اس المناک صورتحال سے نکلنے  کا ایک ہی حل  ہے  کہ نبوت کے نقش ِ قدم پر خلافت کو قائم کیاجائے اور دشمنوں  کے خلاف قوت ایک کی جائے۔

حزب التحریر کا  مرکزی میڈیا آفس

ولایہ افغانستان

Read more...

پاکستان سے امریکی وجود کا خاتمہ، دہشت گردی کا خاتمہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکہ سے مدد مانگناشہدائے پشاور کے خون سے غداری ہے

جمعرات کو وزارت داخلہ نے امریکی سفارت خانے سے رابطہ کیا کہ وہ جنوبی ایشیا کے سیکورٹی معاملات کے ماہر ین پاکستان بھیجے تا کہ وہ تمام پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کو انسداد دہشت گردی کا منصوبہ بنانے میں مدد فراہم کرسکیں۔

ہر پاکستانی مسلمان اس بات سے باخبر ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا براہ راست فائدہ امریکہ اٹھاتا ہے ۔ ملک میں کسی بھی بڑے دہشت گردی کے واقعے کے بعد کبھی بھی سیاسی فوجی قیادت میں موجود غدار عوام کے تحفظ میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی نہیں ہوتے بلکہ ان واقعات کو جواز بنا کر تحفظ پاکستان ایکٹ جیسے کالے قوانین بناتے ہیں تا کہ اسلام کے نام پر اٹھنے والی ہر آواز کو ، چاہے وہ کتنی ہی پرامن کیوں نہ ہو، دبا دیا جائے اور امریکہ کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو نشانہ بنانے کے لئے نئے آپریشن شروع کردیتے ہیں۔ لیکن اس خطے کے مسلمان کسی صورت امریکہ کی غلامی تسلیم کرنے کے لئے راضی نہیں ہورہے جس کی وجہ سے امریکہ سی۔آئی۔اے اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک جیسے اداروں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرواتا ہےاور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار سی۔آئی۔اے اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کو ، حساس فوجی تنصیبات سے لے کر قبائلی علاقوں تک میں گھومنے بھرنے ، ایجنٹ بنانے اور ان ایجنٹوں کے ذریعے سے حملے کروانے کی آزادی فراہم کرتے ہیں۔ 21 فروری 2011 کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پنجاب پولیس کے ایک عہدیدار کے حوالے سے اس بات کا انکشاف کیا کہ "ریمنڈ ڈیوس لاہور اور پنجاب کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔۔۔۔پنجاب سے نوجوانوں کو خونی کاروائیوں کے لئے بھرتی کررہاتھا۔۔۔ اس کے ڈیجیٹل کیمرے سے دفاعی تنصیبات کی تصویریں برآمد ہوئیں"۔

پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دہشت گردی کے سرغنہ،امریکہ سےمدد طلب کرنا پشاور میں قتل ہونے والے 141 معصوم بچوں اور بڑوں کے خون سے غداری اور مذاق ہے۔ پچھلے تیرہ سالوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جتنا امریکہ کو پاکستان میں قدم جمانے اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی اسی قدر دہشت گردی میں اضافہ ہی ہوا کمی بالکل بھی نہیں ہوئی۔ اس حقیقت کے باوجود راحیل-نواز حکومت کا ایک بار پھر اس ملک کے معصوم لوگوں کے تحفظ کے لئے خونی امریکی بھیڑیے سے مدد مانگنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران اس ملک سے دہشت گردی اور اس کے معصوم عوام کا خون ناحق کو بہنے سے روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

پاکستان کے عوام کو یہ بات جان لینا چاہیے کہ جب تک امریکی سفارت خانہ ، قونصل خانےبند اور سفارتی ، فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار ملک بدر نہیں کئے جاتے ، جو دہشت گردی کی کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گردوں کو مادی وسائل فراہم کرتے ہیں، یہ آگ کسی صورت نہیں بھجے گی چاہے کتنے ہی آپریشن یا مذاکرات کر لئے جائیں۔ لہذا عوام کو راحیل-نواز حکومت کو پاکستان سے امریکی موجودگی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا چاہیے جو اس دہشت گردی کا ماخذ ہے۔

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک