الأحد، 13 محرّم 1448| 2026/06/28
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بالآخر ایجنٹ حکمرانوں کے طیارے حرکت میں آگئے..... مگر  دشمنوں سے لڑنے کے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کو قتل کرنےکے لئے!  

اقوامِ متحدہ کے لئے سعودی سفیر عادل الجبیر نے جمعرات کی صبح 26 مارچ 2015 کو یمن کے حوثیوں کے خلاف عسکری آپریشن کا اعلان کردیا ۔ اس  آپریشن کے دوران فضائی کاروائیوں میں حصہ لینے والا اتحاد دس ممالک  پر مشتمل ہے،  جس میں عمان کے سواء  باقی تمام خلیجی ممالک  شامل ہیں ۔ سعودی سفیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے قبل امریکہ سے مشاورت کی تھی۔ مصر کے وزیر خارجہ نے  اس آپریشن میں شرکت کا اعلان کیااور بتایا کہ چار  مصری بحری جہاز  خلیجِ عدن کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ جبکہ سوڈانی مسلح افواج کے ترجمان نے   اعلان کیا  کہ"اپنی اسلامی ذمہ داری کی بنیاد پر سوڈان اس(حملے) میں شرکت کرے گا۔ہم  ایسی صورتحال میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے جبکہ مسلمانوں کے قبلہ اور وحی کے نزول کی سر زمین پر خطرات  کے بادل منڈلا رہے ہوں"۔

 

یوں بجائے یہ کہ حکمرانوں کے طیارے اور جنگی بحری جہازیہود یوں سے لڑنےکے لیے حرکت میں آتے وہ یمن پر بم برسانے کے لئے حرکت میں آئےحالانکہ سبا(یمن )کی سرزمین کی بنسبت یہودی وجود ان کے زیادہ قریب  واقع ہے!اس کاروائی کے  لیے جو جواز پیش کیے گئے ہیں ان میں سے بد ترین جوازیہ ہے کہ یہ حملہ مسلمانوں کے قبلہ کےتحفظ کی خاطر ہے، حالانکہ   حرم شریف  پر تو حملہ ہوا بھی نہیں جبکہ مسلمانوں کا قبلہ اول جس پر یہودی حملہ کر کے قبضہ کر چکے ہیں اور وہ کئی  دہائیوں سے یہودیوں کے قبضے میں ہے ، اورپکار پکار کر اِن  حکمرانوں سے مدد کے لئے فریاد کرتا آرہا ہے،اس کی خاطریہ  حکمران حرکت میں نہیں آتے!ان کے طیارے یمن کی طرف اس لئے پرواز کرتے ہیں تاکہ استعماری کفار کے منصوبوں کو مکمل کیا جائے،  یہ طیارے فلسطین کی ارضِ مقدس کو چھڑوانے کے لئےکبھی نہیں  اُڑتے جس پرمسلمانوں کے شدید ترین دشمن  قابض  بنے بیٹھے ہیں!

 

ہر صاحب بصیرت شخص  جانتا ہے کہ یمن میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے ، یہ امریکہ اور  اس کے  حوثی حواریوں اور ان کے ہمنوا ؤں اوردوسری طرف برطانیہ اور اس کے حواریوں ہادی،عبد اللہ صالح اور  ان کے ہمنواؤں کی باہمی کشمکش ہے ،جیسا کہ ہم نے اس معاملے کے متعلق سابقہ دستاویزات میں لوگوں پر یہ  واضح کیا تھا کہ"حقیقت یہ ہے  کہ یمن میں جاری جنگ دوفریقوں کے درمیان ہورہی ہے: فریق اول امریکہ ،اس کے حواری اور ایجنٹ  اورفریقِ ثانی برطانیہ ، اس کے حواری اور ایجنٹ ۔ دونوں فریق  اپنے اپنے وسائل اور  اسالیب استعمال کررہے ہیں  .... امریکہ یمن میں حوثیوں  کی مادی قوت ، جنوبی علاقوں میں جاری  تحریک اور ایران کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھارہا ہے اور مذاکرات کے میدان میں یمن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی مشیرجمال بن عمرکو استعمال کر تا ہے۔جبکہ برطانیہ اپنی سیاسی مکاری کو بروئے کار لاتا ہے اورامریکی دباؤ کے خلاف مزاحمت کے طور پر ہادی  اور اس کی صدارت کو استعمال کررہا ہے اور اس بات کو یقینی بنارہاہے کہ کوئی امریکی حواری طاقت کے اہم مراکز میں سے کسی پربھی قابض نہ ہوسکے ۔ساتھ ہی ساتھ برطانیہ نے بذاتِ خود علی صالح  اور اس کے آدمیوں کو  حوثیوں کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت دی تا کہ اگر ہادی اپنے مقصد میں ناکام ہوجائے اور حوثی  اقتدار پر قابض ہو جائیں  تب بھی برطانیہ علی صالح کے ذریعے اقتدار کے کچھ حصے پر  قابض  رہ سکے ۔یہ ہے یمن کی صورتِ حال کی حقیقت ۔چونکہ برطانیہ اب پہلے کی طرح  یمن پر اپنی بالادستی قائم رکھنےکے قابل نہیں رہا ،جبکہ دوسری طرف  وہ امریکہ اور اس کے ایجنٹوں  کا عسکری طور پر مقابلہ نہیں کر سکتا اس لیے وہ اپنے ایجنٹ ہادی اور علی صالح کے ذریعے  سیاسی مکاری پر ہی بھروسہ کرتا ہے،جنہوں نے اپنا کردار بخوبی ادا کیاہے "(یکم اکتوبر 2014) ۔

 

امریکہ نے ایران کے ذریعے حوثیوں کو انواع واقسام کا اسلحہ اور سامان ِجنگ فراہم کرکے ان کی مدد کی تاکہ وہ طاقت کے بل بوتے پر یمن پر تسلط حاصل کرلیں ۔ امریکہ یہ جانتا ہے کہ سیاسی میدان میں زیادہ تر برطانیہ کے پروردہ سیاست دان چھائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا امریکہ نے حوثیوں کے ذریعے  طاقت کے بل بوتے پریمن پر تسلط جمانے کی راہ اختیار کی ۔حوثیوں نے صدر کا محاصرہ کر لیااور اس پر زور ڈالا کے وہ ان کی مرضی کے قوانین منظور کرے۔ یمن کا صدر ہادی ان قوانین کے نفاذ پرحوثیوں کے ساتھ  اتفاق کرلیتا اور پھر اِن معاہدوں اور قوانین کو عملی جامہ پہنانے میں  ٹال مٹول کرنے لگتا تھا ، یہ کھیل جاری رہا اور پھر وہ وقت آگیا جب حوثیوں نے  صدر کو اس کے گھر میں قید کردیا لیکن وہ کسی طرح فرار ہو کر عدن پہنچ گیا۔ حوثیوں نے عدن  تک اس کا پیچھا کیا، مگر وہ دوبارہ ان کے ہاتھوں بچ نکلا۔ یوں یہ کشمکش طویل ہوتی چلی گئی اور حوثیوں کی طاقت کسی ایک مرکز پر جمع نہ رہ سکی بلکہ  پورے ملک کے اندر پھیل جانے سے کمزور ہوگئی اور حوثی وہ کچھ حاصل نہ کرسکے جو وہ چاہتے  تھے سوائے اس کے کہ  علی صالح اور اس  کے حواریان کے ساتھ شامل ہوگئے تا کہ اگر حوثی ، صدر ہادی کے خلاف کامیاب ہو جاتے ہیں  تو حاصل ہونے والے انعام میں سے وہ بھی اپنا حصہ وصول کرسکیں ۔ اور اگر حوثی ناکام ہو جاتے ہیں  تو انہیں چھوڑ دیا جائے۔ برطانوی ایجنٹوں کی اس حکمتِ عملی کے ابتدائی  آثار دکھائی دے  رہے ہیں ۔ پس عوامی نیشنل کانگریس ، جس کی سربراہی سابق یمنی صدر علی عبد اللہ صالح کررہا ہے،  نے اعلان کیا کہ "حوثی ملیشیا کی تحریک  ، حوثیوں  کی جانب سے جنوبی صوبوں پر قبضہ کرنے کی کوشش اور ملک کی قانونی اتھارٹی کے خلاف بغاوت کرنے کے عمل سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے "۔  عوامی  کانگریس پارٹی کے پولیٹیکل آفس  کی جنرل کمیٹی کی طرف سے بیان دیا گیا کہ "یمن میں جو کچھ ہورہا ہے، یہ بعض دھڑوں کے درمیان  اقتدار کی کشمکش  ہے، اور نیشنل کانگریس کا اس سے دور ونزدیک کا کوئی واسطہ نہیں"(العربیۃ26 مارچ 2015)۔ عوامی نیشنل کانگریس کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا حالانکہ کل تک وہ اس صلح یاجنگ میں حوثیوں کی حلیف تھی! اور یہ  کوئی تعجب کی بات نہیں ہوگی  کہ اگرمستقبل میں حوثیوں کا پلڑا بھاری ہو جائے  تو عوامی کانگریس دوبارہ حوثیوں  کی اتحادی بن جائے۔ اِن  ایجنٹوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ ضرورت کے لحاظ سے اپنے آقا کے تیار کردہ کردار کے مطابق اپنےرنگ بدل لیتے ہیں!کیا ہی برا اُن کا یہ چلن ہے...!

 

جب امریکہ نے دیکھا کہ ان کے حوثی   حواری مخمصے کا شکار ہیں ، انہوں نے اپنی قوت کو پورے یمن میں پھیلا دیا ہے جس کے باعث نہ تو وہ مکمل طور پر اپنی بالادستی کو قائم  کر پارہے ہیں  اور نہ ہی وہ  شمال میں اپنے مرکزکی طرف  واپس جاسکتے ہیں،تو امریکہ نے محدود فوجی آپریشن کے ذریعے  انہیں اس صورتحال سے نکالنے کا فیصلہ کیاکہ ایک تیر سے دو شکار  ہوجائیں۔  پہلا :لوگ حوثیوں کو ایک جابر کی نظر سے دیکھنا شروع ہو گئے ہیں یہ فوجی حملے ان کے مظلوم ہونے کا تاثر قائم کریں گے اور  دوسرا یہ کہ بحران کے بڑھنے سے ہنگامی مذاکرات کے لئے ماحول بن سکے گا  اور کوئی مصالحتی حل سامنے آئے گا۔ ہر اس معاملے میں جہاں  امریکہ تنہا کوئی مفاد حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ یہی روش اختیار کرتا ہے۔

 

جو کچھ پہلے ہوچکا ہے اور جو کچھ اب ہورہا ہے اس نے صورتحال کو واضح کردیا ہے۔  سعودی عرب  نے عسکری کاروائی سے قبل امریکہ   سے مشاورت کی ، اورامریکہ کے ایجنٹ ہی اس  آپریشن میں پیش پیش  ہیں یعنی سعودی عرب کا شاہ سلمان اورمصر کا جنرل سیسی ۔  جہاں تک باقی خلیجی ریاستوں اور اُردن ومراکش  کا تعلق ہے تو ان کا کردار زیادہ تر سیاسی ہے ، ان کا رویہ برطانیہ جیسا ہے، کہ برطانیہ امریکہ کا ساتھ دیتا ہے ، تا کہ یہ نظر آئے کہ وہ بھی متحرک ہے اور عنقریب ہونے والے مذاکرات میں اس کا بھی کچھ نہ کچھ کردار ہو  اور اس طرح جو بھی حل سامنے آئے اس کے نتیجے میں طاقت کے مراکز میں اس کا بھی اثرو رسوخ موجود رہے۔اگر چہ فوجی کاروائی کو مسلط کرنا بسا اوقات مذاکرات کا سلسلہ شروع کرانے میں کا میاب رہتا ہے ، مگر کبھی یہ حربہ ناکام بھی ہو جاتا ہے ،  جس کے نتیجے میں  یمن کی  صورتحال مزید غیر مستحکم  ہو سکتی ہے اور اسے  جنگ کی آگ  میں دھکیل سکتی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب یمن    مستحکم اور خوشحال تھا جب اس  کی پاک مٹی پر   ایجنٹوں اور استعماری کفار کے ناپاک قدم نہیں  پڑے تھے۔

 

اے مسلمانو! یہ ہیں ہمارے حکمران ۔ یہ  حکمران ہی  وہ سب سے بڑی  مصیبت ہیں کہ جس سےآج  ہم دوچار ہیں۔ اگر ہم نے اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے اور ان کے ظلم وستم سے نجات کے لیے  کوشش نہیں کی تو یہ ہمارے لئے مزید تباہی و بربادی کا باعث بن جائیں گے۔ ہمارے ذخائر لوٹے گئے ،ہمارا خون بہایا گیا ،جبکہ ہم نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کےاس قول کواپنے سامنے نہیں رکھا کہ :

 

﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾،

" ڈرو اس فتنے سے جس کا شکار صرف وہ لوگ نہیں ہوں گے جو تم میں سے ظالم ہیں ، اور جان لو کہ اللہ کا عذاب شدید ہے"

 

اور آپ ﷺ کے اس ارشاد کو بھی کہ

«إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا ظَالِمًا، فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ»

"بے شک جب لوگ کسی کو ظلم کرتا دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ روکیں ، تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنے عذاب میں گھیر لے"(ترمذی)۔

 

یہ  ہیں ہمارے حکمران ۔  کہ  اسراء ومعراج کی سرزمینِ فلسطین اور قبلۂ اول  فریاد کررہےہیں ،مگر وہ اس کی فریاد پر کان نہیں دھرتے ،وہ ان سے مددطلب کررہے ہیں ، مگر وہ مدد کے لئے آگے نہیں بڑھتے گویا ان کے کانوں  اور آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں...لیکن جب بات ہوتی ہے کفر یہ  استعماری ریاستوں کے مفادات کی تکمیل اور نفاذ کی تو یہ    ذلیل بن کر دوڑتے ہوئے  آتے  ہیں اور اپنے آقاؤں کی خدمت گزاری کواپنے لیے فخر کا باعث سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ان کے طیارے ،ٹینک اور جنگی کشتیاں  اسلام کی ترویج اور دشمنانِ اسلام کے مقابلے کے لئے حرکت میں نہیں آتے بلکہ بیرکوں میں پڑے رہتے ہیں ۔  لیکن جب وہ   مغربی استعماری طاقتیں کہ جنہیں ایمان والوں سے نفرت ہے،صرف  اشارہ ہی کرتی ہیں تویہ حکمران اس وقت اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور شیر کی طرح دھاڑنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ حکمران اہل وطن کے سامنے توبڑے تکبر  سے  آتے ہیں ،مگر دشمنوں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں ، اللہ ان کو غارت کرے۔

 

اے مسلمانو! امریکہ یا  برطانیہ کی حمایت کر کے یا ان کے ایجنٹوں میں سے کسی ایک کی حمایت کر کےیمن کو  تباہ کن صورتحال سے نہیں نکالا جاسکتا  بلکہ یمن کو اس  کے عوام اس صورت  بچا سکتے ہیں اگر وہ  بھر پور قوت کے ساتھ صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالٰی  اور اس کے رسول ﷺ کے لئے متحرک ہوجائیں ، دونوں جانب کے جابروں کو ہٹا دیں،   ملک  کو  ان کی خیانتوں سے محفوظ بنائیں  اور یمن کو اس کی اصل کی طرف لوٹا دیں یعنی اسے دوبارا ایمان وحکمت کی سرزمین بنا دیں ، جو عقاب کے جھنڈے کو بلند کرے، جو اللہ کے رسول ﷺ کا جھنڈ ا  ہے ، اور نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافت کی موجودگی میں اللہ کی شریعت کے ذریعے فیصلے کیے جائیں

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾،

"اوراس روز مومن خوش  ہوجائیں گے ،اللہ کی مدد سے ،وہ جسے چاہتاہے مدد دیتاہے اوروہ غالب اورمہربان ہے " (الروم : 4-5)

 

اے مسلمانو! اے یمن والو!حزب التحریر اخلاص اور صدق کے ساتھ آپ سے مخاطب ہے کہ آپ کو امریکہ کے تکبراور ان کے حواریوں کے غرور سے  ہرگزخائف نہیں ہونا چاہئے  اور نہ ہی  برطانوی خباثت  اور اس کے حواریوں کی فریب کاریوں سے  دھوکہ کھانا ہے۔  یہی دشمن ہیں  لہٰذا  ان سے محتاط رہو!   اور تم اللہ کے دین کی  مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔

 

(إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ)

"یقیناً اس میں اس شخص کے لئے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس دل ہو یا جو حاضر دماغ بن کر کان دَھرے"(ق:37)

Read more...

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کا شعبہ خواتین ایک بے مثال بین الاقوامی خواتین کانفرنس بعنوان "عورت اور شریعت :حقیقت اور افسانے میں تمیز کے لیے" منعقد کررہا ہے

ہفتہ 28 مارچ 2015 کو مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کا شعبہ خواتین ایک شاندار اور بے مثال بین الاقوامی خواتین کانفرنس "عورت اور شریعت :حقیقت اور افسانے میں تمیز کے لیے"کے عنوان سے منعقد کررہا ہے۔ یہ شاندار کانفرنس مختلف براعظموں کے پانچ ممالک : فلسطین، ترکی، تیونس، اینڈونیشیا اور برطانیہ میں منعقد کی جارہی ہے جس میں دانشور خواتین شریک ہوں گی۔ یہ کانفرنس الیکٹرانک ہالز میں منعقد کی جائیں گی جنہیں ایک دوسرے سے منسلک کر دیا جائے گا جس کے نتیجے میں کسی بھی ایک مقام پر ہونے والی تقریر دیگر تمام مقامات پر براہ راست دیکھی اور سنی جاسکے گی۔ ان پانچ مقامات کے علاوہ اردن سے بھی ایک تقریر براہ راست نشر کی جائے گی۔ یہ کانفرنس دنیا بھر کے عوام کے لئے بھی براہ راست نشر کی جائے گی۔ شرکاء میں خواتین صحافی، سیاست دان، وکیل، دانشور اور مختلف تنظیموں کی نمائندگان شامل ہیں۔ یہ کانفرنس چھ ہفتے پر مشتمل ایک عالمی مہم کا اختتام ہو گی جس کے دوران ایک زبردست سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، بین الاقوامی میڈیا سے رابطہ کیا گیا اور دنیا بھر میں خواتین سے بات چیت کی گئی۔

کانفرنس میں جن موضوعات پر بات چیت کی جائے گی وہ یہ ہیں: بین الاقوامی یا شرعی قوانین کو مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق کا تعین کرنا چاہیے؟؛ کیا اسلامی نسوانی تحریک خواتین کے مقام کو بہتر بنانے کا راستہ ہے؛ میڈیا کی جانب سے خواتین اور شریعت کے متعلق بنائے گئے تصوارت کو ختم کرنا؛ اسلام کے معاشرتی نظام کی فطرت؛ خلافت میں اسلامی قوانین کے تحت خواتین کا مقام؛ اور حقیقی سیاسی تبدیلی میں خواتین کا کردار۔ اس کانفرنس میں عالمی سطح پر مسلم خواتین میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی بڑھتی حمایت اور حزب التحریر کی خواتین کا خلافت کے قیام میں کردار پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت پر منعقد کی جارہی ہے جب کئی مسلم ممالک میں یہ بحث شدید ہوتی جارہی ہے کہ کیا خواتین کے حقوق کا بہترین تحفظ سیکولر نظام کے تحت ممکن ہے یا سلامی نظام کے تحت۔ اس کے علاوہ حالیہ سالوں میں سیکولر سیاست دانوں، نسوانی حقوق کے لئے کام کرنے والی خواتین اور لبرل میڈیا کے کچھ حصوں نے خواتین کے اسلامی لباس، مردوں کی ایک سے زائد شادیوں، وارثت کے قوانین، مرد و خواتین کے درمیان اختلاط کی ممانعت، شادی شدہ عورت کے حقوق و فرائض پر شدید حملے کیے ہیں اور انہیں جابرانہ ، ظالمانہ اور خواتین کے خلاف امتیازی بنا کر پیش کیا ہے۔ اس صورتحال نے مشرق و مغرب کے مختلف معاشروں میں بحث کے دروازے کھول دیے ہیں کہ کیا خواتین سے متعلق شرعی قوانین کو تبدیل کیا جانا چاہیے؟ سیکولر حضرات کی کئی نسلوں نے شریعت کے خلاف اس قسم کے حملے کیے ہیں جس میں جھوٹ کی زبردست آمیزش شامل ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شریعت عورت کے لیے غلامی، اس کے مقام کو گرانے اور جبر کا باعث ہے۔ ان تمام باتوں نے ایک خوف پیدا کردیا ہے کہ آنے والی ریاست خلافت میں خواتین کا کیا مقام ہوگا؟ اس کانفرنس کا یہ ہدف ہے کہ ان غلط تصورات کو مسترد اور ریاست خلافت میں اسلامی قوانین کے تحت عورت کے اصل اور صحیح مقام ، حقوق اور کردار کو واضح کیا جائے۔ یہ کانفرنس خواتین سے متعلق خاص احکامات پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرے گی اور اُن بنیادوں، اقدار کو بھی بیان کرے گی جو اسلام کے معاشرتی نظام کی انفرادیت ہے اور کس طرح یہ منفرد قوانین خواتین، بچوں، خاندانی زندگی اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین کا مقام کے زیر انتظام اس ماہ ہونے والے عالمی سیشن میں عالمی رہنماوں نے 1995 کے بیجنگ علامیہ کی بیسویں سالگرہ منائی گئی جس میں انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ مرد و عورت کے درمیان برابری کے قیام کے لئے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں گے۔ ہماری کانفرنس نسوانیت اور مرد و عورت کے مابین برابری کے مغربی تصورات کو چیلنج کرے گی اور کیا یہ تصورات واقعی خواتین کو ظلم سے نجات اور ایک اچھی زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس بات پر روشی ڈالی گی کہ کس طرح رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر قائم ہونے والی ریاست خلافت راشدہ کے قوانین، نظام اور ادارے آج مسلم دنیا کی خواتین کو درپیش سیکڑوں مسائل کو کس طرح حل کرتے ہیں۔ ہم میڈیا میں موجود اُن تمام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ عورت کے لئے ایک محفوظ، مثبت اور باعزت مستقبل پیدا کیا جائے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوں اور اس اہم کانفرنس کو رپورٹ کریں۔

ایڈیٹر حضرات کے لئے نوٹ: یہ کانفرنس ہفتہ 28 مارچ 2015 کو گرینچ مین ٹائم کے مطابق صبح 9:30 پر شروع ہو گی۔ مرد و خواتین صحافیوں کے لئے ایک پریس کانفرنس اُسی دن جکارتہ کے وقت کے مطابق شام 3:30 پر آئی پی بی انٹرنیشنل کنونشن سینٹر، ای ایف میٹنگ روم، بوٹانی اسکوائر بلڈنگ دوسری منزل، جے آئی، پاجاجارن، بوگور-جاوا بارت16127، انڈونیشیا میں ہو گی۔ کانفرنس میں صرف خواتین کو ہی شرکت کی اجازت ہوگی۔ پریس معلومات کے لئے اس ویب سائٹ سے رابطہ کرے: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.. ۔ یہ کانفرنس www.htmedia.info پر براہ راست دیکھی جاسکتی ہے۔ مہم فیس بک صفح: https://www.facebook.com/womenandshariahA

ڈاکٹر نسرین نواز
مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر شعبہ خواتین

Read more...

سوال کا جواب شام کے حوالے سے تازہ ترین سیاسی پیش رفت

سوال :

یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ امریکہ اور ترکی نے نام نہاد معتدل اپوزیشن  کے عناصر کو تربیت دینے کے معاہدے پر دستخط کر دئیے۔۔۔کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ بشار کا متبادل  تلاش کر لینے کے قریب پہنچ گیاہے اور اسی لیے  وہ اس کی مدد کے لئے فضائی قوت کے ساتھ ساتھ مناسب زمینی قوت بھی تیار کر رہا ہے؟یا یہ کہ وہ معتدل عناصر کی صرف تربیت کے ذریعے  ایک دوسال تک وقت کو ٹالنا چاہتا ہے ،یہاں تک کہ  امریکہ متبادل تلاش کرلے ؟دوسرے الفاظ میں  کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ متباد ل قریب ہی ہے اور اس لیے اُس کی مدد کی تیاری کر رہا ہے، یا متبادل دور ہے  اس لیے معتدل عناصر کی تربیت کے ذریعے  متبادل کی فراہمی تک وقت کو ٹال رہے ہیں ؟اللہ آپ کو بہترین جزا دے ۔

 

جواب :

جواب کو واضح کرنے کے لیے ہم امریکی موقف  اور خطے کے ممالک کے ساتھ  اس کی سرگرمیوں کی وضاحت کریں گے:

1 - اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا تھا کہ "ہم شام میں معتدل اپوزیشن کی حمایت اس لئے کر رہے ہیں تا کہ شام کے ساتھ ساتھ ہر جگہ انتہا پسندانہ آئیڈیالوجی کے خلاف جدوجہد اور لوگوں کو اس کے خلاف کھڑا کرنے کی کوششوں کو تقویت حاصل ہو۔ان کوششوں کے لیے وقت اور توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے"۔  مزید کہا کہ "سمندر پار   بڑی تعداد میں زمینی فوج  بھیجنے کی بجائے امریکہ  جنوبی ایشیاء سے شمالی افریقہ  تک پھیلے ہوئے ممالک  کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے پر کام کررہا ہے  جو امریکہ کے لیے خطرہ  ہیں"۔ ((https://www.whitehouse.gov/the-press-office/2015/01/20/president-obamas-state-union-address-prepared-delivery 20/01/2015)

 

اس بیان سے  واضح ہو جاتا ہے کہ امریکہ خطے میں بڑی قوت بھیج کر سابقہ تجربہ دہرانا نہیں چاہتا، بلکہ خطے کے ممالک  کو استعمال کرتے ہوئے  خطے کے لوگوں کے ذریعے ہی  ایک نام نہاد معتدل  قوت تشکیل دینا چاہتا ہے جس کی وہ پشت پناہی کرے گا اور امریکی اہداف کے حصول کے لیے اس کو استعمال کرتا  رہے گا۔امریکی صدر نے  اس کو ایک سیاسی لکیر کے طور پر واضح کیا  ہے جس پر اس کے ملک کی خارجہ پالیسی گامزن  ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ خطے میں اسلام کی حکمرانی کی واپسی،اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے اور وسائل کو لوٹنے کے لیے کوئی بڑی زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا،لیکن وہ  اسلام کے خلاف اپنی  اس جنگ میں خود مسلمانوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے،اس لیے وہ  مخصوص امدادی کاموں یا تربیت کے لیے  یا پھر خاص آپریشنز کے لئے محدود بری فوج بھیجتا   اور  فضائیہ کے ذریعے شریک ہو تا ہے۔

 

2 - امریکہ نے نام نہاد معتدل اپوزیشن  یعنی اپنے ماتحت لوگوں کی تربیت کا فیصلہ گزشتہ سال کی گرمیوں میں ہی کر لیا تھا ، جس کا اعلان گزشتہ سال موسم خزاں میں  کیا گیا تھا۔امریکی صدر اوباما نے 13 جون 2013 کو  اس اپوزیشن کو مسلح کرنے کے لیے  خفیہ کاروائیوں  کی منظوری  دی تھی اور اس عمل  کو سی۔آئی۔اے  کے ذریعے  کروایا جانے گااور اس  کا اعلان 20 ستمبر 2014 کو یہ کہہ کر کیا کہ ،"واشنگٹن   امداد دینے کے لیے  براہ راست عملی   اقدامات شروع کر چکا ہے جس میں شام کی اپوزیشن  کی عسکری امداد بھی شامل ہے  تاہم یہ نئی کوششیں  شام  کی اپوزیشن  کے جنگجوں کی تربیت اور ان کو جنگی آلات کی فراہمی  کی گارانٹی ہیں تا کہ وہ طاقتور ہوں  اور شام کے اندر  دہشت گردوں  کا راستہ  روکیں" (اے اے پی 20 ستمبر 2014 )۔ اور " کانگریس  نے بھی 18 ستمبر 2014کو صدر اوباما کے منصوبے کی منظوری دی" ۔ امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف  جنرل مارٹن ڈیمپسی نے وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ "اگر  میدان جنگ کے قائدین نے  مجھ سے یا وزیر دفاع سے  عراقیوں یا شام کی نئی افواج  کی مدد کے لیے اسپیشل فورس بھیجنے کا مطالبہ کیا  اور ہمیں لگا کہ یہ ہمارے اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے  تو ہم صدر باراک اوباما سے اس کا مطالبہ کریں گے " (سکائی نیوز 5 مارچ 2014 )۔

 

امریکہ نے پہلے شام کی  صورت حال کو قابو کر نے کے لیے مذاکرات کے رستے کو اختیار کیا تھا جیسے جنیوا 1 اور 2 اور وہ اس قسم کی قوت تشکیل دینے پر مجبور نہیں ہواتھا، اسی لیے اُس نے  انقلابیوں کی نمائندگی کرنے کے لیے  اتحادی کونسل تشکیل دی  لیکن یہ  کونسل شامی عوام  میں مقبولیت حاصل نہیں کرسکی اور نہ ہی  شام میں   اس کی کوئی قوت موجود تھی،اس لیے یہ طریقہ کار ناکام  ہو گیا ۔اس ناکامی کے بعد  امریکہ نے اپنے ماتحت ایک قوت تیار کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعے  وہ ان مذاکرات کاروں کے موقف کو تقویت پہنچائےگا  جیسے یہ اصل انقلابیوں کے نمائندے ہیں۔  اسی لیے امریکہ نے ایک ایسی  معتدل شامی قوت کو تیار کرنے کے منصوبے کو قبول کیا  جس کو وہ خود تربیت دے گا تا کہ اس کے ذریعے  وہ اپنے مقصد کو حاصل کرسکے  اور اس کے ذریعے ہی اُس کے منصوبوں کو مسترد کرنے والے انقلابیوں  کے خلاف جنگ کرسکے ناکہ اس کا مقصد حکومت سے لڑنا ہوگا۔شام  کی حکومت ،  اس کے آس پاس موجود لوگ اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ تمام امریکہ کے ایجنٹ ہیں،لیکن اہل شام اور وہ انقلابی جو اس حکومت کے خلاف  اٹھ کھڑے ہوئے  وہ امریکہ کے ساتھ نہیں، بلکہ وہ اس کے خلاف ہیں، اسی لیے امریکہ   ایسی فورس اور ایجنٹ تیار کرنا چاہتا ہے جو حکومت میں تو نہ ہوں  لیکن  انہیں زمین پر ایک قوت بنا کر نئے مذاکرات   میں انقلابیوں کا نمائندہ بنا کر بٹھانا چاہتا ہے۔ وہ  شامی حکومت میں موجود اپنے موجودہ ایجنٹوں کو اس وقت تک ہٹا نا نہیں چاہتا جب تک اس کو اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ اب  کوئی اور ایسا متبادل تیار ہے جو معاملات کو قابو کرنے اور تحریک کو دبانے پر قادر ہو۔

 

3 - امریکہ  ترکی میں اپنے وفادار حکومت کے ساتھ  اس حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچ چکا ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جین ساکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  "میں اس بات کی یقین دہانی کرا سکتی ہوں کہ ہم نظریاتی طور پر ترکی کے ساتھ اس اتفاق رائے تک پہنچ چکے ہیں کہ شامی اپوزیشن جماعتوں کو تربیت دی جائے اور ان کو مسلح کیا جائے"۔مزید کہا کہ "جیسا کہ  پہلے بھی ہم یہاں اعلان کر چکے ہیں کہ  ترکی نے اس کی حامی بھری ہے کہ وہ خطے میں  شام کی معتدل اپوزیشن  قوتوں کو تربیت دینے اور مسلح کرنے والے ممالک کے میزبانوں میں سے ایک ہو گا۔ہم  عنقریب ترکی کے ساتھ معاہدے کے انجام پانے اور اس پر دستخط کرنے کی توقع کرتے ہیں"(سکائی نیوز17 فروری 2015)۔ یہ اتفاق رائے  30 امریکی فوجی افسران پر مشتمل وفد کے  انقرہ کے دورے اور مذاکرات  کے بعد سامنے آیا  اور امریکی وزارت دفاع نے اعلان کر دیا کہ وہ  400 فوجی اپوزیشن کو تربیت دینے کے لیے سعودیہ،ترکی اور قطر بھیجے گا۔ سیکریٹری خارجہ جان کیری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا  کہ "ہماری ٹیم  سعودیوں کے ساتھ  مل کر تربیت اور مسلح کرنے کے اس پروگرام کی  تیاری کر رہی ہےاور یہ  اندازہ لگا رہی ہے کہ  ہمیں تربیت کاروں کی تیاری اور اس سے متعلقہ کن چیزوں کی ضرورت ہے "۔  چیف آف سٹاف مارٹن ڈیمپسی نے کہا تھا کہ "اس پروگرام  کی تیاری کا مرحلہ 3 سے 5 مہینے لے گا  اور شام کی معتدل اپوزیشن کے  5000 جنگجوں کی تربیت میں 8 سے 12 مہینے لگیں گے تا کہ وہ الدولۃ تنظیم سے لڑیں اور اس کے بعد بشار حکومت سے "(اناتولیہ 16 اکتوبر 2014 )۔ دفتر  خارجہ کی ترجمان ماری ہاروی نے 10 اکتوبر 2014 کو کہا  کہ، " ترکی نے معتدل شامی اپوزیشن کو تربیت دینے اور تیار کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے" (رائٹرز10 مارچ 2014 )۔  یوں خطے کے ممالک خواہ سعودیہ ہو یا ترکی یا کوئی اور  شام  کی صورت حال سے  بڑی تشویش میں مبتلا ہیں۔  خطے کے ممالک چاہتے ہیں کہ شام  کی یہ صورت حال ختم ہو کیونکہ وہ اس سے متاثر ہو رہے ہیں، اسی لیے وہ امریکہ سے تعاون کررہے ہیں،معتدل اپوزیشن  قوت تیار کرنے کی سوچ کی حمایت کررہے ہیں، ساتھ ہی مختلف شکل میں انقلابیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں اور یہ سب کچھ اس تحریک کے تمام مخلص لوگوں پر ضرب لگانے اور کسی بھی اسلامی  منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ہے۔

 

4 - اسی بنیاد پر گزشتہ مہینے ترکی اور امریکہ  نے اس پر رسمی طور پر دستخط کر دئیے۔  امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 19 فروری 2015 کو دستخط کے دن کہا  کہ "میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج شام انقرہ میں اس معاہدے پر دستخط ہو گئے"اور دستخط کرنے والے ترکی کے معاون وزیرخارجہ فریدون سینیر لی اوغلو اور انقرہ میں امریکی سفیر  جون باس تھے۔ اناتولیہ نیوز ایجنسی نے 19 فروری 2015 کو ترک وزیر خارجہ جاویش اوغلو کا یہ بیان نقل کیا کہ "دونوں ممالک پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں جس کے تحت شامی اپوزیشن کی تربیت کی جائے گی اور یہ اپوزیشن  داعش  اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ شام کی حکومت  سے لڑیں گی"۔ اس نے مزید کہا "ہم فائر بندی کو خوش آمدید کہیں گے چاہے یہ صرف چھ ہفتوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو"۔ اخبار ترکی نے 20 فروری 2015کو ترک وزیر خارجہ جاویش اوغلوا کا یہ بیان نقل کیا  کہ"اس معاہدے کا مقصد  شام  میں جنیوا اعلامیے کی بنیاد پر حقیقی سیاسی تبدیلی  کو لانا ہے اور اپوزیشن کو ان کی جنگ میں مضبوط کرنا ہے جیسا کہ انتہا پسندی، دہشت گردی اور ان تمام عناصر  کے خلاف جو اپوزیشن کے لئے خطرہ ہیں "۔  ترک وزیر خارجہ نے قطر اور سعودیہ کی جانب سے شام کی اپوزیشن  کی اپنی سرزمین پر تربیت اور تیاری کی میزبانی  کرنے  کا بھی تذکرہ کیا۔ رائٹرز نے 19 فوری 2015 کوتین امریکی عہدیداروں  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جنہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تھی کہ " ممکن ہے کہ تربیت مارچ کے وسط میں شروع ہو  اور یہ کہ و ہ تین سال تک   ہر سال 5000 شامی جنگجوؤں کی تربیت کریں گے جو کہ شام  کی معتدل اپوزیشن  کی حمایت کے منصوبے کے مطابق ہے"۔  یوں ترک وزیر خارجہ کھل کر اعلان کرتا ہے کہ ان قوتوں کو تربیت دینے کا مقصد  جن کو وہ معتدل اپوزیشن کہتے ہیں  جنیوا کی بنیاد پر سیاسی تبدیلی  اور ان عناصر پر ضرب لگانا ہے  جو اس سیاسی تبدیل کو مسترد کرتے ہیں اور کچھ اور چاہتے ہیں۔

 

5 - پس  امریکی منصوبوں کو بے نقاب اور ان  کی مخالفت کرنے والی قوتوں  پر ضرب لگانے کے بعد ہی متبادل آئے گا جن کا زمین پر وزن موجود ہوگا اور  پھر ایجنٹ قوت کو معتدل اپوزیشن کے نام پر اُن کی جگہ لایا جائے گا۔  اس پروگرام کی تکمیل کے لیے تین سال درکار ہیں ، تب ہی متبادل تیار ہو گا۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ متبادل فی الحال تیار نہیں اور اس وقت عملی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔  زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ  پہلے ان قوتوں پرضرب لگائی جائے گی جن کو وہ انتہا پسند قرار دے رہے ہیں  یا کم ازکم ان کو غیر فعال کیا جائے گا  جس سے  اُن کا اثر زائل ہو گا اوراس کے لیے انہوں نے اپنے اندازوں کے مطابق تین سال مقرر کیے ہیں،ہر سال 5000 ۔۔۔اس مہینے کےشروع میں اردوگان کا سعودیہ کا دورہ اسی سلسلے میں تھا۔  خبروں کے مطابق شام  ہی ان کے درمیان بحث کا موضوع تھا اورظاہری بات ہے کہ  بات چیت معتدل اپوزیشن  کو مضبوط  کرنے  اور آنے والے متبادل  کی حمایت کے حوالے سے تھا جو کو امریکہ نامزد کرے گا۔اخبار ترکی نے 2 مارچ 2015  کو ترک صدر کے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ "سعودی فرمانروا سلمان بن عبد العزیز نے پیر2 مارچ 2015 کو دارالحکومت کے شاہی محل میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سے ملاقات کی۔ دونوں نے شام  کی اپوزیشن کو  دی جانے والی مدد میں اضافے  کی ضرورت پر زور دیا تا کہ  اس کا اچھا نتیجہ  بر آمد ہو"۔ یعنی یہ دو نوں ممالک  سعودیہ اور ترکی جو کہ امریکہ کے وفادار ہیں معتدل اپوزیشن کی سوچ کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دونوں     اچھے  نتائج کے لیے مل کر  ایڑھی چوٹی کا زور لگائیں گےاورایسا نہیں ہو گا جو کونسل کے ساتھ ہوا  کہ جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اورجس کی ناکامی کی وجہ سے اب اس قوت کو وجود میں لانے کی ضرورت پڑی۔ کیونکہ یہ دونوں  امریکہ کے ساتھ مل کر  یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی قوت تیار کیے بغیر جس کا زمین پر کنٹرول ہو  اور وہ یہ دعوی کرتی ہو کہ وہ انقلابیوں کی نمائندگی کر تی ہے  یہ کسی قابل ذکر حل تک نہیں پہنچ سکتے  بلکہ ناکام  ہو جائیں گے، لہٰذا اس کے بعد ہی متبادل کے موضوع پر مذاکرات ہو سکتے ہیں اور جنیوا کی طرح کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔

 

6 - امریکہ کے طریقہ کار  میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ  جن انقلابیوں کا  کنٹرول ہے، جنگ بندی کے ذریعے   ان  کے کنٹرول کا خاتمہ کیا جائے اور  اپنی منتخب قوتوں  کو مشقوں کا موقع دیا جائے تاکہ وہ  غیر معتدل "انتہا پسندوں " کو شکست دینے کے قابل ہوسکیں اور ان کی جگہ لیں۔  ساتھ ہی حکومت کے خلاف جنگ بندی سے  مختلف گروپ آپس میں  لڑیں گے جو ان کی کمزوری  اور پھر شکست کا سبب بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی منصوبے کے مطابق  لڑائی کو منجمد کرنے کے نام پر جنگ کو روکنا  ضروری ہے تا کہ   اُن کی جگہ معتدل قوتوں کو  لاکر  حکومت اور معتدل اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جاسکے۔  امریکہ نے اقوام متحدہ کے نمائندے ڈی میسٹورا  کے زبانی یہ بات کی ہے جو بنیادی طور پر اسی کا نمائندہ  اور اس کے منصوبے کا عالمبردار ہے۔ڈی میسٹورا نے دمشق کے دو روزہ دورے  کے بعد کہا  کہ"صدر اسد حل کا حصہ ہے ،میں اس کے ساتھ گفت وشنید کروں گا۔ وہ اب بھی شام  کا صدر ہے۔۔۔ اور اب بھی شام کے بڑے حصے پر شامی حکومت کا کنٹرول  ہے"۔  اس  نے کہا کہ "واحد حل سیاسی حل ہی ہے  معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں صورت حال  کا فائدہ  الدولۃ الاسلامیۃ تنظیم  کو ہو گا" (اے ایف پی 13 فروری 2015 )۔  یوں امریکہ نے ڈی میسٹورا کی زبانی بشار کے صدر ہو نے کا اعتراف کیا   اوریہ کہ اس  کے ساتھ  مذاکرات اور سیاسی حل چاہتا ہے اور اسی لیے اپنے ایجنٹ بشار کے خلاف لڑائی روکنا چاہتا ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کر تا ہے کہ  جب امریکہ ان قوتوں کو لانے کے بعد جو مذاکرات کرے گا اُن میں بشار  کے انجام کا فیصلہ ہو گا لیکن ابھی اس کی قسمت کا فیصلہ  نہیں ہوگا۔  اس لیے امریکہ جنگ رکوانے  اور اپنے ماتحت معتدل قوتوں کو  حاوی کرنے سے پہلے بشار کو گرانا نہیں چاہتا ،اس کے بعد ہی متبادل  کو پیش کیا جائے گا  اور معتدل اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات ہوں گے۔

 

7 - خلاصہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ متبادل تیار ہے اور بشار کے دن گنے جا چکے ہیں بلکہ وہ اس مرحلے میں اقتدار میں رہے گا  یہاں تک کہ مذاکرات نئے سرے سے شروع نہ ہو جائیں  اور صورت حال  کے لیے کوئی فارمولا طے  نہ کیا جائے۔ جن معتدل قوتوں کو لانے کے لیے یہ کام کر رہے ہیں  وہ  مختصر مدت میں تیار نہیں ہو سکتی  بلکہ اس میں کم ازکم ایک سال لگے گا، یعنی 5000 کو تربیت دینے کے پہلے مرحلے کے بعد ۔۔۔پھر لڑائی روک کر  ان تیار کی ہوئی قوتوں کو  اندر قدم جمانے کے قابل نہ بنا دیا جائے جس کی ابتدا  انتہاپسند تحریکوں سے مڈبیر سے ہو گی  اس کے بعد ہی  حکومت میں اپنے ایجنٹوں  اور معتدل اپوزیشن نامی اپنے ایجنٹوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کر ے گا ، یہاں پہنچ کر متبادل کی تجویز اور حکومت کی تشکیل  کے بارے میں فریقین  کے درمیان ساز باز کرائی جائے گی۔

 

یہ تو امریکہ ، اس کے پیرو کاروں کے  اور اس کے اتحادیوں  کے منصوبوں کے مطابق ہے ، یہ ان کی سازشیں اور چالیں ہیں۔۔۔ لیکن اللہ کے دین کے بھی ایسے جوان مرد ہیں جنہوں نے اپنا دن رات ایک کیا ہوا ہے، جو اللہ سبحانہ وتعالٰی کے ساتھ مخلص ہیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سچے ہیں ، اللہ  سبحانہ وتعالٰی کے  وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی خلافت راشدہ کے قیام کے بارے میں بشارت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے  تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں جو اس ملک جبری کے بعد ہی ہو گی جس میں آج ہم زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔ اس وقت ان لوگوں کی سازشیں اور مکر  غبار بن کر ہوا کی نظر ہو جائیں گی

 

﴿وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ﴾

" یہ تو اپنے مکر کر چکے  اور اللہ بھی ان کے مکر کو دیکھ رہا ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا ہے کہ اس سے پہاڑ  اپنی جگہ سے ہٹ جائیں"(ابراھیم:46)۔

 

Read more...

‫‏یمن‬ میں بحران افواج ‏پاکستان‬ ‫امریکی‬ سیاسی مفادات اور اُس کی کٹھ پتلیوں کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ اسلام اور خلافت کے لئے مسلم دنیامیں مداخلت کرے

سعودی عرب کی سربراہی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک پر مشتمل اتحاد نے 26 مارچ 2015 سے ثناء، عدن اور یمن کے دیگر شہروں میں بمباری کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں حوثی تحریک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس اتحاد کو امریکہ اور یورپ کی حمایت حاصل ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سعودیہ نے پاکستان سے بھی اس فوجی آپریشن میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سعودیہ کی جانب سے اس خواہش کے اظہار پر راحیل-نواز حکومت نے فوراً ایک اعلٰی سطحی اجلاس طلب کیا جس میں اس درخواست کا جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک اعلٰی سطحی وفد سعودیہ عرب بھیجا جائے جو صورتحال کا تجزیہ کرے۔ حکومت نے کہا کہ اگر سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان کا ردعمل سخت ترین ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بحران بھی مغربی استعماری طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے اپنے سیاسی و اقتصادی مفادات کے حصول کی کوششوں کا ہی حصہ ہے۔ یہ بحران سعودی عرب اور ایران یا سنی و شیعہ کے درمیان مسابقت کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگوں کو کہنا ہے بلکہ یہ بحران امریکہ اور یورپ کے درمیان مسابقت کا نتیجہ ہے جو اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے دور بیٹھ کر اپنی کٹھ پتلیوں کی ڈورے ہلا رہے ہیں۔


سعودی عرب، خلیجی ریاستیں ، اردن اور مصر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ یمن کے لوگوں اور اس کی قانونی حکومت کے تحفظ کے لئے مدد کو آئے ہیں۔ یہ وہی حکومتیں ہیں کہ جو پچھلے چار سالوں سےبشار کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام خاموشی سے دیکھ رہی ہیں، یہ وہی حکومتیں ہیں کہ جب یہودی وجود غزہ میں خوفناک بمباری کر کے اسکولوں اور مساجد میں پناہ لیے ہوئے مسلمانوں کو قتل کررہا تھا تو یہ مُردوں کی طرح چِت پڑے رہے اور یہ وہی حکومتیں ہیں کہ جنہوں نے امریکی آشیر باد سے ہونے والی سیسی کی فوجی بغاوت کی حمایت کی۔ اِن حکومتوں کے اس طرز عمل کے بعد کوئی احمق ہی ہوگا جو یمن کے حوالے سے ان کی فکر مندی سے متاثر ہوگا۔

اس صورتحال میں اگر راحیل-نواز حکومت اس اتحاد کا حصہ بنتی ہے تو یہ انتہائی شرمناک بات ہو گی کہ پاکستان کی افواج کو امریکی مفاد کے لئے استعمال کیا جائے ۔ وہ تمام لوگ جو اس منکر کو روک سکتے ہیں وہ اس کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور جو یہ نہیں کرسکتے انہیں اس خیانت کے خلاف آواز کو بلند کرنا چاہیے۔


یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان آرمی کو دوسرے ممالک میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ مسلم دنیا درحقیت ایک ہی ہے۔ مسلم دنیا میں موجود سرحدیں کافر استعماری طاقتوں کی قائم کردہ ہیں جس کا مقصد مسلمانوں کو تقسیم اور انہیں کمزور کرنا ہے۔افواج پاکستان کو مسلم دنیا میں مداخلت کرنی چاہیے لیکن امریکہ کے کہنے پر نہیں بلکہ یہ فیصلہ آزادانہ اور اسلام کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی جانب پہلا قدم تو یہ ہے کہ افواج پاکستان حزب التحریرکو خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ دیں۔ پھر خلافت مسلمانوں کے وسائل اور افواج کو کافر استعماری طاقتوں کے مفاد میں استعمال ہونے سے روک دے گی اور مسلم دنیا کو ان جنگوں سے نجات مل جائے گی جو ان طاقتوں کے مفادات کے حصول کےلئے ہی بھڑکائی جاتی ہیں۔ خلافت مسلم دنیا کو ایک وحدت بخشے گی جو اللہ سبحانہ و تعالٰی اور رسول اللہﷺ کا حکم ہے اور مسلمانوں کی خواہش بھی ہے۔


ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

Read more...

"پریونٹ"(باز رکھنا)کا قانون محض ایک زہریلی چھاپ ہی نہیں بلکہ یہ زہریلا منصوبہ ہے جسے چیلنج کرنے کی ضرورت ہے

دارالحکومت کے سابق پولیس کمانڈرڈال بابو نے حکومت کی  انتہاپسندی کو روکنے کی پالیسی 'پریونٹ' (باز رجھنے) کی مخالفت کی اور کہا کہ اس نے  ایک زہریلی شکل اختیار کرلی ہے، جسےبرطانیہ کے مسلمان شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔  ان کا یہ تبصرہ  سنڈے ٹیلی گراف  کے اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جس میں سیکریٹری داخلہ تھریسامے نےانتہا پسندی  کا مقابلہ کرنے والے قوانین کی مدت میں  اضافے  کا اعلان کیا تھا  اور   جس  کا حزب اختلاف  کے عدلیہ کے معاملات کے شیڈو وزیر صادق خان نے پُرجوش خیر مقدم کیا۔  یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ   "شدت پسندی " کا سب سے زیادہ مخالف ظاہر کرنے کے لئے اب سر کردہ پارٹیوں کے درمیان  گویا جیسے  ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔

تاجی مصطفی  ٰنے،جو برطانیہ میں حزب التحریر کے میڈیا  کے نمائندے ہیں ،نے اس خبر پرتبصرہ کرتے ہوئے  کہا کہ"یہ 'پریونٹ' کا قانون یقیناً ایک زہریلا نشان  ہے۔ صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس کو غلط طور پر نافذ  کیا گیا یا اس کے حوالے سے  غلط فہمی ہوئی ہے ،  بلکہ یہ اپنی بنیاد سے ہی ایک ناقص اور زہر آلود  منصوبہ ہے ، کیونکہ اس کی   بنیاد ایک باطل مفروضے پر رکھی گئی ہے اور وہ یہ کہ ایک انسان جتنا زیادہ اسلام پسند ہوگا ،اتنا ہی وہ اندرونی طور پر خطرےکا باعث ہو سکتا ہے"۔

"یہ قانون اس مفروضے پر نافذ کیا گیا کہ ایسے  لوگ جو اسلامی اقدار کے حامل ہوتے ہیں یا ریاست  کے نقطۂ نظر کے برعکس  سیاسی رائے رکھتے ہیں، یہی لوگ مشکوک تصور کئے جائیں گے ،چنانچہ ریاست کو چینل پروگراموں کے ذریعے دوبارہ پروگرامنگ کی ضرورت ہے"۔

"اس قانون  میں جان بوجھ کر خارجہ پالیسی کو کلی طور پر نظر انداز کیا گیا ، جب کہ  برطا نیہ کے اندر تشدد کی کاروائیوں کا  خارجہ پالیسی کے ساتھ تعلق  ثابت شدہ ہے"۔

"یہ وہ  پالیسی ہے جس میں  سیاسی اور مذہبی  عقائد  سے نبٹنے کے لئے سیکورٹی  وجوہات  کو دلیل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔  یہ اُس وقت  ہی واضح ہوگیا تھا   جب دسمبر 2014 میں  پولیس چیف سر پیٹر فاہی نے کہا تھا کہ  مجھے خدشہ ہے کہ  پولیس "افکار کی نگرانی کرنے والی پولیس" میں تبدیل ہوجائے گی"۔

"یہ وہ پالیسی ہے جو اکثر جابر ریاستوں میں نظر آتی ہے۔ فاہی نے اپنے  اسی تبصرے میں اشارہ کیا تھا کہ کیونکہ  شدت پسندی کی باریکی سے تعریف نہیں کی گئی تھی  لہٰذا پولیس اپنے طور پروضع کردہ مخصوص تعریفوں کی بنیاد پر کام کرتی رہی۔ اس نے مزید  اپنے خدشات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ   یہی "پولیس اسٹیٹ" کی طرف بڑھنے کاراستہ ہے"۔

"دہشت گردی کی روک تھام کا موجودہ قانون اور سیکورٹی ایکٹ نے فکری پولیسنگ کا  کام کرنے کی ذمہ داری  استادوں ، نرسری ورکرز، صحت کے شعبےمیں کام کرنے والوں  اور یونیورسٹیوں  پر ڈالی ہے۔   یہ پالیسی 1950 کی میک کارتھیسیزم  کی یاد دلاتی ہے،  بلکہ مشرقی جرمنی کے سٹاسی قوانین کی یاد دلاتی ہے"۔

"حزب التحریر کو اس بات کا احساس  ہے کہ   مسلم کمیونٹی اور بالعموم پورے معاشرے کے سامنے ان   ناپاک ، بے وقعت اور ناقص  ہتھکنڈوں  کو مسلسل بے نقاب کرنا واجب ہے ، اور ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم ایسا ہی کرتے رہیں گے   جیسا کہ ہم  ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کرتے چلے آرہے ہیں"۔

برطانیہ میں حزب التحریر کا  میڈیا آفس

Read more...

‫چین‬ کا ‫افغانستان‬ میں کردار ‫‏راحیل_نواز‬ حکومت ‫‏امریکی‬ ایما پر افغانستان میں چین کے کردار کی حمایت کررہی ہے


16 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں صلح صفائی اور معاشی تعمیر و ترقی کے لئے چین کے کردار کی حمایت کی۔ حزب التحریرراحیل-نواز حکومت کی جانب سے دور اندیشی سے عاری اس پالیسی کو مسترد کرتی ہے جس کے تحت اُن غیر ملکی طاقتوں سے قوت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کی مسلمانوں سے دشمنی ثابت شدہ ہے اور یہ خصوصیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل ارکان امریکہ،برطانیہ، فرانس، روس اور چین میں پائی جاتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں اس پالیسی کو اختیار کرنا جب پوری مسلم دنیا اور کئی غیر مسلم اقوام بھی ان پانچ استعماری غنڈوں کے گروپ سے تنگ آئی ہوئی ہیں اور انصاف پر مبنی ایک عالمی قیادت کی شدت سے منتظر ہیں، حکمرانوں کی محدود سوچ و نظر کی واضح مثال ہے۔
پچھلے چند مہینوں سے راحیل-نواز حکومت بہت زرو شور سے افغانستان میں چین کے کردار کی حمایت کررہی ہے تا کہ خطے میں امریکہ کو فراہم کی جانے والی غدارانہ حمایت پر پردہ ڈالا جاسکے کیونکہ اِن کے اس عمل کو پاکستان کی عوام اور افواج پاکستان انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد امت کو یہ دھوکہ دینا ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار پاکستان و افغانستان سےامریکی اثرورسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں اوراسی لئے چین کو امریکہ کی جگہ لینے میں مدد فراہم کررہے ہیں ۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہوسکے گا اور اس بات کو جاننے کے لئے پاک چین تعلقات کی تاریخ جاننا ہی کافی ہے۔ پچھلے پینتالیس سالوں سے پاکستان کے چین کے ساتھ قریب ترین سیاسی، معاشی اور فوجی تعاون اور تعلقات کے باوجود پاکستان میں آج بھی امریکی اثرو رسوخ سب سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سفیر تو پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں سے سب سے زیادہ ملاقاتیں کرتا اور انہیں احکامات دیتا نظر آتا ہے لیکن چین کے سفیر کا کہیں ذکر تک نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ پچھلی تقریباً نصف صدی میں دنیا کی کسی ریاست کو لندن، واشنگٹن، پیرس، بیجنگ یا ماسکو کی کاسہ لیسی کرنے سے دنیا کی طاقت بنے میں کبھی کوئی مدد نہیں ملی۔ یقیناً پانچ کے اس کلب کا کردار استعماری ہے جو کسی دوسری قوم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان کے مقام کے قریب آسکیں۔


راحیل-نواز حکومت نے کبھی بھی امریکی مفاد کی مخالفت کرنے کی ہمت نہیں کی ہے۔ یہ حکومت افغانستان کے امور میں چین کے کردار کی حوصلہ افزائی اس لئے کررہی ہے کیونکہ اس حوالے سے امریکہ اور چین کے مفادات یکجا ہیں۔ افغانستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق وہاں ایک کھرب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ چین کی نازک لیکن تیز رفتارمعاشی ترقی کے لئے یہ معدنی ذخائر انتہائی اہم ہیں، لہٰذا چین افغانستان پر امریکی قبضے کے تسلسل کی حمایت کرتا ہے کیونکہ مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں خوفناک چینی جبر کے خلاف لڑنے والے ایغوری مسلمانوں کو افغانستان کی پٹی واخان میں موجود مسلمانوں کی حمایت میسر ہے۔اسی لئے چینی وزیر خارجہ ،وانگ یی نے 22 فروری 2014 کو اپنے کابل کے دورے میں کہا کہ "اس ملک میں امن اور استحکام کا مغربی چین پر اثر ہو گا، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس سے پورے خطے میں استحکام اور ترقی ہو گی"۔
حزب التحریرپاکستان و افغانستان کے مسلمانوں پر واضح کردینا چاہتی ہے کہ خلافت کے بغیر ، جس کے ذریعے آپ وہ طاقت حاصل کرسکتے ہیں جس کے آپ حق دار ہیں، موجود قیادت میں موجود غدار ہمیشہ انہیں دشمن اقوام کے رحم کرم پر چھوڑتے رہیں گے۔ خلافت مسلمانوں کے علاقوں اور افواج کو یکجا کرے گی ، اسلام کے نفاذ کے ذریعےعظیم قدرتی وسائل کو امت کے مفاد میں استعمال کرے گی اور خطے سے امریکہ سمیت تمام غیر ملکی طاقتوں کے اثرورسوخ کا خاتمہ کرے گی۔ اس کے علاوہ انشاء اللہ خلافت بہت جلد بہت ساری غیر مسلم اقوام کی لئے روشنی کا مینار بن جائے گی جن کی مسلمانوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، جو خود اِن استعماری طاقتوں کے ظلم و ستم سے تنگ آئی ہوئی ہیں۔ یہ غیر مسلم اقوام دوسری خلافت راشدہ سے معاہدے کرنا چاہیں گی اور ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے جس کے نتیجے میں بل آخر وہ اسلام میں داخل ہوجاتی تھیں۔


وَلاَ تَرْكَنُوۤاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ
"اور تم ظالم لوگوں کی طرف مت جھکو، ورنہ تمہیں جہنم کی آگ چھو لے گی اور اللہ کے علاوہ تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہوگا"(ھود:113)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

تفسیر سورۃ البقرۃ 120 تا 123

وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنْ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمْ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الْخَاسِرُونَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَاتَّقُوا يَوْمًا لاَ تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ.

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان آیات میں فرماتے ہیں:

1-      بے شک یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی بھی خوش نہیں ہوں گے ،جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہ کریں، چونکہ یہ نہیں ہوگا،کیونکہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین یا ملت تو اللہ کو منظور ہی نہیں،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِينَ ) "جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں ۔"(آل عمران:85)  إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ ( آل عمران:19 ) "بے شک (معتبر )دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے"۔  اس لئے ان یہودیوں اور نصاریٰ کو یہ جان لینا چاہئے کہ ہدایت وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ۔  ان کے موجودہ دین کی اتباع ہدایت نہیں ،جیسا کہ ان کا خیال ہے۔  ان کا دین تو تحریف شدہ  دین ہے اور اس کے اندر بے تحاشا تغیر ات اورتبدیلیا ں کی گئیں ہیں اور اس میں تحریف ہونے کے بعد یہ  ملت ِکافرہ بن چکے ہیں۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ(لئن) لا کر رسول اللہ ﷺ کو قسمیہ انداز میں آگاہ کرتے ہیں، کیونکہ اس میں لام قسمیہ ہے،  آگاہی یہ  دیتے ہیں  کہ خبر دار! اگر تو  نے ان کی خواہشات کی پیروی کی  تو پھر آپ ﷺ کا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا جو اللہ کے عذاب سے بچاؤ فراہم کرے۔   یہ انداز اس بات پر دلالت کرتا ہے  کہ ان کی ملت ،ان کے دین کی حقیقت ، جس کو یہ لوگ بزعم ِخویش ہدایت سمجھے ہوئے ہیں ، بس اتنی ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں اور حق سے انحراف ہے۔

 

2-       اس کے بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ بتاتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ  میں سے جو لوگ صحیح طور پر اپنی کتابوں کی اتباع کرتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تحریف نہیں کرتے ، یہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر بھی ایمان رکھتے ہیں کیونکہ آپ کا ذکر ان کی کتابوں میں کیا گیا ہے ،اوریہی وجہ ہے کہ  آپ ﷺ کے منکرین دنیا وآخرت میں گھاٹا پانے  والوں میں سے ہوں گے۔

( يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ ) یعنی اس کی ایسی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے،جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ (وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاَهَا ) "اور (قسم ہے ) چاند کی جب وہ اس کے پیچھے پیچھے آئے" ( الشمس:2) یعنی سور ج کے پیچھے پیچھے،یا جیسے کہا جاتا ہے کہ ما زلت اتلو اثرہ ،یعنی  میں برابر اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔

 

3-      پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ بنی اسرائیل کے قصے کا اختتام  بھی اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ اس کا آغاز کیا تھا ۔  اس کا سبب ان کے گناہوں کی عادت تھی۔ اس لئے فرمایا  (يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي ....)یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت  (وَاتَّقُوا يَوْمًا لاَ تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا .... ) کی دلالت پر ہم نے بنی اسرائیل سے متعلقہ آیات کے شروع میں بات کی تھی ،اس لئے اُسی پر یہاں بھی اکتفا کرتے ہیں اوراس کا اعادہ  کرنے کی ضرورت نہیں۔

Read more...

نیشنل ایکشن پلان‪ امریکی ایکشن پلان ہے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا مقصدنیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدارثابت کرنا ہے

راحیل_نواز‬ حکومت نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن نیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدار ثابت کرنے کے لئے شروع کیا ہے۔ حکومت نے یہ ایکشن اس لئے شروع کیا ہے تاکہ امت کو دھوکہ دیا جاسکے کہ امریکی تحریر کردہ نیشنل ایکشن پلان خصوصاًاُن لوگوں کے خلاف نہیں ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے اسلام کی ترویج اور نفاذ کی کوششوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن کا بنیادی مقصد کراچی میں مسلح جرائم پیشہ افراد یا امریکی جاسوسوں اور قاتلوں کے گرفتاری کے ذریعے امن کا قیام نہیں بلکہ اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو غیر جاندار ثابت کر کے عوام کا اعتماد جیتنا ہے۔
جب سے نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ شروع ہوا ہے حکومت کی ایجنسیوں نے ملک بھر سے چوبیس ہزار آٹھ سو چوالیس(24844) چھاپوں میں پچیس ہزار آٹھ سو چھیانوے(25896) افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تین ہزار نو سو چھ(3906) افراد کو پولیس نے لاوڈ اسپیکر کے قانون کی خلاف ورزی میں گرفتار کیا اور ان میں سے دو ہزار آٹھ سو چوہتر(2874) افراد کو صرف پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ نفرت پھیلانے والی تقاریر کرنے کے الزام میں سات سو سینتیس (737)مقدمات قائم کیے گئے اور اسی الزام کے تحت سات سو پینتالیس(745) افراد کو گرفتار اور انہتر (69)دکانوں کو بند کردیا گیا۔اس کے علاوہ مدارس میں غیر ملکی طلبہ کے داخلے اور مدارس کے لئے بیرون ملک سے آنے والے چندوں، چاہے وہ انفرادی ہوں یا کسی ریاست کی جانب سے،پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔


اس صورتحال نے مذہبی جماعتوں اور علماءکرام میں شدید بے چینی پیدا کردی اور انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اِن تمام اقدامات کا ہدف صرف مذہبی لوگ ہیں جبکہ سیکولر و قوم پرست جماعتوں اور ان کے مسلح دستوں کو کھلی چھوٹ فراہم کی گئی ہوئی ہے۔ 2 مارچ 2015 کو اتحادِ تنظیماتِ مدارس، جو کہ پانچ مذہبی اداروں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے،نے مدارس کے خلاف حکومتی اقدامات کو سختی سےمسترد کردیا ۔ انہوں نے حکومت کے "غیر آئینی" اقدامات کی حمایت کرنے سے بھی انکار کردیا کیونکہ وہ استعماری طاقتوں کے منصوبوں کی پیروی کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اسلام کے خلاف امریکہ اور مغرب کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علماءکرام کی گرفتاریوں اور مساجد میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کے ذریعے انہیں ہراساں کررہی ہے اور اس طرح اسلام کے خلاف منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے سربراہ نے یہ کہا کہ صرف مدارس کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اِن پر چھاپوں کا سلسلہ ایک دن کے لئے بھی روکا نہیں گیا ہے۔


نیشنل ایکشن پلان سے نہ صرف علماء میں شدید ردعمل پیدا ہوا بلکہ پاکستان بھر کے لوگوں میں بھی اس کے خلاف نفرت پیدا ہونی شروع ہوگئی۔ اس قسم کا غصہ حکومت اور واشنگٹن میں بیٹھے ان کے آقاوں کی اسلام کے خلاف جنگ کے لئے خطرناک ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے تا کہ نیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدار ثابت کیا جائے اور یہ کہا جاسکے کہ نیشنل ایکشن پلان تمام قسم کے مجرموں کے خلاف ہے جیسا کہ وزیرِ اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ بیان دیا کہ "کوئی مجرم چاہے کسی مدرسے میں ہو یا کسی سیاسی جماعت کے آفس میں، اسے گرفتار کیا جائے گا اور اگر اس دوران کوئی بھی روکاٹ سامنے آئی تو اسے ہٹا دیا جائے گا"۔


درحقیقت ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ایک دھوکہ ہے۔ اگر یہ حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں سنجیدہ ہوتی تو اس نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کو بند کیا ہوتا جو کراچی اور اس سے بھی آگے بلوچستان تک لسانی و فرقہ وارانہ نفرتوں کو پھیلانے کا مرکز ہے۔ حکومت نے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے امریکی جاسوسوں کو گرفتار کیا ہوتا جو بم دھماکوں اور قتل و غارت کی وارداتوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورا پاکستان بدامنی اور افراتفری کی لپیٹ میں ہے۔ اور اگر یہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو اس نے تمام امریکی سیاسی و فوجی اہلکاروں کو ملک سے نکال دیا ہوتا جو پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں احکامات جاری کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ اگر یہ تمام اقدامات اٹھائے جاتے اور عدم تحفط کے سانپ امریکہ کا سر کچل دیا گیا ہوتا تو یہ حکومت حقیقت میں لوگوں کی عزت اور تعریف کی مستحق ہوتی۔ لیکن سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار کبھی بھی یہ اقدامات نہیں اٹھائیں گے اور اس طرح پاکستان اور خطے کے عوام کوان غدار حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ایک مستقل امن اور استحکام دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔ صرف خلافت ہی اِن ضروری اقدامات کو اٹھائے گی ، مسلمانوں کے علاقوں کو تحفظ فراہم کرے گی اور انہیں بیرونی دشمنوں کے وجود سے پاک کردے گی۔


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

حزب التحریر کے امیر، ممتاز عالم :عطاء بن خلیل ابو رَشتہ حفظہ اللہ کا منگل 3 مارچ 2015 ءکو استنبول میں  منعقد ہو نے والی خلافت کانفرنس سے افتتاحی خطاب موضوع: صدارتی جمہوری ماڈل یا خلافتِ راشدہ  

سب تعریفیں  اللہ ہی کے لیے ہیں ،درود  و سلام ہو  اللہ کے رسول ﷺپر اور آپ کی آل اور صحابہ رضی اللہ عنھم اور آپ ﷺکے نقش قدم پر چلنے والوں پر؛

محترم حاضرین! اللہ آپ کو اپنی اطاعت کا شرف بخشے،  اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾

"اللہ تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرما چکا ہے  جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کیے کہ اللہ ان کو  موجودہ حکمرانوں کی جگہ حکمرانی عطا کرے  گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلافت سے نواز چکا ہے" (النور:55)،

 

اور آپﷺ نے فرمایا :

 

«... ثُمَّ تَكُونُ جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَاُ شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»

"پھر جابرانہ حکمرانی کا دور ہو گا جب تک اللہ چاہے گا  پھراللہ اسے اٹھا لے گا جب اس کو اٹھا نا چاہے گا، اس کے بعد پھر نبوت کے نقشِ قدم  پر خلافت ہو گی"( اس حدیث کو امام احمدبن حنبل  اور طیالسی نے روایت کیا ہے )۔

 

میں چاہتا ہوں کہ اپنی بات کی ابتدا حکمرانی واقتدار کے متعلق اللہ کے وعدے اور رسول اللہ ﷺ کی بشارت سے کروں کہ یہ جابرانہ دور کہ جس میں ہم رہ رہے ہیں اس کے بعد اللہ کے اذن سے دوبارہ خلافت قائم ہوگی۔ میں ابتدا امید سے کر تا ہوں،   اس المناک صورت حال کا ذکر کرنے سے قبل جس سے امت مسلمہ نوے سال سے زیادہ عرصے سے دوچار ہے۔ 28رجب 1342 ہجری بمطابق مارچ 1924 ء کو  استعماری کفار، برطانیہ کی قیادت میں،  اپنے عرب اور ترک ایجنٹوں کے ذریعے  خلافت کو ختم کر نے میں کامیاب ہوگئے۔  یہ فیصلہ پیر تین مارچ 1924 ء کو انقرہ کی پارلیمنٹ کے دوسر ےاجلاس میں صادر کیا گیا۔   یہ اجلاس  دو پہر3:25 pm سے 6:45 pm  تک جاری رہا  اور خلافت کو ختم کرنے کے ہلاکت خیزفیصلے پر ختم ہوا...حیران کن بات یہ تھی کہ اس فیصلے کے لیے ووٹنگ  خفیہ بیلٹ پیپر کے ذریعے نہیں بلکہ ہاتھ اٹھانے کے ذریعے ہوئی ! ممبرانِ  پارلیمنٹ کوخوف و ہراس کی فضاء میں  ہاتھ اٹھا نے پر مجبور کیا گیا تاکہ اس خطرناک کام میں  ہاتھ اٹھانے والے اور نہ اٹھانے والے واضح ہو جائیں!  اس سیاہ دن سے لے کرآج تک امت مسلمہ  اپنی زندگی اور اقوامِ عالم کے درمیان  اپنے مقام کے حوالے سے بحرانوں سے دوچار ہے۔

 

مسلمان  جو ایک امت اور ایک ریاستِ خلافت تھے  اب ٹکڑے ٹکڑے ہو کر  پچاس سے زیادہ ریاستوں میں تقسیم ہو گئے...پہلے ہمارا دستور  وہ احکامات تھے جو انسانوں کے رب  نے نازل کیا تھا  اب ہم انسانوں ہی کے بنائے ہوئے دستورکے غلام بن گئے۔  پہلے مسلمان  فتوحات پر فتوحات کر کے دنیا کے طول وعرض میں  خیر کو پھیلاتے تھے  اور دنیا کی قیادت ان کے ہاتھ میں تھی  ،اب  مسلمانوں کے علاقوں کو ہر کونے سے بلکہ  درمیان سے بھی کاٹا گیا !  وہ یہود  جن پر ذلت اور  بربادی  لکھ دی گئی تھی انہوں نے اسراء اور معراج کی سرزمین، فلسطین پر قبضہ کر لیا ۔  صرف یہی نہیں  بلکہ مسلم دنیا کے حکمرانوں نے  یہودی ریاست کو تسلیم کر لیا   اور اس  کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم کر لیے ۔  جب  ایک مظلوم عورت  نے  فریاد کی اور' ہائے معتصم' کی دُہائی بلند کی تو خلیفہ معتصم خود فوج کی قیادت کر تا ہوا اس کی مدد کو پہنچا !  اس عورت کے انتقام میں  عموریہ کو فتح کیا گیا جو کہ آج  انقرہ کے قریب واقع ہے ۔   لیکن خلافت کے خاتمے کے بعد آج روئے زمین  پر مسلم عورت  پر ظلم و ستم اور اس کی عزت کی پامالی  معمول بن گئی ہے اور  اسلامی سرزمین کا کوئی حکمران اُن کی مدد کے لیے نہیں اٹھتا۔  ماضی میں  دنیا کی ریاستیں ہمارے سامنے جھولی پھیلاتی تھیں جیسا کہ  فرانس نے اپنے قیدی بادشاہ کو چھڑانے کے لیے  خلیفہ سلیمان القانونی  سے مدد طلب کی ، جبکہ خلافت کے خاتمے کے بعد ہم اپنے مسائل کو حل کرانے کے لیے استعماری کفار کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگےہیں...

 

محترم بھائیو اور بہنو! اس طرح مسلمان  مصائب اور فتنوں کے نرغے میں آگئے۔مسلمانوں  کے آگے اور پیچھے ہر طرف قتل و غارت  ہی دکھائی دیتی ہے اور وہ حیران و پریشان ہیں !یہ صورتِ حال مسلمانوں کی تعداد یا وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کہ اُن کی ڈھال ان سے چِھن گئی ہے۔   خلیفہ ڈھال کی مانند ہو تا ہے جس کے ذریعے حفاظت ہو تی ہے اور خلیفہ کی قیادت میں ہی لڑا جاتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

 

«...َإِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ...»

"بے شک خلیفہ ڈھال ہے جس کی قیادت میں لڑا جاتا ہے اور اور جس کے ذریعے بچاؤ ہو تا ہے"(بخاری)۔

 

اس ڈھال اور آڑ کے زائل ہو نے کے بعد  مسلمان بے یار ومدد گار ہو گئےہیں بلکہ  اُن پر ایسے حکمران مسلط ہوگئے جو اللہ سے نہیں ڈرتےاور اُن  کا کام اپنے استعماری آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کرنا  ہے اور لوگوں پر ظلم و جبر کرنا ہے۔

 

﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾

"ظلم کر نے والے عنقریب  جان لیں گے کہ وہ کس  کروٹ  الٹتے  ہیں"(الشعراء:227)۔

 

معززبھائیواور بہنو! خلافت مسلمانوں کی عزت کا سرچشمہ اور  قوت کی علامت ہے  اور  یہ بات استعماری کفار  کے سرغنہ بھی جانتے ہیں ۔   لارڈ کرزن نے خلافت کے انہدام کے بعد برطانوی House of Commons سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا  کہ "معاملہ یہ ہے کہ  ترکی کا خاتمہ  کر دیا گیا ہے   اوروہ اب کبھی دوبارہ اُٹھ نہیں سکے  گا  کیونکہ ہم نے اس کی معنوی قوت  تباہ کر دی ہے : یعنی خلافت اور اسلام "۔ کفارخلافت کی حقیقت سے واقف  ہیں اس لیے انہوں نے خلافت کو ختم کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا  بلکہ وہ اس  کی دوبارہ واپسی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں اورانہوں نے اس کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف وحشیانہ جنگ برپا کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب  ساٹھ سال پہلے حزب التحریر قائم ہوئی اور اس نے  خلافت کے مسئلے کو اس انداز سے اختیار کیا کہ یہ امت کے لیے  زندگی   اورموت کا مسئلہ ہے تو یہ غضب ناک ہو گئے ۔   پس استعماری کفار  اور اس کے ایجنٹوں نے   شرانگیزی کا ہر دستیاب اسلوب اختیار کیا ، انہوں نے حزب پر  بہتان باندھے ،حزب کے شباب کو گرفتارکیا،انہیں تشدد کا نشانہ بنایا،حتی کہ انہیں شہیدکیا گیا اور طویل مدت تک قید وبند میں ڈالا گیا...لیکن یہ حربے  ہر لحاظ سے ناکام ثابت ہوئے  اور حزب  اسی طرح میدان میں موجود  رہی  اور اس نے اللہ  کے سوا کسی کے سامنے سر نہ جھکایا۔   بالآخر  استعماری کفار نے  بعض   ایسی اسلامی تحریکوں کے جرائم  سے فائدہ اٹھایا  جنہوں نے غیر شرعی طریقے سے  خلافت کا اعلان کیا ہے اور وہ  ذبح کرنے، جلانے، تخریب کاری اور تباہی و بربادی جیسے غیر اسلامی اعمال سرانجام دے رہے ہیں ...استعماری کفار نے  ان تحریکوں کے جرائم سے فائدہ اٹھا یا،ان پر توجہ مرکوز کی اور ان کے جرائم کو میڈیا پر  خوب اچھالا ۔  تاکہ  مسلمانوں کے دلوں میں خوف پیدا کریں  کہ  جو لوگ خلافت چاہتے ہیں  وہ در اصل  قتل و غارت گری  چاہتے ہیں، اور یوں لوگ حقیقی خلافت سے بھی بیزار ہوجائیں۔  لیکن اللہ کے اذن سے استعماری کفار اپنے سابقہ ہتھکنڈوں میں بھی  ناکام ہوئے تھے اور  اس بار بھی نامراد ہو ں گے ۔  لوگوں کو شرعی خلافت کے بارے میں معلوم ہے  اوروہ حقیقی اورمصنوعی  خلافت میں فرق کر سکتے ہیں۔  خلافت حق ہے کوئی غیر معلوم  اجنبی چیز نہیں...یہ وہ منفرد نظام ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے نافذ کر کے مسلمانوں کے لیے بیان کیا اور  جس پر آپﷺ کے بعد خلفائے راشدین چلے۔ خلافت بادشاہت یا استعماری نظام نہیں،نہ ہی یہ صدارتی یاپارلیمانی جمہوریت کی مانند ہے،اور نہ ہی یہ آمریت یا جمہوریت ہے،کہ جن میں اللہ کی جگہ انسان قوانین بناتے ہیں اورنہ ہی خلافت  خودساختہ نظاموں کی کوئی اور قسم ہے۔  یہ عدل کی خلافت ہے، اس کے حکمران خلفاء امام ہوتے ہیں جن کے ذریعے حفاظت ہو تی ہے  اور جن کی قیادت میں جہاد کیا جاتا ہے۔ خلافت اپنے شہریوں کے خون  کی حفاظت کرتی ہے  اور ان کی عزتوں کی رکھوالی کرتی ہے،وہ اموال کا تحفظ کر تی ہے، غیر مسلم شہریوں (اہلِ ذمہ) کے ساتھ امن و تحفظ کے معاہدے کو پورا کرتی ہے۔  وہ رضامندی اور اختیار سے بیعت لیتی ہے زبردستی اور جبر سے نہیں، لوگ ہجرت کر کے اس کے سائے میں تحفظ حاصل کرتے ہیں، اس سے متنفر ہو کر بھاگتے نہیں ہیں۔

 

اے حاضرین،  اے بصارت اور بصیرت والو، اے عقل کے حامل بھائیو اور بہنو! اے مسلمانوں کی ڈھال اور پناہ گاہ  ،خلافت ،کے نہ ہونے کی وجہ سے درد محسوس کرنے والے لوگو! اس گناہِ عظیم کو اپنی گردنوں سے اتار دو، خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے  دنیا پر اسلامی زندگی  کی واپسی کے لیے کام کرو ۔  اس فرض کی ادائیگی  کے لیے   کام نہ کرنا  گناہِ عظیم ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

 

«... وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»

"جو کوئی بھی اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں خلیفہ کی بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا" (مسلم)؛

 

یعنی  شرعی طریقے  سے مقرر ہونے والے خلیفہ کی بیعت۔  اس لیے  مرد  و عورت، عوام اور خواص سب اخلاص اور سچائی سے  خلافت کے قیام کے لیے کام کریں، بے شک یہ عظیم کامیابی کا موجب ہے۔

 

آخر میں میں  آپ کو یاد دہانی کرواتا ہوں اور  اطمینان دلاتا ہوں : یاد دہانی اس بات کی کروا تا ہوں کہ یہ شہر  جہاں آپ کی  یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے  یہی شہر  قسطنطنیہ میں سے سب سے پہلے فتح ہوا تھا،پھر یہیں سے  افواج قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے لیے نکلتی تھیں جنہیں خلیفہ ایشیاء سے روانہ کرتا تھا۔ اس شہر میں ان افواج کے فوجی کیمپ ہوتے تھے اور وہ اس کی بندر گاہ  سے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے کے لیے یورپ کی سمت نکلتی تھیں اور اس کا محاصرہ کرتی تھیں۔  ایسا کئی بار ہوا یہاں تک کہ اللہ نے سلطان محمد الفاتح کو  یہ شرف ِعظیم بخشا اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان سلطان محمدالفاتح کے حق میں پور ا ہوا،جب آپ ﷺ نے فرمایا تھا  :

 

«لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ، فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا، وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ»

"قسطنطنیہ کو ضرور فتح کیا جائے گا ، کیا ہی اچھا امیر اُس فوج کا امیر ہو گا اور کیا ہی اچھی وہ فوج ہو گی"

 

اس کو احمد نے روایت کیا ہے ۔  اورمیں آپ کو اس بات کا اطمینان دلاتا ہوں کہ حزب التحریر  میں موجود آپ کے بھائی  حق پر ثابت قدم ہیں،اور خلافتِ راشدہ کی واپسی کے بارے میں اللہ کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کو پانے کے لیے تن من دھن کی بازی لگارہے ہیں ۔  وہ اللہ کے معاملے میں کسی کی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں ۔  اللہ  سبحانہ و تعالی کے اذن سے آپ کے  بھائی اس راستے پر منزل مقصود کے قریب پہنچ چکے  ہیں ، عنقریب  آپ سب عقاب  (رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا) کے سائے میں اکھٹے ہو جائیں گے،زمین خلافت سے چمک اٹھے گی، دار  الاسلام  امن و امان  کا گہوارہ ہو گا اور عدل سے بھر جائے گا

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

"اس دن مؤمن خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے ، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتاہے ،  وہی غالب اور مہربان ہے"(الروم:4،5)

 

بات ختم کرنے سے پہلے میں آپ کی کانفرنس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں ، اللہ اس میں   بر کت ڈالے  ، اللہ کا نام لے کر شروع کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ وہ اس کانفرنس کو بار آو ربنا ئے ،جس سے مسلمانوں اور اسلام کو عزت اور استعماری کفار کو ذلت ملے۔

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

"اور  اللہ ہی اپنے فیصلے میں غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"(یوسف: 21)۔

 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ

امیر حزب التحریر  -شیخ عطاء بن خلیل ابورَشتہ

12 جمادی الاولی 1436ہجری، بمطابق 3 مارچ 2015ء

 

Read more...

‫‏لاہور‬ میں گرجا گھروں پر حملے صرف ‫‏خلافت‬ ہی غیر مسلموں کی جان ،مال اور عزت و آبروکی حفاظت کرسکتی ہے


15 مارچ 2015 بروز اتوار لاہور میں دو گرجا گھروں پر حملہ کیا گیا جس میں 15افراد جاں بحق ہو گئے۔ حزب التحریر ان حملوں کی پرزور مذمت کرتی ہے اور ہلاک شدگان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتی ہے۔
پاکستان میں رہنے غیر مسلموں خصوصاً عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر پچھلے چند سالوں میں کئی حملے ہو چکے ہیں۔ لیکن ہر حملے کے بعد حکومت صرف ایک مذمتی بیان اور لواحقین کے لئے امدادی رقوم کا اعلان کر کے چین کی نیند سو جاتی ہے۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں پر یہ بڑھتے حملے صرف مقامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ دنیا بھر میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے روز کا معمول بنتے جارہے ہیں جس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت اور دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ بھی شامل ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے معمول بن چکے ہیں جبکہ حالیہ دنوں میں یورپ و امریکہ میں بھی مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے ہونے شروع ہو گئے ہیں۔
درحقیقت جمہوری نظام اپنے زیرِ سایہ رہنے والی اقلیتوں کا تحفظ کرہی نہیں سکتا کیونکہ یہ نظام تو اکثریتی اور طاقتور طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے بنا ہے۔ پاکستان میں تو یہ معاملہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شمولیت کی وجہ سے زیادہ گھمبیر ہو چکا ہے۔ اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ ثابت کرنے کے لئے پچھلے چند سالوں سے مسلمانوں اور غیر مسلوں دونوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ہربار اس کی ذمہ داری کوئی ایسی تنظیم قبول کرلیتی ہے جس کا نام تو اسلامی لیکن کام قطعاً غیر اسلامی، حرام ہوتا ہے۔ ان حملوں(False Flag) سے صرف امریکہ اور مسلم دنیا پر مسلط اس کی ایجنٹ حکمرانوں کا مفاد ہی پورا ہوتا ہے جنہیں اِن سانحات کی بنا پر اُن لوگوں کی خلاف ظلم و جبر کرنے کا موقع مل جاتا ہے جو مسلم علاقوں پر امریکہ و کفار کے قبضے کے خلاف عسکری جدوجہد یا مسلم دنیا میں اسلام کے مکمل نفاذ کی سیاسی و فکری جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔

غیر مسلموں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا جتنا سخت حکم اسلام دیتا ہے دنیا کا کوئی دین اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ،


أَلا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ، فَلا يُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا،

"جس کسی نے معاہد شخص کو قتل کیا جس کو اللہ اور اس کے رسول نےعہد دیا تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑا ۔ ایسا شخص جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتا حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کے فاصلے پر بھی سونگھی جاسکتی ہے"(الترمزی)۔
اسی لیے حزب التحریر نے آنے والی ریاست خلافت کے مجوزہ آئین کی شق 6 میں یہ لکھا ہے کہ "ریاست کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے مابین حکومتی معاملات، عدلاتی فیصلوں، لوگوں کے معاملات کی دیکھ بحال اور دیگر امور میں امتیازی سلوک کرے بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ تمام افراد کو رنگ، نسل اور دین سے قطع نظر ایک ہی نظر سے دیکھے"۔ لہٰذا صرف خلافت میں ہی غیر مسلم اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی اور اپنے جان، مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے یقین کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا کہ جب دنیا بھر سے غیر مسلم اپنی ظالم حکومتوں کے جبر سے فرار حاصل کرکے اسلامی خلافت میں پناہ لیا کرتے تھے۔
شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک