نصرة میگزین / شمارہ : 33
- Published in دیگر
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- |
نصرة میگزین / شمارہ : 33
نومبر/دسمبر 6102
بمطابق ر بیع الثانی / جمادی الاول 1438 ہجری
نومبر/دسمبر 6102
بمطابق ر بیع الثانی / جمادی الاول 1438 ہجری
10 دسمبر کو بھارت کی دائیں بازو کی جماعت شیو سینا نے وزیر اعظم نریندرا مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ شرعی قوانین میں تبدیلیاں لائیں جن پر ملک کے مسلمان عمل کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ ہی دن قبل اللہ آباد ہائی کورٹ نے تین طلاق کے طریقہ کارکو "ظلم" قرار دیا تھا۔
خبر: 14 دسمبر 2016 کو امور خارجہ پر وزیر اعظم کے خصوصی مشیر طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امریکی کامیابی کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ،” خطے میں مسائل کے حل کے لیے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات لازمی ہیں۔ پاکستان نے خطے میں امریکی کامیابی کے لیے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ،” ہم ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کاروباری پس منظر اور ان کی معاشی تعلقات میں دلچسپی وزیر اعظم نواز شریف کی ویژن سے مشابہت رکھتی ہے”۔
جنوری/فروری 6102
بمطابق ر بیع الثانی / جمادی الاول 1438 ہجری
..یہی معاملہ جنرل کیانی کے حوالے سے بھی ہے جس کی غداری بے نقاب ہو چکی ہے لیکن جب وہ آرمی چیف تھا تو اس کی تعریفیں کیں جاتی تھیں۔ اور اب وہی کہانی جنرل راحیل کے حوالے سے دہرائی جارہی ہے کہ اب اس کی زبردست مذمت کی جارہی ہے..
جیسے ہی9 نومبر 2016 کو امریکی صدارتی انتخابات کا غیر متوقع نتیجہ سامنے آیا، سیاستدانوں اور دانشوروں کی طرف سے آراء کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ امریکہ میں اشرافیہ کے مقابلے میں عام عوام کے اندر تقسیم کبھی اتنی واضح نہ تھی۔
سوال:
17 اکتوبر2016 کو موصل واگزار کرانے کا معرکہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا، اس کا کیا مقصد ہے؟ امریکی ذمہ داروں کے سابقہ بیانات کوکس نظر سے دیکھنا چاہئے جو چند سالوں کے بعد موصل کی لڑائی کی توقعات کا اظہار کرتے تھے؟ اور کیا موصل سے نکالے جانے کے بعد داعش تنظیم ختم ہوجائے گی ؟ نیز ترک حکومت اور عراقی حکومت کے درمیان طعن وتشنیع کا تبادلہ یا لفظی جنگ کیوں ہورہی ہے ؟ ترک حکومت اس جنگ میں شراکت پر کیوں اصرار کر رہی ہے؟
انڑ سرورسز پبلک ریلیشنز نے اپنی پریس ریلیز (PR495/2016-ISPR) میں بتایا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعودسے 18 دسمبر کو ملاقات کی ۔ اس پریس ریلیز میں یہ کہا گیا کہ دونوں ممالک اہم کھلاڑی ہیں اور “مسلم امہ کے حوالے سے اہم ذمے داریاں ہیں ” ، اور باجوہ نے “سعودی علاقائی سالمیت کے تحفظ ” کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
سوال:
کیا دریاوں سے متعلق کوئی شرعی قواعد ہیں، چاہے یہ دریا ریاست خلافت میں شروع ہو کر اسی میں ختم ہوجاتے ہوں یا وہاں سے نکل کر دوسری ریاستوں میں جاتے ہوں ؟ اللہ آپ کو بہترین جزا دے۔
جو کچھ حلب میں ہوا یعنی اجتماعی قتل عام، سڑکوں پر قتل اور گھروں کو ان میں رہنے والوں سمیت تباہ برباد کرنا، یہ سب کچھ امریکہ، مغرب اور روس کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جو کچھ فلسطین، افغانستان اور عراق میں ہوا تھا وہ زیادہ دور کی بات نہیں ہے ۔