بسم الله الرحمن الرحيم
ترکیہ میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا!
تحریر: استاد نبیل عبدالکریم
(ترجمہ)
ترکیہ حالیہ عرصے میں اپنے پرآشوب ترین سیاسی ادوار میں سے ایک سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی قیادت کو نشانہ بنانے والی غیر معمولی قانونی پیش رفت اور اس کے نتیجے میں مالیاتی منڈیوں پر پڑنے والے تیز رفتار اثرات ہیں۔ سیاسی تنازع پارلیمنٹ کی راہداریوں اور مقامی انتخابات سے نکل کر اب عدالتوں تک پہنچ گیا ہے، جسے مبصرین ملک کے اندر سیاسی مقابلے کی نوعیت میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرانے کے لیے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ، ترکیہ میں سیاست اور معیشت کے مستقبل اور آنے والے انتخابات سے پہلے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس دور میں عدلیہ اور سیاست کے درمیان تعلق کی حدود کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ترکیہ میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ برسوں کا سب سے سنگین سیاسی بحران ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف اپوزیشن کے میئرز کی گرفتاری شامل ہے، بلکہ یہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے مرکز تک پہنچ گیا ہے۔ انقرہ میں عدالتی فیصلوں نے پارٹی کے اس کنونشن کے نتائج کو مؤثر طریقے سے کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے ذریعے 2023 میں اوزگور اوزیل پارٹی کی قیادت میں آئے تھے، اور 22 مئی 2026 کو "العربی الجدید" (The New Arab) نامی خبری ادارے کے مطابق، کمال کلچداراوغلو کی سابقہ قیادت کو عارضی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
سرکاری طور پر یہ کیس رشوت ستانی اور پارٹی کے اندرونی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے گرد گھوم رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن اس معاملے کو خالصتاً سیاسی قرار دے رہی ہے اور اس کا استدلال ہے کہ حکومت 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی نمایاں کامیابیوں کے بعد، خاص طور پر اکرم امام اوغلو کی مقبولیت میں اضافے اور ان کی بعد ازاں گرفتاری کے تناظر میں، اپوزیشن کی نئی تشکیل کے لیے عدلیہ کا استعمال کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض قانونی تحقیقات نہیں ہیں، بلکہ عدلیہ کی ایک سیاسی ہیرا پھیری ہے جس کا مقصد قیادت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر کے پارٹی کو کمزور کرنا ہے، جو کہ آنے والے انتخابات سے پہلے ریاست کی جانب سے اپوزیشن کو منتشر کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اس کے برعکس حکومت اور عدلیہ، عدالتی آزادی اور سیاسی مداخلت سے پاک ہونے کے اپنے عزم پر قائم ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مقدمات بدعنوانی کے الزامات، انتظامی خلاف ورزیوں اور بلدیات یا پارٹی کے اندرونی مالی معاملات سے متعلق ہیں۔ حکومت کا مزید کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، خواہ وہ اپوزیشن جماعتیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی لہر کے وقت ان فائلوں کو کھولنے اور ان کی وسعت بڑھانے کا وقت قابلِ غور ہے۔ مزید برآں، ترکیہ جیسے ملک میں عدلیہ سیاسی سیاق و سباق سے مکمل طور پر الگ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ محض ایک سیاسی آلہ ہے۔ اس کے بجائے، عدلیہ ایک 'گرے ایریا' (مبہم صورتحال) میں کام کرتی ہے۔ اگرچہ بنیادی مقصد سیاسی نہ بھی ہو، تب بھی اس کا سیاسی نتیجہ بالکل واضح ہے: یعنی اپوزیشن کو کمزور کرنا، اس کی قیادت کو بدنام کرنا اور اس کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا۔
اس خاص وقت پر،اس اتھل پتھل کے ناگزیر نتائج برآمد ہوں گے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
1- ملکی سطح پر شدید سیاسی تقسیم؛ ہم حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور معاشرے کے ایک حصے میں عدلیہ کی آزادی پر اعتماد کی کمی کا مشاہدہ کریں گے، جو مستقبل قریب میں سیاسی احتجاج یا سماجی بے چینی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
2- ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے اندرونی انتشار کا امکان؛ پرانی اور نئی قیادت کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے انتخابات کے لیے اس کی تیاری کمزور پڑ جائے گی۔
3- معاشی طور پر: استنبول اسٹاک ایکسچینج تقریباً 6 فیصد کمی سے متاثر ہوئی، بینکوں کے حصص شدید دباؤ میں آ گئے، اور حکومت نے ترک لیرا کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ ترکی کے وزیرِ معیشت سرمایہ کاروں کے خدشات کے حوالے سے انتہائی حساس نظر آتے ہوئے لندن میں نمودار ہوئے، کیونکہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ معاشی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، مرکزی بینک اپنی سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھے گا، اور سیاسی ہلچل کے باوجود کوئی مالیاتی تباہی نہیں آئے گی۔ بدقسمتی سے، مارکیٹیں پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح، لیرا کی قدر میں کمی اور دیگر معاشی بحرانوں کا شکار ہیں۔
عدلیہ اور سیاست کے درمیان جاری بحث اب بھی ایک انتہائی حساس معاملہ بنی ہوئی ہے۔ سیاسی دباؤ سے عدالتی اداروں کی آزادی کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی تشریحات مختلف ہیں، اور قانون و سیاست کے درمیان کی لکیر دھندلا گئی ہے، خاص طور پر جب عدالتی کارروائیاں انتخابی تبدیلیوں کے وقت عمل میں آتی ہیں۔ ملک حکمران اور اپوزیشن کے کیمپوں کے درمیان شدید تقسیم کا سامنا کر رہا ہے، اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ شاید سیاسی منظر نامے کی قانونی طور پر نوک پلک سنوارنا ہے، یا آنے والے انتخابات سے پہلے طاقت کے توازن کی نئی تشکیل کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
ایک مسلم ملک ترکیہ میں سرمایہ دارانہ نظام نے یہی کچھ پیدا کیا ہے یعنی سیکولر قانون پر تقسیم اور کنٹرول و اثر و رسوخ کی جنگ۔ حالانکہ امت کے معاملات کی نگہبانی سے سرے سے اقتدار کی کوئی کشمکش پیدا ہی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بجائے، عوامی عہدہ ایک ذمہ داری ہونی چاہیے، نہ کہ کوئی ایسا منصب جس کی ہوس کی جائے۔ بدقسمتی سے، ہم مسلمان ہونے کے ناطے اپنے طرزِ زندگی کے لیے ایک مکمل خدائی نازل کردہ قانونِ شریعت رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم مغربی قوانین سے چمٹے ہوئے ہیں جو صرف ہماری کمزوری میں اضافہ کرتے ہیں!
اے ترکیہ کے لوگو، ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر لو جو اسلامی طرزِ زندگی کی بحالی کی راہ میں حائل ہیں اور خلافت کے عہد کی طرف لوٹ آؤ، کیونکہ اسی میں ہماری عزت ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی نجات ہے۔ ترکیہ کے غازی اس قابل ہیں کہ وہ حالات کا رخ ایک ایسے نئے دور کی طرف موڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند ہو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کر دے گا۔" (سورۃ محمد: آیت 7)
ترکیہ میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا!
تحریر: استاد نبیل عبدالکریم
(ترجمہ)
ترکیہ حالیہ عرصے میں اپنے پرآشوب ترین سیاسی ادوار میں سے ایک سے گزر رہا ہے، جس کی وجہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی قیادت کو نشانہ بنانے والی غیر معمولی قانونی پیش رفت اور اس کے نتیجے میں مالیاتی منڈیوں پر پڑنے والے تیز رفتار اثرات ہیں۔ سیاسی تنازع پارلیمنٹ کی راہداریوں اور مقامی انتخابات سے نکل کر اب عدالتوں تک پہنچ گیا ہے، جسے مبصرین ملک کے اندر سیاسی مقابلے کی نوعیت میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرانے کے لیے اٹھائے گئے معاشی اقدامات کے ساتھ ساتھ، ترکیہ میں سیاست اور معیشت کے مستقبل اور آنے والے انتخابات سے پہلے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اس دور میں عدلیہ اور سیاست کے درمیان تعلق کی حدود کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ترکیہ میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ برسوں کا سب سے سنگین سیاسی بحران ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف اپوزیشن کے میئرز کی گرفتاری شامل ہے، بلکہ یہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے مرکز تک پہنچ گیا ہے۔ انقرہ میں عدالتی فیصلوں نے پارٹی کے اس کنونشن کے نتائج کو مؤثر طریقے سے کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے ذریعے 2023 میں اوزگور اوزیل پارٹی کی قیادت میں آئے تھے، اور 22 مئی 2026 کو "العربی الجدید" (The New Arab) نامی خبری ادارے کے مطابق، کمال کلچداراوغلو کی سابقہ قیادت کو عارضی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
سرکاری طور پر یہ کیس رشوت ستانی اور پارٹی کے اندرونی انتخابات میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے گرد گھوم رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن اس معاملے کو خالصتاً سیاسی قرار دے رہی ہے اور اس کا استدلال ہے کہ حکومت 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی نمایاں کامیابیوں کے بعد، خاص طور پر اکرم امام اوغلو کی مقبولیت میں اضافے اور ان کی بعد ازاں گرفتاری کے تناظر میں، اپوزیشن کی نئی تشکیل کے لیے عدلیہ کا استعمال کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض قانونی تحقیقات نہیں ہیں، بلکہ عدلیہ کی ایک سیاسی ہیرا پھیری ہے جس کا مقصد قیادت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر کے پارٹی کو کمزور کرنا ہے، جو کہ آنے والے انتخابات سے پہلے ریاست کی جانب سے اپوزیشن کو منتشر کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اس کے برعکس حکومت اور عدلیہ، عدالتی آزادی اور سیاسی مداخلت سے پاک ہونے کے اپنے عزم پر قائم ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ مقدمات بدعنوانی کے الزامات، انتظامی خلاف ورزیوں اور بلدیات یا پارٹی کے اندرونی مالی معاملات سے متعلق ہیں۔ حکومت کا مزید کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، خواہ وہ اپوزیشن جماعتیں ہی کیوں نہ ہوں۔ اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی لہر کے وقت ان فائلوں کو کھولنے اور ان کی وسعت بڑھانے کا وقت قابلِ غور ہے۔ مزید برآں، ترکیہ جیسے ملک میں عدلیہ سیاسی سیاق و سباق سے مکمل طور پر الگ نہیں ہے، اور نہ ہی یہ محض ایک سیاسی آلہ ہے۔ اس کے بجائے، عدلیہ ایک 'گرے ایریا' (مبہم صورتحال) میں کام کرتی ہے۔ اگرچہ بنیادی مقصد سیاسی نہ بھی ہو، تب بھی اس کا سیاسی نتیجہ بالکل واضح ہے: یعنی اپوزیشن کو کمزور کرنا، اس کی قیادت کو بدنام کرنا اور اس کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا۔
اس خاص وقت پر،اس اتھل پتھل کے ناگزیر نتائج برآمد ہوں گے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
1- ملکی سطح پر شدید سیاسی تقسیم؛ ہم حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور معاشرے کے ایک حصے میں عدلیہ کی آزادی پر اعتماد کی کمی کا مشاہدہ کریں گے، جو مستقبل قریب میں سیاسی احتجاج یا سماجی بے چینی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
2- ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے اندرونی انتشار کا امکان؛ پرانی اور نئی قیادت کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے انتخابات کے لیے اس کی تیاری کمزور پڑ جائے گی۔
3- معاشی طور پر: استنبول اسٹاک ایکسچینج تقریباً 6 فیصد کمی سے متاثر ہوئی، بینکوں کے حصص شدید دباؤ میں آ گئے، اور حکومت نے ترک لیرا کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ ترکی کے وزیرِ معیشت سرمایہ کاروں کے خدشات کے حوالے سے انتہائی حساس نظر آتے ہوئے لندن میں نمودار ہوئے، کیونکہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ معاشی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، مرکزی بینک اپنی سخت مانیٹری پالیسی جاری رکھے گا، اور سیاسی ہلچل کے باوجود کوئی مالیاتی تباہی نہیں آئے گی۔ بدقسمتی سے، مارکیٹیں پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح، لیرا کی قدر میں کمی اور دیگر معاشی بحرانوں کا شکار ہیں۔
عدلیہ اور سیاست کے درمیان جاری بحث اب بھی ایک انتہائی حساس معاملہ بنی ہوئی ہے۔ سیاسی دباؤ سے عدالتی اداروں کی آزادی کے بارے میں ملکی اور بین الاقوامی تشریحات مختلف ہیں، اور قانون و سیاست کے درمیان کی لکیر دھندلا گئی ہے، خاص طور پر جب عدالتی کارروائیاں انتخابی تبدیلیوں کے وقت عمل میں آتی ہیں۔ ملک حکمران اور اپوزیشن کے کیمپوں کے درمیان شدید تقسیم کا سامنا کر رہا ہے، اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ شاید سیاسی منظر نامے کی قانونی طور پر نوک پلک سنوارنا ہے، یا آنے والے انتخابات سے پہلے طاقت کے توازن کی نئی تشکیل کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
ایک مسلم ملک ترکیہ میں سرمایہ دارانہ نظام نے یہی کچھ پیدا کیا ہے یعنی سیکولر قانون پر تقسیم اور کنٹرول و اثر و رسوخ کی جنگ۔ حالانکہ امت کے معاملات کی نگہبانی سے سرے سے اقتدار کی کوئی کشمکش پیدا ہی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بجائے، عوامی عہدہ ایک ذمہ داری ہونی چاہیے، نہ کہ کوئی ایسا منصب جس کی ہوس کی جائے۔ بدقسمتی سے، ہم مسلمان ہونے کے ناطے اپنے طرزِ زندگی کے لیے ایک مکمل خدائی نازل کردہ قانونِ شریعت رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم مغربی قوانین سے چمٹے ہوئے ہیں جو صرف ہماری کمزوری میں اضافہ کرتے ہیں!
اے ترکیہ کے لوگو، ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر لو جو اسلامی طرزِ زندگی کی بحالی کی راہ میں حائل ہیں اور خلافت کے عہد کی طرف لوٹ آؤ، کیونکہ اسی میں ہماری عزت ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی نجات ہے۔ ترکیہ کے غازی اس قابل ہیں کہ وہ حالات کا رخ ایک ایسے نئے دور کی طرف موڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند ہو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾ "اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوط کر دے گا۔" (سورۃ محمد: آیت 7)




