الإثنين، 07 محرّم 1448| 2026/06/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

امریکہ عراق کے حصے بخرے کر رہا ہے اور استعماری کفار کے ٹولے اس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور مسلمانوں کے علاقوں کی چیر پھاڑ کے معاملے میں وہ اپنے باہمی تنازعات کو بھلادیتے ہیں

10جون 2014 کو انقلابیوں کے موصل میں داخل ہونے کے بعد سے اب تک عراق میں پے درپے بظاہر خوفناک واقعات رونما ہو رہے ہیں، چنانچہ موصل اور تکریت میں عراقی فوج کی پسپائی ایسے ہوئی جیسے کسی کو کوئی چیز حوالے کی جارہی ہو اور ایسا فوج کی اعلی قیادت کے حکم سے ہوا۔ اس کے بعد المالکی کی جانب سے فوج کی بجائے عوامی جنگجوؤں کو جمع کرنے کا حکم دینا، دیالی بلکہ بغداد کے قریب آنکھ مچولی کھیلنا حتی کہ بیجی میں سب سے بڑی آئل ریفائنری پر راکٹ لانچروں، توپخانے اور جہازوں سے حملے۔۔۔پھر تلعفر میں جھڑپیں اور یہ سب کچھ اتنے مختصر وقت میں ہوا کہ جیسے اس کے لیے وقت مقرر کیا گیا تھا۔۔۔ پھر ان واقعات کے ساتھ ساتھ قائدین اور مذہبی شخصیات کی جانب سے فوراً مسلکی اور فرقہ وارانہ بیانات دینا کہ جس کے نتیجے میں یہ فتنہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور سرچڑھ کر بولنے لگا اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ بہادروں کی اس سرزمین میں ہوا جو دنیا کا دار الحکومت ہوا کرتا تھا اور جس کا خلیفہ بادلوں سے خطاب کر تا تھا!
اگرچہ یہ واقعات بہت خوفناک تھے لیکن بین الاقوامی رد عمل اس سطح کا نہیں تھا، چنانچہ سیاسی مبصرین کے بیانات نپے تلے اور واقعات کی اہمیت کے اعتبار سے بہت کم تھے۔ لہٰذابعض نےان واقعات کی ذمہ داری شامی بحران پر ڈال دی ، بعض نے عراق میں اہل سنت کے حقوق کی پامالی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اورکچھ نے المالکی کے ظلم وجبر کو اس کا سبب قرار دیا۔۔۔ حالانکہ یہ سب باتیں پہلے بھی تھیں اورایسا پہلی بار نہیں ہوا! یوں ان واقعات کو بین الاقوامی طور پر ان کی اہمیت کے مطابق اہمیت نہیں دی گئی لہٰذا ایسا لگتا ہے کہ اس کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی یا سیاسی میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے والوں کو اس کا پہلے سے علم تھا۔ سب سے اہم بیان جو سامنے آیا وہ اوبامہ کی زبان سے تھا جب 13 جون 2014 کو جمعہ کے دن اس نے یہ کہہ کر دنیا کو تسلی دی کہ اگر عراق سے تیل کی سپلائی متاثر بھی ہو تی ہے تو خلیجی ریاستوں کے ذخائر سے تیل کی سپلائی جاری رکھی جائے گی۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جو کچھ واقعات رونما ہو رہے ہیں ان سے امریکہ کو کوئی تعجب نہیں ہوا اور یہ اس کے لیے اچانک نہیں بلکہ اس نے تیل کے کسی ممکنہ بحران پر قابو پانے کا پہلے سے ہی منصوبہ بنا رکھا تھا۔ پھر13 جون 2014 کو ہی اوبا مہ نے یہ بیان جاری کیا کہ "عراقیوں کی جانب سے کوئی سیاسی منصوبہ پیش کیے بغیر واشنگٹن کسی فوجی کاروائی میں شریک نہیں ہو گا" حالانکہ عراق اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاہدہ ہے اور باوجود یکہ کہ عراقی وزیر خارجہ زیباری نے بدھ کی شام 18جون 2014 کو جدہ میں کہا کہ "بغداد نے واشنگٹن سے مسلح افراد پر فضائی حملے کرنے کی درخواست کی ہے"۔ اس بات کی تصدیق امریکی جائنٹ چیف آف اسٹاف جرنیل ڈیمپسی نے کانگریس کے اراکین کے سامنے کی جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کو مداخلت کی جلدی نہیں بلکہ وہ اس کو التواء میں ڈال رہا ہے تا کہ دوسرے اہداف کو حاصل کرسکے۔ رہی بات برطانیہ کی تو باوجود اس کے کہ عراق میں اس کے مفادات امریکہ کے مفادات سے بالکل مختلف ہیں مگر وہ بھی اسی امریکی طریقہ کار پر گامزن ہے کیونکہ یہاں معاملہ مسلمانوں کے ملک کو چیر پھاڑنے کا ہے۔چنانچہ برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ سے جب 16 جون 2014 کو برطانوی نشریاتی ادارے نے عراق میں مداخلت نہ کرنے کے حوالے سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ "عراق میں مداخلت کے امکان کے حوالے سے برطانیہ کی نسبت امریکہ کے پاس زیادہ صلاحیت اور وسائل ہیں "۔
جو شخص بھی رونماہونے والے واقعات پر غور کر رہا ہو وہ یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس سلسلے کی کڑیوں کی ابتدا امریکہ کی جانب سے عراق پر قبضے سے نہیں ہوئی بلکہ قبضے سے بھی پہلے اس وقت سے ہوئی جب امریکہ نے 1991 میں شمالی عراق میں نو فلائی زون قائم کیے جس سے کردستان کا علاقہ ایک الگ ریاست کی طرح بن گیا! پھر جب 2013 عراق پر قبضہ کر لیا تو عراق کے لیے امریکی گورنر جنرل پال بریمر نے ایک ایسا دستور بنوایا جس میں عراق کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا بیج بودیا گیا تھا، جس میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تشخص کی بات کی گئی تھی پھر یہ بیج نشونما پاتا رہا یہاں تک کہ دسمبر 2012 کو امریکہ عسکری لحاظ سے بظاہر عراق سے نکل گیا لیکن سکیورٹی اور سیاسی لحاظ سے موجود رہا جس کی وجہ سے فتنے کا وہ بیج تناور دخت بن گیا۔ پھر اس درخت کی آبیاری امریکہ نے یوں کی کہ ایک جنونی فرقہ پرست سرکش کو حکومت کا سربراہ بنا یا اور سرکش مالکی عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں کے لیے قہر بن گیا اور ظلم وجبر اور تشدد کا ایسا بازار گرم کیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی اورجب بھی یہ آگ ٹھنڈی ہونے لگتی تو مالکی نئی کرتو توں اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ان علاقوں میں اس آگ کو پھر بھڑکا دیتا۔۔۔ جلتی پر تیل کا کام اس کی جانب سے مسلح شیعہ ملیشاؤں کی تشکیل نے کیا اوراس کے مقابلے میں آئی سیس(ISIS) عراق و شام کی الدولۃ السلامیہ تنظیم پر اس طرح توجہ مرکوز کی گئی کہ یہ ایک سنی دہشت گرد تنظیم ہے حالانکہ جو تنظیمیں موصل اور تکریت میں داخل ہوئیں آئی سیس(ISIS) بھی ان میں سے ایک تھی۔۔۔بات یہاں پر بھی نہیں رکی بلکہ ہمسایہ ممالک فرقہ واریت کو ہوا دینے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔یہ سب کچھ اس امریکی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تھا جس پر برطانیہ بھی عمل پیرا ہے اور ان کے ایجنٹ اور ان کے پیروکار یہ سب عراق کو ایک اکائی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ اس کے اس طرح ٹکڑے کر نے پر تلے ہوئے ہیں کہ ایک ٹکڑا دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہو! ہر ایک اپنے لیے الگ ملک چاہتا ہے اور اعلانیہ طور پر صوبوں اور تقسیم کی باتیں کی جا رہی ہیں۔۔۔اور چونکہ یہ واقعات اصل مقصد کو چھپائے بغیر تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں لہٰذاکردستان کے علاقے نے ان واقعات کی حقیقت کو سمجھ لیا، اسی لیے جب انقلابیوں نے موصل پر قبضہ کر لیا تو کردستانی فورسز نے کرکوک اور اس کے ارد گرد علاقوں پر مکمل قبضہ کر لیا۔ رائٹرز نے 15 جون 2014 کو البرزانی کے نمائندے فواد حسین کا بیان نقل کیا کہ "عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو موصل پر قبضے سے پہلے کی صورت حال سے مختلف ہے اور کرد اس نئے عراق کے معاملات پر بات چیت کریں گے"۔

اے مسلمانو۔۔۔اے اہلِ عرب۔۔۔اے اہلِ کرد۔۔۔اے اہلِ سنت۔۔۔اے اہلِ تشیع۔ ۔۔اے اہلِ عراق۔۔۔
بلا شبہ تمہارا خون بہایا گیا، تمہاری دولت لوٹ لی گئی، تمہارے گھر تباہ کردیئے گئے، تمہاری مسجدیں منہدم کی گئیں اور عراق ایک ایسی ناکام ریاست بن گیا ہے جو ظلم کرنے والے ہاتھ کو کاٹ نہیں سکتا۔۔۔کیا تم میں وہ ذہین آدمی نہیں جو اس تمام پر غور وفکر کرے جو کچھ ہو رہا ہے؟ کیا امریکہ، اس کے اتحادی، اس کے ایجنٹ اور پیروکار نظر نہیں آرہے ہیں۔۔۔ہر کوئی فتنے کو بھڑکا رہا ہے اور پھر تم ایک ہجوم کی طرح منقسم ہو کر تین اطراف کی جانب چلے جاتے ہو، تین ٹکڑے بن جاتے ہو، تین ملکوں کی بات کرتے ہو : کرد، سنی اور شیعہ اور ایسا لگ رہا ہے کہ گویا ان کے درمیان کوئی چیز مشترک نہیں۔۔۔کیا ایسا نہیں ہو رہا ؟ کیا تم نہیں سوچتے کہ کس طرح امریکہ نے کردستان کے علاقے کو تحفظ فراہم کیا ہے؟ اور کس طرح بریمر نے اپنے بنائے ہوئے آئین میں فرقہ واریت کا بیج بویا؟ کیا تم ایک دوسرے سے یہ نہیں پوچھتے ہو کہ کس طرح امریکہ ایک ایسے جابر کو اقتدار میں لایا جس نے بغیر کسی شرم و حیا کے فرقہ واریت کو ہوا دی؟ کیا تم یہ سوال نہیں کرتے کہ کس طرح امریکہ صورت حال کی نگرانی کر رہا ہے اور کردوں کو عربوں سے دور کر رہا ہے، شیعہ کو سُنّیوں سے دور کر رہا ہے؟ تم ایک دوسرے سے یہ نہیں پوچھتے ہو کہ کس طرح امریکہ اور برطانیہ اور ان کے ایجنٹ اور پیروں کار اکھٹے ہو گئے، سب اس فتنے کو بھڑکا نے کی راہ پر گامزن ہیں، جبکہ یہ یاد رہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے مفادات مختلف ہیں لیکن وہ مسلمانوں کے علاقوں کی بندر بانٹ پر متفق ہیں ؟!
اسلام نے صدیوں تمہیں وحدت بخشی اور ایک زمانے تک اس کا جھنڈا تمہارے سروں پر سائبان بنا رہا، لہٰذا تم طاقتور اور عزتمند تھے۔ تم ایک ہو کر خیر سے مستفید ہوتے اور شر کے خلاف لڑتے تھے۔۔۔تمہاری سرزمین بہادروں کی سرزمین ہے، قادسیہ کی سرزمین ہے، فارسی یرموک البویب کی سرزمین ہے، یہ ہارون الرشید اور معتصم با للہ کا دیس ہے، یہ صلاح الدین ایوبی کا نشیمن ہے ، یہ اگلے اور پچھلے فاتحین کا مسکن ہے ان شاء اللہ۔ ایک غیر منقسم عراق اہل عراق کے ذریعے ہی مضبوط ہے اور منقسم عراق بہت کمزور ہو گا۔ ۔۔ اگر کرد یہ گمان کرتے ہیں کہ کردستان کو الگ ملک بنانا ان کے لیے کسی عزت کا سبب ہو گا تو یہ بہت تھوڑے عرصے کے لیے ہو گا اور کچھ عرصے کے بعد وہی ان کا مقتل ہو گا۔۔۔اگر سُنی اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ عراق کے شمال اور مغرب میں ان کے ملک کا وجود میں آنا ان کے لیے خوشحالی کا باعث بن سکتا ہے تو یہ بھی زیادہ دیر کے لیے نہیں ہو گا پھر ان کو بدبختی اور تنگ دستی کا سامنا ہو گا۔۔۔اگر شیعہ اس ظن میں مبتلا ہیں کہ جنوب میں ان کے لیے ایک ملک کا وجود میں آنا ان کے لیے تقویت کا باعث ہو گا تو یہ بھی مختصر مدت کے لیے ہو گا اورپھر ان کو بھی ذلت اور بے بسی کا سامنا ہو گا۔
اے مسلمانو۔۔۔اے اہلِ عرب۔۔۔اے اہلِ کرد۔۔۔اے اہلِ سنت۔۔۔اے اہلِ تشیع۔ ۔۔اے اہلِ عراق۔۔۔
قائد اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا، حزب التحریر تمہاری خیر خواہ ہے، لہٰذاامریکہ اور یورپ کی طرف مت جھکو کہ وہ تمہیں کوئی اہمیت نہیں دیں گے بلکہ وہ تمہیں قتل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔۔۔وہ عراق میں تین ایسے علاقے قائم کرنا چاہتے ہیں جو ایک برائے نام ریاست میں برائے نام ہی اکٹھے ہوں تاکہ آگے مر حلے میں اس ربط کو بھی کاٹ دیا جائے۔۔۔امریکہ اور مغرب کی جانب سے زہر آلود تیروں کا رخ ہماری طرف ہو نا تو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ ۔۔لیکن اہل عراق کا یہ قبول کرنا بلکہ اس کے حصول میں جلد بازی کرنا جبکہ ان میں سے ہر ایک اس حوالے سے امریکہ سے مدد مانگے گا، تو یہ ایک بہت بڑا شر ہے۔ وَلاَ تَرْكَنُوۤاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ "ظالموں کی طرف مت جھکو ورنہ آگ تمہیں چھو لے گی اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز نہیں، ایسا کرو گے تو تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی" (ہود:113)۔ تم ایک امت ہو تفرقہ تمہارے لیے حرام ہے۔ وَٱعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اورتفرقے میں نہ پڑو" (آلِ عمران:103)۔ اور تمھیں باہمی تنازعات میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے ورنہ تمہاری قوت پارہ پارہ ہو جائے گی اور تمہارا دشمن تمہارے بارے میں لالچ کرے گا۔ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ "آپس میں مت لڑو ورنہ ناکام ہو گے اور تمہارے قدم ڈگمگائیں گے" (الانفال:46)۔
اے اہلِ عراق! اس امت کی اصلاح اسی طرح ہو گی جس طرح ابتدا میں ہوئی تھی اور وہ ہے اللہ کے نازل کردہ کے ذریعے حکومت اور اللہ کی راہ میں جہاد۔۔۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا اور اللہ کے دشمنوں سے تعلق توڑ نا۔ ۔۔تعصب اور فرقہ واریت کو دفن کرنا ((دعوھا فانھا منتنۃ)) "اس کو دور کرو یہ بدبو دار ہے" اس کو بخاری نے جابر سے روایت کیا ہے۔۔۔فرقہ ورانہ اور مسلکی ناموں کو چھوڑ دو اور اپنا وہ نام رکھو جو اللہ نے رکھا ہے هُوَ سَمَّاكُمُ ٱلْمُسْلِمِينَ "اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے" (الحج:78)۔ اسی کی طرف لوٹو۔ اسی کی ریاست، خلافت راشدہ ، کو قائم کرو۔ اسی سے تم عزت دار بنو گے۔ اسی کے ذریعے ہی تم ایک بار پھر بادلوں کو مخاطب کرو گے اور اسی کے ذریعے اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ گے۔ إِنَّ فِى ذٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ "بے شک اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس دل ہے یا وہ سن کر گواہی دے سکتا ہے" (ق:37)۔

Read more...

سجد الاقصٰی مسلم دنیا کی طاقتور ترین فوج کو پکار رہی ہے اے افواج پاکستان! مجھے یہود کے نجس قبضے سے نجات اور آزادی دلاؤ

حزب التحریر نے فلسطین میں سقوط خلافت کی برسی کے موقع پر مسجد الاقصٰی میں ایک بہت بڑی ریلی منعقد کی۔ اس ریلی نے مسلمانوں کو عموماً اور ان کی افواج کو خصوصاً مسجد الاقصٰی اورپورے فلسطین کو یہود کے ناپاک قبضے سے نجات دلانے کی ذمہ داری کی یاد دہانی کرائی۔
مسجد الاقصٰی کی جانب سے دی جانے والی اس پُرزور پکار میں مسلم دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور فوج یعنی افواج پاکستان کو بھی پکارا گیا ہے۔اس پُرزور پکار میں کہا گیا ہے کہ " کیا تمہارے اندر الاقصٰی سے والہانہ محبت نہیں،کیا تمہارے دل الاقصٰی میں سجدے کے شوق سے لبریز نہیں، کیا تمہارے دلوں میں الاقصٰی سے ملاقات کی تڑپ نہیں رہی ہے ؟ کیا تم رسول اللہ ﷺ کے اسراء کے مقام کے دیوانے نہیں ہو ، کیا تم اس مبارک سرزمین پر شہادت کے آرزومند نہیں ہو جہاں تمہارا خون صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مبارک لہو سے یکجا ہو ؟ الاقصٰی تم سے یہ سوال کر رہی ہے ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہاں ہے ۔۔۔ صلاح الدین کہاں ہے۔۔۔ مسلمانوں کا خلیفہ کہاں ہے ، کیا رسول اللہ ﷺ کا مقام اسراء تمہارے نزدیک ایسی بے وقعت ہے کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے یہود اپنی نجاست سے اس کو روندتے رہیں ؟ یہ خلافت کے انہدام کی یاد میں تمہاری طرف الاقصٰی کی منادی ہے،خلافت کو قائم کرو اور مجھے آزاد کراؤ ،خلافت کو قائم کرو اور مجھے بچاؤ۔۔۔"۔
مسجد الاقصٰی کی جانب سے اس پُرزور پکار میں مزید کہا گیا ہے کہ " اے افواج پاکستان ۔۔۔ امریکہ تمہیں اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرنے پر لگارہا ہے۔۔۔ امریکہ تمہیں تباہ کرنے کے درپے ہے۔۔۔ امریکہ ہی تمہارا دشمن ہے،اس کی غلامی سے اپنے آپ کو نکالو۔۔۔ اپنے درمیان موجود ایجنٹوں کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔۔۔مسلمانوں کو یکجا کرو،اپنے جسم کے ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑدو۔ تم، افغانستان ، ہند کے مسلمان ،وادی فرغانہ اور قفقاز ایک ہی امت ہو اور تم اسلام کی مدد اور اقامت دین پر قادر ہو۔۔۔ لہٰذا حزب التحریر کی تمہیں پکارتی ہے کہ خلافت کو قائم کرو اور پنی بہادر افواج کو بیت المقدس کی طرف گامزن کردو اور تم یہ شرف حاصل کرنے کے اہل ہو"۔
اس ریلی کی ویڈیو نے پاکستان کے سوشل میڈیا پر زبرست توجہ حاصل کی ہے اور اب انگریزی ترجمہ کے ساتھ اس ویڈیو کو مندرجہ ذیل ویب لنکز پر دیکھا جاسکتا ہے:
http://www.dailymotion.com/video/x1zjseb_a-warm-call-from-al-aqsa-mosque-to-the-islamic-ummah-and-the-muslim-armies_news
اور
http://pk.tl/1gnY
تمام میڈیا کے اداروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس ویڈیو کو نشر کریں اور پاکستان کے عوام اور افواج سے مسجد الاقصٰی جس بات کا تقاضا کررہی ہے، اس سے انہیں آگاہ کریں۔

Read more...

سوال کا جواب: امریکی پالیسی کے تناظر میں پاک بھارت تعلقات

سوال : امریکی صدر نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے قائد مودی کو سب سے پہلے کامیابی پر مبارک باد دی اور اس کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی۔ اس کے بعد 5 جون 2014 کو اعلان کیا کہ مودی ستمبر میں دورہ کرے گا۔ 26 مئی 2014 کو ہندوستان کے نئے وزیر اعظم کے طور پر مودی کی تقریب حلف برداری ہوئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے…
Read more...

شمالی وزیرستان آپریشن راحیل نواز حکومت پاک فوج کوامریکی جنگ کا ایندھن بنا رہی ہے

سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے افغانستان اور خطے میں امریکی مفادات کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ 9 مئی 2014 کو نائب امریکی سیکریٹری خارجہ ویلیم برنز کے دورہ پاکستان کے بعد ہی یہ واضح ہوچکا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن اب یقینی ہے کیونکہ برنزنے راحیل-نواز حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ اگلی افغان حکومت کے قیام سے قبل شمالی وزیرستان سے ان مجاہدین کا خاتمہ کردیا جائے جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افغانستان میں اس کے مفادات کی تکمیل کے لیے تیار نہیں اور جو افغانستان سے مکمل امریکی انخلاء تک امریکی قبضے کے خلاف جہادکو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔
راحیل-نواز حکومت نے اس امریکی حکم کو بجا لانے کے لیے امریکی انٹیلی جنس اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ فوجی و شہری تنصیبات پر حملے کروائے تا کہ فوجی آپریشن کے لیے رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ لہٰذا ویلیم برنز کے دورہ سے ایک روز قبل شمالی وزیرستان میں ایک حملے میں دس فوجی مارے گئےاور اس دورے کے چند روز بعد راولپنڈی کےقریب دو اعلیٰ فوجی افسران ایک اور حملے میں جابحق ہوئے اور پھر کراچی ائرپورٹ پر حملہ ہوا۔ ا ن حملوں کو جواز بناتے ہوئے راحیل-نواز حکومت نے ملک سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کا نعرہ بلند کیا اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن "ضرب ِعضب" کا اعلان کردیا۔ حزب التحریر سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں سے سوال کرتی ہے کہ تم نے اس وقت "آپریشن ضرب ِعضب" کیوں نہ شروع کیا جب امریکہ نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پاک فوج کے درجنوں افسران اور جوانوں کو شہید کردیا تھا؟ تم نے امریکہ کے خلاف اس وقت "آپریشن ضرب ِعضب" کا آغاز کیوں نہ کیا جب اس نے ایبٹ آباد پر حملہ کر کے دنیا کی ساتویں بڑی فوج کو دنیا کے سامنے ذلیل و رسوا کروا دیا تھا، تم نے کشمیر، سیاچن اور سرکریک کو بھارت کے قبضے سے نجات دلانے کے لیے "آپریشن ضرب ِعضب" کا آغاز کیوں نہ کیا اور تم نے ریمنڈ ڈیوس اور ایف۔بی۔آئی ایجنٹ جوئیل کاکس کی گرفتاری کے باوجود ملک میں قائم امریکی انٹیلی جنس اور ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے خلاف "آپریشن ضرب ِعضب " کا آغاز کیوں نہ کیا۔ لیکن اپنے آقا امریکہ کا حکم بجا لانے کے لیے تم نے پاک افواج کو اس امریکی جنگ کا ایندھن بنانے کا حکم جاری کردیا ہے جو کسی صورت اس فتنے کی جنگ کاحصہ نہیں بننا چاہتی بلکہ افواج پاکستان کا ہر آفیسر اور سپاہی اسلام کی سربلندی اور کشمیر و فلسطین کی آزادی کے لیے کفار کے خلاف جہاد کرنا چاہتا ہے۔
حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران کو خبردار کرتی ہے کہ تمھاری خاموشی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو اپنی غداریوں کو جاری و ساری رکھنے کا حوصلہ فراہم کررہی ہے۔ حزب التحریر آپ سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو ہٹا کر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں تا کہ افواج پاکستان کو امریکی جنگ کا ایندھن بننے سے روکا جاسکے اور ایک خلیفہ راشد کی قیادت تلے کفار کے خلاف آپ کے شوق جہاد و شہادت کی تسکین ممکن ہوسکے۔
وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُوۤاْ أَمْثَالَكُم
"اور اگر تم پھر گئے تو وہ تمھاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا پھر وہ تمھاری طرح نہ ہوں گے" (محمد:38)
شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

حزب التحریر نے پاکستان بھر میں پوسٹ بجٹ15-2014سیمینارمنعقد کیے معیشت کی آزادی کے لیے پاکستان کو ایک انقلابی اسلامی تبدیلی کی ضرورت ہے

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے پشاور، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں پوسٹ بجٹ 15-2014سیمینار منعقد کیے۔ ان سیمیناروں میں بنکاروں، صنعت کاروں، تاجروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ حزب التحریر کے اراکین نے ان اجتماعات سے خطاب کیا اور بجٹ 15-2014کے تین اہم موضوعات ٹیکس، زرمبادلہ کے ذخائر بمقابلہ روپے کی قدر میں استحکام اور توانائی کی پالیسی پر اظہار خیال کیا۔
مقررین نے بجٹ میں آئی۔ایم۔ایف کی ہدایت پرامت پر بھاری ٹیکسوں کے عائد کیے جانے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں صرف وہی ٹیکس امت پرعائد کیے جاسکتے ہیں جن کی شرعی دلیل ہو۔ کوئی بھی ٹیکس جس کی شرعی دلیل نہ ہو اسے اسلامی ریاست امت پر عائد نہیں کر سکتی۔اسلام کا اپنا ایک منفرد ٹیکس کا نظام ہے جس میں عشر، خراج، جزیہ اور مختلف اشیاء پر زکوۃ شامل ہے۔ مقررین نے کہا کہ اسلام کے ٹیکس سے متعلق احکامات پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ٹیکس دولت پر لگایا جاتا ہے نہ کہ ہر مالیاتی و تجارتی سودے پر۔ مقررین نے مالیاتی خسارے کو بیرونی سودی قرضوں سے پورا کرنے کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ ایسے قرضے نہ صرف اسلام میں حرام ہیں بلکہ یہ مغربی استعماری طاقتوں کو ہمارے سیاسی و معاشی معاملات میں مداخلت کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں استحکام کے حوالے سے مقررین نے مقامی کرنسی کو ڈالر کے ساتھ منسلک کرنے کی پالیسی پر تنقید کی۔ مقررین نے کہا کہ اسلام کی مالیاتی پالیسی میں ایسی کرنسی کا کوئی وجود نہیں جس کی بنیاد کسی قیمتی دھات پر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ریاست سونے اور چاندی کو کرنسی قرار دیتی ہے۔ سونے اور چاندی کو ریاست کی کرنسی قرار دینے سے بین الاقوامی طور پر کرنسی کے تبادلے میں استحکام آتا ہے اور مقامی آبادی افراط زر سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کرنسی کے تعلق کو ڈالر سے توڑ کر اور سونے اور چاندی کو کرنسی قرار دینے سے پاکستان کرنسی کی بین الاقوامی مارکیٹوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے محفوظ ہو جائے گا کیونکہ سونے اور چاندی کی اپنی ایک منفرد قدر ہوتی ہے جبکہ ڈالر کی قدر کا تعین سیاسی و معاشی حالات اور کرنسی کی مارکیٹ کرتے ہیں۔
مقررین نے حکومت کی توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری اور بجلی کی پیداواری اور تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی پالیسی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف یہ پالیسی اسلام کی رو سے حرام ہے وہیں اس کا مقصد صرف اور صرف بیرونی سرمایہ کاروں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ عوام کے معاشی استحصال کی قیمت پر زیادہ سے زیادہ نفع کمائیں۔ اسلام نے توانائی کے شعبے کو عوامی ملکیت قرار دیا ہے اور اسے کسی صورت نجی شعبے کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔
سیمینارز کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد کی گئی ۔ اس کے علاوہ کتابوں کا ایک سٹال بھی لگایا گیا تھا جہاں پر اردو کتب "اسلام کا نظام اقتصاد" اور ریاست خلافت کا آئین "مقدمہ دستور" رکھیں گئیں تھیں۔

2014_06_16_Pakistan_MO_pic_PWR

2014_06_16_Pakistan_MO_pic_ISL.

2014_06_16_Pakistan_MO_pic_LHR

2014_06_16_Pakistan_MO_pic_KHI

Read more...

کراچی ائرپورٹ پر حملہ راحیل-نواز حکومت کا امریکہ کے ساتھ شیطانی اتحاد کا نتیجہ ہے جب تک امریکی اہلکار حساس علاقوں میں دندناتے پھریں گےایسے خونی حملے جاری رہیں گے

حزب التحریر ولایہ پاکستان کراچی ائر پورٹ پر حملے کی مذمت کرتی ہے اور اللہ سے شہید ہونے والےافراد کے درجات کی بلندی اور ان کے لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتی ہے۔8 جون کی رات کراچی ائرپورٹ پر جس آسانی سے دس دہشت گرد داخل ہوئے، اس نے مہران نیول بیس کراچی اور کامرہ ائر بیس پر حملوں کی یاد کو تازہ کردیا ۔ایک بار پھر دہشت گرد اسلحے سے لدے حساس ترین علاقے میں اس آسانی سے داخل ہوگئے جیسے وہ بچوں کے پارک میں داخل ہو رہے ہوں۔ یہ بات اب پوری قوم جان چکی ہے کہ جب بھی امریکی حکم پر قبائلی علاقے میں کسی فوجی آپریشن کو شروع کرنا مقصود ہوتا ہے تو افواج پاکستان اور عوام میں اس کے موافق رائے عامہ پیدا کرنے کے لیے فوجی و شہری تنصیبات پر خونی حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ان حملوں کو جواز بنا کر پاکستان کی فوج اور عوام پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ" امریکی صلیبی جنگ نہیں بلکہ یہ ہماری جنگ ہے۔
یہ حملے اس وقت ہوئے جب شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لیے امریکی حکم نامہ اس کا نائب سیکریٹری خارجہ ویلیم برنز 9 مئی 2014کو پاکستان کے دورے میں پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کے حوالے کرچکا ہے۔ پھر اس آپریشن کے حوالے سے ماحول بنانے کے لیے راحیل-نواز حکومت نے شمالی وزیرستان کے قبائلیوں کو پندرہ روز کی مہلت دی ہے۔اور پھر محض چند دنوں کے وقفے سےپہلے 4 جون 2014 کو راولپنڈی میں دو فوجی افسران پر خودکش حملہ ہوا اور ان کی شہادت ہوئی اور 8 جون کی رات کراچی ائر پورٹ پر حملہ ہوجاتا ہے۔ یہ حملے اس لیے کیے گئے ہیں تا کہ شمالی وزیرستان میں بھر پور فوجی آپریشن کے لیے فوجی و عوامی رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ لہٰذا ان حملوں کا فائدہ سوائے امریکہ اور پاکستان کی قیادت میں موجود اس کے ایجنٹوں کے اور کسی کو نہیں پہنچتا ۔
یہ بات اب بچہ بچہ جانتا ہے کہ ملک میں اس قسم کی کاروائیوں کے پیچھے امریکی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کا رفرما ہے، جس کا مقصد افواج پاکستان کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ جب تک امریکی اہلکار جی۔ایچ۔کیو، فوجی اڈوں اورحساس تنصیبات سمیت پورے پاکستان میں دندناتے پھریں گے تاکہ کمزور مقامات کی معلومات حاصل کریں اور پھر انہیں ہمارے خلاف استعمال کریں، ہماری تنصیبات پر ایسے حملے ہوتے رہیں گے۔ یہ حملے راحیل۔نواز حکومت کا امریکہ کے ساتھ شیطانی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے جس نے امریکی دہشت گردوں کو ملک میں اس قسم کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے کی آزادی فراہم کررکھی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ آج تک مہران بیس کراچی اور کامرہ ائر بیس کی تحقیقات سامنے نہیں آسکیں اور اس قسم کا حملہ ہوجانے کے بعد بھی حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کیں جاتیں کہ دہشت گرد دوبارہ حساس تنصیبات میں داخل نہ ہوسکیں۔ آخر کیوں امریکی دہشت گرد ملک میں آزادنہ گھومتے پھرتے ہیں یہاں تک کہ ایف۔بی۔آئی کا مسلحہ ایجنٹ کراچی ائر پورٹ پرگرفتار ہوتا ہے اور حکومت اسے رہا کردیتی ہے۔
حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے سوال کرتی ہے کہ کب تک افواج پاکستان اور عوام کو اس امریکی صلیبی جنگ کا ایندھن بنتا دیکھتے رہیں گے؟مشرف-عزیز، اورکیانی-زرداری حکومت کی طرح راحیل-نواز حکومت بھی امریکی اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کی افواج اور اس کے عوام کو قربان کررہی ہے۔یہ خونی صورتحال صرف اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب آپ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو ہٹا کر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں گے۔ پھر مسلمانوں کا خلیفہ ریاست خلافت کے اسلامی آئین پر عمل کرتے ہوئے تمام دشمن ممالک کے فوجی ، سفارتی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو ملک بدر کرے گا اور ان کے زہریلے اور ناپاک وجود سے اس اسلامی سرزمین کو پاک کرے گا۔
شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک