بسم الله الرحمن الرحيم
سوال کا جواب
اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران روس پر یوکرین کے حملے
(ترجمہ )
سوال: الجزیرہ نیٹ نے 10/6/2026 کو رپورٹ کیا: (یوکرینی صدر زیلنسکی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ان کے ملک نے گزشتہ رات ماسکو سے سینکڑوں کلومیٹر مشرق میں واقع ایک روسی فوجی تنصیب کو یوکرین کے بنے ہوئے میزائلوں سے نشانہ بنایا، اس دعوے کو روس نے بھی تسلیم کیا ہے، ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں یوکرینی ڈرونز کو فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا ہے...)
۔ سی این این عربی نے 6/6/2026 کو رپورٹ کیا تھا: (یوکرین نے ہفتے کی صبح سویرے سینٹ پیٹرزبرگ پر ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ کیا، یہ حملہ شہر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی میزبانی میں منعقد ہونے والے بڑے اقتصادی فورم کے اجلاس کےآخری دن کیا گیا۔ روس کے دوسرے بڑے شہر کو "بڑے پیمانے پر فوجی ڈرونز کےحملے" کا نشانہ بنایا گیا)۔ یوکرین کا یہ حملہ روس کی جانب سے اسی شہر میں منعقدہ بڑے اقتصادی فورم کے آخری دن ہوا، جو ڈیوس فورم کے مشابہ ہے۔ روس کے اندر گہرائی تک پہنچنے والے یوکرین کے ان اہم حملوں کے کیا اثرات ہیں، جو اس کے دوسرے اہم ترین شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں کانفرنسوں کے دوران بھی جاری رہے؟ کیا یہ روس کی ایک نئی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے، یعنی ایک ایسی عالمی طاقت جو بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی تھی، اب ایک درمیانے درجے کی طاقت اور اثر و رسوخ رکھنے والے ملک میں تبدیل ہو رہی ہے؟۔
جواب:
مندرجہ بالا سوالات کے جواب کے لیے، ہم درج ذیل امور کا جائزہ لیں گے:
1- اس حملے کے حوالے سے... الجزیرہ نیٹ نے 10/6/2026 کو جو کچھ شائع کیا اور سی این این عربی نے 6/6/2026 کو جو رپورٹ دی، وہ اس حقیقت کی واضح عکاسی ہے جس میں روس آج خود کو پاتا ہے، بالخصوص روس کے دوسرے اہم ترین شہر میں اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران اس پر ہونے والے یوکرینی حملے!
مزید برآں، یہ حملہ نہ صرف فورم کے اختتام پر ہوا بلکہ اس کے آغاز میں بھی دیکھنے میں آیا! [یوکرینی افواج نے شہر میں منعقدہ بین الاقوامی اقتصادی فورم کے آخری دن سینٹ پیٹرزبرگ پر گولہ باری کی... روسی بین الاقوامی اقتصادی فورم کے پہلے دن، بدھ کو، ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد قدیم شہر کے اوپر آسمان میں دھوئیں کے بادل بلند ہوئے۔ تقریب میں پہنچنے والے مہمانوں کا استقبال پس منظر میں سیاہ دھوئیں کے ایک ستون نے کیا... مڈل ایسٹ، 6/6/2026]۔
2- اس قسم کا بڑے پیمانے پر اور طاقتور حملہ، جو نہ صرف یوکرین کے ساتھ ملحقہ سرحدوں بلکہ روس کی گہرائی میں واقع کلیدی تنصیبات اور شہروں کو نشانہ بناتا ہے، اور وہ بھی روس کے ایک بڑے ایونٹ—سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم—کے موقع پر جس میں صدر پیوٹن بذاتِ خود شریک ہیں، روس کے لیے ایک سنگین چیلنج کی نمائندگی کرتا ہے۔ یوکرین نے جنگ کے آغاز میں روس کے ساتھ اپنی سرحدوں سے باہر کسی بھی قسم کے حملے کرنے سے گریز کیا تھا۔ پھر اس نے سرحد پار حملے شروع کیے اور بتدریج اپنے حملوں میں تیزی لائی، یہاں تک کہ وہ خود کریملن تک جا پہنچا اور سائبیریا کی گہرائی میں واقع فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے روس کے اسٹریٹجک طیارے تباہ ہوئے، جن میں "وائٹ سوان" بمبار طیارے بھی شامل ہیں جو روس کی جوہری تثلیث (nuclear triad) کا حصہ ہیں۔ قریب اور دور کے روسی شہروں پر اس کے حملے نہیں رکے۔ اب وہ دارالحکومت ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ پر حملے کر رہا ہے، جو روس کے لیے بے پناہ اہمیت کا حامل شہر ہے اور زار کے دور کے خاتمے اور اشتراکی دور کے آغاز میں دارالحکومت رہا ہے۔ یہ حملہ روس کے لیے ایک انتہائی اہم بین الاقوامی ایونٹ کے دوران ہوا، ایک ایسا فورم جسے ڈیوس فورم کی طرز پر بنایا گیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر بالخصوص معاشی میدان میں روس کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ روس کے لیے یہ بین الاقوامی اقتصادی تقریب اس کی عظمت کے احساس کی علامت ہے۔ چنانچہ، فورم کے آغاز پر یوکرین کا پہلا حملہ، اس کے اختتام پر دوسرا، اور اس کے بعد ہونے والے حملے، سب روسی عظمت کے اس احساس کو چکنا چور کرنے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے یوکرین کے پیچھے امریکہ یا یورپ جیسی کوئی طاقتور قوت کھڑی ہے جو روس کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہ معاشی طور پر ایک غیر اہم قوم ہے اور اس شہر کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے جو آپ میں عظمت کے ایسے جذبات پیدا کرتا ہے۔
3- یہ درست ہے کہ روس یوکرین پر حملے کر رہا ہے، (روس نے اتوار کے روز، چار سال سے جاری جنگ کے آغاز سے اب تک کے شدید ترین حملوں میں سے ایک میں کیف اور گردونواح پر سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں کی بوچھاڑ کی، اور دارالحکومت کے قریب ایک 'اوریشنک' (Oreshnik) ہائپرسونک میزائل داغا۔ رائٹرز، 24/5/2026)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، اور حالیہ یوکرینی حملہ بھی انہی جوابی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔ تاہم، ان جوابی حملوں کی حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ روس اس بڑی طاقت کے مقام سے گر چکا ہے جس سے یوکرین جیسے ممالک ڈرتے تھے! روس اپنے گرد رعب و دبدبے کے ایک ایسے ہالے میں گھرا رہتا تھا جو یوکرین کو اس پر حملہ کرنے سے روکتا تھا۔ درحقیقت، جنگ کے آغاز میں، یوکرین نے روس کے شدید ردعمل کے خوف سے کریمیا پر حملے سے گریز کیا تھا جسے روس نے 2014 میں اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔
4- پھر روس کا یہ وقار جنگ کے مہینوں کے دوران بتدریج ختم ہوتا گیا یہاں تک کہ یہ مکمل طور پر مٹ گیا، جس نے روس کی گہرائیوں، اس کی مقدس ترین علامتوں، اس کے پرتعیش شہروں اور انتہائی حساس اوقات میں یوکرینی حملوں کی راہ ہموار کی۔ ان دونوں حملوں کے دوران، اس سے پہلے اور بعد کے روسی بیانات اور موقف کا گہرا جائزہ روس کی شدید کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ روس بلاشبہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ یوکرین امریکی حمایت سے اس پر حملے کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ امریکہ کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پیوٹن کے بیانات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں:
الف- (گزشتہ روز، صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین میں تصفیے کو آگے بڑھانے کے لیے ان کی کوششوں کے لیے اپنے احترام کا اظہار کیا، اور ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ان کے نمٹنے کے انداز کی تعریف کی۔ تصفیے کی کوششوں کے حوالے سے، روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب اسٹیون وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور ان کے دورہ روس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ RT، 6/6/2026)۔
ب- (پیوٹن نے وضاحت کی کہ روس "یوکرین کے ساتھ پرامن ذرائع سے، خاص طور پر ان امور کی بنیاد پر جن پر ہم نے اینکریج میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں تبادلہ خیال کیا تھا، ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار اور مائل ہے۔" روسی صدر نے کہا کہ اینکریج میں مذاکرات کے دوران، روس کے سامنے ملک کی جانب سے کچھ مراعات دینے کے امکان سے متعلق مسائل پیش کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "جہاں تک تصفیے کے ان حلوں کا تعلق ہے جن پر ہم نے اینکریج میں بات کی تھی، روس ان سے اتفاق کرتا ہے۔" پیوٹن نے مزید کہا، "یہ ضروری ہے کہ یوکرینی فریق بھی ان تصفیہ طلب حلوں پر اتفاق کرے۔ تب یہ تنازع جلد ہی اپنے قدرتی انجام کو پہنچ جائے گا۔" RT، 4/6/2026)۔
5- یہ سب کچھ عسکری، اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں روس کے زوال اور کمزوری کی حد کو ظاہر کرتا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
الف- جہاں تک عسکری پہلو کا تعلق ہے، 2022 میں یوکرین کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے، روس یوکرین کی کامیاب فوجی کارروائیوں میں اپنے درجنوں اعلیٰ سطح کے جنرلز سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ روسی فوج نے شدید نقصانات اٹھائے ہیں، جس کا ثبوت باخموت شہر کے گرد ہونے والی کٹھن لڑائیاں ہیں، اور اس سے پہلے ماریوپول کی جنگ، جہاں یوکرینی جنگجوؤں نے ایک طویل عرصے تک اسٹیل پلانٹ میں خود کو مورچہ بند کیے رکھا۔ اس سے پہلے کیف پر روس کے حملے کی عبرت ناک ناکامی، روسی فوج کو پہنچنے والی سبکی، یوکرین کی گہرائی سے اس کی واپسی، اور پھر مشرق پر توجہ مرکوز کرنے کا اس کا فیصلہ ،اس کمزوری کے واضح ثبوت ہیں۔ روس نے اپنے بحرِ اسود کے بیڑے (Black Sea Fleet) کے 40 فیصد جہاز بھی کھو دیے، اور یوکرینی سرحد سے ہزاروں کلومیٹر دور شہروں میں اس کے متعدد اسٹریٹجک 'وائٹ سوان' (White Swan) طیارے تباہ کر دیے گئے، اور اس کے علاوہ بھی بہت سے نقصانات ہوئے۔
ان پسپائیوں، نقصانات اور فیصلہ کن فتح حاصل کرنے میں ناکامی نے عالمی منظرنامے پر ایک نئی حقیقت کو ثابت کر دیا ہے: روسی فوج کسی سپر پاور کی ترجمانی نہیں کرتی۔ وہ یوکرین میں جیت نہیں سکتی، اور امریکی صدر ٹرمپ نے اس پر اس وقت چوٹ لگائی جب انہوں نے کہا کہ جس جنگ کو دو ہفتوں میں حل ہو جانا چاہیے تھا، وہ بغیر کسی فتح کے چار سال سے جاری ہے۔ اس طرح، یوکرینی جنگ نے ایک ایسی حقیقت کو آشکار کر دیا ہے جو اس جنگ سے پہلے عیاں نہیں تھی: روسی فوج کی کمزوری، یا کم از کم یہ کہ اس کی طاقت کسی سپر پاور کے شایانِ شان نہیں ہے، بلکہ یہ بھارت یا پاکستان کی فوج جیسی ایک درمیانے درجے کی فوجی طاقت کے زیادہ قریب ہے۔ تاہم، روس اب بھی ایک بڑی ایٹمی طاقت ہے، اور اس ایٹمی طاقت کا ابھی تک کسی حقیقی فوجی معرکے میں امتحان نہیں ہوا ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے جنگ کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ روسی ایٹمی قوت بڑے تکنیکی مسائل کا شکار ہے، جو روسی ایٹمی طاقت کی اصل حقیقت کے بارے میں شدید شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے، حالانکہ یہ روس کی بین الاقوامی عظمت کا آخری ستون ہے۔
ب- جہاں تک معاشی پہلو کا تعلق ہے، تو کوئی بھی ملک اس وقت تک سپر پاور نہیں بن سکتا جب تک وہ معاشی طور پر کمزور ہو، اور آج کے روس کی یہی صورتحال ہے۔ اپنے وسیع و عریض رقبے اور وافر مقدار میں دستیاب زرعی وسائل، تیل، خام مال اور نایاب معدنیات کے باوجود، اس کی کل معاشی پیداوار زیادہ سے زیادہ صرف 2.5 ٹریلین ڈالر ہے، جو بین الاقوامی سطح پر آٹھویں اور دسویں درجے کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے۔ یہ چین اور امریکہ سے بہت پیچھے ہے جن کی معاشی پیداوار بالترتیب 20 اور 30 ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جبکہ جرمنی، جاپان، بھارت، برطانیہ اور فرانس جیسے بہت سے دوسرے ممالک معاشی لحاظ سے اس سے آگے ہیں، اور بعض سالوں میں تو اٹلی اور کینیڈا بھی اس سے آگے نکل جاتے ہیں۔
روسی معیشت کا تقریباً تمام تر انحصار توانائی کے وسائل اور خام مال کی برآمدات پر ہے۔ ہتھیاروں کے سوا، دنیا شاید ہی کسی ایسی مخصوص تجارتی شے کے بارے میں جانتی ہو جس کی وجہ سے روس مشہور ہو۔ جب یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپی مالیاتی شہہ رگ کٹ گئی، روسی تیل و گیس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں اور ’نورڈ اسٹریم‘ پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا، تو روسی معیشت ایک کٹھن صورتحال سے دوچار ہو گئی۔ اس نے چین کی طرف رخ کر کے اس بحران سے نکلنے کی کوشش شروع کی، لیکن امریکی پابندیوں اور چین کے ان پابندیوں سے متاثر ہونے کے خوف نے روس کو مجبور کر دیا کہ وہ چین، بھارت اور دیگر خریداروں کو راغب کرنے کے لیے اپنا تیل کم قیمت پر فروخت کرے۔ چار سالہ جنگ کے بعد، روسی دانشوروں کی بڑی تعداد میں بیرون ملک ہجرت، اور یوکرینی محاذ پر رسد کی فراہمی کے لیے معیشت کا عسکری صنعت پر انحصار، روس کی معاشی حالت کو مزید دشوار بنا رہا ہے۔
ج- سیاسی نقطہ نظر سے: 2022 میں یوکرین کی جنگ نے روس پر شدید سیاسی تنہائی مسلط کر دی، جس نے اس کے اور بہت سے ممالک بالخصوص مغربی ممالک کے درمیان ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کر دی اور اس کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ روس نے اپنے بہت سے بین الاقوامی تعلقات کھو دیے۔ جب امریکہ اور یہودی وجود (اسرائیل) نے ایران پر جنگ مسلط کی، تو روس نے ایران کو کوئی قابل قدر چیز پیش نہیں کی۔ شاید سب سے اہم تعاون جو اس نے فراہم کیا، وہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کا عوامی اظہار تھا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ایران نے یوکرین جنگ کے دوران روس کو ’شاہد‘ ڈرونز فراہم کیے تھے، روس امریکہ اور اسرائیل کے بڑے حملوں کے خلاف ایران کی استقامت کو مضبوط بنانے کے لیے کچھ بھی کرتا ہوا نظر نہیں آیا۔ سیاسی طور پر، اگر ایران امریکی مدار سے نکل کر آزادی کی راہ اختیار کرنا چاہے، تو روسی پالیسی کی کمزوری کی وجہ سے اس کا الحاق روس کے ساتھ نہیں ہوگا۔ اگر روس کے پاس ایک عظیم طاقت کے شایانِ شان سیاسی بصیرت ہوتی، تو وہ پہل کرتا اور امریکہ کی جانب سے یوکرین کو روسی بحرِ اسود کے بیڑے کے جہاز ڈبونے میں مدد دینے کے جواب میں، امریکی جہازوں کو ڈبونے میں ایران کی مدد کرتا، جس سے وہ ایران کے اندر کافی اثر و رسوخ حاصل کر لیتا۔ لیکن اس کی ناکامی اس کی پالیسی کی کمزوری کی تصدیق کرتی ہے اور یہ کہ اس کی پالیسی محض درمیانے درجے کی طاقتوں کی سطح کی ہے، جو کسی ایسے ملک کے شایانِ شان نہیں جس نے اپنی بین الاقوامی حیثیت بہتر بنانے کے لیے یوکرین میں جنگ چھیڑی ہو!
6- خلاصہ یہ ہے کہ روسی عظمت کے محرکات بکھرنا شروع ہو گئے ہیں، اور درحقیقت ان کا زوال شروع ہو چکا ہے۔
بالعموم مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ کے ایماء پر کیے گئے یوکرینی حملے روس کے لیے ایک نازک وقت پر ہوئے، جو سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم کے وقت کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔ ان حملوں سے پہلے روسی فوج کی کمزوری اور اس کے ان جنگی بحری جہازوں کے ڈوبنے کے واقعات پیش آئے جو روسی عوام کے لیے باعثِ فخر ہیں، جیسے کہ بحرِ اسود کے بیڑے کا فلیگ شپ، بڑا کروزر "ماسکووا"۔ متعدد "وائٹ سوان" طیاروں کے مار گرائے جانے نے روس کی فضائی طاقت کے ایک ستون کو پاش پاش کر دیا ہے۔ بین الاقوامی فورم کی میزبانی کرنے والے شہر پر حالیہ حملہ روسیوں کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ان کی عظمت کا احساس ان کی معاشی کمزوری کے ساتھ میل نہیں کھاتا۔ درحقیقت، روس ایک ایسی بین الاقوامی تقریب کی میزبانی کر رہا ہے جس کا وہ تحفظ کرنے سے بھی قاصر ہے۔ مزید برآں، بیلاروس کے ساتھ تعلقات کے استثناء کے ساتھ، اس کے بین الاقوامی تعلقات بگڑ رہے ہیں اور لڑکھڑا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ روس کی چین تک رسائی اور نام نہاد روسی-چینی اتحاد بھی ناکام ہو گئے ہیں۔ چین اپنے تزویراتی (اسٹریٹجک) معاہدے اور برکس (BRICS)، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر اداروں میں اتحاد کے باوجود بحران کے وقت روس کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ یہ اتحاد بڑی حد تک علامتی ثابت ہوئے ہیں اور زوال و عدم استحکام کے بعد (روسی عظمت کی بحالی) کے لیے کسی حقیقی جوہر سے عاری رہے ہیں۔
آخر میں، اگرچہ کمزوری اور عدم استحکام میں روس مغربی ممالک اور خاص طور پر امریکہ سے بازی لے گیا ہو، لیکن تمام کافر استعماری طاقتیں اپنی اپنی ناکامیوں کا بوجھ خود اٹھائے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ، خلافتِ راشدہ کے قیام کے ساتھ ہی یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی، جو اسلامی ریاست، یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافت، کی طاقت کے سامنے شاہانِ فارس اور قیصرِ روم کے زوال کی تاریخ کو ایک بار پھر زندہ کر دے گی۔ یہ قومیں، اگرچہ خلافت کے خاتمے کے بعد دوبارہ سنبھل گئی ہوں گی، لیکن 'القوی العزیز' کی جانب سے وعدہ کردہ خلافت کے قیام کے ساتھ ہی ان کا زوال ناگزیر ہے۔
[وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ]
"اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور اپنا جانشین (خلیفہ) بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا۔" (سورۃ النور: 55)
اور اللہ کے سچے اور امین رسول ﷺ نے ہمیں خوشخبری دی ہے کہ یہ خلافت اس جابرانہ دور کے بعد دوبارہ لوٹے گی جس میں ہم جی رہے ہیں: امام احمد نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«...ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ» "...پھر جابرانہ بادشاہت ہوگی، اور وہ اللہ کے حکم سے جب تک اللہ چاہے گا رہے گی، پھر جب اللہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو ختم کر دے گا، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہوگی، پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔"اور یہ ہو کر رہے گا، انشاء اللہ۔
[وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ]
"اللہ اپنے معاملے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" (سورۃ یوسف: 21)
26 ذوالحجہ 1447ھ
12 جون 2026ء




