بسم الله الرحمن الرحيم
وسطی ایشیا میں بھارت کی جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) حکمتِ عملی
تحریر: استاد اسلام ابو خلیل – ازبکستان
(ترجمہ)
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 29 اور 30 اگست 2026ء کو ازبکستان کا دورہ محض ایک معمول کا سفارتی دورہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اسے ایک اہم واقعے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ یہ وسطی ایشیا میں اپنی معاشی پوزیشن، توانائی کے وسائل اور اسٹریٹجک شعبوں میں اپنے مقام کو مضبوط بنانے کی بھارتی خارجہ پالیسی کے ایک اہم پہلو کی نمائندگی کرتا ہے۔
ازبکستان اور بھارت نے 1992ء میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جنہیں 2011ء میں اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھا دیا گیا۔ پھر 30 اگست 2026ء کو ان تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جایا گیا۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، کان کنی، اہم معدنیات، دفاع، بین الاقوامی اور ادویہ سازی کی صنعتوں، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ بھارت کا سفر کرنے کے خواہش مند ازبک شہریوں کے لیے 30 روزہ ویزا فری داخلے کی سہولت بھی منظور کی گئی۔ اسی طرح 2030ء تک دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا، جبکہ ازبکستان سے بھارت کو یورینیم کی طویل مدتی فراہمی کے طریقۂ کار پر بھی اتفاق کیا گیا۔
لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: بھارت آخر اسی وقت ازبکستان اور وسطی ایشیا پر اتنی غیر معمولی توجہ کیوں دے رہا ہے؟
چین ایک ایسا حریف جس سے تعلق منقطع نہیں کیا جا سکتا:
بھارت کے لیے چین ایشیا میں ایک اہم جغرافیائی سیاسی حریف ہے۔ ہمالیہ میں سرحدی تنازعات، چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، اور وسطی ایشیا میں چینی اثر و رسوخ کے مسلسل پھیلاؤ نے بھارت کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم بھارت چین کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے اسٹریٹجکخودمختاری کی پالیسی کو ترجیح دیتا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب چین ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ اقدام کے ذریعے پورے یوریشیا میں نقل و حمل اور تجارت کے اپنے نیٹ ورک کو وسعت دے رہا ہے، بھارت بھی اپنے طور پر تجارتی راستوں اور متبادل راہداریوں کی تعمیر کی کوشش کر رہا ہے۔
جغرافیہ بھارت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے:
بھارت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ جغرافیہ ہے۔ وسطی ایشیا تک اس کا کوئی براہِ راست زمینی راستہ نہیں، جبکہ پاکستان کے راستے وہاں تک رسائی دونوں ممالک کے سیاسی اختلافات کے باعث محدود ہے۔اسی وجہ سے بھارت ایرانی بندرگاہ چابہار اور بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ راہداری کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ یہ راستہ ایران کے ذریعے بھارت کو وسطی ایشیا، قفقاز اور روس سے جوڑ سکتا ہے۔ یوں وسطی ایشیا بھارت کے لیے محض ایک تجارتی منڈی نہیں، بلکہ ایک ایسے یوریشیائی راستے کی تعمیر کا موقع بھی ہے جو چین یا پاکستان کے اثر سے آزاد ہو۔
روس اب بھی ایک اہم شراکت دار ہے
مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود بھارت نے روس کے ساتھ اپنے فوجی و تکنیکی، توانائی اور جوہری شعبوں کے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ تاہم یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کا چین پر بڑھتا ہوا انحصار بھارت کو اپنے حساب کتاب پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔چنانچہ بھارت روس کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے وسطی ایشیا میں اپنی آزادانہ حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آخر ازبکستان ہی کیوں؟
ازبکستان وسطی ایشیا کے قلب میں واقع ہے اور خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہ ایک بڑی منڈی بھی ہے اور اسٹریٹجک معدنیات کے قابلِ ذکر ذخائر سے بھی مالا مال ہے۔ اس کے علاوہ ازبکستان نے چین، روس، ترکیہ، آذربائیجان اور یورپ کے ساتھ نسبتاً متوازن تعلقات قائم کیے ہیں۔
اس پس منظر میں ازبک وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف کا 3 اور 4 اگست 2026ء کو بھارت کا دورہ اس عمل کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ اس دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، کان کنی، نایاب زمینی عناصر، ادویہ سازی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔ اس کے بعد مودی کا دورۂ ازبکستان ان تعلقات کو ایک نئی سطح تک لے جانے کی عملی کوشش تھا۔
یورینیم محض ایک عام شے نہیں
یورینیم محض کوئی عام معدنی یا تجارتی شے نہیں؛ اس کا تعلق توانائی، جوہری ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک سلامتی سے ہے۔اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ یورینیم کی کتنی مقدار فروخت کی گئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے کن شرائط کے تحت فراہم کیا جائے گا، اس کی اضافی قدر (ویلیو ایڈیشن) کہاں پیدا ہوگی، اور کیا ازبکستان اس عمل میں متعلقہ ٹیکنالوجی بھی حاصل کرے گا یا محض خام مال برآمد کرنے والے ملک کی حیثیت سے رہ جائے گا؟
یہ بھی کوئی نیا معاملہ نہیں۔ بھارتی پارلیمنٹ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق 2019ء میں ازبکستان کے ساتھ 2022ء سے 2026ء تک 1100 ٹن قدرتی یورینیم کنسنٹریٹس کی فراہمی کے لیے ایک طویل مدتی معاہدہ کیا گیا تھا۔بھارت کے پاس یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور جوہری ہتھیاروں کا پروگرام موجود ہے، جبکہ اس کی بعض اسٹریٹجک جوہری تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حفاظتی انتظامات کے دائرے میں نہیں آتیں۔ اس لیے ازبک یورینیم کی آئندہ جوہری سپلائی چین کی شفافیت، اس کے استعمال کے مقاصد اور اس کی برآمد سے متعلق شرائط غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔
موجودہ مرحلے میں چین کو وسائل اور نقل و حمل کے راستوں کی ضرورت ہے، روس کو منڈیوں اور علاقائی اثر و رسوخ کی؛ ترکیہ اور آذربائیجان کو راہداریوں اور لاجسٹک روابط کی، جبکہ یورپ کو نئے وسائل اور متبادل راستوں کی تلاش ہے۔ دوسری جانب بھارت کو وسائل، نئی منڈیوں اور وسطی ایشیا تک رسائی درکار ہے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو کسی واضح امریکی مخالفت کا سامنا نہیں۔ بلکہ اس کے بعض پہلو وسطی ایشیا میں چینی اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کے امریکی مقصد سے ہم آہنگ بھی ہو سکتے ہیں۔
ازبک حکام ایک غاصب ریاست کے وزیرِ اعظم اور مسلمانوں کے قاتل کے لیے جس قدر احترام کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ اگر ان کے دل میں اپنے رب اور اپنی مسلم امت کے لیے حیا کا ذرہ بھر بھی احساس ہوتا تو وہ ایسی مجرمانہ حکومتوں کے نمائندوں کی میزبانی اور تکریم کے بجائے انہیں ان کے جرائم پر جواب دہ ٹھہراتے۔امتِ مسلمہ کی قیادت اور اس کی نجات کا شرف ہر ایک کے حصے میں نہیں آتا۔ اس کے لیے خالص ایمان، مضبوط کردار اور ایسے صالح اعمال درکار ہوتے ہیں جو اللہ عزوجل کے ہاں انسان کا مرتبہ بلند کریں۔ آج کی بین الاقوامی سیاست میں ایسے قائد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے؛ بلکہ اس کی ضرورت پانی اور ہوا کی طرح ناگزیر ہو چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَن تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِن كُنتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَاداً فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي تُسِرُّونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنتُمْ وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ﴾.
’’اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم تو ان سے دوستی کی باتیں کرتے ہو، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے وہ اس کا انکار کر چکے ہیں۔ وہ رسول کو اور تمہیں اس لیے (وطن سے) نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ، پر ایمان لائے ہو۔ اگر تم میری راہ میں جہاد کے لیے اور میری رضا کی طلب میں نکلے ہو (تو ان سے دوستی نہ کرو)۔ تم پوشیدہ طور پر ان سے محبت کے تعلقات قائم کرتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، میں اسے خوب جانتا ہوں۔ اور تم میں سے جو کوئی ایسا کرے گا، وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔‘‘(سورۃ الممتحنہ:آیت 1)




