الثلاثاء، 08 محرّم 1448| 2026/06/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے راحیل-نواز حکومت کے پاس حزب التحریرکے خلاف  جھوٹ کے سواء کچھ نہیں

3 مئی  کو ایک  انگریزی اخبار نے یہ خبر شائع ہوئی کہ پولیس نے  حزب التحریرکے ایک رکن دانیال کو جوہر  ٹاون میں ایک مسجد کے پاس سے گرفتار کیا اور اس کے پاس سے  بڑی تعداد میں" فرقہ وارانہ نفرت انگیز مواد" پر مبنی لٹریچر برآمد کیا۔  اس خبر  میں سوائے اس کے کوئی سچائی نہیں  کہ دانیال کو گرفتار کیا گیا ہے۔

راحیل-نواز حکومت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکی ہے ورنہ وہ دانیال سمیت گرفتار ہونے والے حزب کے درجنوں شباب کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت انگیز  مواد کی برآمدگی کا جھوٹا دعویٰ نہ کرتی۔ یہ بات ہر خاص و عام جانتا ہے کہ حزب التحریرکا شائع کردہ کوئی بھی مواد کسی بھی طرح  فرقہ وارانہ نفرت آنگیز نہیں ہوتا کیونکہ  حزب مسلم امہ کی یکجہتی اور  اس کو عملی شکل دینے کے لئے  ایک خلافت کے قیام  کی دعوت بغیر کسی مسلکی امتیاز کےتمام مسلمانوں کو دیتی ہے۔

آج  ہر اسلام پسند شخص، جو پاکستان سے امریکی راج کے خاتمے اور اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے،  کے خلاف  "نفرت انگیز مواد" رکھنے یا تقسیم کرنے کا الزام لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینکا جارہا ہے۔  حکمرانوں کو حزب کا یہ کردار قطعاً پسند نہیں کہ وہ اسلام اور امت مسلمہ کے مفاد کے تحفظ کے لئے حکمرانوں کا احتساب اور ان کی غداریوں کو بے نقاب  کرے ، لہٰذا انہوں نے استعماری کفار کے ساتھ گٹھ جوڑپر  حکمرانوں کے   احتساب کو "فرقہ وارانہ نفرت انگیز" قرار دینا شروع کردیا ہے۔

حزب حکمرانوں پر واضح کردینا چاہتی ہے کہ  حزب کے خلاف مسلسل جھوٹا پروپیگنڈا کرنا دراصل ان کی فکری و سیاسی بانجھ پن  اور حزب کی سچائی کو ثابت کرتا ہے اوراس قسم کے جھوٹے الزام لگا کر وہ حزب کو امت کی نظروں میں گرا نہیں سکتے کیونکہ امت حزب اور غدار حکمرانوں کے کردار کو  اچھی طرح سے جانتی ہے۔ لہٰذا حزب حکمرانوں کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ ایسے عمل سے توبہ کریں جس کا فائدہ نہ تو انہیں اس دنیا میں ملے گا اور آخرت میں تو اس کے بدلے سوائے عذاب کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيراً

"اور جو شخص رسولﷺ کی مخالفت پر کمربستہ ہو اور راہ راست کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے تو اسے ہم اسی طرف چلتا کردیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور ہم اسے جہنم میں جھونک دیں گے جو بدترین جائے قرار ہے" (النساء:115)

اس کے ساتھ ساتھ حزب میڈیا کے اداروں سےسوال کرتی ہے کہ حکمرانوں کے جھوٹ کو من و عن شائع کردینا کیا ان کی اسلامی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی خلاف نہیں ہے؟ کیا میڈیا یہ بات نہیں جانتا کہ حزب التحریرایک سیاسی جماعت ہے جو خلافت کے قیام کے لئے سیاسی و فکری جدہوجہد کرتی ہے اور عسکریت اور فرقہ پرستی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے؟ ہم میڈیا سے صرف اتنا ہی کہیں گے کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی  فرماتے ہیں ،

إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوۤاْ

"اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیقی کرلیا کرو"(الحجرات:06)

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

ازبکستان حکومت اسلام دشمن ہے اس لیے وہ حزب التحریر سے بھی بغض رکھتی ہے

ازبکستان کا حکمران کریموف اسلام سے بغض رکھتا ہے اسی لیے وہ اسلام کے ہر داعی سے کینہ رکھتا ہے۔ اس کا یہ بغض آج کل کی پیدا وارنہیں بلکہ یہ پرانا کینہ ہے اور ہمیں گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی سے اس کا سامنا ہے یعنی جب سے حزب التحریر کا کام ملک میں نمایاں ہوا سرکش کریموف نے حزب کے شباب کی وسیع پیمانے پر گرفتاری کے لیے آپریشن کیا۔اُس وقت سے گرفتاریوں اور حزب کے خلاف یلغار شروع ہو گئی یہاں تک کہ گرفتار افراد کی تعداد 8000 سے زیادہ ہو گئی۔ یاد رہے کہ حزب سیاسی جماعت ہے اوروہ کسی قسم کے تشدد اور مادی اعمال میں ملوث نہیں ہو تی۔ڈکٹیٹر کریموف یہ بات اچھی طرح جانتا ہےلیکن اسلام سے اس کی عداوت کی وجہ سے وہ اسلام کی طرف دعوت دینے والے ہر شخص سے کینہ و دشمنی رکھتا ہے اور اس پر حملہ کرتا ہے، خاص طور پر اگر دعوت سیاسی ہو۔

 

کریموف نے گرفتاری اور قیدو بند پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عدالتوں کو اسلام کے داعیوں کے خلاف سختی کا بھی حکم دیتا رہا، اسی لیے 15 سال،10 سال، 7سال، اور 5سال قید کے احکامات دیئے گئے۔ قید کی مدت مکمل ہوجانےکے باوجود بھی رہا نہیں کیا جاتا بلکہ قیدیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر حزب کے خلاف کام کریں اوراگر وہ انکار کردیں تو قید کی مدت بڑھادی جاتی ہے مگر اس کے باوجود ان کو ایسے افراد نہیں ملے جو ان کے ساتھ تعاون کریں۔ پھر انہوں نے یہ کوشش شروع کی کہ جو بھی قید کی مدت پوری کرلے اس سے یہ تحریر لینے کی کوشش کی جائےکہ وہ پھر حزب کے ساتھ مل کر کام نہہیں کرے گا لیکن ایسا لکھ کر دینے والے بھی ان کو نہیں ملے۔ اس لیے انہوں نے بہت کم لوگوں کو رہا کیا اور بھاری اکثریت کی قید کی مدت کو ایک بار نہیں کئی کئی بار بڑھایا گیا ۔

 

کینہ ور کریموف نے طویل قیدو بند اور مدت پوری ہونے پر اس میں اضافے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے کارندوں کو قیدیوں پر تشدد اور ان کو نماز سے روکنے کے احکامات بھی دیتا رہا۔ اس پر بھی اکتفا نہیں کیا بلکہ بعض قیدیوں کو طرح طرح کے تشدد سے شہید کر نے کے احکامات دیے اور بعض کو ایسی ادویات زبردستی دیں جن سے لاعلاج امراض پیدا ہو گئے۔ حزب التحریر کے سینکڑوں شباب کو شہید کر دیا گیا۔

 

کریموف اب بھی پورے پورے گروپ گرفتار کروا رہا ہےاور حالیہ چند دنوں میں 70 سے زیادہ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ یہاں ہم صرف ان کا ذکر کریں گے جن پر حزب التحریر کے ساتھ تعلق کا الزام ہے:

۔ کوفاسائی صوبے کے ڈپٹی گورنر "نادر" جو مارگیلان شہر میں رہائش پذیرتھے یہ 1981 میں پیدا ہوئے ان کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی

۔ التی اریق کے علاقے کے محکمہ خزانہ کے ڈائریکٹر "مرزا ابن امیامین خیدروف" کو جن کی پیدائش 1979 ہے 6 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔ (KRV) کے انسپکٹر عزیز بیگ ایرغاشیف کو جن کی پیدائش 1983 ہے 6 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔التی اریق کے علاقے کے کالج میں اکنامک کے پروفیسر "احرار ابن محمد جان عبد الرحمانوف" کو جن کی پیدائش 1986 ہے 6 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔ التی اریق کے علاقے کے ہسپتال کے فارمیسی انچارج "الھام" کو جن کی پیدائش 1975 ہے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔ کرافٹس فیملی کے عزیزبیگ مومنوف کو جن کی پیدائش 1989 ہے 10 سال قید کی ساز سنائی گئی

۔سروس ورکر "عظیم جان رحمانوف" کو جن کی پیدائش 1992 ہے 6 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔بزنس مین "عبد الجبار عبد الحمید رحمانوف" کو جن کی پیدائش 1992 ہے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔سروس مین "عبد المومن محمد جان معمر زاییف" کو جن کی پیدا ئش 1985 ہے 6 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔سروس مین "علی شیر محمد جان معمرزاییف"کوجن کی پیدائش 1991 ہے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔کرافٹس مین "بحر الدین بختیار بابا ییف" کو جن کی پیدا ئش 1985 ہے خصوصی عدالت کے ذریعے 14 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔ تین بچوں کی ماں "زمرد بنت عیسی جان عمرکولوفا" کو جن کی پیدائش 1974 ہے 6 سال قید کی سزا سنائی گئی

۔نعمت اللہ ابن حاتم کو جن کی پیدائش 1991 ہے ڈیڑھ سال قید اور جرمانہ کی سزا سنائی گئی

۔ کوفسائی صوبے کے مذکورہ ڈپٹی گونر کے ڈرائیور کو بھاری جرمانہ کیا گیا

 

اے مسلمانو !

دنیا کے کئی حکمران کریموف کی طرح ہی اسلام سے بغض رکھتے ہیں اور اسلام کو دہشت گردی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو اسلام کی دعوت دیتا ہے،اسلامی خلافت کے قیام کی بات کرتا ہے اور شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، یہ حکمران اسے دہشت گرد اور دنیا کے لیے خطرہ قرار دے دیا جاتا ہےاور اسلام کے خلاف لڑنے کے لیے آپس میں اتحاد قائم کر رہے ہیں،اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے:

﴿يُرِيدُونَ أَن يُطْفِؤُواْ نُورَ اللّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللّهُ إِلاَّأَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ * هُوَ الَّذِيأَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِكُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾

"اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بھجانا چاہتے ہیں مگر اللہ اپنے نور کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے چاہے یہ کافروں کو پسند نہ ہو ۔ اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تا کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے خواہ یہ مشرکوں کو ناپسند ہو"(التوبہ:33،32) ۔

 

اس لیے اے ازبکستان اور دنیا کے دوسرے خطوں کے مسلمانو!

خوفزدہ مت ہو ، اللہ تمہارے ساتھ ہے، اللہ تمام کافروں کو رسوا کر کے اسلام کے نور کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔اسلام تمام ادیان پر غالب آئے گا جن میں سرمایہ داریت بھی ہے جو اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک کا دین ہے، ہم اللہ سے دعاگو ہیں کہ یہ دن قریب جلد آئے۔

اگر اسلام سے بغض رکھنے والے دنیا کے حکمران سمجھ رکھتے تو جان لیتے کہ اسلام تو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 

﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾

"اور ہم نے تو تمہیں سارے جہانوں کے لیے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے "(انبیاء:107)۔

ان کے بغض کرنے اور اللہ کے نور کو بھجانے کی کوشش کی وجہ سے ان لوگوں پر اللہ کا یہ فرما ن صادق آتا ہے :

﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَأَعْمَالًا * الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِيالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْيُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾

"کہہ دیجئے کیا ہم تمہیں اپنے اعمال میں خسارہ پانے والوں کے بارے میں بتا دیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیاوی محنت غارت ہو گئی اور یہ گمان کرتے رہے کہ یہ اچھا کر رہے ہیں "(الکحف:104،103)۔

 

مشرق اور مغرب کے کئی عقلمند لوگوں نے عقل کی بنیاد پر اسلام کو پڑھا اورصرف اپنے باپ داد ا اور معاشرے سے میراث میں ملنے والے عقیدے پر اکتفا نہیں کیا ،ایسے لوگوں نے اسلام کے ساتھ انصاف کیا اور اسلام قبول کر لیا کیونکہ یہ لوگ اپنے ساتھ انصاف کرنے والے تھے۔ عنقریب وہ وقت آئے گا جب اِس وقت اسلام سے برسر پیکار لوگ بھی اسلام کے افضل ، برتر اور رحمت ہونےکا اعتراف کر لیں گے اور اس کے سائے میں رہنے وجہ سے اور اس کی کامیابیوں کا مشاہدہ کر کے اس میں داخل ہوں گے ۔

کریموف نے یہ محسوس کیا کہ ازبکستان میں اس کے آس پاس موجود مسلمانوں اور سارے عالم کے مسلمانوں میں اسلام سے محبت روز بروز بڑھ رہی ہے اور ان کے اسلامی جذبات میں شدت آرہی ہے۔ اس سے وہ خوفزدہ اور آپے سے باہر ہوگیا ہے اور اپنے خوف اور اندر کی جلن کو چھپا نے کے لئے مسلم علماء کے ساتھ قربت اور محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ اس کا نفاق ہے تاکہ یہ علماء اس کی صف میں رہیں۔ جو لوگ اس کے نفاق سے دھوکے میں نہیں آتے وہ ان پر غضبنا ک ہو تا ہے ان کو گرفتار اور تشدد کر واتا ہے۔ وہ ان کے خلاف اپنے وحشیانہ ہتھکنڈوں کو اس وقت تک بروئے کار لاتا ہے جب تک کہ وہ اس کے ساتھ چلنے کی حامی نہ بھریں۔لیکن کیا قید وبند،تشدد اور قتل لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرسکتے ہیں ؟ہر گز نہیں۔ہاں اس سے کچھ لوگ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں ظلم اور ظالموں کوتبدیل کرنے کی آگ شعلہ زن ہی رہتی ہے۔ یہ اصرار اقرباء،ہمسایوں اور جان پہچان والوں میں دشمنی کی چنگاری کو ہوا دیتا ہے اور یہ دشمنی پھیل کر پورے ملک اور سارے اسلامی خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حزب التحریر اور دوسری مخلص اسلامی تحریکوں کے جوان زبردست صبر کا مظاہر ہ کر رہے ہیں اور ظلم اور ظالموں کو چیلنج کررہے ہیں، یہ اللہ کی مدد پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی جدو جہد کو جاری رکھیں گے۔

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:

﴿إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَاوَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ﴾

" ہم یقیناً اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی دنیا کی زندگی میں اور اس دن مدد کریں گے جب گواہ لائے جائیں گے"(غافر:51)،

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ

«إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا »

" اللہ نے میرے لیے زمین کو لپیٹا تو میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا ، میری امت کا اقتدار وہاں وہاں تک پہنچے گا جو مجھے دکھایا گیا ہے " اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔

Read more...

‏پاکستان‬ ‬ میں ‫اسلام‬ کو کچلنے کی ‫‏امریکی‬ مہم ‏ راحیل_نواز‬ حکومت اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو جاری رکھنے کے لئے امام کعبہ کے دورے کو استعمال کررہی ہے

راحیل-نواز حکومت اور بادشاہ سلمان کی سعودی حکومت، جو دونوں ہی امریکہ کی غلام ہیں، نے امام کعبہ کے دورہ پاکستان کا اہتمام کیا تا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور اسلام سے ان کی محبت کو سعودی عرب کے جابر اور پاکستان کے مجرم حکمرانوں کی حمایت کے لئے استعمال کیا جائے۔ پاکستانی سیاست دانوں میں قرآنی آیات سے مزین قالین اور قرآنی نسخے بانٹتے ہوئے امام کعبہ نے میڈیا کی توجہ کو، جو حکومت نے مہیا کی تھی، یمن کے مسئلے پر امریکی موقف کی تشہیر کے لئے استعمال کیا ۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں امریکی ایجنٹ حکمرانوں کی مدد سے لڑی جانے والی امریکہ کی اسلام کے خلاف جنگ کی بھی حمایت کی۔
کیا حکومت کو اس کام کے لئے علماء کے دوروں کا اہتمام کرنا چاہیے؟ کیا حکمران افغانستان پر امریکی قبضے ، اسلام کی تضحیک اور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی سے بے خبر ہیں؟ کیا حکمرانوں کو فلسطین کی فکر نہیں یا وہ مقدس سرزمین پر یہود کے قبضے کو جائز سمجھتے ہیں؟ کیا وہ شام اورجابر بشار کے ہاتھوں قتل ہونے والے لاکھوں مسلمانوں سے بے خبر ہیں؟تو پھر حکومت نے امام کعبہ کے دورے کو مسلم افواج کے خون کو گرمانے کے لئے کیوں استعمال نہیں کیا تا کہ وہ فلسطین کی مقدس سرزمین کی آزادی اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی تباہ کن صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے حرکت میں آئیں؟ یا پھر یہ کہ حکومت صرف واشنگٹن میں بیٹھے اپنے آقاؤں کی خوشنودی کے لئے ہی علماء کے دوروں کا اہتمام کرتی ہے اور اسلام ، جہاد اور خلافت کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو خاموش کردیتی ہے؟
یقیناً کعبہ ہمیں انتہائی عزیز ہے اور ہم اس کی زیارت کرنے کی شدید چاہت رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ہم پورے کے پورے دین پر عمل کر کے اللہ سبحانہ و تعالٰی کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم رسول اللہﷺ کی اس حدیث کو بھی یا د رکھتے ہیں جو عبداللہ بن عمر نے روایت کی کہ،


((حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَيَقُولُ : " مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ , مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ , نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا))

"میں نے رسول اللہﷺ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا یہ کہتے ہوئے، " تم کتنے شاندار ہو اور تمہاری خوشبو کتنی شاندار ہے، تم کتنے عظیم ہو اور تمہارے حرمت کتنی عظیم ہے لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے مؤمن کی حرمت اللہ کی نظر میں تمہاری حرمت سے زیادہ ہے: اس کی جان و مال (کی حرمت) اور اس کے بارے میں صرف اچھی سوچ رکھنے(کی حرمت)" (ابن ماجہ)۔


علماء اور مسلم سیاست دانوں پر لازم ہے کہ وہ سچ اور حق کا ساتھ دیں اور حکمرانوں کے موقف کو مسترد کردیں اور دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی سے خود کو محفوظ کرلیں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ حکمرانوں کا احتساب کریں ، انہیں اسلام سے نصیحت کریں اور ان کے غضب سے خوف نہ کھائیں کیونکہ وہ جو دین کا علم رکھتے ہیں یہ بات ان کے شایان شان نہیں کہ وہ اللہ سے زیادہ حکمرانوں سے خوف کھائیں۔


"اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں" (فاطر:28)


پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

حزب التحریرولایہ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت  علماء اور اسلام پسند عوام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

حزب التحریرولایہ پاکستان نےنیشنل ایکشن پلان کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے۔مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ :"نیشنل ایکشن پلان ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے بجائےعلماء اور اسلام پسند عوام کو نشانہ بنا رہا ہے" ، "پاکستان میں بدامنی امریکی ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کی وجہ سے ہے

راحیل-نواز حکومت نے پشاور آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے عظیم سانحے کو علماء اور اسلام سے محبت کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا تا کہ افغانستان میں ہونے والے جہاد کا خاتمہ اور پاکستان میں اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والی آوازوں کو کچل دیا جائے۔ واشنگٹن میں بیٹھے راحیل-نواز حکومت کے آقا اسلام کی اقتدار میں واپسی سے شدید خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ یہ دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح دنیا بھر کے مسلمان اسلام اور امت کے معاملات پر تیزی سےحرکت میں آتے ہیں  اور پاکستان کے مسلمان تواسلام کے حوالے سے کسی بھی تحریک میں  سب سے آگے ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اپنے ایجنٹوں  یعنی سیاسی و فوجی قیادت میں غداروں کو حکم دیا   کہ  ہر اس شخص کا، جو پاکستان میں امریکی راج کی مخالفت کرتا ہے اور اس کے خلاف افغانستان میں جہاد کرنا چاہتا ہے، کا پیچھا کریں ، اسے خوفزدہ کریں، گرفتار کریں یہاں تک کہ اگر اسے قتل بھی کرنا پڑے تو کر گزریں ۔

حزب واضح کردینا چاہتی ہے کہ عدم استحکام، بم دھماکے اور قتل و غارت گری کی واحد وجہ پاکستان میں امریکہ کی موجودگی ہے  اور اس کے پاکستان کا دشمن ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ جب تک پاکستان سے امریکہ کی موجودگی کے نشانات یعنی سی۔آئی۔اے اور  ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کا خاتمہ نہیں کیا جاتا،عوام پر سکون زندگی گزار نہیں سکتے۔ بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کے واقعات کے ذریعے امریکہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس کی اسلام کے خلاف جنگ دراصل ہماری اپنی جنگ ہے اور راحیل-نواز حکومت اُس کے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے پوری پوری حمایت اور معاونت فراہم کررہی ہے۔

مظاہرین  نے افواج پاکستان کے مخلص افسران سے  مطالبہ کیا کہ وہ  اللہ  سبحانہ و تعالٰی کے احکام کے مطابق نصرۃ فراہم کر کے خلافت کا قیام عمل میں لائیں تا کہ وہ ڈھال قائم ہوسکے جس کے ذریعے پاکستان و افغانستان میں موجود امریکہ کی ہر نشانی کا خاتمہ کردیا جائے گا  کیونکہ خلافت کے قیام کا منصوبہ ہی وہ واحد منصوبہ ہے جو اس خطے میں امن اور استحکام لائے گا۔

ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

 

 

Read more...

‫‏جمہوریت‬ کا خاتمہ کرو، ‫‏خلافت‬ کو قائم کرو ‫امریکہ‬ یا ‫چین‬ نہیں بلکہ خلافت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے

راحیل-نواز حکومت نے چینی صدر کے حالیہ دورے اور اس کے دوران ہونے والے معاشی عہد ناموں کے حوالے سے بہت جشن منارہی ہے۔ یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب ملک میں امریکہ کے خلاف جذبات شدید تر ین ہیں اور اس موقع کو ایسے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے امریکہ کے اثرورسوخ سے نکلنے کی زبردست کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن کمزور ارادے کی مالک اور کسی دور رس بصیرت سے محروم راحیل-نواز حکومت لوگوں کے سامنے ایک دھوکے پر مبنی متبادل سامنے رکھ رہی ہے کہ پاکستان کو امریکہ یا چین میں سے کسی ایک پر تو لازمی انحصار کرنا ہی ہے۔ درحقیت یہ سرے سے کوئی متبادل ہی نہیں ہے کیونکہ دونوں صورتیں پاکستان کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ملک ہمیشہ ایک غیر ملکی طاقت پر انحصار کرتا رہے گا اور کبھی بھی خود ایک حقیقی طاقتور ریاست نہیں بن سکے گا۔


رسول اللہﷺ اور خلافت راشدہ کے دور میں امت نے کبھی بھی مغرب و مشرق کی طاقتوں روم اور فارس کی ریاست کی جانب نہیں دیکھا تھا کیونکہ اسلام ایک عظیم نقطہ نظر فراہم کرتا ہے جو کہ دوسروں کے کندھوں کو خود کو بلند کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتا کہ جب کبھی کندھا دینے والا پیچھے ہٹ جائے تو دھڑم سے پستی پر آجائیں۔ امت کے لئے اسلام کا نظریہ ہے کہ وہ پوری انسانیت تک اسلام کی دعوت پہنچائے جس کے لیے لازمی ہے کہ ریاست خلافت دنیا کی صفِ اول کی ریاست ہو ۔ لہٰذا مسلمانوں نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور ایک طاقتور ریاست کی تعمیر کی جس نے بلاآخر اس وقت کی دو طاقتور ترین ریاستوں کو روند ڈالا جو اس سے قبل دنیا کے امور پر غالب تھیں اور ریاست خلافت کو دنیا کے امور کو چلانے والی ریاست بنا دیا۔


صرف خلافت ہی اسلام کی دعوت کو پوری انسانیت تک پہنچانے کی بہترین بصیرت کو واپس لائے گی اور اسلام کو دنیا پر غالب کردے گی۔ خلافت طاقت کے حصول کے لئے کبھی مشر ق تو کبھی مغرب کے پیچھے بھاگنے کی بجائے امت کے عظیم وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دوسری ریاستیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس سے گزارش کریں۔ توانائی کے قحط کا شکار چین بھی مشرقی ترکستان اور چین کے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ رویہ اختیار کرنے سے قبل سوچنے پر مجبور ہو جائے گا اور اس وقت کو یاد کرے گا جب وہ خلافت کی افواج کے آنے سے خوف کھاتا تھا اور مسلمانوں کو جذیہ دیا کرتا تھا۔


خلافت جس کا قیام اللہ کے حکم سے قریب ہے، غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیے بغیر مضبوط صنعتی شعبہ قائم کرے گی۔ وہ بڑے بڑے منصوبوں کے لیے درکار وسائل کے حصول کے لئے قدرتی وسائل جیسا کہ تیل، گیس اور معدنیات پر عوامی ملکیت کے اسلامی قوانین کو لاگو کرے گی جن کو اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت نجی ملکیت میں دے کر ریاست کو عظیم وسائل سے محروم کردیا جاتا ہے۔ عوامی ملکیت سے حاصل ہونے والی عظیم دولت کو تعمیراتی منصوبوں پر خرچ کیا جاے گا اور ریاست کے اہم ترین شعبوں میں غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کرنے کی پالیسی کی مکمل نفی کی جائے گی۔ صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے خلافت اس بات کو یقینی بنائے گی مسلمان ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں تا کہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست بن سکیں۔ اس طرح سے خلافت کے خاتمے کے بعد شروع کی جانے والی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے استعماری پالیسی کا خاتمہ کیا جائے گا جس کے تحت مسلم دنیا محض استعماری ممالک کو خام مال فراہم کرتے ہیں اور اس سے اشیا استعماری ممالک میں تیار ہوتی ہیں اور پھر مسلم دنیا ان اشیا کو مہنگے داموں درآمد کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔


إِنَّ اللَّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ
"اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں تبدیل کرتا جب تک کہ وہ خود اس چیز کو نہ تبدیل کریں جو کچھ اس کے اپنے نفوس میں ہے"(الرعد:11)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

‫‏پاکستان‬ میں اسلام کو کچلنے کی ‫امریکی‬ مہم ‫راحیل-نواز‬ حکومت نے ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ ‫‏سعد‬ ‏جگرانوی‬ کو قید کرلیا ہے

22 اپریل 2015 کی رات کو حکومت کے غنڈوں نے ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکی مرکزی رابطہ کمیٹی کے انتہائی معروف اور معزز سربراہ سعد جگرانوی کو قید کرلیا۔ حزب التحریرکے خلاف کی جانے والی جبر و استبداد کی ایک طویل فہرست میں یہ واقع ایک نیا اضافہ ہے۔ حکومت نے ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکے ترجمان نوید بٹ، جن کو حکومتی غنڈوں کے ہاتھوں اغوا ہوئے 11 مئی 2015 کو تین سال مکمل ہوجائیں گے، سمیت ملک بھر سے حزب کے کئی اراکین کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔


حزب التحریرنے آج 23 اپریل 2015 کو پاکستان میں اسلام کو کچلنے کی امریکی مہم ، جس کو حکومت نیشنل ایکشن پروگرام کہنے پر اصرار کرتی ہے، کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کردیا ہے۔اس مہم کے حوالے سے 23 اپریل 2015 کو جاری ہونے والے لیفلٹ میں حزب التحریرولایہ پاکستان نے کہا ہے کہ،


" اس نیشنل ایکشن پلان کے بنیادی خدوخال اس ادارے نے طے کیے ہیں کہ جس کی بنیاد امریکی ایماء پر رکھی گئی تھی۔ اس ادارے کا نام پاکستان او رامریکہ کا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسدادِ دہشت گردی و نفاذ قانون(پاکستان امریکہ جوائنٹ ورکنگ گروپ آن کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ لاء انفورسمنٹ)JWD-CTLEہے۔ اس ادارے کا پاکستان پر وسیع اور گہرا اثر ہے کیونکہ امریکہ کا دفتر خارجہ، دفتر عدل، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اس کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے ۔ جب سے اس گروپ JWG-CTLEکافروری 2002میں اعلان کیا گیا ہےاس وقت سے یہ حکمران امریکی ایجنٹوں کو اسلام ، جہاد اور خلافت کی دعوت کو کچلنے کے لیے رہنمائی فراہم کر رہا ہے، خواہ یہ مشرف کی "روشن خیال اعتدال" (enlightened moderation)ہو یا پھر موجودہ راحیل -شریف حکومت کا نیشنل ایکشن پلان ہو۔


نیشنل ایکشن پلان اور دیگر اسالیب کے ذریعے امریکہ مسلمانوں کی اسلام سے گہری وابستگی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ یہ گہری وابستگی صدیوں تک اسلام پر کاربند رہنے ، اسلام کی راہ میں جہاد کرنے اور اسلام کے قوانین کے ذریعے حکمرانی کرنے کانتیجہ ہے ۔ اسلام کی طاقت ہی وہ بنیادی وجہ تھی کہ جس کے نتیجے میں اس خطے کے مسلمان پاکستان کے قیام کے لیے حرکت میں آئے اور انہوں نے اس وقت کی عالمی طاقت برطانیہ کو برصغیر پر اپنے فوجی قبضے کو ختم کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر برطانیہ کو دوبارہ یہاں قدم رکھنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ یہ اسلام کی طاقت ہی تھی کہ جس نے ایک اور سپر پاور سوویت روس کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ افغانستان پر اپنےتسلط کا خاتمہ کرے اور اسے فوجی اور معاشی لحاظ سے بد حال کر دیا اور بالآخر اس ریاست اور اس کے نظام کا انہدام ہو گیا۔ اور اب جبکہ امریکہ بذاتِ خود اس خطے پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے تو اسلام کی یہی طاقت اس کے رستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔


پاکستان اور خطے میں امریکہ کی موجودگی کو برقرار رکھنےاور مفادات کےحصول کے لئے اسلام کو کچلنا امریکہ کی بقاء کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دوسرے اسالیب اور نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے امریکہ نے جہاد کو دہشت گردی قرار دینے اور افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف لڑنے والےمخلص مجاہدین کو ختم کرنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کو حرکت میں لے آیا ہے اور جو اپنے اس مکروہ عمل پر پردہ ڈالنے کے لئے فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر تشدد کرنے والے مجرموں کی گرفتاریوں کی تشہیر کررہے ہیں۔ امریکی ایجنٹوں نے میڈیا ، سوشل میڈیا اور سیاسی میڈیم میں بھی اسلامی تاثرات کو "نفرت انگیز تقریر"، "ریڈیکل ازم" اور "اسلام ازم" قرار دینا شروع کردیا ہے جبکہ ہزاروں مخلص علماء اور سیاست دانوں کو قید کردیا ہے جو افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف جہاد اور پاکستان میں خلافت کے قیام کی دعوت دیتے ہیں"۔


حزب التحریرافواج کو مندرجہ ذیل پیغام دیتی ہے،
اے افواج پاکستان کے افسران! موجودہ حکمران ہمارے دشمنوں کے سامنے کمزور ہوتے ہیں اور وہ نہیں کرتے جوانہیں ہر صورت فلسطین ، کشمیر، افغانستان، عراق، شام اور یہاں تک کے پاکستان کے حوالے سے کرنا چاہیے۔ لیکن مسلمانوں کے سامنے یہ بہادر بن جاتے ہیں اور اپنے غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کے تحفظ کے لئے سینہ تان کر ہر اس چیز پر حملہ کرتے ہیں جو ہمیں اسلام کی وجہ سے عزیز ہے۔ واضح طور پر یہ ہم میں سے نہیں ہیں اور ہم ان میں سے نہیں ہیں۔ تو پھر کس طرح آپ ان کی حکمرانی کو برداشت کرسکتے ہیں جبکہ یہ آپ کی طاقت اور حمایت پر انحصار کرتے ہیں؟ آپ کس طرح قبول کرسکتے ہیں کہ یہ غدار آپ کی طاقت کو کفار اور ان کے بنائے ہوئے جمہوری نظام کی حمایت کے لئے استعمال کریں؟ آپ کس طرح ان ایجنٹ حکمرانوں کو اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ اسلام اور اس کی امت پر ظلم و جبر مسلط کریں اورریاست خلافت کے تحت اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے ان کے حق کو مسترد کریں؟


اب یہ آپ پر لازم ہے کہ مشہور و معروف سیاست دان اور فقیہ شیخ عطا بن خلیل ابو الراشتہ کی قیادت میں حزب التحریرکو خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ فراہم کریں کیونکہ صرف اس کے بعد ہی اسلام کی سچائی ان مجرم حکمرانوں کے مکروہ منصوبوں کو ملیہ میٹ کردے گی۔اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،


لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
"تا کہ وہ (اللہ) حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو"(الانفال:8)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

Read more...

نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے راحیل-نواز حکومت خلافت کے قیام کی راہ میں روکاوٹ کھڑی کر کے غداری کی مرتکب ہو رہی ہے

آج 16 اپریل 2015 کی صبح ایک بجے دنیا ٹی وی سمیت تین چینلز نے بریکنگ نیوز نشر کی کہ سلمان جگرانوی کو گرفتار کرلیا ہے جس کا تعلق ایک کالعدم جماعت سے ہے اور کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت پہلا مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ جیو نیوز نے ٹِکر نشر کیا کہ حال ہی میں قائم ہونے والے کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے سلمان جگرانوی کے خلاف نفرت انگیز مواد تقسیم کرنے پر پہلا مقدمہ قائم کرلیا ہے۔

یہ بات مشہور و معروف ہے کہ حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے جس کا نظریہ اسلام ہے اور ہر رنگ، نسل، جنس اور مسلک کے لوگ اس میں شامل ہیں۔ حزب التحریر کا شائع کردہ کوئی بھی مواد کسی بھی طرح نفرت آنگیز نہیں ہوسکتا کیونکہ حزب مسلم امہ کی یکجہتی اور اس کو عملی شکل دینے کے لئے ایک خلافت کے قیام کی دعوت دیتی ہے۔اس کے علاوہ حزب اسلام اور امت مسلمہ کے مفاد کے تحفظ کے لئے حکمرانوں کا احتساب اور ان کی غداریوں کو بے نقاب کرتی ہے ۔ چونکہ حکمرانوں کے پاس اپنی غداریوں کے دفاع میں ایک بھی سچی دلیل  موجود نہیں تو اب انہوں نے سیاسی اختلاف رائے اور احتساب کو "نفرت انگیز" اور "دہشت گردی" قرار دینا شروع کردیا ہے تا کہ مسلمان رسول اللہﷺ کے اس قول پر عمل کرنا ہی چھوڑ دیں کہ بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔

سلمان جگرانوی کو نام نہاد نفرت انگیز مواد کو تقسیم کرتے ہوئے نہیں بلکہ 13 اپریل 2015 کو شام 5:30 بجے رائے ونڈ میں موجود ان کے مشہور خاندانی مطب، جگرانوی دواخانہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کی رپورٹ پولیس ہیلپ لائن 15 پر کردی گئی تھی۔ یہ حقیقت ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہےکہ راحیل-نواز حکومت کی ایجنسیوں نے اس بات کو جانتے ہوئے کہ ان کے پاس حزب کے خلاف کاروائی کرنے کا کوئی اخلاقی، قانونی اور سب سے بڑھ کر اسلامی جواز موجود نہیں جو انہوں نے ایک صریح جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔ لیکن اس بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے ایک بار پھر میڈیا کے کچھ اداروں نے اپنی اخلاقی، پیشہ وارانہ اور اسلامی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا اور حکومتی ایجنسیوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کو پھیلانے میں اپنا حصہ ڈالا جبکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،


إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا
"اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو" (الحجرات:6)۔

لیکن خبر چلانے والے میڈیا ہاوسز نے حزب سے اس خبر کی سچائی جاننے کے لیے رابطہ نہیں کیا جبکہ جگرانوی خاندان کا تو گھر ہی کئی میڈیا ہاوسز کے پڑوس میں واقع ہے۔

اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے۔ اس حقیقت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ چونکہ امریکہ خلافت کے قیام سے خوفزدہ ہے اس لیے کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے تحت پہلا مقدمہ حزب التحریر کے خلاف درج کیا گیا ہے جو خلافت کے قیام کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق صرف سیاسی و فکری جدوجہد کرتی ہے ۔ انشاء اللہ امریکہ اور راحیل-نواز حکومت خلافت کے قیام کو روک نہیں سکیں گے کیونکہ یہ رسول اللہﷺ کی بشارت ہے اور اللہ سبحانہ و تعالٰی کا وعدہ ہے کہ وہ موجودہ ظالم حکمرانوں کو ہٹائے گا۔ حزب التحریر تمام تر مشکلات کے باوجود ظالم حکمرانوں کے سامنے مضبوطی سے کھڑی رہے گی اور امت کی نظروں میں باعزت رہے گی کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں،


وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
"اور آخری کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں" (الاعراف:128)

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

یمن کا بحران یہ امریکہ ہی ہے جو راحیل-نواز حکومت کو یمن اوراِس  جیسے کسی بھی بحران میں فوجیں بھیجنے یا نہ بھیجنے کا حکم دیتا ہے

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ  منور محمد غرغاش کے بیان کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ "یہ بیان دھمکی آمیز، ناقابل قبول اور پاکستانی قوم کی توہین  ہے"۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کی جانب سے یمن کے بحران میں غیر جانبدار رہنے کی قرارداد منظور کرنے کے بعد انوار غرغاش نے پاکستان کو سنگین نتائج سے "خبردار" کیا تھا ۔ پاکستان اور اماراتی وزراء کی بیان بازی دونوں ریاستوں کی جانب سے سیاسی شعبدہ بازی ہے تا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈال سکیں۔ دونوں ممالک کے وزراء کا ہدف یمن کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی غیر واضح صورتحال کو اپنے اصل عزائم پر پردہ ڈالنے  اور استعماری ریاستوں کے مفادات کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے استعمال کرنا  ہے۔

 

یمن کا حالیہ بحران امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اس کشمکش کا نتیجہ ہے جس کے تحت دونوں اس اہم اسٹریٹیجک ملک کو اپنے اپنےحلقہ اثر میں رکھنے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں۔ برطانیہ اور اس کا ایجنٹ یمن کا صدر منصور الحادی امریکہ اور اس کے ایجنٹ حوثیوں کو اقتدار میں حصہ دینے سے انکار کررہے ہیں۔ ایک  پاور شیرنگ  معاہدے کے ذریعے حوثیوں کو اقتدار میں لانے کے لئے امریکہ نے سعودیہ کو حکم دیا کہ وہ بمباری شروع کریں تا کہ  بحران پیدا ہو  اور یمنی صدر اور اس کے آقا برطانیہ پر یمن میں پاور شیرنگ معاہدے میں شامل ہونے کے لئے دباؤ پیدا ہوسکے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے امریکہ نے خطے میں موجود اپنی ایجنٹوں کو متحرک کیا اور انہیں  مختلف کردار سونپ دیے۔ سعودیہ اور مصر  کو فوجی کردار ادا کرنے کو کہا جبکہ ایران، پاکستان اور ترکی کو "غیرجانبدار ثالث کار" کا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری دی گئی تا کہ یمن کے اقتدار کی بندربانٹ کے لئے خطے کی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے۔   اور اگر مستقبل میں امریکہ پاکستان کے کردار کو تبدیل کردیتا ہے اور اسے یمن فوج بھیجنے  اور مصر کی طرح فوجی اتحاد میں شمولیت کا حکم دیتا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ یہی حکومت اپنے امریکی آقاوں کا حکم پورا کرنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوگی اور افواج کو فوجی اتحاد میں شمولیت کے لئے بھیج دے گی۔

 

یمن کے بحران میں راحیل-نواز حکومت وہی کردار ادا کررہی ہے جو امریکہ نے اس کے لئے مختص کیا ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے مسلسل ایک سال تک لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے ہونے والی جارحیت پر کوئی بے عزتی محسوس نہیں کی تھی۔ یہ وہی حکومت ہے جو قبائلی  علاقوں میں پوری قوت کے ساتھ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑ رہی ہے اور فوجی آپریشنز اور امن مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امریکی قبضے کو مستحکم کررہی ہے۔ اور یمن کے بحران میں بھی یہ پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے آقا امریکہ کی جانب سے دیا گیا کردار ادا کررہی ہے۔ یہ امریکہ ہی ہے جو اس حکومت کو مختلف تنازعات میں فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کا حکم دیتا ہے۔

 

حزب التحریرغدار حکمرانوں کی امریکی غلامی  اور اسلام اور مسلمانوں سے غداری کی مذمت کرتی ہے۔ ہم افواج میں موجود اسلام سے محبت کرنے والے افسران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان حکمرانوں اور ان کے جھوٹ سے خبردار رہیں۔ یہ صرف امریکہ کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔ کسی بھی بحرانی صورتحال کو مخلص شخص ایک زبردست موقع کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ غدار اور بزدل ناکامی تسلیم کرلیتے ہیں۔ پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان آپ کو ایک اسلامی فوج کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ امت کو  موجودہ بحرانی  صورتحال سے نکال سکتے ہیں۔ اے بہادر اور اسلام سے محبت کرنے والے فوجی افسران! آگے بڑھو اور پاکستان کو  دوسری خلافت راشدہ کا نقطہ آغاز  بنانے کے لئے حزب التحریرکو نصرۃ فراہم کرو تا کہ تمہاری سربراہی ایک نیک خلیفہ کرے جو تمہاری قوت کو اللہ کے حکم کے  مطابق مشرق وسطیٰ کی ہیت  کو تبدیل کرنے کے لئے استعمال کرے  اور مسلمانوں کو ایک امت اور ایک ریاست  میں تبدیل کردے۔ آگے بڑھو اور حزب التحریرکو نصرۃ فراہم کرو تا کہ تم بھی وہی عزت و مقام حاصل کرو جو صلاح الدین ایوبی نے حاصل   کی تھی اورقبلا اول کو یہود کے قبضے سے نجات دلاؤ۔ اے افسران!حزب التحریرتمہیں دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جانب بلاتی ہے تو کیا تم جواب نہیں دو گے؟

يٰأَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُواْ ٱسْتَجِيبُواْ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

"اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ جبکہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی جانب بلاتے ہوں۔ اور جان رکھو کہ اللہ تعالٰی آدمی اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جیا کرتا ہے اور بلاشبہ تم سب کواللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے"(الانفال:24)۔

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

Read more...

پاکستان کو  امریکی ہیلی کاپٹروں اور اسلحے کی ترسیل کا معاہدہ امریکی اسلحہ خطے میں امریکی مفادات کو پوراکرنے کے لئے خریدا جارہا ہے


8 اپریل 2015 کو تقریباً تمام پاکستانی اخبارات نے ایک ارب ڈالر کے امریکی حملہ آور وائیپر  ہیلی کاپٹروں اور ہیل فائر میزائیلوں کی خریداری کی خبر کو شائع کیا۔  اس بات کو خود امریکی انتظامیہ نے واضح کیا کہ پاکستان کو یہ اسلحہ بیچنا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے اور امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو۔  امریکی ڈیفنس کارپوریشن ایجنسی نے اس سودے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ "یہ سودا امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے لئے سود مند ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے اس ملک کی سیکورٹی بہتر ہو گی جو جنوبی ایشیا میں امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کے لئے انتہائی اہم ہے۔۔۔۔اس صلاحیت کے حصول کے بعد پاکستان شمالی وزیرستان، فاٹا اور دیگر دوردراز  پہاڑی علاقوں میں،ہر قسم کے موسم اور دن ہو یا رات، آپریشن کرسکے گا"۔


یقیناً امریکہ پاکستان کا دشمن ہے  اور اس حقیقت کو پاکستان کے عوام اچھی طرح سے جانتے ہیں لیکن سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کو پاکستان کے مفاد میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی اس کو شش میں وہ سب سے زیادہ اس دلیل کو استعمال کرتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کی سیاسی و فوجی امداد کے بغیر بھارت کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ لیکن امریکی ڈیفنس کارپوریشن ایجنسی کا بیان یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی فوجی صلاحیت میں اضافے کا مقصد صرف امریکی مفادات کا حصول ہے۔  ماضی میں بھی امریکہ نے جب بھی پاکستان کو اسلحہ فراہم کیا ہے تو اس کا مقصد خطے میں کمیونسٹ روس کے اثرورسوخ کو روکناتھا  اور 11/9 کے بعد اسلام کے خلاف جنگ ہے۔ یہ بات بھی ہر خاص و عام جانتا ہے کہ چند سال قبل پاکستان کو فراہم کیے جانے والے F-16لڑاکا طیاروں میں امریکہ نے خصوصی کوڈز لگا رکھے ہیں تا کہ وہ جب چاہے واشنگٹن سے ایک بٹن دبا کر انہیں اپنی مرضی کے خلاف استعمال ہونے سے روک سکے۔  حالیہ اسلحے کے سودے میں بھی اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے  کہ یہ اسلحہ صرف امریکہ کی مرضی کے مطابق ہی استعمال ہو، اسی لیے 9 اپریل کو امریکی دفتر خارجہ  نے کہا کہ " ہمارے پاس  کئی ذرائع ہیں جن کے ذریعےبیچے جانے والے اسلحے کے استعمال کی نگرانی کی جاتی ہے"۔


راحیل-نواز حکومت مسلمانوں کی اس عظیم و شان فوج کو امریکی  مفادات کے حصول کے لئے استعمال کررہی ہے۔یہ حکومت  خطے میں امریکی مفادات کے حصول کے لئے پاکستان کے معاشی و فوجی وسائل کو بے دریغ استعمال کرتی ہے اور ہزاروں فوجیوں اور شہریوں کے مقدس خون کو  قربان کردیتی ہے لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لئے جہاد کرو  اور مسلمانوں کو بھارت کے ظلم وستم سے نجات دلاؤ تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران پر لازم ہے کہ وہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں  سے اس قوم کی جان چھڑائیں اور خلافت کے قیام کے لئےحزب التحریر  کو نصرۃ فراہم کریں۔ پھر خلافت مسلم افواج کی عظیم قوت کو صرف اسلام اور امت مسلمہ  کے مفاد کے لئے حرکت میں لائے گی جس کے ذریعے یہ امت اور افواج عظمت کے اس مرتبے پر فائز ہو سکیں گے جس کی یہ امت اور افواج حقدار ہیں۔ لہٰذا آپ حرکت میں آئیں اور حکمرانوں کی غداریوں کا خاتمہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ،


لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ، أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ
"قیامت کے دن ہر غدار کے لئے ایک بڑا جھنڈا ہوگا جو اس کی غداری کے مطابق بلند ہوگا۔ یقیناً حکمران کی غداری سے بڑھ کر کوئی غداری نہیں" (مسلم)


شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے ملک بھر میں یمن میں افواج کو بھیجنے  کے خلاف مظاہرے کیے مسلم افواج کو یمن نہیں بلکہ بیت المقدس  آزاد کروانے بھیجو

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے  یمن میں افواج کو بھیجنےکے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے۔مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ :" مسلم افواج کو یمن نہیں بلکہ بیت المقدس  آزاد کروانے بھیجو " ، " مسلمانوں کا اتحاد -صرف بذریعہ خلافت "۔

پاکستان کے عوام  ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ جب  کبھی اور جہاں بھی اسلام ، رسول اللہﷺ کی شان میں گستاخی ہو یا  مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہوں تو پاکستان کی مسلم افواج کو اپنی اسلامی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حرکت میں آنا چاہیے۔ لیکن یہ غدار حکمران ہی ہیں جو ہمیشہ  ایسی صورتحال میں اپنے آقا امریکہ کی جانب دیکھتے ہیں اور اس کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی صورت میں اسلامی ذمہ داری کی ادائیگی سے بچنے کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں اور پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔

حزب  یہ سوال کرتی ہے  کہ  جب یہودی وجود فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کرتا ہے تو اس وقت یہ حکمران حرکت میں کیوں نہیں آتے، مسلمانوں کا قبلہ اول پانچ دہائیوں سے یہودی وجود کے قبضے میں ہے لیکن یہ حکمران حرکت میں نہیں آتے، شام کے مسلمان چار سال سے مسلم افواج کو پکار رہے ہیں کہ ہمیں بشار کے ظلم و ستم سے بچاؤ لیکن دو لاکھ مسلمانوں کے قتل ہو جانے کے باوجود یہ حکمران حرکت میں نہیں آتے، کشمیر کے مسلمان تقریباً تین دہائیوں سے ہندوستان کے ظلم و ستم کے خلاف  جدوجہد کررہے ہیں اور لاکھوں جانوں اور ہزاروں عصمتوں کو لٹا چکے ہیں لیکن یہ حکمران حرکت میں نہیں آتے۔ لیکن جب امریکہ کا حکم آتا ہے تو یہ حکمران   یمن میں  فوجیں بھیجنے کے لئے فوراًتیارہوجاتے ہیں۔

مظاہرین  نے افواج پاکستان کے مخلص افسران سے  مطالبہ کیا کہ وہ  اللہ  سبحانہ و تعالٰی کے احکام کے مطابق نصرۃ فراہم کر کے خلافت کا قیام عمل میں لائیں تا کہ وہ ڈھال قائم ہوسکے جس کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع ہوتا ہے اور صرف خلافت کے قیام کے ذریعے ہی سے مسلم علاقوں  میں خانہ جنگی اور فتنہ و فساد کا خاتمہ  اور قبلہ اول سمیت تمام مقبوضہ علاقوں کی آزادی ممکن ہے۔
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک