الإثنين، 02 ربيع الثاني 1448| 2026/09/14
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

رزق اللہ ﷻ کی طرف سے ہے، جبکہ روزگار کمانے کی کوشش (سعی) شرعی فرض ہے

 

مادی صارفیت (materialistic consumerism) پر مبنی دور میں یہ سوال اکثر پیدا ہوتا ہے کہ روزگار کمانے کی کوشش اور اسلام کی دعوت پہنچانے جیسی دیگر شرعی ذمہ داریوں کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جائے۔ اسلام ہماری معاشی لین دین کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟ کیا یہ ہمیں اللہ ﷻ کی رضا حاصل کرنے کے اپنے مقصد سے غافل کر دے گا؟ موجودہ مشکل معاشی حالات میں، کیا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کام کرنا اللہ ﷻ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے؟ جب ہمارے معاشی معاملات میں ہمیں گناہ کی طرف دھکیلا جاتا ہے تو اسلام ہمیں کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے؟ جب رزق اللہ ﷻ کی طرف سے لکھا اور مقرر ہے تو پھر محنت کیوں کریں؟ آئیے درج ذیل نکات پر غور کرتے ہیں:

 

1)   معاشی لین دین اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے۔

 

 عبادات (مثلاً نماز، روزہ ، زکوٰۃ) کی مانند معاشی لین دین کا مقصد بھی  اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ ہم اللہ ﷻ کے احکامات پر عمل درآمد کرکے اللہ ﷻ کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں، پس ہم کمپنی کے ڈھانچے اور ملازمت کے متعلق اللہ کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں۔ لہٰذا اسلام کوئی سیکولر مذہب نہیں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو صرف چند رسومات کو پورا کرنے میں سمجھتا ہے۔

 

 

2) مادی قدر material value میں منافع اور اجرت شامل ہے۔

 

مندرجہ بالامقصد کے علاوہ، لین دین کے احکام کے اندر اسلام نے یہ طے کیا ہے کہ اس کے ذریعے مادی قدر تلاش کی جائے، چاہے وہ مادی منافع ہو یا اجرت۔ لہٰذا اسلام کوئی خانقاہی مذہب نہیں ہے جو مسلمانوں کو کمانے کے فرض سے غافل  کرتا ہے۔

 

3) ملازمت اجرت کی مادی قیمت material value کےحصول کے  لیے ہے۔

 

چنانچہ جب اسلام نے ملازمت کے عمل   کی اجازت دی تو اس کے ساتھ  اجرت کا حکم دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا اسْتَأْجَرْتَ أَجِيرًا فَأَعْلِمْهُ أَجْرَهُ "جب تم کسی مزدور کو ملازمت پر رکھو تو اسے اس کی اجرت بتا دو]النسائی[ ، لہذا ملازمت  ایک مقصد کے بغیر یا بیکار نہیں ہے۔ مزدور کو اس کا حق ادا کرنا چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے جھگڑا کرے گا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قَالَ اللَّهُ ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین لوگوں سے لڑوں گا: وہ جو میرے نام پر عہد باندھے اور پھر اسے توڑدے۔ جو آزاد آدمی کو غلام بنا کر بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھا جائے۔ اور جس نے کسی مزدور کو کام پر رکھا اور اس سے پورا کام لے لیا اور اس کی مزدوری نہیں دی‘‘(بخاری)۔

 

4) بنجر زمین کو زندہ کرنا ،کاشت کاری کی مادی قدر کے حصول لیے ہے۔

 

 

اسلام نے زراعت سے مادی قدر کے حصول کی اجازت دی ہے، جیسا کہ بنجر زمین کی کاشت کے ذریعے دولت حاصل کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ ’’اگر کوئی بنجر زمین کوزندہ کرلے تو وہ اس کی ہو گئی"(ابو داؤد)۔ لہٰذا ریاستِ خلافت میں جو بھی بنجر زمین کو زندہ کرتا ہے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، جب تک کہ وہ اس پر کاشت کرتا رہے۔ خلافت عطیات اور تحائف کے ذریعے بھی بنجر زمین کو زندہ کرنے میں مدد کرے گی۔

 

5) کاروبار میں مادی قدر منافع  کا حصول ہے۔

 

 

صنعت و تجارت میں اسلام نے کمپنیاں بنانے کی اجازت دی ہے اور اس عمل میں مسلمان منافع کی صورت میں مادی قدر حاصل کرتے ہیں۔ کمپنی  کی اقسام میں عنان، ابدان، مضاربہ اور مفاوضہ شامل ہیں۔ مضاربہ کمپنی کے بارے میں عبدالرزاق نے الجامع میں نقل کیا ہے کہ امام علیؓ نے فرمایا:  الْوَضِيعَةِ عَلَى الْمَالِ، وَالرِّبْحُ عَلَى مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ "نقصان مال پر ہے۔ منافع اس کے مطابق ہے جو فریقین نے طے کیا ہے"۔ لہذا، مسلمان کمپنی میں شراکت دار کے طور پر، منافع کمانے اور اس میں سے اپنا حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے اور یہ بھی مادی قدر ہے۔

 

6)  رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جب کہ اس کے حصول کے لیے کوشش کرنااور اس سلسلے میں شریعت  کی پابندی کرنا فرض ہے۔

 

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ’’

 

بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے‘‘ (آل عمران 3:37)۔

 

بے شک رزق اللہ کی طرف سے ہے۔ یہ ایک  ایسی اطمینان بخش حقیقت ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہم رزق کے حصول میں حرام  کی طرف نہیں جاتے۔ جب ہم رزق کے حصول کے لیے کوشش کرتے ہیں تو ہم سختی سے اپنے آپ کو شریعت تک محدود رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم اقتصادی معاملات میں  مشغول ہوتےہیں، ہم اس بات کو یاد رکھتے ہیں کہ ہماری یہ سرگرمی مادی قدر کے حصول کے لیےہے اور ہم اس سلسلے میں غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ہم لایعنی قسم کے کام نہیں کرتے یا سستی کا شکار نہیں ہوتے، اس امر کو بنیاد بناتے ہوئے کہ رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بے شک رزق صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، تاہم مادی دولت کے حصول کے لیے کوشش کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جس سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔

 

 

آئیں ہم سب رزق کے حصول کے لیے سعی کرنے کے حکم کو خود رزق کی حقیقت کے فہم  کی روشنی میں سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ الأَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ ’’

 

وہی اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مسخر کر دیا، لہٰذا اس کے راستوں پر چلو اور اس کا رزق کھاؤ ‘‘(الملک 67:15)۔

 

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 

فَإِذَا قُضِيَتْ الصَّلاَةُ فَانتَشِرُوا فِي الأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ

 

’’اور جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو)‘الجمعہ 62:10(۔

 

7) مسلمان نتیجہ خیز ہوتےہیں۔

 

 

 

اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے ذریعے مادی قدر کا حصول، مسلم شخصیت کو ایک نتیجہ خیز شخصیت بناتا ہے۔ وہ اپنے رب ﷻ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے خاندان کی ضروریات اور آسائشیں مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ وہ ایسا نہیں ہے جو سست پڑا رہے، بغیر پرواہ کیے قرض لے اور بغیر غور و فکر کے صدقہ مانگے۔ مادی قدرکا اس انداز سے خیال کرنا،اسلامی معاشرے کو دولت، خوشحالی اور قابلیت والا معاشرہ بناتا ہے، جہاں غریبوں، تنگدستوں اور قرضوں میں ڈوبے لوگوں کی ضرورتوں کا باآسانی خیال رکھا جاتا ہے۔ درحقیقت خلافت کے دور میں اسلامی سرزمین اپنی عظیم مادی ترقی کی وجہ سے باقی دنیا کے لیے باعثِ رشک تھی۔

 

Last modified onپیر, 14 ستمبر 2026 07:25

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک