الخميس، 28 ربيع الأول 1448| 2026/09/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ٹرمپ کی انتظامیہ آخر امریکہ کو کس نہج پر لئے جا  رہی ہے؟!

(حصہ سوم )

 

(عربی سے ترجمہ)

 

الوعي میگزین – شمارہ نمبر 482

اکتالیسواں سال

ربیع الاول 1448ھ

بمطابق اگست 2026ء

تحریر : عصام الشیخ غانم –

 

 

بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی مارکیٹ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور مضبوط معیشت رکھنے والے ممالک بھی اس کے محتاج ہیں، اور امریکی صدر، ٹرمپ اقتصادی معاملات میں اس حقیقت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ زیادہ شیخی بگھارنے لگے ہیں اور ایسے انداز میں امریکہ کو پیش کرنے لگے ہیں کہ وہ ایک ایسی ’’ناگزیر قوم‘‘ ہے جس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ نے چین سمیت دنیا کے تمام ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا، جس میں چین پر سب سے زیادہ محصولات عائد کئے گئے تھے۔ ٹرمپ نے چین کو الیکٹرانک چپس کی برآمدکرنے  پر بھی سخت پابندیاں عائد کیں۔ اور جب اس اقدام پر چین نے خاموش تماشائی کا رویہ اختیار نہ کیا اور جوابی محصولات عائد کیے تو امریکی کسانوں نے ٹرمپ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ اپنے محصولات میں نرمی کریں تاکہ وہ چین کو زرعی اجناس فراہم کر سکیں۔ چین نے بھی نایاب زمینی دھاتوں کی برآمد پر پابندیاں عائد کر دیں اور اپنی برآمدات کے لئے متبادل منڈیوں کی تلاش تیز کر دی۔ اور اس موڑ پر آ کر ٹرمپ نے اپنے محصولات سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔ اور یہاں ٹرمپ کے ساتھ ساتھ دنیا پر بھی یہ واضح ہو گیا کہ چین نہ صرف امریکہ کا ایک حقیقی حریف بن چکا ہے بلکہ کئی اقتصادی شعبوں، جیسا کہ ری نیوایبل انرجی، الیکٹرک گاڑیوں اور نایاب زمینی دھاتوں کی پیداوار وغیرہ میں امریکہ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ چین نے خود اپنی الیکٹرانک چپ بنانے کی ایک مضبوط انڈسٹری قائم کرنے کے لئے اپنے وافر ڈالرز میں سے دسیوں ارب ڈالر کا خطیر سرمایہ لگایا ہے اور اس طرح سے وہ حقیقی طور پر مستقبل قریب میں امریکہ سے خود کفیل ہو کر اس کے لئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ اسی طرح چینی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں بھی اپنی ہم عصر امریکی کمپنیوں کو غیر معمولی طور پر شاندار ٹکر دے رہی ہیں، حالانکہ وہ ابھی ان سے کچھ پیچھےہی  ہیں۔

 

چین اپنی بین الاقوامی تجارت میں ڈالر پر انحصار کم کرنے میں خاصا اہم کردار ادا کر رہا ہے، خصوصاً امریکہ کی جانب سے روس سمیت بہت سے ممالک پر پابندیاں عائد کئے جانے کے بعد سے، جس سے ان ممالک کے بین الاقوامی تجارتی معاملات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ چین پورے اعتماد کے ساتھ خود اپنی کرنسی یوآن میں بین الاقوامی تجارتی لین دین بڑھانے کی جانب گامزن ہے، اور یہ تجارت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ  چین کی 40 فیصد بین الاقوامی تجارت اب ڈالر کے بغیر ہو رہی ہے۔ یہ ایک خاصی اہم شرح تناسب ہے اور ڈالر کی عالمی حیثیت کے لئے خطرے کی دستک دے رہا ہے۔ یہ رجحان امریکہ کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہے، کیونکہ ڈالر کو امریکہ کی اقتصادی برتری کا بنیادی ستون اور اس کے عالمی اقتصادی غلبے کے ستونوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی پالیسیاں اور شرح سود میں اضافے یا کمی کے حوالے سے امریکی فیڈرل ریزرو پر ان کی سخت تنقید عالمی سطح پر ہلچل پیدا کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ڈالر پر انحصار کرنے والے ممالک ڈالر کی قدر پر پڑنے والے ٹرمپ انتظامیہ کے اثر و رسوخ  کی وجہ سے ڈالر پر اپنا انحصار کم کرنے لگے ہیں۔ جہاں تک ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے محصولات کا تعلق ہے تو اس نے سال 2025ء کے دوران ان ممالک سے تقریباً 260 ارب ڈالر وصول کیے، جس کی قیمت امریکی شہریوں کو ان اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑی۔ دوسری جانب، دیگر ممالک نے امریکی اشیاء پر عائد کیے گئے اپنے جوابی محصولات سے تقریباً 220 ارب ڈالر وصول کیے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ، ٹرمپ کی پالیسی کے نتیجے میں امریکی خزانے کو کچھ خاص تو حاصل نہ ہو سکا، اور وہ بھی جو اس کے اپنے شہریوں کی جیبوں سے نکالا گیا تھا، جبکہ دوسرے ممالک کی جانب سے امریکہ پر جوابی محصولات عائد کئے جانے کے باعث بیرون ممالک میں موجود امریکی کمپنیاں مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ گئیں۔

 

اپنی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق ٹرمپ امریکی مینوفیکچرنگ صنعت کو دوبارہ اپنے مقام پر واپس لانا چاہتا ہے، واضح رہے کہ اس صنعت کا ایک بڑا حصہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین منتقل ہو گیا تھا۔ اس وقت امریکہ اپنی کمپنیوں کو مقابلہ بازی میں آگے بڑھانا چاہتا تھا، اس لئے امریکہ نے ان کمپنیوں کو چین اور دیگر ان ممالک میں منتقل کیا جہاں مزدوری سستی تھی، اور وہ اس اقدام میں کامیاب بھی ہوا۔ امریکہ نے اپنی صنعت کو بیرونِ ملک، خصوصاً چین، منتقل کر دیا تھا، کیونکہ اسے اپنے اس پختہ یقین پر مکمل اعتماد تھا کہ وہ عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اسے یہ یقین اس لئے تھا کیونکہ اس کے پاس سب سے طاقتور ہتھیار اور سب سے زیادہ سرمایہ تھا اور سائنسی تحقیق کی باگ ڈور بھی امریکہ کے ہاتھ میں تھی۔ بالفاظ دیگر، امریکہ عسکری لحاظ سے سب سے طاقتور تھا اور سرمایہ کاری کی سمت اور اس میں ترقی کا تعین بھی وہی کرتا تھا۔ تاہم چین کے حوالے سے یہ امریکی تصور مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔

 

 

امریکی کمپنیوں نے اپنی مہارت مکمل طور پر چین کومنتقل کر دی، جو کہ چین کی ٹیکنالوجی کے منتقل ہونے کی اس پالیسی کے عین مطابق تھا، جس نے غیر ملکی کمپنیوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنا مکمل فنی علم چین کے ساتھ شریک کریں۔ چینی انجینئروں نے یہ مہارت حاصل کی اور اسے ہم عصر چینی کمپنیوں تک منتقل کر دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ امریکہ یہ مہارت کھو بیٹھا، اور مزید یہ کہ وہ اس مہارت کو مختصر مدت میں آسانی سے واپس امریکہ نہیں لا سکتا تھا۔ علاوہ ازیں، یہ امریکی کمپنیاں ٹرمپ کی پالیسی کی مزاحمت کر رہی ہیں اور ان کی اکثریت امریکہ واپس نہیں آنا چاہتی۔ اس کی وجہ وہ فوائد ہیں جو انہیں چین میں حاصل ہوئے، مثلاً کم ٹیکس، سستی مزدوری اور چینی منڈی تک آسان رسائی۔ اور یہ چینی منڈی بھی کافی وسیع اور انتہائی مقابلے کا ایسا میدان بن چکی ہے، جسے بڑی کمپنیاں کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ یہ درست ہے کہ درجنوں کمپنیوں نے امریکہ میں نئے سرے سے  سرمایہ کاری کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے، خصوصاً سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں، لیکن اس اعلان کا امریکہ میں روزگار کے مواقع بڑھنے پر کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا، یعنی یہ ابھی تک صرف باتیں ہی ہیں۔ جب صدر ٹرمپ نے اپنی امیگریشن مخالف پالیسیوں کو سختی سے نافذ کرنا شروع کیا اور ہزاروں لاطینی امریکی مزدوروں کو ملک بدر کرنا شروع کیا تو اس کے نتیجے میں زرعی شعبے میں امریکی سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات ہوئے اور لیبر کی کمی کے باعث امریکہ کے اندر زرعی اجناس کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

 

جہاں تک چین کو صنعت منتقل کرنے میں امریکی ناکامی کے دوسرے پہلو کا تعلق ہے تو وہ اس صورت میں ظاہر ہوا کہ چین ایک امیر ملک بن گیا۔ یوں پھر چین نے اپنی ملٹری کو ترقی دینا شروع کیا، بحری جہاز بنائے، ائیر کرافٹ اور نیوکلئیر صلاحیتیں تیار کیں، اور چین کی بین الاقوامی سرمایہ کاریاں امریکہ کی بیرونی سرمایہ کاریوں سے بڑھ گئیں۔ چین نے اپنی یونیورسٹیوں میں سینکڑوں ارب ڈالر ریسرچ اور تحقیق کرنے کے لئے مختص کئے، یہاں تک کہ وہ ریسرچ میں امریکہ کا حریف بن گیا اور اس کے مقابل آن کھڑا ہوا، پھر 2015ء میں ایجادات اور جملہ حقوق میں امریکہ سے بازی لے گیا، یہاں تک کہ چین میں جملہ حقوق کی درخواستیں امریکہ کی نسبت دوگنا تک پہنچ گئیں۔ حالات مکمل طور پر پلٹ گئے ہیں، اور آج امریکہ خود کو چینی ایجادات کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش میں پاتا ہے۔ اور یہ سب کچھ انتہائی تیز رفتاری سے ہو رہا ہے، جس سے چین کے مقابلے میں امریکہ کی پوزیشن ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ نازک ہوتی چلی جا رہی ہے۔

 

اپنے وسائل کو محفوظ بنانے اور اپنی معیشت کو مزید تقویت دینے اور اور ڈالر کو مضبوط کرنے کے لئے امریکہ یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیا کے مالیاتی مرکز کی حیثیت سے اپنا مقام برقرار رکھے۔ اور موجودہ حالات کے تناظر میں آج یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے  امریکہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک میں شرح سود بڑھائے اور سرمایہ کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے ڈالر کی قدر کو مضبوط کرے۔ تاہم ٹرمپ شرح سود کو کم کرنا چاہتا ہے تاکہ امریکی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ اور ٹرمپ کا یہ رجحان ڈالر سے دوری اور ڈی ڈالرائزیشن کے عمل کو تیز کر رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ڈالر اپنی قدر میں کمزوری کی جانب گامزن ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہاجائے تو، ٹرمپ کی مالی پالیسیاں عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو زک پہنچا رہی ہیں۔ اور یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چینی حریف ابھر کر سامنے آ چکا ہے، جس نے چین کو ایک بین الاقوامی مالیاتی مرکز بنا دیا ہے اور وہ امریکی مرکز کو چیلنج کر رہا ہے۔ اور اس کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کی مالی پالیسی کا رخ امریکہ کے امیر طبقے کی خدمت کی جانب بھی ہے، جوکہ بہرحال  ریاست کی ایک مستقل پالیسی رہی ہے، اور یہی پالیسی امریکہ کی مقابلہ کی دوڑ میں موجود رہنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا  رہی ہے۔ امریکہ میں حکومتی مالی امداد امیر طبقے کی معاونت پر ہی مرکوز ہوتی ہے، جیسا کہ کووڈ-19 (COVID-19) کی وبا کے دوران بھی دیکھا گیا، اور اس امیر طبقہ میں سے زیادہ تر اسٹاک مارکیٹ، حصص اور دیگر مالیاتی تجارت کے شعبوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں، نہ کہ صنعتی پیداوار میں۔ لہٰذا امریکی حکومت کی معاونت، یعنی ٹیکس دہندگان کا پیسہ، مالیاتی تجارتی کمپنیوں کی مزید بڑھوتری کا باعث بنا، مگر اس معاونت سے نہ تو روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور نہ ہی یہ معاونت امریکہ میں بے روزگاری کم ہونے کی صورت میں نظر آئی۔ آج ٹرمپ انتظامیہ کے اندر فیڈرل ریزرو اور محکمہ خزانہ کے بعض لیڈران اس سمت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، یعنی شرح سود کو بڑھانا چاہتے ہیں اورحکومت کی معاونت کو صنعتی پیداوار پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں تاکہ سرمایہ کو امریکہ کی طرف کھینچا جا سکے۔ اگرچہ دیر سے ہی سہی لیکن ایک اور زاویے سے یہ اقدام امریکہ کے اندر، بلکہ خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر، مالیاتی پالیسیوں اور ریاست پر ان کے اثرات کے حوالے سے شدید اندرونی اختلافات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تقریباً ایک ہنگامی صورتحال ہے، یعنی ایک ایسا وقت جس میں تجربات کرنے یا نتائج کا انتظار کرتے رہنے کی گنجائش نہیں۔ بلکہ امریکہ کو اس غبارے کی طرح پھولتے ہوئے قرض کو روکنے کے لئے کسی بھی مالی سہارے کی اشد ضرورت ہے۔ خلاصہ یہ کہ اقتصادی اور مالی معاملات میں ٹرمپ کی پالیسی، خواہ داخلی طور ہو جیسا کہ امیگریشن پالیسی یا خارجی طور پر ہو جیسا کہ محصولات اور صنعت سازی کی جانب واپسی، تو ٹرمپ کی یہ پالیسی کامیاب ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، اور عالمی منظرنامے سے امریکہ کے لئے نئے وسائل پیدا کرنے کی ٹرمپ کی کوششیں قطعی کارگر ثابت نہیں ہو رہیں۔ جب ٹرمپ اور پینٹاگون نے کانگریس سے سال 2026ء کے لئے 1.5 ٹریلین ڈالر کے ایک بےلگام فوجی بجٹ کی منظوری مانگی تو یہ اعلان ایسے وقت میں آیا جبکہ مالیاتی ذرائع تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے سوائے اس کے کہ قرض میں اضافہ کیا جائے، اور واضح رہے کہ یہ قرض اپنی موجودہ سطح پر ہی امریکہ کے لئے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے اور اس کے گلے کے گرد ایک ایسا پھندا بن چکا ہے جو اسے تقریباً گھونٹ ڈالنے کو ہے، تو پھر اس قرض میں مزید اضافے کا کیا کہنا؟

 

صورتحال تو کچھ ایسی ہے کہ اگر ٹرمپ کسی ایک طرف رُخ کرتا ہے تو اسے اپنے راستے میں ایک اور رکاوٹ مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایران کو ایک تابع ریاست بنانے کی اس جنگ میں امریکہ کو بھاری مالی نقصانات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ اس جنگ کے ذریعے امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی کمپنیاں ایرانی تیل اور گیس کے ذخائر کی لوٹ مار کریں، لیکن ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ امریکہ نے ایران پر بحری ناکہ بندی عائد کی، جس سے اس کی جنگ کے اخراجات بڑھ گئے۔ پھر جب خلیجی تیل کی برآمدات منقطع ہو گئیں، اور خلیجی ریاستوں کے بجٹ کو سرمایہ کی ضرورت پڑی، تو انہوں نے امریکہ کے اندر موجود اپنے سرمائے نکالنا شروع کر دئیے۔ یہ تمام جنگی اخراجات اور خلیجی سرمایہ کاریوں کا امریکہ سے نکالے جانا اس  وقت وقوع پذیر ہو رہا ہے جب امریکہ کو یہ یقین بھی نہیں کہ آیا اس کی کمپنیاں ایران کے تیل اور گیس کو لوٹنے کے مقصد کے قریب پہنچ رہی ہیں یا اس سے مزید دور ہو رہی ہیں۔ اور یہی وہ صورتحال ہے جو ایران کی دلدل میں دھنسے ٹرمپ کی بے چینی اور مضطرب حالت کو ظاہر کر رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس منطق پر عمل کرتی ہے کہ دوسروں کو کمزور کرنے سے امریکہ  مضبوط ہو گا، لیکن اس ضمن میں وہ سب ہی کو کمزور کرنے میں لگی ہوئی ہے اور اپنے اتحادیوں اور دشمنوں میں بھی کوئی فرق نہیں کر رہی۔ اور اس منطق کا نتیجہ یہ نکلا ہے جو کہ ہم اب تک دیکھ چکے ہیں کہ جرمنی میں صنعتی جمود آ چکا ہے، پورا یورپ جامع اقتصادی کمزوری کا شکار ہے، اور برطانوی معیشت تباہی کے دہانے پر آن پہنچی ہے۔ بالفاظِ دیگر، امریکی پالیسیوں نے یقیناً یورپ کو نڈھال کر دیا ہے، لیکن وہ چین کو کمزور نہیں کر سکیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور محض اپنے فوجی اخراجات بڑھانے کے لئے جتن کر رہے ہیں، جبکہ چین خطرناک رفتار سے اپنی ملٹری طاقت اور سازوسامان کو بڑھا رہا ہے۔ یعنی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یورپ میں اپنے اتحاد اور اپنے ہی اتحادیوں کو کمزور کر دیا اور چین کو کمزور کرنے میں ناکام رہا۔ اور آج امریکہ کی یہی حالت ہے کہ : جب وہ کسی اقتصادی پالیسی کی منصوبہ بندی کرتا ہے تو جلد ہی اس کے منفی اثرات دوسرے ایسے شعبوں میں ظاہر ہونے لگتے ہیں جن کا اس کی منصوبہ بندی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ یوں اس طرح سے امریکہ اب کوئی جامع منصوبہ بندی کرنے کے قابل نہیں رہا ہے جیسا کہ وہ پہلےکبھی  ہوا کرتا تھا، کیونکہ معاملات امریکہ کے ہاتھوں سے نکلتے جا رہے ہیں، اور آج کی عالمی ہوائیں اس سمت نہیں چل رہیں جس سمت امریکہ کی ناؤ لے کر چلنا چاہتی ہے۔

 

آج صدر ٹرمپ بارہا امریکہ کو ایسے قرار دے رہا ہوتا ہے جیسے وہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہو، اس کے پاس بہترین صنعتیں ہوں اور وہ ہر پہلو سے اعلیٰ ترین صلاحیتوں کی حامل ریاست ہو۔ لیکن یہ بیانات طاقت کے تیزی سے چین کی جانب منتقل ہونے پر امریکی اضطراب کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور عمومی طور پر مغرب کی ناکامی اور اس سرمایہ دارانہ نظام کے قریب قریب دیوالیہ ہونے کے پس منظر میں امریکہ اور عمومی طور پر مغرب کے ہاتھوں سے طاقت کا نکلنا ایک ہمہ گیر مظہر بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ممالک بھی جو کہ بڑی طاقتیں بھی نہیں ہیں جیسا کہ ایران اور ترکی، انہوں نے بھی ڈرونز بنانے میں خود مختاری یا نیم خود مختاری کی حد تک ترقی کر لی ہے، اور واضح رہے کہ جدید جنگوں میں ڈرونز کی شمولیت اور اہمیت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اور روس سمیت بڑی طاقتیں بھی ان ڈرونز کے حصول کے لئے ان ممالک کی طرف رجوع کر چکی ہیں۔

 

امریکہ کی اس کمزوری کے پس منظر میں، جوکہ  روز بروز کھل کر سامنے ظاہر ہوتی جا رہی ہے، معروف امریکی قدامت پسند میڈیا شخصیت، ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے امریکی فوجی طاقت کی اوقات کو عیاں کر دیا ہے، کیونکہ اگر دنیا کے اہم آبی راستوں پر امریکہ کا کنٹرول کمزور پڑ جائے تو وہ ایک سپر پاور کی حیثیت سے رہ ہی نہیں سکتا۔ آبی راستوں پر اس کنٹرول ہونے کا مطلب بین الاقوامی تجارت اور عالمی دولت پر کنٹرول ہونا ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہونے اور اس گزرگاہ کو بند رکھنے میں ایران کی کامیابی نے یہ ظاہر کر دیا کہ امریکہ کی ملٹری اجارہ داری اور عالمی تجارت و دولت پر اس کی بالادستی کمزور پڑ چکی ہے اور امریکہ کو حقیقی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ کی یہ کمزوریاں اور شکست خوردگی اس وقت مزید گہری ہو جاتی ہیں جب خود امریکی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس تسلط سے حاصل ہونے والے فائدہ سے کہیں زیادہ قیمت اپنی اس اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لئے برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پر، امریکی فوج ایران کے ساتھ ایک بھرپور مکمل جنگ کئے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھلوا سکتی، اور اگرچہ امریکی فوج شاید ایسی جنگ لڑنے اور جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہو، لیکن ایسی جنگ کسی صورت بھی اس صورتحال سے کم نہ ہو گی جو کہ امریکہ کے عراق کی دلدل میں پھنسنے کی حالت تھی۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو ، ہرمز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لئے ایسی کوئی بھی جنگ ایران میں امریکہ کی طاقت کو اس حد تک نچوڑ سکتی ہے کہ اس کے پاس کسی دوسری جنگ لڑنے کے لئے کافی قوت ہی باقی نہ رہے مثال کے طورپر اگر چین کے اطراف جنگ ہو جائے یا دنیا میں کسی بھی اور جگہ پر۔ جیسا کہ اگر مثال دیں تو، جب امریکہ نے سال 2025ء میں ایران کی فردو نیوکلئیر تنصیبات پر چودہ بنکر شکن بم گرائے تھے تو اس کے بعد امریکہ کے پاس ویسی ہی کارروائی دوبارہ کرنے کی صلاحیت نہیں رہی، کیونکہ ایسے بم تیار کرنے کے لئے برسوں کا عرصہ اور بہت بڑی رقم درکار ہوتی ہے۔ اور گائیڈڈ بموں اور میزائلوں کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے جنہیں امریکہ نے 2026ء کی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ اور یہ حقائق ٹرمپ کے اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کی وضاحت کرتے ہیں کہ ایران ’’غیر مشروط ہتھیار ڈال دے‘‘۔ یہ جنگ جو کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایسے ملک کے خلاف چھیڑی جو کہ اس کے اپنے مدار میں گردش کر رہا تھا، اور بہرحال یہ جنگ امریکی طاقت کے  لئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی، اس کے علاوہ بڑا دھچکا تو یہ ہے جو کہ امریکہ کے اتحادیوں، پیروکاروں اور امریکہ کے ایجنٹوں کو امریکی پالیسی پر اعتماد کرتے رہنے کی صورت میں ملا ہے۔

 

ان مسلسل امریکی ناکامیوں کے دوران امریکہ کے لئے ضروری ہے کہ  وہ خود پر چڑھائے بعض بین الاقوامی سطح کے بوجھ اتار پھینکنے پر غور کرے، یعنی دنیا کے بعض علاقوں سے پیچھے ہٹ جائےتاکہ وہ زیادہ ترجیحی علاقوں پر اپنی حیثیت کو برقرار رکھ سکے۔ اور یقیناً یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ امریکہ آج بتدریج یورپ سے اپنے فوجی دستوں کو واپس نکال رہا ہے، اور اگریورپ نے امریکہ سے یہ التجا کی کہ امریکہ انہیں روس سے بچانے کے لئے  اپنے فوجی تحفظ کی چھتری ان کے سروں پر قائم رکھے، تو امریکہ کے پاس اب تو کیا بلکہ مستقبل میں بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں  کہ ان یورپی ممالک کو ڈانٹ پلا دے اور کہے کہ انہیں اپنا دفاع خود کرنا چاہیے۔ بالفاظِ دیگر، وہ یورپ جو کئی دہائیوں تک امریکی پالیسی کا مرکز بنا رہا، اب چین اور اسلامی خطے کی زیادہ اہمیت کے مقابلے میں اپنی سابقہ حیثیت برقرار نہیں رکھ سکا، کہ ان جگہوں پر امریکہ کو بڑے خطرات لاحق ہیں: یعنی چین کی اقتصادی طاقت اور اسلامی نظریہ، اور ان میں سے ہر ایک حقیقت امریکہ کی عظمت اور عالمی بالادستی کے لئے یقیناً ایک بڑا خطرہ ہے۔

 

امریکہ خلیجی ریاستوں کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے میں ناکام رہا، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اپنے ہی ایجنٹوں اور پیروکاروں کو اس بات پر مجبور کرنے میں ناکام رہا کہ وہ امریکہ کی جنگ لڑنے کے لئے اپنے وسائل اور افواج کو استعمال کریں، اور یوں امریکی فوج کو اپنے بغل بچے، یعنی یہودی وجود کے ساتھ مل کرخود یہ جنگ لڑنی پڑی۔ اور یہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے بانجھ پن کو ظاہر کرتی ہے، وہ پالیسیاں جو دشمنوں کے ساتھ ساتھ امریکی اتحادیوں کو بھی مشتعل کئے ہوئے ہیں اور اسی لئے امریکہ کی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہیں کہ وہ اپنے اتحادیوں کو متحرک کرا سکے۔ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی امریکہ کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ عالمی کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے جنگوں کا بڑے سے بڑا بوجھ برداشت کرے، جس کا مطلب امریکہ کے وسائل کا مزید نچوڑ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ امریکی ریاست کی عالمی دھاک سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام رہی ہے۔ ایران کے معاملے میں امریکہ نے ایک بھی ایسا موقف اختیار نہیں کیا کہ جس سے ایرانی امریکہ کے ساتھ جنگ لڑنے سے خوف زدہ ہوتے بلکہ صورتحال اس کے بالکل الٹ رہی، یعنی جب امریکہ نے سپریم لیڈر سمیت ایران کے اعلیٰ ترین لیڈران کو قتل کرنا شروع کر دیا، تو اس اقدام نے ایران کو اس بات پر اُبھارا کہ وہ اپنی پوری طاقت کو حرکت میں لے آئے، اس نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے، امریکہ کے اتحادیوں پر حملے کیے اور یہودی وجود پر حملے کرنے لگا۔ اس طرح ایرانی غصے بھرے اقدامات نے امریکی اڈوں اور اس کے اتحادیوں کی ہیبت کو خاک میں ملا دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ نے فوجیوں، سازوسامان اور اخراجات کے لحاظ سے اپنی ہیبت اور وسائل دونوں کھوئے، اور یہ سب اس ہٹ دھرمی کا ہی نتیجہ تھا۔ ٹرمپ بضد ہے کہ وہ اپنے مطالبات کا 100 فیصد حاصل کرنا چاہتا ہےاور حتیٰ کہ 95 فیصد پر بھی مطمئن نہیں۔ اور اسی امریکی ہٹ دھرمی نے اس وقت امریکی کمزوریوں اور عیوب کو بے نقاب کر دیا جب ایران نے امریکہ کو بھرپور ٹکر دی، آبنائے ہرمز کو بند کر دیا اور امریکہ اسے دوبارہ کھلوا نہ سکا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لئے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے جو بنیادی طور پر 2015ء میں ایران کے ساتھ ہونے والے اوباما دور کے معاہدے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

 

مسلمانوں کے خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کے رجحانات درج ذیل واقعات کی صورت میں ظاہر ہوئے :

 

اول: یہودی وجود کی غزہ کے خلاف جنگ میں ٹرمپ انتظامیہ نے یہودی وجود کو مکمل حمایت فراہم کی۔ حتیٰ کہ بھاری بموں کا وہ محدود ذخیرہ بھی، جسے بائیڈن انتظامیہ نے یہودی وجود کو دینے سے روک رکھا تھا، ٹرمپ نے زبردستی دوبارہ فراہم کرنا شروع کر دیا۔ اس نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس یہودی مجرمانہ جارحیت کے مقابلے میں یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کو نارملائز کریں، اور یہ مطالبہ کیا کہ ایران کو روکنے کے لئے  اس کے ساتھ تعاون کریں۔ ٹرمپ نے یہودی وجود کی مجرمانہ کارروائیوں کی کھل کر تعریف کی، جس میں پیجر دھماکوں کی وہ کاروائی بھی شامل تھی جس میں ہزاروں لبنانی نشانہ بنے تھے، جن میں سے بہت سے عام شہری تھے اور فوجی نہیں تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں خبیث یہودی وجود کی سفاک مجرمانہ کارروائیاں نئی انتہاؤں تک پہنچ گئیں، یہاں تک کہ اس کی بمباری عرب دارالحکومتوں، بیروت، دمشق اور دوحہ تک پہنچ گئی، تاکہ ان ممالک کے حکمرانوں کو شدید دباؤ کے شکنجے میں جکڑ کر اور دوسرے حکمرانوں پر خوف طاری کر کے ایک نئی صورتِ حال کو مسلط کیا جا سکے۔

 

بہرحال یہ درست ہے کہ خطے کے ایجنٹ حکمرانوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے اور اس جبری غلبے کو قبول کر لیا ہے، جو کہ ایک ایسی جنگ میں بدترین شکست کھانے کے مترادف ہے جو انہوں نے کبھی لڑی ہی نہیں۔ تاہم اس کے نتائج امریکہ یا حتیٰ کہ یہودی وجود کے لئے بھی اچھے شگون نہیں رکھتے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہ پہلی صفوں کے حکمران ہی ہیں جو اپنی ذات میں راسخ شدید خباثت اور اپنی نظر میں اپنی ہی قوموں کو دشمن سمجھنے کے باعث امریکہ و یہود کے ان جرائم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور مزید ذلت قبول کرنے کے ساتھ ساتھ یہودی وجود کے ساتھ تعاون کو قبول کر رہے ہیں، اور ایسا وہ اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنا مستقبل امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ جوڑ چکے ہیں۔ تاہم ان حکمرانوں نے ان عوامی طبقات کی وہ آخری لڑی بھی کھو دی ہے جو گرچہ بہت تھوڑے ہی تھے لیکن ابھی تک ان سے کچھ امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ مزید یہ کہ حکمران دھڑوں کی نچلی سطحوں تک میں بھی اعتماد اور وفاداری ختم ہو چکی ہے، جو اب اس نظام سے الگ ہوتے جا رہے ہیں اور کنارے پر کھڑے ہو کر تبدیلی کے افق پر اور پرانی قیادت کے متبادل کے طور پر نئی قیادت کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ ان سب حلقات نے دیکھ لیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ زندگی کی ہر معقول حدیں پھلانگ چکا ہے۔

دوئم : خطے میں موجود امریکہ کے ایجنٹوں اور چیلوں، یعنی ان حکمرانوں نے یہ دیکھ لیا ہے کہ امریکہ نے عراق، افغانستان اور شام میں ایران کی خدمات سے فائدہ اٹھا لینے کے بعد اس کی طرف سے کیسے منہ موڑ لیا ہے، اور پھر سال 2025ء اور 2026ء میں یہودی وجود کے ساتھ مل کر اس کے خلاف دو جنگیں چھیڑ دیں، جن کا مقصد ایران کی تمام نیوکلئیر اور میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنا تھا، حالانکہ ایران دن رات مسلسل اعلان بھی کرتا رہا ہے کہ وہ نیوکلئیر اسلحہ تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ٹرمپ انتظامیہ تو ایسی ہے جو کسی کو بھی کچھ اہمیت ہی نہیں دیتی، چاہے وہ  پہلے امریکہ کی خدمتیں ہی کیوں نہ کرتا رہا ہو، اور یہی وہ حقیقت ہے جو  خطے میں امریکہ کے پیروکاروں کو خوف زدہ کئے ہوئے ہے اور انہیں اس بات سے ڈر میں مبتلا کئے ہوئے ہے کہ امریکہ ان سے بھی لاتعلقی اختیار کر سکتا ہے، ان کے خلاف جنگ کر سکتا ہے اور ان کے اقتدار کے تخت گرا سکتا ہے۔ چنانچہ اپنی گہری خباثت کے باوجود بھی یہ حکمران، ٹرمپ کے دورِ حکومت  میں امریکہ سے خوف زدہ اور اس کے منصوبوں سے محتاط ہو گئے ہیں، یعنی کہ ان کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔ اورچونکہ جب اعتماد ختم ہو گیا ہے تو ان حکمرانوں کی جانب سے امریکہ اور اس کے مفادات کی خدمت کے لئے بڑھ بڑھ کر خود سے پہل کرنا بھی رک رہا ہے، اور وہ محض مطالبات پر عمل درآمد کرنے کی حد تک ہی محدود ہو رہے ہیں، اور وہ بھی کم سے کم حد تک۔ اور یہ امر خود سے امریکی پالیسی کے لئے ایک ایسا نقصان ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ محسوس ہی نہیں کر رہی۔

 

سوئم : امریکہ نے اس خطے میں، خصوصاً خلیجی ریاستوں میں، اپنے فوجی اڈے قائم کئے جو کہ بڑی حد تک انہی ریاستوں کے اپنے پیسے سے قائم کئے گئے تھے، کیونکہ ان حکمرانوں کو اس امریکی پروپیگنڈے پر یقین تھا کہ یہ اڈے ان کے ممالک اور ان کے اقتدار کے تحفظ کے لئے موجود ہیں۔ پھر جب امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ برپا کی اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان اڈوں پر گولہ باری شروع کر دی تو ان حکمرانوں کو اندازہ ہوا کہ یہ امریکی اڈے درحقیقت ان کے اپنے لئے مصیبتیں لے کر آئے ہیں۔ حقیقت میں یہ انہی حکمرانوں کی ہی افواج ہیں جو فضائی دفاع کے ذریعے ان اڈوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ان اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے ان ممالک کا ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلے جانے کا امکان ابھی برقرار ہے۔ ان اڈوں کے بارے میں اس امریکی پروپیگنڈا کے مسلسل جاری رہنے کے باوجود کہ یہ ان حکمرانوں اور ان کے اقتدار کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن اس پروپیگنڈا کے باوجود، ایران جنگ کے بعد ابھر کر سامنے آنے والی نئی حقیقت ان امریکی دعوؤں کی مکمل تردید کر رہی ہے۔ یہ حکمران، اپنی خباثت کے باوجود، اب امریکی پروپیگنڈے پر یقین نہیں رکھتے۔ یوں اس طرح ٹرمپ انتظامیہ کی لاپرواہی اور یک طرفہ وژن کے باعث امریکہ اپنا اثر و رسوخ مضبوط  کرنے  کے میدان کو اپنے ہاتھوں سے کھو رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں نے وہ حقیقی امریکی تحفظ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے جو امریکہ نے یہودی وجود کو دے رکھا ہے، یعنی اس وجود کے لئے امریکی دفاع جو کہ متعدد ممالک سے، سمندری اطراف سے، خود اس یہودی وجود کے اندر سے مسلسل فراہم ہے، اور اس وجودکی طرف ٹارگٹ کئے گئے ایرانی میزائلوں کو روکنے والا امریکی دفاع، جبکہ ان خلیجی ممالک کے لئے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ اور اگر اس کے ساتھ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیجی ریاستوں کو ہونے والے بھاری نقصانات کو بھی شامل کر لیا جائے تو امریکہ کے بارے میں ان حکمرانوں کے حسابات یقیناً شک کے دائرے میں داخل ہو چکے ہیں۔

 

چہارم: شام اور لبنان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندے ٹام بیراک (Tom Barrack) اور دیگر نمائندگان نے کھلے عام اور تکبر کے ساتھ کسی ڈھکے چھپے انداز کے بغیر یہ بات کہی کہ شام اور لبنان کے حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ یہودی وجود کی حفاظت کریں، خواہ اس کے لئے انہیں خانہ جنگی ہی کیوں نہ لڑنی پڑے، جیسا کہ لبنان میں ایران کی حزب کو غیر مسلح کرنے کے معاملے میں صورتحال ہے۔ اسی طرح مصر پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ حماس پر غیر مسلح ہونے اور اپنی سرنگیں ظاہر کرنے کے لئے دباؤ بڑھائے، اور یہ وہ کام ہے جسے یہودی وجود تین سال سے زیادہ عرصے سے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اور یہ حکمران ہیں کہ اپنی ذات میں راسخ گہری خباثت اور اپنی ہی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے کے یقین کے باعث اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم اس کے نتیجے میں ہر ملک کا حکومتی نظام امریکہ سے وابستگی کی سطح کے اعتبار سے کئی درجوں پر مشتمل ہوتا جا رہا ہے، اور وہ اس طرح کہ اعلیٰ درجے کی سطح کے حکام احکامات جاری کرتے ہیں جبکہ نچلی سطحیں جہاں تک ممکن ہو ان میں رکاوٹیں حائل کرتی ہیں۔ تمام ہدایات اور احکامات یکساں نہیں ہوتے۔ بلکہ جب ہدایات اپنا جواز کھو دیتی ہیں تو وہ بہت کمزور اور ناقابلِ عمل ہو جاتی ہیں۔ اور یہ صورتحال اوپر کی ان حکمران سطحوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے، جن سے ٹرمپ انتظامیہ ان کی استطاعت سے بڑھ کر مطالبات کر رہی ہے، جبکہ امریکی حساب کتاب کو معلوم ہی نہیں کہ کس سطح کی استطاعت کیا ہے اور اس کے نیچے کون کون سی سطحیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کو اس صورتحال کے درمیانی اور طویل المدتی نتائج کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہے۔ شعور میں یہ کمی فرعون جیسے آمروں کا خاصہ رہی ہے، جو چاہتے ہیں کہ دوسرے صرف وہی دیکھیں جو وہ خود دیکھتے ہیں۔

 

پنجم: علاوہ ازیں یہ ٹرمپ انتظامیہ مختلف عنوانات کے تحت اسلام پر حملہ کرنے سے بھی باز نہیں آتی۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کو مسلمانوں کے لئے بند کر دے گا۔ حتیٰ کہ اس کے امریکی وزیرِ جنگ، پیٹ ہیگستھ کے ہاتھ پر عربی زبان میں لکھے گئے لفظ ’’کافر‘‘ کا ٹیٹو بھی بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی بدستور ایک ایسا لیبل ہے جو دشمنوں پر لگایا جاتا ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ نے اس میں ان نئے گروپس کو بھی شامل کر دیا ہے جنہیں پہلے معتدل قرار دیا جاتا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا بیورو برائے تعلیمی و ثقافتی امور مسلم ممالک کے تعلیمی نصاب کی نگرانی کرتا رہتا ہے اور ان میں تبدیلی کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔ اور یہ حکمران اپنی خباثت کے باعث امریکہ کو خوش کرنے کے لئے اسلام کو بدلنے میں جلدی کرتے رہتے ہیں۔ سعودی عرب، جو خود کو نمبر ایک مسلم ملک کہلوانے کا عادی ہے، اپنے عوام کی ثقافت کو تبدیل کرنے کی کاوش میں قبل از اسلام کے آثارِ قدیمہ کی تلاش میں لگا ہوا  ہے اور مقدس مقامات کے قریب فحش و بے حیائی کی تقریبات منعقد کرا رہا ہے تاکہ امریکہ کو خوش کیا جا سکے۔ اور مصر کے حکمران، ان شرعی احکام کی خلاف ورزی میں لگے ہیں جو خاندانی دائرے کی حدود میں باقی رہ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اسلام سے گہری نفرت نے امریکہ کو اس راہ پر لگا  دیا ہے کہ وہ ان حکمرانوں سے اسلام کے ہر قسم کے اظہار اور ہر شرعی حکم کے خلاف لڑنے کا مطالبہ کرے، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا حکم کیوں نہ ہو۔ چنانچہ آپ کبھی انہیں سنت میں شبہات پیدا کرتے دیکھتے ہیں اور کبھی ان کے بعض قلم کار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر حملہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھٹیا اور بدکار لوگوں کو بلند کرنا اور معاشرے میں انہیں اعلیٰ مقام دینا، اور ان کی خبروں کو اس طرح نشر کرنا جیسے امت کی توجہ اسی گندگی کا پیچھا کرنے میں ہو جس تک یہ گھٹیا لوگ آن پہنچے ہیں۔

 

ان تمام نکات کا بغور جائزہ لینے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خطے میں امریکی پالیسی آگے نہیں بلکہ پیچھے ہٹ رہی ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ پالیسی مسلمانوں کے اندر گہری نفرت اور شدید دشمنی پیدا کر رہی ہے، جو بتدریج حکمران طبقات کی نچلی سطحوں تک بھی سرایت کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزہ کی جنگ، مغرب خصوصاً امریکہ کا یہودی وجود کے ساتھ کھڑا ہونا، اس وجود کی فوجی مدد کرنا، اسے سیاسی تحفظ فراہم کرنا اور 07 اکتوبر کے جواب میں یہودیوں کی جانب سے برپا کی جانے والی بربریت اور نسل کشی کو اپنے دفاع کے طور پر پیش کرنا، نیز صیہونی لیڈران کے خلاف مقدمات چلانے کی کوشش کرنے والے عالمی ججوں پر پابندیاں عائد کرنا، اور اس کے بعد ایران کے خلاف امریکہ و یہود کی جنگ، یہ سب اور اس کے علاوہ بہت کچھ، ایک بنیادی تصور کو پختہ کر چکا ہے: کہ امریکہ کفر کا سرغنہ ہے اور دشمنی کا سربراہ ہے، اور یہ کہ امریکہ نئی صلیبی کاروائیوں کی قیادت کر رہا ہے یا ان کے پیچھے کھڑا ہے، جو تقریباً ہر جگہ مسلمانوں کو قتل کر رہی ہیں اور ان کے گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔ اس امر نے اس فوری ضرورت کے بارے میں ایک پختہ یقین بھی پیدا کر دیا ہے، کہ اس حقیقت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے کہ جس میں یہ حکمران امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ مل کر کھڑے ہیں۔ اور ان سب عوامل نے امتِ مسلمہ کے عوام کی اپنے دین سے وابستگی کو مزید مضبوط کر دیا ہے اور اس یقین کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ ان سے صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی دشمنی کی جاتی ہے۔ یہ اجتماعی تصورات مسلم آبادیوں میں پھیلنا، وسعت اختیار کرنا اور گہرے ہونا شروع ہو گئے ہیں، اور قومیتوں اور نسلی وفاداریوں کی جگہ اسلامی شناخت کی جانب ایک اجتماعی اور نئی فکری تبدیلی پیدا کر رہے ہیں، کیونکہ امریکہ کی قیادت میں کافر ریاستیں ایک متحد مغربی بلاک کے طور پر مسلمانوں پر حملہ آور ہیں، اور ان کا بنیادی ہدف مسلمانوں کا دین ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو مسلمانوں کے خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی اور اس کی تیز رفتار یلغار اس خطے میں امریکی نقصانات کو تیز کر رہی ہے، اسلامی جذبات کو بھڑکا رہی ہے اور انہیں ایک حقیقی سیاسی خطرے میں تبدیل ہونے کے قریب لے جا رہی ہے، خصوصاً اس وقت جب حکمران طبقات کی نچلی سطحیں اوپر کی سطحوں سے الگ ہوتی جا  رہی ہیں۔ اس سب کی اس سے زیادہ واضح دلیل اور کوئی نہیں کہ امریکہ خود خطے میں اپنے بہت سے فوجی اڈوں کو ترک کرنے اور انہیں یہودی وجود کے اندر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

یوں اس طرح سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ کو ایک نقصان سے نکال کر اس سے بھی بڑے نقصان کی طرف لے جا رہی ہے، جو خواہ بین الاقوامی پالیسی کی سطح پر ہو، چین کے مقابلے میں ہو یا خود امریکہ کے اندرونی اختلافات کی سطح پر ہو۔ اگر صدر ٹرمپ کے بے شمار بیانات کے ساتھ پیدا ہونے والا مصنوعی زور و شور ابھی تک امریکی کمزوری کی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے اور ان بیانات کو امریکی طاقت کا اظہار بنا کر پیش کر رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے 1980ء کی دہائی کے آخر میں ماسکو میں گورباچوف کے اصلاحات اور آگے بڑھنے کے نعرے تھے جو کہ چند ہی سالوں کے اندر اندر ایک ایسے المیے میں بدل گئے جس نے روس کو تباہ کر دیا اور اس کی عالمی حیثیت و مقام کو برباد کر کے رکھ دیا تھا، تو حقیقت بالکل واضح ہے۔ اگر چین کے لئے امریکہ کی اس کمزوری سے حکمت عملی کے طور پر فائدہ اٹھانے کا موقع بہت کم اور محدود ہے، کیونکہ چین چاہتا ہے کہ امریکہ اقتصادی طور پر مضبوط رہے تاکہ وہ اس کی منڈیوں سے فائدہ اٹھاتا رہے، اور چین نہ تو امریکہ کی جگہ لینے کا سوچتا ہے اور نہ ہی اس کی صلاحیت رکھتا ہے، تو امریکہ پر آنے والی وہ بڑی تباہی جس کی امید کی جا رہی ہے، وہ ایک فیصلہ کن اور قریب الوقوع جنگ کی صورت میں ہو گی جو کہ مسلمانوں کے علاقوں سے منتظر ہے۔ امریکہ ایران کو بھی شکست نہ دے سکا، حالانکہ ایران کی فوج اپنی سرحدوں سے آگے بھی نہیں بڑھی، اور امریکہ کسی ایسے مسلم ملک کو شکست دینے سے  بھی بالکل قاصر ہے جو اس کے خلاف پرعزم ہو کر لڑے اور دفاعی موقف سے آگے بڑھ کر جارحانہ طور پر حملہ آور ہو، اور ہر روز مسلمانوں کی نئی توانائیوں کو حرکت میں لائے جو امریکہ کی مایوسی میں اضافہ کریں، اسے پیچھے دھکیلیں اور اسے اسی کمین گاہ میں واپس لے جائیں جہاں سے وہ آیا ہے۔

 

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ، لبنان اور شام میں یہودی وجود کی جانب سے کئے جانے والے قتلِ عام، اور ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگوں کے سامنے مسلم ممالک پر چھائی ہوئی خاموشی ان کی شکست یا مایوسی کی حالت ہے، وہ سراسر غلطی پر ہیں۔ بلکہ یہ امت کے عوام اور حکمران طبقات کی نچلی سطحوں پر چھایا ہوا ایک صدمے کا عالم ہے، جو سیاسی حقائق کے ایک سنگین انکشاف کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے: اور وہ یہ کہ مغرب مسلمانوں کا شدید دشمن ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے پاس اسلام اور اس کی حکمرانی کے سوا نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ اور ان شاء اللہ، کچھ زیادہ دیر کی بات نہیں کہ یہ صدمہ ان ممالک میں سے کسی ملک میں کسی ایک حکمران کے حقیقی سقوط کا سبب بنے گا، اور اس کے ساتھ پورا نظام بھی گر جائے گا، زبردستی اور جبر پر مبنی ظالم حکمرانی کا دور اور حقیر مداخلت کاروں کا زمانہ ختم ہو جائے گا، اور مسلمانوں کے لئے ایک نئی خلافت قائم ہو گی۔ اور پھر تبدیلی کی یہ لہر سونامی طوفان کی طرح بڑھتی اور پھیلتی جائے گی، اور اپنے راستے میں آنے والے باقی حکمرانوں کو بہا لے جائے گی، اور مسلمانوں کے عوام ایک کتاب (قرآن مجید) اور ایک خلیفہ کے تحت ایک امت بن کر متحد ہو جائیں گے۔

 

Last modified onبدھ, 09 ستمبر 2026 20:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک