الإثنين، 07 محرّم 1448| 2026/06/22
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

خلافت: ایک قطعی فرض الٰہی

"چاروں امام (ابو حنیفہ، مالک، شافعي، احمد،رحمۃ اللہ عليھم) اس بات پر متفق ہیں کہ امامت (خلافت) ایک فرض ہے اور یہ کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ایک امام (خلیفہ) کو مقرر کریں جو دین کے احکامات کو نافذ کرےاور مظلوموں کو ظالموں کے خلاف انصاف فراہم کرے ۔ چاروں امام اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں کہ ایک وقت میں ان کے دو امام (خلیفہ) ہوں، خواہ متفقہ يا متفرقہ طور پر۔۔۔"۔(چار مذاہب کی فقہ: الفقہ علی المذاھب الاربعہ 5:416)۔

یہ قول امام الجزيری کا ہے جو کہ چودھویں صدی ہجری کے معروف عالم ہیں اور ان کی رائے تقابلی فقہ میں مستند مانی جاتی ہے۔ یہاں پر انہوں نے  مختلف فقہا کاخلافت کے موضوع پر نقطہ نظر  پیش کیا ہے جو کہ وہی موقف ہے جو صحابہ رضی اللہ عنھم کے وقت سے چلا آرہا ہے۔

تمام مکتبہ فکر کے چوٹی کے علماء نے ہمیشہ خلافت کے موضوع کو انتہائی اہم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ

"شریعت کہ ضروريات میں سے ہے جسے کسی صورت چھوڑا نہیں جاسکتا"

(الغزالی، الاقتصاد فی الاعتقاد،199)،

"مسلمانوں کے اہم ترین مفادات میں سے ہے اور دین کے اہم ترین ستونوں میں سے"

(الآمدی، غايۃ المرام،366)،

"دین کے عظیم ترین ستونوں میں سے ایک عظیم  ستون ہے"

(القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، 1:265)،

"دین کے اہم ترین فرائض میں سے ہے"

(ابن تیمیہ، السیاسیہ الشریعہ، 129)،

اور "اہم ترین فرائض میں سے ایک فرض"

(الحصکفي، رد المحتار، 1:548)۔

 

باالفاظ دیگر خلافت صرف ایک فرض نہیں بلکہ اہم ترین فرائض میں سے ہے۔ یہ اسلام کا ستون ہے جسے چھوڑا نہیں جاسکتا کیونکہ اس کے بغیر اسلام جامع اور مکمل  طور پر  نافذ ہی نہیں ہوسکتا۔

 

لیکن کچھ "جدیدیت"اور "اصلاح"پسند اس نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے کہنے کہ مطابق ایک ہزار سال کا علم و فضل اس موضوع (اور اس کے ساتھ دیگر کئی موضوعات) کو صحیح نہیں سمجھ سکا اور اب وہ لوگ ہی قرآن اور سنت کی صحیح تعبیر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ ایک انتہائی بلند بانگ دعویٰ ہے جس سے صرف نظر کیا جاسکتا تھا لیکن اس معاملے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہم اس کو دلائل کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

 

ڈاکٹر غامدی ،جو اسی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ خلافت کا فرض ہونا تو دور کی بات یہ تو کوئی "دينی اصطلاح" بھی نہیں ہے۔

 

پہلے ایک اصولینقطہ۔کوئی بھی اصطلاح تین قسم کی معنوں ميں سے ایک کی حامل ہوسکتی ہے: لغوی، اصطلاحی يا شرعی۔ شرعی کا یہاں اسلامی شریعت کی طرف نسبۃ ہے۔ لھذا شاید غامدی صاحب کا "دينی اصطلاح" کہنے کا مطلب تیسری قسم کے معنی سے ہے۔صحيح طور پر اس کو شرعی اصطلاح کہہ جاتا ہے-اسے اسلامی اصطلاح بھی کہا جاسکتا ہے۔

 

لغوی معنی لوگوں کی جانب سے آتےہیں جو اصل میں ایک زبان کو پیدا کرتے ہیں جیسا کہ پرانے عرب یا یونانی۔ اصطلاحی معنی ان لوگوں کی جانب سے آتے ہیں جو کسی مخصوص شعبے سے وابستہ ہوتے ہیں جیسے فقہاء، محدثین یا طبیعات کے علماء وغیرہ مخصوص اصطلاحات روشناس کراتے ہیں۔ پھر یہ اصطلاحات انہیں شعبوں میں اپنے مخصوص معنوں میں ہی استعمال ہوتی ہیں جبکہ اسی وقت وہی اصطلاح کسی اور شعبے میں کسی اور معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر فقہ میں لفظ "سنت" کا مطلب مندوب اعمال ہے یعنی ایسے اعمال جن کا کرنا شارع کی طرف سے مطلوب ہے ليکن فرض نہیں جبکہ حدیث کے شعبے میں اس کا مطلب رسول اللہﷺ کا عمل، قولیااقرار ہوتا ہے۔

 

شرعی معنی صرف اور صرف اللہ سبحانہ و تعالٰی اور رسول اللہﷺ کی جانب سے ہوتے ہیں کیونکہ یہ معنی شریعت بتاتی ہے جس کی بنیاد وحی ہے۔ غامدی صاحب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں لیکن حیرانگیز طور پر اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ قرآن اور سنت میں لفظ خلافہ کو لغوی معنی یعنی "جاں نشین" کے علاوہ کسی اور معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ درحقیقت یہ لفظ کئی احادیث میں  محض "جاں نشینی " کے معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک مخصوص معنی میں استعمال ہوا ہے جو کہ ایک خاص قسم کی جاں نشینی ہے جس سے عرب کے لوگ اسلام سے قبل آشنا نہ تھے۔ مثال کے طور پر رسول اللہﷺ نے فرمایا  کہ ,

«كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وستكون خلفاء فتكثر» ، قالوا: فما تأمرنا؟ قال: «فوا ببيعة الأول، فالأول، وأعطوهم حقهم، فإن الله سائلهم عما استرعاهم»

"بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا، جبکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے البتہ بڑی کثرت سے خلفاء ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:تم ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کو پورا کرنا اور انہیں ان کا حق ادا کرنا کیونکہ اللہ تعالٰی ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا جو اس نے انہیں دی"(مسلم، 1842)۔

 

یہاں رسول اللہﷺخصوصاً ان لوگوں کا ذکر فرما رہے ہیں جو مسلمانوں پر حکمرانی میں خلفاء (اس کی واحد خلیفہ ہے)کی حیثیت سے  ان کے جاں نشین ہوں گے۔  یہاں پر کسی عام جاں نشینی کا ذکر نہیں ہورہا بلکہ ان جاں نشینوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ایک خاص طریقے یعنی بیعت کے ذریعے حکمران بنیں گے اور جو ایک خاص طریقے سے حکمرانی کریں گے یعنی اسلام کے مکمل اور جامع نفاذ کے زریعے۔ یقیناً حکمران ہونے کی حیثیت میں ان کا تمام تر کردار شریعت کے قوانین اور اصولوں  کے تابع ہوتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس نے اُس وقت ایک نیا طرز حکمرانی دیا  اور جس نے اُس تمام وقتوں کے لئے ایکمنفردطرز حکمرانی مقرر کيا۔ اگر رسول اللہ ﷺ کو محض حکمرانوں کے متعلق ہی بات کرنا ہوتی تو وہ لفظ "حکام"،جس کا واحد حاکم ہے، استعمال کرتے جو کہ عربی زبان میں حکمرانوں کے لئے سیدھا سادہ لفظ ہے۔

 

اسی طرح رسول اللہﷺ نے مسلمانوں پر حکمرانی کے حوالے سے آنے والے ادوار کے ذکر میں خاص لفظ "خلافہ" استعمال کیا۔ آپﷺ نے فرمایاکہ،

 

«تكون النبوة فيكم ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها إذا شاء الله أن يرفعها، ثم تكون ملكا عاضا، فيكون ما شاء الله أن يكون، ثم يرفعها إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون ملكا جبرية، فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم يرفعها إذا شاء أن يرفعها، ثم تكون خلافة على منهاج نبوة»

"تم میں نبوت موجود رہے گی جب تک اللہ چاہیں گے اور پھر اللہ اسے اٹھا لیں گے۔ پھر نبوت کے طریقے پر خلافت راشدہ ہوگی، اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہیں گے اور پھر اللہ اسے اٹھا لیں گے۔ پھر وراثتی حکمرانی ہو گی، اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہیں گے اور پھر اللہ اسے بھی اٹھا لیں گے۔ پھر جابرانہ حکمرانی کا دور ہو گااور اس وقت تک رہے گا جب تک اللہ چاہیں گے اور پھر اللہ اسے بھی اٹھا لیں گے۔ اور پھر نبوت کے طریقے پر خلافت راشدہ ہوگی"(احمد،18406)۔

 

یہاں پر یہ بات غور طلب ہے  کہ تمام ادوار حکمرانی ہی کے ادوار ہیں چاہے وہ کسی ایک قسم کے ہوں یا دوسری قسم کے لیکن ان میں کچھ ادوار کو خصوصاً خلافہ کہا گیا۔ لہٰذا خلافہ محض کسی بھی قسم کی حکمرانی کی وضاحت کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کے ایک اپنے مخصوص نظام حکمرانی کی وضاحت کرتا ہے اور یہی وہ واحد طرز حکمرانی ہے جس کی اسلام نے اجازت دی ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے صرف اس طرز حکمرانی کابيان کيا۔

لہٰذا لفظ "خلافہ" اسلامی طرز حکمرانی کو بیان کرتا ہے جس کو یہ معنی شارع نے خود دیا ہے نا کہ کسی عالم یا فقيہ نے، تاہم یہ ایک شرعی یا اسلامی اصطلاح ہے۔

 

لیکن اگر پھر بھی غامدی صاحب کی دلائل کو قبول کرلیا جائے کہ خلافہ محض مسلمانوں کی ایجاد کردہ ایک "پوليٹيکل سائنس اور سوشيالوجی کی اصطلاح ہے جیسے فقہ، کلام اور حدیث"، تو یہ سوال اھٹتا ہے  کہ اس اصطلاح کو اسلامی حکومت کے لئے کیوں نہیں قبول اور استعمال کرليتے بالکل ویسے ہی جیسے آپ نے فقہ یا حدیث کی اصطلاح کو قبول بھی کیا اور اسے استعمال بھی کرتے ہیں؟ اس خلافہ کی اصطلاح کے لئے ایک دوسرا طرز عمل کیوں اختیار کیا جائے؟ اور اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ  اس اصطلاح  کو غیر دينی ثابت کیا جائے؟

 

جہاں تک اس شرعی حکم کا بات ہے کے صرف ایک ہی خلیفہ  ہوسکتا ہے تو اس حوالے سے احادیث بالکل واضح ہيں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

«إذا بويع لخليفتين، فاقتلوا الآخر منهما»

"جب دو خلفاء کے لئے بیعت لے لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو"(مسلم،1853)۔

رسول اللہﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ،

«من أتاكم وأمركم جميع على رجل واحد، يريد أن يشق عصاكم، أو يفرق جماعتكم، فاقتلوه»

"اگر تم متحد ہو ايک بندے کے تحت اور کوئی تمہاری صفوں میں رخنہ ڈالنا چاہے یا تمہاری جماعت میں تفرقہ ڈالے تو اسے قتل کردو"(مسلم، 1852)۔

 

غامدی صاحب اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ پہلی حدیث سند کے لحاذ سے صحيح نہیں ہے جبکہ یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے جس کی ہر حدیث کو محدثين نے متفقہ طور پر "صحیح" قرار دیا ہے۔

 

اس سے بھی بڑھ کر وہ ان احادیث کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ اتفاق یا وحدت برقرار رکھنے کا یہ حکم کسی ایک مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق ہےیعنی کہ مسلمانوں کی ایک سے زیادہ ریاستیں ہوسکتی ہیں اور لازماً پھر ایک سے زیادہ حکمران  بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ  احادیث عام ہیں اور ان میں غامدی صاحب کی بیان کی گئی تشریح کی کوئی تخصیص بیان نہیں کی گئی ۔ اس کے علاوہ اُس وقت جب یہ احادیث بیان کی گئیں تو مسلمانوں کی ایک سے زیادہ ریاستیں موجود ہی نہ تھیں کہ غامدی صاحب کی بیان کی گئی تشریح ممکن بھی ہوسکے۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنھم کے ذریعے  آنے والے تمام وقتوں کے مسلمانوں سے خطاب فرما رہے تھے ۔

 

اپنی تشریح کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ڈاکٹر غامدی  اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک قول میں تبدیلی تک کردی۔  فرمایا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ، "ریاست کا صرف ایک ہی حکمران ہوسکتا ہے"، جبکہ انہوں نے جس روایت کو بیہقی کی سنن الکبری (نمبر16550) سے نقل کیا ہے اس میں "ریاست" کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ، "اس بات کی اجازت نہیں کہ مسلمانوں کے دو حکمران ہوں"، اور بالکل یہی ہمارا موقف ہے۔

 

اصولِ فقہ میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ "لام الجنس" عمومیت کی علامت ہے، اسی لئے مسلمانوں سے مراد تمام مسلمان ہیں ناکہ چند مسلمان۔ مسلمان بحیثیت مجموعی صرف ایک ہی حکمران تعینات کرنے کی مجاز ہیں جو ان کی رہنمائی کرے اور وہ حکمران خلیفہ ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر تفرقہ، تقسیم اور اختلاف لازم ہے جس کو بیان کرنے کےلئے الفاظ کی کوئی ضروت نہیں بلکہ مسلمانوں کی موجودہ صورتحال ہی اس کا بیان کرنے کے لئے  کافی ہے۔

 

غامدی صاحب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایک سے زیادہ حکمران بہت زیادہ نا اتفاقی اور تفرقے کا باعث ہوگی۔ لیکن حیرت ہے کہ انہیں مسلمانوں کے پچاس سے زائد غیر مؤثر ممالک میں تقسیم ہونے سے کوئی انکار نہیں ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ "جدیدیت" اور "اصلاح" پسندی کے پردے کے پیچھے سے پیش کیے جانے والے یہ انتہائ کمزور فکری دلائل موجودہ وقت کی سیکولر لبرل طاقت کی مرہون منت ہے۔ یہ جدیدیت اور اصلاح پسندی اسلامی شریعت کو سیکولر لبرل فکر اور موجودہ عالمی آرڈرکےچشمے سےدیکھنے کا نام ہے۔ اس فکر کے حامل افراد اسلام کو موجودہ دور کی حقیقت کو  سامنے رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اسلام کو حقیقت سے جدا گانہ طریقے سے سمجھ کر پھر اس کا اطلاق موجودہ حقیقت پر کیا جاتا ہے۔ اس طرز فکر کا نتیجہ ہے کہ یہ حضرات اُن نتائج پر پہنچتے ہیں کہ جن کو اختیار کرنے سے مقامی یا بین الاقوامی صورتحال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی بلکہ سٹیٹس کو برقرار رہتا ہے۔

 

خلافت کا تصور عالمی صورتحال اور اس کے جابرانہ ڈھانچے کو مکمل طور پر چیلنج کرتا ہے۔ یہ دنیا کے مسلمانوں کو یکجا کرنے اور ایک بار پھر اسلام کو دنیا کی امامت کے مقام پر فائز کرنے کی بات کرتا ہے جبکہ غامدی اور ان جیسے دیگر افراد اس کی مخالف سوچ رکھتے ہیں یعنی وہ اسلام کو استعمال کرتے ہوئے سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے اس عمل میں پوری طرح سے مسلسل ناکام ہیں کیونکہ امت جدید سیکولر ماڈل کی حقیقت کو جان چکی ہے جو کہ ایک ایسا نظام ہے جہاں اقلیتی اشرافیہجمھور عوام کا استحصال کرتی ہے اور امت جانتی ہے کہ خلافت اس کے بالکل الٹ چیز ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ ایک فرض الٰہی ہے اور ظلم سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ ناصرف اس کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہے۔

 

عمر علی

مسلم سیاسی کارکن، لکھاری اور عربی اور اسلام کا طالب علم

Read more...

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کا شعبہ خواتین ایک بے مثال بین الاقوامی خواتین کانفرنس بعنوان "عورت اور شریعت :حقیقت اور افسانے میں تمیز کے لیے" منعقد کررہا ہے

ہفتہ 28 مارچ 2015 کو مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کا شعبہ خواتین ایک شاندار اور بے مثال بین الاقوامی خواتین کانفرنس "عورت اور شریعت :حقیقت اور افسانے میں تمیز کے لیے"کے عنوان سے منعقد کررہا ہے۔ یہ شاندار کانفرنس مختلف براعظموں کے پانچ ممالک : فلسطین، ترکی، تیونس، اینڈونیشیا اور برطانیہ میں منعقد کی جارہی ہے جس میں دانشور خواتین شریک ہوں گی۔ یہ کانفرنس الیکٹرانک ہالز میں منعقد کی جائیں گی جنہیں ایک دوسرے سے منسلک کر دیا جائے گا جس کے نتیجے میں کسی بھی ایک مقام پر ہونے والی تقریر دیگر تمام مقامات پر براہ راست دیکھی اور سنی جاسکے گی۔ ان پانچ مقامات کے علاوہ اردن سے بھی ایک تقریر براہ راست نشر کی جائے گی۔ یہ کانفرنس دنیا بھر کے عوام کے لئے بھی براہ راست نشر کی جائے گی۔ شرکاء میں خواتین صحافی، سیاست دان، وکیل، دانشور اور مختلف تنظیموں کی نمائندگان شامل ہیں۔ یہ کانفرنس چھ ہفتے پر مشتمل ایک عالمی مہم کا اختتام ہو گی جس کے دوران ایک زبردست سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، بین الاقوامی میڈیا سے رابطہ کیا گیا اور دنیا بھر میں خواتین سے بات چیت کی گئی۔

کانفرنس میں جن موضوعات پر بات چیت کی جائے گی وہ یہ ہیں: بین الاقوامی یا شرعی قوانین کو مسلم دنیا میں خواتین کے حقوق کا تعین کرنا چاہیے؟؛ کیا اسلامی نسوانی تحریک خواتین کے مقام کو بہتر بنانے کا راستہ ہے؛ میڈیا کی جانب سے خواتین اور شریعت کے متعلق بنائے گئے تصوارت کو ختم کرنا؛ اسلام کے معاشرتی نظام کی فطرت؛ خلافت میں اسلامی قوانین کے تحت خواتین کا مقام؛ اور حقیقی سیاسی تبدیلی میں خواتین کا کردار۔ اس کانفرنس میں عالمی سطح پر مسلم خواتین میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی بڑھتی حمایت اور حزب التحریر کی خواتین کا خلافت کے قیام میں کردار پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت پر منعقد کی جارہی ہے جب کئی مسلم ممالک میں یہ بحث شدید ہوتی جارہی ہے کہ کیا خواتین کے حقوق کا بہترین تحفظ سیکولر نظام کے تحت ممکن ہے یا سلامی نظام کے تحت۔ اس کے علاوہ حالیہ سالوں میں سیکولر سیاست دانوں، نسوانی حقوق کے لئے کام کرنے والی خواتین اور لبرل میڈیا کے کچھ حصوں نے خواتین کے اسلامی لباس، مردوں کی ایک سے زائد شادیوں، وارثت کے قوانین، مرد و خواتین کے درمیان اختلاط کی ممانعت، شادی شدہ عورت کے حقوق و فرائض پر شدید حملے کیے ہیں اور انہیں جابرانہ ، ظالمانہ اور خواتین کے خلاف امتیازی بنا کر پیش کیا ہے۔ اس صورتحال نے مشرق و مغرب کے مختلف معاشروں میں بحث کے دروازے کھول دیے ہیں کہ کیا خواتین سے متعلق شرعی قوانین کو تبدیل کیا جانا چاہیے؟ سیکولر حضرات کی کئی نسلوں نے شریعت کے خلاف اس قسم کے حملے کیے ہیں جس میں جھوٹ کی زبردست آمیزش شامل ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شریعت عورت کے لیے غلامی، اس کے مقام کو گرانے اور جبر کا باعث ہے۔ ان تمام باتوں نے ایک خوف پیدا کردیا ہے کہ آنے والی ریاست خلافت میں خواتین کا کیا مقام ہوگا؟ اس کانفرنس کا یہ ہدف ہے کہ ان غلط تصورات کو مسترد اور ریاست خلافت میں اسلامی قوانین کے تحت عورت کے اصل اور صحیح مقام ، حقوق اور کردار کو واضح کیا جائے۔ یہ کانفرنس خواتین سے متعلق خاص احکامات پر لگائے جانے والے الزامات کو غلط ثابت کرے گی اور اُن بنیادوں، اقدار کو بھی بیان کرے گی جو اسلام کے معاشرتی نظام کی انفرادیت ہے اور کس طرح یہ منفرد قوانین خواتین، بچوں، خاندانی زندگی اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے خواتین کا مقام کے زیر انتظام اس ماہ ہونے والے عالمی سیشن میں عالمی رہنماوں نے 1995 کے بیجنگ علامیہ کی بیسویں سالگرہ منائی گئی جس میں انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ مرد و عورت کے درمیان برابری کے قیام کے لئے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں گے۔ ہماری کانفرنس نسوانیت اور مرد و عورت کے مابین برابری کے مغربی تصورات کو چیلنج کرے گی اور کیا یہ تصورات واقعی خواتین کو ظلم سے نجات اور ایک اچھی زندگی فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ کانفرنس اس بات پر روشی ڈالی گی کہ کس طرح رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر قائم ہونے والی ریاست خلافت راشدہ کے قوانین، نظام اور ادارے آج مسلم دنیا کی خواتین کو درپیش سیکڑوں مسائل کو کس طرح حل کرتے ہیں۔ ہم میڈیا میں موجود اُن تمام لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ عورت کے لئے ایک محفوظ، مثبت اور باعزت مستقبل پیدا کیا جائے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوں اور اس اہم کانفرنس کو رپورٹ کریں۔

ایڈیٹر حضرات کے لئے نوٹ: یہ کانفرنس ہفتہ 28 مارچ 2015 کو گرینچ مین ٹائم کے مطابق صبح 9:30 پر شروع ہو گی۔ مرد و خواتین صحافیوں کے لئے ایک پریس کانفرنس اُسی دن جکارتہ کے وقت کے مطابق شام 3:30 پر آئی پی بی انٹرنیشنل کنونشن سینٹر، ای ایف میٹنگ روم، بوٹانی اسکوائر بلڈنگ دوسری منزل، جے آئی، پاجاجارن، بوگور-جاوا بارت16127، انڈونیشیا میں ہو گی۔ کانفرنس میں صرف خواتین کو ہی شرکت کی اجازت ہوگی۔ پریس معلومات کے لئے اس ویب سائٹ سے رابطہ کرے: This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.. ۔ یہ کانفرنس www.htmedia.info پر براہ راست دیکھی جاسکتی ہے۔ مہم فیس بک صفح: https://www.facebook.com/womenandshariahA

ڈاکٹر نسرین نواز
مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر شعبہ خواتین

Read more...

سوال کا جواب شام کے حوالے سے تازہ ترین سیاسی پیش رفت

سوال :

یہ خبر شائع ہو چکی ہے کہ امریکہ اور ترکی نے نام نہاد معتدل اپوزیشن  کے عناصر کو تربیت دینے کے معاہدے پر دستخط کر دئیے۔۔۔کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ بشار کا متبادل  تلاش کر لینے کے قریب پہنچ گیاہے اور اسی لیے  وہ اس کی مدد کے لئے فضائی قوت کے ساتھ ساتھ مناسب زمینی قوت بھی تیار کر رہا ہے؟یا یہ کہ وہ معتدل عناصر کی صرف تربیت کے ذریعے  ایک دوسال تک وقت کو ٹالنا چاہتا ہے ،یہاں تک کہ  امریکہ متبادل تلاش کرلے ؟دوسرے الفاظ میں  کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ متباد ل قریب ہی ہے اور اس لیے اُس کی مدد کی تیاری کر رہا ہے، یا متبادل دور ہے  اس لیے معتدل عناصر کی تربیت کے ذریعے  متبادل کی فراہمی تک وقت کو ٹال رہے ہیں ؟اللہ آپ کو بہترین جزا دے ۔

 

جواب :

جواب کو واضح کرنے کے لیے ہم امریکی موقف  اور خطے کے ممالک کے ساتھ  اس کی سرگرمیوں کی وضاحت کریں گے:

1 - اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا تھا کہ "ہم شام میں معتدل اپوزیشن کی حمایت اس لئے کر رہے ہیں تا کہ شام کے ساتھ ساتھ ہر جگہ انتہا پسندانہ آئیڈیالوجی کے خلاف جدوجہد اور لوگوں کو اس کے خلاف کھڑا کرنے کی کوششوں کو تقویت حاصل ہو۔ان کوششوں کے لیے وقت اور توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے"۔  مزید کہا کہ "سمندر پار   بڑی تعداد میں زمینی فوج  بھیجنے کی بجائے امریکہ  جنوبی ایشیاء سے شمالی افریقہ  تک پھیلے ہوئے ممالک  کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے پر کام کررہا ہے  جو امریکہ کے لیے خطرہ  ہیں"۔ ((https://www.whitehouse.gov/the-press-office/2015/01/20/president-obamas-state-union-address-prepared-delivery 20/01/2015)

 

اس بیان سے  واضح ہو جاتا ہے کہ امریکہ خطے میں بڑی قوت بھیج کر سابقہ تجربہ دہرانا نہیں چاہتا، بلکہ خطے کے ممالک  کو استعمال کرتے ہوئے  خطے کے لوگوں کے ذریعے ہی  ایک نام نہاد معتدل  قوت تشکیل دینا چاہتا ہے جس کی وہ پشت پناہی کرے گا اور امریکی اہداف کے حصول کے لیے اس کو استعمال کرتا  رہے گا۔امریکی صدر نے  اس کو ایک سیاسی لکیر کے طور پر واضح کیا  ہے جس پر اس کے ملک کی خارجہ پالیسی گامزن  ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ خطے میں اسلام کی حکمرانی کی واپسی،اپنی بالادستی کو برقرار رکھنے اور وسائل کو لوٹنے کے لیے کوئی بڑی زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا،لیکن وہ  اسلام کے خلاف اپنی  اس جنگ میں خود مسلمانوں کو استعمال کرنا چاہتا ہے،اس لیے وہ  مخصوص امدادی کاموں یا تربیت کے لیے  یا پھر خاص آپریشنز کے لئے محدود بری فوج بھیجتا   اور  فضائیہ کے ذریعے شریک ہو تا ہے۔

 

2 - امریکہ نے نام نہاد معتدل اپوزیشن  یعنی اپنے ماتحت لوگوں کی تربیت کا فیصلہ گزشتہ سال کی گرمیوں میں ہی کر لیا تھا ، جس کا اعلان گزشتہ سال موسم خزاں میں  کیا گیا تھا۔امریکی صدر اوباما نے 13 جون 2013 کو  اس اپوزیشن کو مسلح کرنے کے لیے  خفیہ کاروائیوں  کی منظوری  دی تھی اور اس عمل  کو سی۔آئی۔اے  کے ذریعے  کروایا جانے گااور اس  کا اعلان 20 ستمبر 2014 کو یہ کہہ کر کیا کہ ،"واشنگٹن   امداد دینے کے لیے  براہ راست عملی   اقدامات شروع کر چکا ہے جس میں شام کی اپوزیشن  کی عسکری امداد بھی شامل ہے  تاہم یہ نئی کوششیں  شام  کی اپوزیشن  کے جنگجوں کی تربیت اور ان کو جنگی آلات کی فراہمی  کی گارانٹی ہیں تا کہ وہ طاقتور ہوں  اور شام کے اندر  دہشت گردوں  کا راستہ  روکیں" (اے اے پی 20 ستمبر 2014 )۔ اور " کانگریس  نے بھی 18 ستمبر 2014کو صدر اوباما کے منصوبے کی منظوری دی" ۔ امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف  جنرل مارٹن ڈیمپسی نے وضاحت کرتے ہو ئے کہا کہ "اگر  میدان جنگ کے قائدین نے  مجھ سے یا وزیر دفاع سے  عراقیوں یا شام کی نئی افواج  کی مدد کے لیے اسپیشل فورس بھیجنے کا مطالبہ کیا  اور ہمیں لگا کہ یہ ہمارے اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے  تو ہم صدر باراک اوباما سے اس کا مطالبہ کریں گے " (سکائی نیوز 5 مارچ 2014 )۔

 

امریکہ نے پہلے شام کی  صورت حال کو قابو کر نے کے لیے مذاکرات کے رستے کو اختیار کیا تھا جیسے جنیوا 1 اور 2 اور وہ اس قسم کی قوت تشکیل دینے پر مجبور نہیں ہواتھا، اسی لیے اُس نے  انقلابیوں کی نمائندگی کرنے کے لیے  اتحادی کونسل تشکیل دی  لیکن یہ  کونسل شامی عوام  میں مقبولیت حاصل نہیں کرسکی اور نہ ہی  شام میں   اس کی کوئی قوت موجود تھی،اس لیے یہ طریقہ کار ناکام  ہو گیا ۔اس ناکامی کے بعد  امریکہ نے اپنے ماتحت ایک قوت تیار کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعے  وہ ان مذاکرات کاروں کے موقف کو تقویت پہنچائےگا  جیسے یہ اصل انقلابیوں کے نمائندے ہیں۔  اسی لیے امریکہ نے ایک ایسی  معتدل شامی قوت کو تیار کرنے کے منصوبے کو قبول کیا  جس کو وہ خود تربیت دے گا تا کہ اس کے ذریعے  وہ اپنے مقصد کو حاصل کرسکے  اور اس کے ذریعے ہی اُس کے منصوبوں کو مسترد کرنے والے انقلابیوں  کے خلاف جنگ کرسکے ناکہ اس کا مقصد حکومت سے لڑنا ہوگا۔شام  کی حکومت ،  اس کے آس پاس موجود لوگ اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ تمام امریکہ کے ایجنٹ ہیں،لیکن اہل شام اور وہ انقلابی جو اس حکومت کے خلاف  اٹھ کھڑے ہوئے  وہ امریکہ کے ساتھ نہیں، بلکہ وہ اس کے خلاف ہیں، اسی لیے امریکہ   ایسی فورس اور ایجنٹ تیار کرنا چاہتا ہے جو حکومت میں تو نہ ہوں  لیکن  انہیں زمین پر ایک قوت بنا کر نئے مذاکرات   میں انقلابیوں کا نمائندہ بنا کر بٹھانا چاہتا ہے۔ وہ  شامی حکومت میں موجود اپنے موجودہ ایجنٹوں کو اس وقت تک ہٹا نا نہیں چاہتا جب تک اس کو اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ اب  کوئی اور ایسا متبادل تیار ہے جو معاملات کو قابو کرنے اور تحریک کو دبانے پر قادر ہو۔

 

3 - امریکہ  ترکی میں اپنے وفادار حکومت کے ساتھ  اس حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچ چکا ہے ۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جین ساکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ  "میں اس بات کی یقین دہانی کرا سکتی ہوں کہ ہم نظریاتی طور پر ترکی کے ساتھ اس اتفاق رائے تک پہنچ چکے ہیں کہ شامی اپوزیشن جماعتوں کو تربیت دی جائے اور ان کو مسلح کیا جائے"۔مزید کہا کہ "جیسا کہ  پہلے بھی ہم یہاں اعلان کر چکے ہیں کہ  ترکی نے اس کی حامی بھری ہے کہ وہ خطے میں  شام کی معتدل اپوزیشن  قوتوں کو تربیت دینے اور مسلح کرنے والے ممالک کے میزبانوں میں سے ایک ہو گا۔ہم  عنقریب ترکی کے ساتھ معاہدے کے انجام پانے اور اس پر دستخط کرنے کی توقع کرتے ہیں"(سکائی نیوز17 فروری 2015)۔ یہ اتفاق رائے  30 امریکی فوجی افسران پر مشتمل وفد کے  انقرہ کے دورے اور مذاکرات  کے بعد سامنے آیا  اور امریکی وزارت دفاع نے اعلان کر دیا کہ وہ  400 فوجی اپوزیشن کو تربیت دینے کے لیے سعودیہ،ترکی اور قطر بھیجے گا۔ سیکریٹری خارجہ جان کیری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا  کہ "ہماری ٹیم  سعودیوں کے ساتھ  مل کر تربیت اور مسلح کرنے کے اس پروگرام کی  تیاری کر رہی ہےاور یہ  اندازہ لگا رہی ہے کہ  ہمیں تربیت کاروں کی تیاری اور اس سے متعلقہ کن چیزوں کی ضرورت ہے "۔  چیف آف سٹاف مارٹن ڈیمپسی نے کہا تھا کہ "اس پروگرام  کی تیاری کا مرحلہ 3 سے 5 مہینے لے گا  اور شام کی معتدل اپوزیشن کے  5000 جنگجوں کی تربیت میں 8 سے 12 مہینے لگیں گے تا کہ وہ الدولۃ تنظیم سے لڑیں اور اس کے بعد بشار حکومت سے "(اناتولیہ 16 اکتوبر 2014 )۔ دفتر  خارجہ کی ترجمان ماری ہاروی نے 10 اکتوبر 2014 کو کہا  کہ، " ترکی نے معتدل شامی اپوزیشن کو تربیت دینے اور تیار کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے" (رائٹرز10 مارچ 2014 )۔  یوں خطے کے ممالک خواہ سعودیہ ہو یا ترکی یا کوئی اور  شام  کی صورت حال سے  بڑی تشویش میں مبتلا ہیں۔  خطے کے ممالک چاہتے ہیں کہ شام  کی یہ صورت حال ختم ہو کیونکہ وہ اس سے متاثر ہو رہے ہیں، اسی لیے وہ امریکہ سے تعاون کررہے ہیں،معتدل اپوزیشن  قوت تیار کرنے کی سوچ کی حمایت کررہے ہیں، ساتھ ہی مختلف شکل میں انقلابیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں اور یہ سب کچھ اس تحریک کے تمام مخلص لوگوں پر ضرب لگانے اور کسی بھی اسلامی  منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ہے۔

 

4 - اسی بنیاد پر گزشتہ مہینے ترکی اور امریکہ  نے اس پر رسمی طور پر دستخط کر دئیے۔  امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 19 فروری 2015 کو دستخط کے دن کہا  کہ "میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج شام انقرہ میں اس معاہدے پر دستخط ہو گئے"اور دستخط کرنے والے ترکی کے معاون وزیرخارجہ فریدون سینیر لی اوغلو اور انقرہ میں امریکی سفیر  جون باس تھے۔ اناتولیہ نیوز ایجنسی نے 19 فروری 2015 کو ترک وزیر خارجہ جاویش اوغلو کا یہ بیان نقل کیا کہ "دونوں ممالک پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں جس کے تحت شامی اپوزیشن کی تربیت کی جائے گی اور یہ اپوزیشن  داعش  اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ شام کی حکومت  سے لڑیں گی"۔ اس نے مزید کہا "ہم فائر بندی کو خوش آمدید کہیں گے چاہے یہ صرف چھ ہفتوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو"۔ اخبار ترکی نے 20 فروری 2015کو ترک وزیر خارجہ جاویش اوغلوا کا یہ بیان نقل کیا  کہ"اس معاہدے کا مقصد  شام  میں جنیوا اعلامیے کی بنیاد پر حقیقی سیاسی تبدیلی  کو لانا ہے اور اپوزیشن کو ان کی جنگ میں مضبوط کرنا ہے جیسا کہ انتہا پسندی، دہشت گردی اور ان تمام عناصر  کے خلاف جو اپوزیشن کے لئے خطرہ ہیں "۔  ترک وزیر خارجہ نے قطر اور سعودیہ کی جانب سے شام کی اپوزیشن  کی اپنی سرزمین پر تربیت اور تیاری کی میزبانی  کرنے  کا بھی تذکرہ کیا۔ رائٹرز نے 19 فوری 2015 کوتین امریکی عہدیداروں  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جنہوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تھی کہ " ممکن ہے کہ تربیت مارچ کے وسط میں شروع ہو  اور یہ کہ و ہ تین سال تک   ہر سال 5000 شامی جنگجوؤں کی تربیت کریں گے جو کہ شام  کی معتدل اپوزیشن  کی حمایت کے منصوبے کے مطابق ہے"۔  یوں ترک وزیر خارجہ کھل کر اعلان کرتا ہے کہ ان قوتوں کو تربیت دینے کا مقصد  جن کو وہ معتدل اپوزیشن کہتے ہیں  جنیوا کی بنیاد پر سیاسی تبدیلی  اور ان عناصر پر ضرب لگانا ہے  جو اس سیاسی تبدیل کو مسترد کرتے ہیں اور کچھ اور چاہتے ہیں۔

 

5 - پس  امریکی منصوبوں کو بے نقاب اور ان  کی مخالفت کرنے والی قوتوں  پر ضرب لگانے کے بعد ہی متبادل آئے گا جن کا زمین پر وزن موجود ہوگا اور  پھر ایجنٹ قوت کو معتدل اپوزیشن کے نام پر اُن کی جگہ لایا جائے گا۔  اس پروگرام کی تکمیل کے لیے تین سال درکار ہیں ، تب ہی متبادل تیار ہو گا۔ اس سے معلوم ہو تا ہے کہ متبادل فی الحال تیار نہیں اور اس وقت عملی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔  زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ  پہلے ان قوتوں پرضرب لگائی جائے گی جن کو وہ انتہا پسند قرار دے رہے ہیں  یا کم ازکم ان کو غیر فعال کیا جائے گا  جس سے  اُن کا اثر زائل ہو گا اوراس کے لیے انہوں نے اپنے اندازوں کے مطابق تین سال مقرر کیے ہیں،ہر سال 5000 ۔۔۔اس مہینے کےشروع میں اردوگان کا سعودیہ کا دورہ اسی سلسلے میں تھا۔  خبروں کے مطابق شام  ہی ان کے درمیان بحث کا موضوع تھا اورظاہری بات ہے کہ  بات چیت معتدل اپوزیشن  کو مضبوط  کرنے  اور آنے والے متبادل  کی حمایت کے حوالے سے تھا جو کو امریکہ نامزد کرے گا۔اخبار ترکی نے 2 مارچ 2015  کو ترک صدر کے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ "سعودی فرمانروا سلمان بن عبد العزیز نے پیر2 مارچ 2015 کو دارالحکومت کے شاہی محل میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سے ملاقات کی۔ دونوں نے شام  کی اپوزیشن کو  دی جانے والی مدد میں اضافے  کی ضرورت پر زور دیا تا کہ  اس کا اچھا نتیجہ  بر آمد ہو"۔ یعنی یہ دو نوں ممالک  سعودیہ اور ترکی جو کہ امریکہ کے وفادار ہیں معتدل اپوزیشن کی سوچ کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ دونوں     اچھے  نتائج کے لیے مل کر  ایڑھی چوٹی کا زور لگائیں گےاورایسا نہیں ہو گا جو کونسل کے ساتھ ہوا  کہ جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اورجس کی ناکامی کی وجہ سے اب اس قوت کو وجود میں لانے کی ضرورت پڑی۔ کیونکہ یہ دونوں  امریکہ کے ساتھ مل کر  یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی قوت تیار کیے بغیر جس کا زمین پر کنٹرول ہو  اور وہ یہ دعوی کرتی ہو کہ وہ انقلابیوں کی نمائندگی کر تی ہے  یہ کسی قابل ذکر حل تک نہیں پہنچ سکتے  بلکہ ناکام  ہو جائیں گے، لہٰذا اس کے بعد ہی متبادل کے موضوع پر مذاکرات ہو سکتے ہیں اور جنیوا کی طرح کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔

 

6 - امریکہ کے طریقہ کار  میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ  جن انقلابیوں کا  کنٹرول ہے، جنگ بندی کے ذریعے   ان  کے کنٹرول کا خاتمہ کیا جائے اور  اپنی منتخب قوتوں  کو مشقوں کا موقع دیا جائے تاکہ وہ  غیر معتدل "انتہا پسندوں " کو شکست دینے کے قابل ہوسکیں اور ان کی جگہ لیں۔  ساتھ ہی حکومت کے خلاف جنگ بندی سے  مختلف گروپ آپس میں  لڑیں گے جو ان کی کمزوری  اور پھر شکست کا سبب بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی منصوبے کے مطابق  لڑائی کو منجمد کرنے کے نام پر جنگ کو روکنا  ضروری ہے تا کہ   اُن کی جگہ معتدل قوتوں کو  لاکر  حکومت اور معتدل اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جاسکے۔  امریکہ نے اقوام متحدہ کے نمائندے ڈی میسٹورا  کے زبانی یہ بات کی ہے جو بنیادی طور پر اسی کا نمائندہ  اور اس کے منصوبے کا عالمبردار ہے۔ڈی میسٹورا نے دمشق کے دو روزہ دورے  کے بعد کہا  کہ"صدر اسد حل کا حصہ ہے ،میں اس کے ساتھ گفت وشنید کروں گا۔ وہ اب بھی شام  کا صدر ہے۔۔۔ اور اب بھی شام کے بڑے حصے پر شامی حکومت کا کنٹرول  ہے"۔  اس  نے کہا کہ "واحد حل سیاسی حل ہی ہے  معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں صورت حال  کا فائدہ  الدولۃ الاسلامیۃ تنظیم  کو ہو گا" (اے ایف پی 13 فروری 2015 )۔  یوں امریکہ نے ڈی میسٹورا کی زبانی بشار کے صدر ہو نے کا اعتراف کیا   اوریہ کہ اس  کے ساتھ  مذاکرات اور سیاسی حل چاہتا ہے اور اسی لیے اپنے ایجنٹ بشار کے خلاف لڑائی روکنا چاہتا ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کر تا ہے کہ  جب امریکہ ان قوتوں کو لانے کے بعد جو مذاکرات کرے گا اُن میں بشار  کے انجام کا فیصلہ ہو گا لیکن ابھی اس کی قسمت کا فیصلہ  نہیں ہوگا۔  اس لیے امریکہ جنگ رکوانے  اور اپنے ماتحت معتدل قوتوں کو  حاوی کرنے سے پہلے بشار کو گرانا نہیں چاہتا ،اس کے بعد ہی متبادل  کو پیش کیا جائے گا  اور معتدل اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات ہوں گے۔

 

7 - خلاصہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ متبادل تیار ہے اور بشار کے دن گنے جا چکے ہیں بلکہ وہ اس مرحلے میں اقتدار میں رہے گا  یہاں تک کہ مذاکرات نئے سرے سے شروع نہ ہو جائیں  اور صورت حال  کے لیے کوئی فارمولا طے  نہ کیا جائے۔ جن معتدل قوتوں کو لانے کے لیے یہ کام کر رہے ہیں  وہ  مختصر مدت میں تیار نہیں ہو سکتی  بلکہ اس میں کم ازکم ایک سال لگے گا، یعنی 5000 کو تربیت دینے کے پہلے مرحلے کے بعد ۔۔۔پھر لڑائی روک کر  ان تیار کی ہوئی قوتوں کو  اندر قدم جمانے کے قابل نہ بنا دیا جائے جس کی ابتدا  انتہاپسند تحریکوں سے مڈبیر سے ہو گی  اس کے بعد ہی  حکومت میں اپنے ایجنٹوں  اور معتدل اپوزیشن نامی اپنے ایجنٹوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کر ے گا ، یہاں پہنچ کر متبادل کی تجویز اور حکومت کی تشکیل  کے بارے میں فریقین  کے درمیان ساز باز کرائی جائے گی۔

 

یہ تو امریکہ ، اس کے پیرو کاروں کے  اور اس کے اتحادیوں  کے منصوبوں کے مطابق ہے ، یہ ان کی سازشیں اور چالیں ہیں۔۔۔ لیکن اللہ کے دین کے بھی ایسے جوان مرد ہیں جنہوں نے اپنا دن رات ایک کیا ہوا ہے، جو اللہ سبحانہ وتعالٰی کے ساتھ مخلص ہیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سچے ہیں ، اللہ  سبحانہ وتعالٰی کے  وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی خلافت راشدہ کے قیام کے بارے میں بشارت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے  تن من دھن کی بازی لگا رہے ہیں جو اس ملک جبری کے بعد ہی ہو گی جس میں آج ہم زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔ اس وقت ان لوگوں کی سازشیں اور مکر  غبار بن کر ہوا کی نظر ہو جائیں گی

 

﴿وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ﴾

" یہ تو اپنے مکر کر چکے  اور اللہ بھی ان کے مکر کو دیکھ رہا ہے اگرچہ ان کا مکر ایسا ہے کہ اس سے پہاڑ  اپنی جگہ سے ہٹ جائیں"(ابراھیم:46)۔

 

Read more...

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ "اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں"

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:«بدأ الإسلام غريباً وسيعود غريباً كما بدأ فطوبى للغرباء قالوا يا رسول الله ومن الغرباء؟ قال الذين يصلحون عند فساد الناس» "اسلام کی ابتداء اجنبی تھی اور یہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا جیسا کہ یہ اپنی شروعات میں تھا۔  انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ، یہ اجنبی کون ہیں؟  آپ ﷺ نے جواب دیا: جو اس وقت لوگوں کی اصلاح کریں گے جب ان میں خرابی پھیل جائے گی''(طبرانی )۔   اور فرمایا: ((إن الدين بدأ غريباً ويرجع غريباً، فطوبى للغرباء الذين يصلحون ما أفسد الناس من بعدي من سنتي))"بے شک دین ایک اجنبی کی طرح شروع ہوا اور یہ پھر اجنبی ہو جائے گا، پس ان اجنبیوں پر رحمت ہو جو میرے بعد میری سنت کی اصلاح کریں گے جسے لوگوں نے بگاڑ دیاہو گا''۔    بے شک  آج اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو یہ دور وہی دور ہے جس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اِن احادیث میں کیا ہے۔   دین اجنبی ہو چکا ہے،فساد اور خرابی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے،نبی کریم ﷺ کی سنت کو بگاڑاجا چکا  ہےاوراسلام کو مساجد تک محدود کر دیا گیا ہے،بلکہ کئی جگہ مساجد کے منبروں سے بھی  اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کی جا رہی  ہے۔    دوسری طرف مسلم دنیا کے حکمرانوں نے استعماری کفار کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف ایک جنگ برپا کر رکھی ہے۔  پچھلی کئی دہائی سے جاری اس جنگ کی تازہ کڑی یہ ہے کہ  پہلے جہاد کے تصور کو بدنام کیا گیا اور اب خلافت کے تصور کو داغ دار کیا جا رہا ہے۔

 

لیکن الحمد اللہ مسلم معاشروں سے اسلام کو مٹائے جانے کے احساس نے آج امت کو دوبارہ متحرک کردیا ہے۔ مسلمان اس کوشش میں ہیں کہ آج پھر سے اسلام کو زندہ کیا جائے،اسلام کے افکار پر صدیوں سے جمی ہوئی گرد کو صاف کیا جائے،اسلام کا درخت دوبارا ہرا بھرا ہو،یہ امت دوبارا بہترین امت بن کر ابھرےاور اس دین کو باقی تمام ادیان پر غالب کرے۔

تاہم یہ کام آسان نہیں ہے۔   اس رستے میں مشکلات ہیں، آزمائشیں ہیں۔اسلام کی وہ ریاست کہ جس کو تباہ کرنے کے لیے کفار نے  جنگیں لڑیں ، صدیوں تک سر جوڑ کر سازشیں کیں،وہ اس ریاست کے دوبارا ابھرنے کو ٹھنڈے پیٹ کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔  آج جو بھی اس کام کو کرنے کے لیے اٹھ رہا ہے کفار مسلم دنیا میں موجود اپنے  ایجنٹ حکمرانوں کے ذریعےانہیں مسلم معاشروں سے کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مجرم بنا کر پیش کر رہے ہیں۔     پس آج جو بھی اسلام کو دوبارا نظام اور ریاست کے طور پر واپس لانے کے لیے  کام کرے گا اسے اجنبی بننا پڑے گا۔

آج ایک حامل دعوت کو اس صورتِ حال کے لیے بھی تیار ہونا ہو گا کہ اسے ماحول کے دھارے کے خلاف چلنا ہے۔  کیونکہ وہ چیزیں جو اللہ کی نظر میں اہم نہیں انہیں اہم بلکہ زندگی کا مرکز و محور بنا دیا گیا ہے، اور وہ امور جو کہ مسلمانوں کے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں ، بے وقعت کیے جا چکے ہیں۔   یہ اس سرمایہ دارانہ نظام کا اثرہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے مسلم دنیا پر نافذ ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ ایک حامل دعوت کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب اس کے تمام دوست  اپنے مستقبل کو سنوارنے (کیرئر ) کی لگن میں جتے ہوتے ہیں ،تو وہ ان لوگوں پر اپنا وقت خرچ کر رہا ہوتا ہے، جن سے اس کی کوئی رشتے داری نہیں،کوئی دنیاوی غرض نہیں، کوئی دوستی نہیں ۔اس کے گھر والے، رشتے دار، عزیز و عقارب اسے دوسروں کی مثالیں دیتے ہیں کہ کامیاب زندگی اسے کہتے ہیں، دیکھو فلاں شخص نے کتنی تیزی سے دنیا میں ترقی کی ہے، اپنی زندگی کو مستحکم  ( settle)کیا ہے ،اب اس کا اپنا گھر ہے، نئی گاڑی ہے، اس نے  اپنے والدین کے لیے کتنی آسائشوں اور ان کےحج و عمرے کا بندوبست کیا  ہے ۔   اس کے دوست اس سے کہتے ہیں کہ تم کن کاموں میں پڑ گئے ہو، اپنی اور اپنے بال بچوں کی فکر کرو،اپنے مستقبل کی فکر کرو۔   جب ایک حاملِ دعوت یہ باتیں سنتا ہے تو اسےمحسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے احکام، اسلام کے تقاضے، رسول اللہ ﷺ کی سنت، صحابہ کے طریقے، سیرتِ نبوی، یہ سب اجنبی ہو چکے ہے۔  ایک حاملِ دعوت کو یہ اجنبیت دعوت کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور محسوس ہوتی ہے۔

 

ایک حاملِ دعوت اس اجنبی ماحول میں استقامت کی راہ سے ڈگمگانے سے  اسی صورت محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ انبیاء اورصحابہ کے واقعات پر غور و فکر کرتا رہے اور اپنے آپ کو یاددہانی کراتا رہے کہ کس طرح ان ہستیوں نے دین کے مقابلے میں دنیاوی آسائشوں کو بے وقعت سمجھا، دین و دنیا کی تجارت میں دین کا انتخاب کیا،کس طرح مجاہدینِ اسلام  نے اسلام کی سربلندی کو اپنی زندگیوں کا نصب العین بنایا۔

اور یہی وہ اجنبیت ہے کہ جس کے بدلے میں اجر ہے، وہ اجر نہیں جو کہ اصحاب الیمین کو ملے گا  بلکہ ویسا اجر جو کہ سابقون الاولون کو ملے گا، ان لوگوں کو ملے گا جو قیامت کے دن اللہ کے مقرب ہوں گے،   نور کے منبروں پر بیٹھے گے، انہیں رحمٰن کے قدموں میں جگہ دی جائے گی۔  یہ اجر ان لوگوں کو ملے گا کہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ" لا خوف علیھم ولاھم یخزنون"انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمزدہ ہوں گے"(یونس:62)۔

بے شک جو لوگ اپنی دنیا میں مگن ہیں یا پھر اس انتظار میں ہیں کہ جب دین کو فتح حاصل ہو جائے گی  اور خلافت قائم ہو جائے گی تو وہ بھی ساتھ شامل ہو جائیں گے، وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہیں جو آج کفر کی موجوں کے تھپیڑے برداشت کر رہے ہیں، ایجنٹ حکمرانوں کے قید خانوں کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے غنڈوں کے شر سے نبٹ رہے  ہیں، ان کے بنائے ہوئے کالے قوانین سے ٹکڑا رہے ہیں ،اورخلافت کے قیام کی جدوجہد میں اپنے بیوی بچوں کی قربانی دے رہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ کے دور میں بھی یہی صورتِ حال تھی ،جب باقی عالمِ عرب رسول اللہ ﷺ اور ان کے مختصر گروہ اور مشرکین مکہ کی کشمکش کو دیکھ رہا تھا۔امام بخاری نے روایت کیا ہے : " تمام عرب اپنے اسلام کے لیے فتحِ مکہ کا منتظر تھا ۔  وہ کہتے تھے کہ محمد کو اپنی قوم سے نبٹ لینے دو۔  اگر وہ غالب آ گئے تو وہ سچے پیغمبر ہیں ۔  پس جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قبیلے کے لوگ تیزی سے اسلام کی طرف لپکے"۔  لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاعلان فرمادیا:

لَا یسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قَاتَلَ ط اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِینَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَ قَاتَلُوْا

''تم میں سےجن لوگوں نےفتح سےپہلےخرچ کیااورقتال کیاوہ (بعد والوں کے) برابرنہیں۔  ان کادرجہ ان لوگوں سےکہیں بڑھ کرہےجنہوں نےبعد میں اموال خرچ کیےاورقتال کیا''(الحدید:10)۔

انشاء اللہ ایسے ہی درجات  ان لوگوں کے منتظر ہیں جنہوں نے آج اجنیبیت کی زندگی کو دنیادی آسائشوں پر ترجیح دی ہے۔

لیکن ان درجات کے کچھ لوازمات ہیں جن کے بغیر وہ اجر حاصل نہیں ہو سکتا کہ جو اس دعوت کے ساتھ منسلک ہے۔ان درجات کو حاصل کرنے کے لیے اس دعوت کے لیے ویسی ہی سرگرمی دکھانا ہو گی جو کہ ان لوگوں نے دکھائی جنہوں نے پہلی مرتبہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا، اتنا ہی سنجیدہ اور یکسو ہونا ہو گا جیسا کہ صحابہ کرامؓ تھے، ویسی ہی عادات اپنانا ہوں گی جیسا کہ صحابہؓ کی تھیں۔  کیونکہ یہی وہ گروہ ہے کہ جن کے ایمان ، ایثار اور صبر و استقامت کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تصدیق کی ہےاور ان کے متعلق کہا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں،اور ان کے متعلق گواہی دی ہے:

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَنَصَرُوا أُوْلَئِكَ هُمْ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

"اورجو لوگ ایمان لائے ، ہجرت کی ، اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں(نے مہاجرین کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی ، یہی لوگ سچے مومن ہیں ۔ ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کا رزق ہے" (سورۃ الانفال:75) ۔

 

ایک حاملِ دعوت جب اس حدیث کو پڑھتا ہے :ثم تکون خلافةعلی منهاج النبوۃ"پھر نبوت کے تقشِ قدم پر خلافت قائم ہو گی" تواسے   رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دی گئی بشارت پر خوشی ہوتی ہے اور دل میں ایک اطمینان پیدا ہوتا ہے۔   تاہم اسے  اس حدیث پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔یہ حدیث جس طرح ہمیں بتاتی ہے کہ خلافت نے دوبارہ قائم ہونا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس چیز کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے کہ یہ خلافت نبوت کے نقشِ قدم پر ہوگی۔ یعنی اس گروہ میں وہ خصوصیات ہوں گی جو اس پہلے گروہ میں تھیں کہ جس نے پہلی اسلامی ریاست کو قائم کیا تھا۔   تو پھر  ہم پر لازم ہے کہ ہم ان لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں کی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر اس اسلامی ریاست کو پہلی مرتبہ قائم کیا تھا، کہ نئی قائم ہونے والی خلافت اسی کا عکس اور اس کے نقشِ قدم پر قائم ہوگی۔  ہم ان صحابہ کی زندگی کا جائزہ لیں کہ انہوں نے دین کی دعوت کو کیا اہمیت دی تھی، ان کی صفات کیا تھیں۔   یاددہانی کے طور پرکچھ واقعات کا ذکرکرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ

فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ

"یاد دہانی مومنین کو فائدہ دیتی ہے"(الذریت:55)۔

عمرو بن جموحؓ انصاری صحابی تھے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں جد بن قیس کی جگہ پربنو سلمہ قبیلے کا سردار بنایا تھا۔  وہ ایک پاؤ ں سے معذور تھے جس کی وجہ سے وہ لنگڑا کر چلتے تھے۔  بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی ۔  آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ معذور ہیں لہٰذا آپ کے لیے اللہ کی طرف سے رخصت ہے ۔ چنانچہ وہ بدر کی جنگ میں شرکت نہ کر سکے۔  ان کے چار بیٹے تھے جو کہ بدر میں شریک ہوئے۔  معاذؓ جنہوں نے بدر کی جنگ میں ابوجہل کو اپنا ہدف بنایا تھا اور ابوجہل کی ٹانگ کاٹی تھی عمرو بن جموحؓ ہی کے بیٹے تھے۔ جب  احد کا موقع آیا تو عمرو بن جموح  نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں بھی تمہارے ساتھ جہاد میں شرکت کروں گا۔  بیٹوں نے کہا کہ آپ معذور ہیں ، اللہ کی طرف سے آپ کےلیےرخصت ہے ۔  لیکن وہ نہ مانے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بیٹے مجھے آپ کے ساتھ جانے سے روکتے ہیں۔  اور کہا: اللہ کی قسم میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اسی معذور ٹانگ کے ساتھ میں جنت کی زمین پر سیر کروںگا۔  آپ کے  اصرار پر آپ ﷺ نے بیٹوں سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: کیا حرج ہے اگر تم انہیں نہ روکو، شائد اللہ تعالیٰ ان کو شہادت نصیب فرمائے ،چنانچہ وہ جہاد کے لئے نکلے۔  چونکہ ٹانگ سے معذور تھے ،جو کہ لڑائی ، حملےاور بچاؤ میں رکاوٹ تھی، چنانچہ جلد ہی شہید ہو گئے۔   اسی غزوہ میں ان کے بیٹے خلاد بن عمرو بن جموح بھی شہید ہوئے ۔  جنگ کے بعد عمرو بن جموح کی بیوی ہندہ بنت عمرو بن حرام نے اپنے بیٹے اور شوہر کو ایک اونٹ پر ڈال کر مدینہ واپس لے جانے کا ارادہ کیا، تاکہ انہیں وہاں دفن کریں۔  مگر جب وہ مدینہ کا ارادہ کرتیں تو اونٹ بیٹھ جاتا اور جب احد کا رخ کرتی ہیں تو تیز چلنے لگتا ہے۔   انہوں نے آ کر رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ۔ آپ ﷺنے فرمایا: عمرو بن جموح نے مدینہ سے چلتے وقت کچھ کہا تھا۔ ہندہ  نے کہا ہاں انہوں نے دعا مانگی تھی:اللّٰھم لا تعد نی الی اھلی"اے اللہ مجھے  گھر والوں کی طرف واپس نہ بھیجنا"۔   آپ ﷺ نے فرمایا : اسی وجہ سے اونٹ نہیں چلتا۔ اور فرمایا: قسم ہے اس کی ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ،تم میں بعض ایسے بھی ہیں اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم کو ضرور پورا کرے ان میں سے عمرو بن جموح بھی ہیں۔

 

سبحان اللہ یہ تھے رسول اللہ ﷺ کے صحابی کہ جن کی معذوری انہیں جہاد پر جانے سے نہیں روک سکی،انہوں نے اس معذوری کو بہانہ نہیں بنایا،  چاہتے تو ایسا کر سکتے تھے۔  رسول اللہ ﷺنے عمرو بن جموح کو عبد اللہ بن عمرو بن حرام کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کیا اور فرمایا:عمرو بن جموح اور عبد اللہ بن عمرو کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو،یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محض اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے محبت کیا کرتے تھے۔  اُس وقت صورتِ حال یہ تھی  کہ شہداء کو دفن کرنے کیلئے کفن میّسر نہ تھے،اس لئے عبداللہ بن عمروؓ ایک چادر میں کفن دیا گیاجس میں چہرہ تو چھپ گیا لیکن پاؤں کھلے رہے جن پر گھاس ڈالی گئی ۔یہ قبر نشیب میں واقع تھی ۔اتفاق سے چالیس سال بعد معاویہؓ کے زمانے میں یہاں سیلاب آگیا اور وہاں سے ایک نہر نکالنی پڑی۔اُس موقع پر قبر کو عبداللہ بن عمروؓ کے بیٹے جابربن عبد اللہؓ کی موجودگی میں کھولا گیا تو دونوں کے اجسام بالکل صحیح و سالم اور تر و تازہ تھے۔بلکہ ایک روایت یہ ہے کہ اُن کہ چہرے پر جو زخم تھا اُن کا ہاتھ اُ س زخم پر رکھا ہوا تھا۔لوگوں نے ہاتھ وہاں سے ہٹایا توتازہ خون بہنے لگاپھر ہاتھ دوبارہ وہاں رکھاتو خون بند ہو گیا (طبقات ابن سعد، موطا امام مالک، کتاب الجہاد، باب الدفن من قبر واحد من ضرورۃ)۔

صحابہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ دین کی راہ میں آگے بڑھتے تھے،اپنے آپ کو پیچھے نہیں رکھتے تھےاور اس کوشش میں مشکلات اور آزمائشوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ ان کا ہر آنے والا دن اجر و ثواب کے لحاظ سے پچھلے دن سے بہتر ہو۔  بےشک آج بھی خلافت کے  قیام کے ذریعے دین کے نفاذ کی جدوجہدمحض معمول کا کام نہیں ہوگا، یہ صحابہ کی طرح دن اور رات کو ایک کرنےسے ہی ہو سکتا ہے،اس کے لیے حاملِ دعوت کو وہی تڑپ ،لگن ، اورشوق کو اپنے اندر اُجاگر کرنا ہو گا، جیسا ذوق اور شوق صحابہؓ کے اندر تھا۔غزوہ تبوک میں ہمیں اس شوق اور جنون کی ایک اور مثال ملتی ہے۔   غزوہ تبوک غزوہ عسرت بھی کہلاتا ہے، کیونکہ اس میں جنگی سامان اور سواریوں کی کمی تھی۔   رسول اللہ ﷺ نے غزوہ کے لیے تیاری کی ترغیب دی اور اس سلسلے میں صحابہ کرام ؓسے کہا کہ وہ اس کے لیے اپنا مال خرچ کریں۔  صحابہ کرام ؓنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔  تبوک مدینہ منورہ سے بہت دور تھا۔  پیدل سفر دشوار تھا اس لئے سواریوں کا انتظام کیا گیا۔  چند تنگ دست صحابہؓ جن کی تعداد سات تھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ہم جہاد میں شریک ہونا چاہتے ہیں مگر ہمارے پاس سواری نہیں ۔  آپ ہمارے لیے سواری کا بندوبست فرما دیں۔  ان کی درخواست سن کر رسول للہ ﷺ نے فرمایا:  لا اجد ما احملکم عليه"میرے پاس سواری نہیں کہ جس پر تم کو سوار کروں"۔  یہ سن کر ساتوں افراد رونے لگے  اور غزوہ میں شرکت سے محرومی پر افسوس کرتے ہوئے چلے گئے۔  ان سات لوگوں میں سالم بن عمیر بھی تھے جو کہ اصحابِ صفہ میں سے تھے۔     اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبۃ میں ان کے اخلاص اور رغبت کی گواہی ان الفاظ میں دی ہے:

 

وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ
'' اور ان لوگو ں پر بھی کوئی گناہ نہیں کہ جب وہ آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری دیں تو آپ نے کہا کہ میں تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا تو وہ اس حالت میں واپس ہوئے کہ ان آنکھوں سے آنسو رواں تھے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پارہے ہیں"(التوبۃ:92)۔

 

اسی طرح کا واقعہ حضرت ابوذر غفاری کا بھی ہے۔  تبوک کے موقع پر سخت گرمی کا موسم تھا اور اس وقت کی سپر پاور روم سے لڑائی تھی۔  منافقین کی کوشش تھی کہ کسی طرح اس جنگ میں شریک نہ ہونے کا بہانہ تلاش کیا جائے۔  اللہ نے قرآن میں منافقین کی صورتِ حال کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:وَقَالُوا لاَ تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ oفَلْيَضْحَكُوا قَلِيلاً وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ''اوراُنہوں نےکہاکہ اس گرمی میں مت نکلو۔  کہہ دیجئےکہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے کاش کہ وہ سمجھ سکتے۔ پس انہیں چاہیے کہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں بدلے میں اس کے جو یہ کرتے ہیں''(التوبہ: 81-82 )۔  اِنہی بہانہ بنانےوالوںمیں سےایک بنی سلمہ قبیلےکےجدبن قیس سےاللہ کےرسول ﷺنےپوچھاکہ'' اےجد!کیاتم بنیاصفرلڑناچاہوگے؟''  تواُسنےجوابدیا، ''اےاللہ کےرسولﷺ،آپ مجھےرہنےدیجئے،امتحان میں نہ ڈالئےمیرےسارےلوگ جانتےہیں کہ میں عورتوں کےمعاملےمیں کچاہوں،وہاںبنیاصفرکی رومی عورتیں دیکھوں گاتوخودکوروک نہ پاؤں گا''۔  آپﷺنےاُس سےمنہ پھیرلیا۔  اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی:

وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلاَ تَفْتِنِّي أَلاَ فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ

''ان میں سےکوئی توکہتاہےمجھےاجازت دیجئے،مجھےفتنےمیں نہ ڈالئے،آگاہ رہووہ توفتنےمیں پڑچکےہیں اوریقیناًدوزخ کافروں کوگھیرلینےوالی ہے''(التوبہ: 49 )۔

لیکن دوسری طرف ابوذرغفاری جیسے صحابہ کرام تھے ۔  ان کا اونٹ کمزور تھا اورسفر کے دوران سست ہو گیا۔  حضرت ابوذر غفاریؓ نے اس کو چلانے کی کافی کوشش کی مگر وہ نہ چلا۔  چنانچہ آپؓ نے اس پر سے ساز و سامان اتار کر اپنی پیٹھ پر لاد لیااور سخت گرمی کے موسم میں پیدل لشکر کے پیچھے روانہ ہو گئے یہاں تک کہ رسول اللہﷺ سے جا ملے۔

صحابہ کی دوسری نمایاں صفت دنیا سے بےرغبتی تھی۔ایک حاملِ دعوت جب لوگوں کے سامنے اس دعوت کو پیش کرتا ہے تو اسے کتنے ہی ایسے لوگ ملتے ہیں، جو کہ اس دین سے محبت کرتے ہیں، لیکن جو چیز ان کے لیے اسلامی ریاست کے قیام کے عظیم کام کا بیڑا اٹھانے میں رکاوٹ بن جاتی ہے وہ دنیا کی نعمتوں کے چھن جانے کا خوف اور مال کی محبت ہے، طرز زندگی کی فکر ہے، کاروبار میں کمی کا ڈر ہے۔بے شک آج سرمایہ دارانہ نظام سے پھوٹنے والا مادہ پرستی کا عظیم فتنہ دنیا کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔

ابو بکرؓنے اپنے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ پینے کے لیے پانی مانگا تو لوگ شہد کا شربت لائے،  آپؓ نے پیالے کو منہ لگایا اور پھر ہٹا کر رونے لگے۔  جو لوگ پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی رو پڑے۔  لوگوں نے پوچھا کہ کس چیز نے آپ کو رُلا دیا ۔  آپ نے فرمایا: ایک دن میں رسول اللہ کے ساتھ  تھا ۔ میں سے دیکھا کہ آپﷺ کسی آدمی کو دھکیل رہے ہیں،  حالانکہ کوئی شخص آپ کے پاس نہ تھا۔  میں نے پوچھا کہ آپﷺ کس کو دھکیل رہے ہیں ۔  آپ ﷺنے فرمایا: دنیا میرے سامنے مجسم ہو کر آئی تھی میں نے اس سے کہا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ وہ ہٹ گئی، پھر دوبارا آئی اور کہا آپ مجھ سے بچ کر نکل جائیں تو نکل جائیں لیکن آپ کے بعد کے لوگ مجھ سے نہیں بچ سکتے ۔  ابوبکرؓ فرماتے ہیں مجھے یہی واقعہ یاد آ گیا اور میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ دنیا مجھے چمٹ نہ جائے۔ابوبکر کس قدر فکر مند اور خبردار تھے۔  کہ ایک نعمت کی فراوانی نے انہیں فکر مند کر دیا کہ کہیں دنیا ان سے چمٹ نہ جائے۔  اور آج ہم کتنی نعمتیں کھاتے ہیں، پہنتے ہیں، استعمال کرتے ہیں، لیکن کیا ہمیں یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے؟!

 

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ بے شک ایسا نہیں تھا کہ صحابہؓ اللہ کی نعمتوں کو استعمال نہیں کرتے تھے، اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے تھے۔  عشرہ مبشرۃ میں سے دو صحابی عثمان ؓ اور عبد الرحمن بن عوف ؓ کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی۔     ابو بکرؓ اور عمرؓکے پاس قطع اراضی تھے جن پر وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے۔  اوربے شک یہ تصور درست نہیں کہ  ہر کسی کے لیے اتنا ہی ہونا چاہئے کہ جتنا کہ بس اس کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو، اور اسے آسائشوں کو حاصل نہیں کرنا چاہئے۔ اگر اسلام میں ایسا ہوتا تو پھر اسلام میں وراثت کے احکامات موجود نہ ہوتے۔  اور رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرے دولت مندی کا اسے کوئی مضائقہ نہیں (احمد)۔     مگر جس چیز سےایک حاملِ دعوت کو خبردار رہنا ہے وہ یہ ہے کہ آج جب ایک ایمان دار شخص کے لیےجائز طریقوں سے زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اس نظام نے حرام ذرائع سے دولت کے حصول کے دروازے کھول رکھے ہیں،اورحکمرانوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسیوں کو نافذ کر کے لوگوں کی  زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے، تو یہ صورتِ حال کہیں اسےگرفت میں نہ لے لے کہ اس کے بڑھتے ہوئے قدم سست پڑ جائیں، اور شیطان اس کی ترجیحات کو تبدیل کردےاوروہ دنیا کی طرف نہ جھک جائے۔   کیونکہ  رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:((يهرمابنادموی شبمنهاثنانالحرصعلی المالوالحرصعلی العمر))"آدمی بوڑھا ہوتا جاتا ہے مگر دو چیزیں اس میں جوان ہی رہتی ہیں مال اور عمر کے لمبا ہونے کی حرص"(متفق علیہ)۔    پس اسے رسول اللہ ﷺ کے ان فرمودات کو اپنے سامنے رکھنا ہے: ان لکل امة فتنة وفتنة امتی المال "بے شک ہر امت کا ایک مخصوص فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے"(ترمذی)۔   اور فرمایا:  لا الفقر اخشی علیکم و لکن اخشی ان تبسط علیکم الدنی افتنافسوهاکماتنافسوهافتهلک کمکمااھلکتهم"میں تم پر فقر کا خوف نہیں لیکن اس بات کا خوف رکھتاہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے گی اور تم اس میں ایسے ہی رغبت کرو گے جیسے پہلوں نے کی اور وہ تمہیں ایسے ہی ہلاک کرے گی جیسے پہلوں کو کیا"(بخاری)۔   اور فرمایا:

 

(( ان اخوف ما اتخوف علی امتی الهوی وطولالاملفاماالهویٰ فی صدعن الحقواماطولا لاملفی نسیا لآخرۃ))

"بے شک میں اپنی امت پر جن چیزوں کا خوف رکھتا ہوں ان میں سب سے زیادہ خوف خواہشاتِ نفس اور لمبی امیدوں کا ہے۔ خواہشات حق سے روک دیتی ہیں اور لمبی امیدیں آخرت سے غافل کر دیتی ہیں"(بیھقی)۔

اورامام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

((اثنان یکرھھماابنادمیکرہالموتوالموتخیرللمومنینمنالفتنةویکرہقلةالمالوقلةالمالاقلللحساب))

"انسان دوچیزوں کو اچھا نہیں سمجھتا حالانکہ وہ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں۔  وہ موت سے کراہت کرتا ہے حالانکہ موت مومن کے لیے بہتر ہے جس کی وجہ سے وہ فتنے سے بچ جائے گا اور وہ مال کی کمی کو اچھا نہیں سمجھتا حالانکہ مال کی کمی حساب کی کمی کا سبب ہے"۔

 

صحابہ کرام ؓ لوگوں کو بھی دنیا کی بے وقعتی کی یاددہانی کراتے رہتے تھے۔ ایک دن ابو ہریرۃ ؓ نے بازار میں جا کر لوگوں کو پکارا کہ تمہیں کس چیز نے مجبور کر رکھا ہے؟ لوگوں نے پوچھا کس چیز سے؟  آپؓ نے کہا وہاں رسول اللہﷺ کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں بیٹھے ہو۔  لوگوں نے پوچھا  : کہاں تقسیم ہو رہی ہے۔  آپؓ نے کہا : مسجد میں۔  لوگ لپک کر مسجد پہنچے۔  لیکن وہاں مال کی تقسیم کا کوئی معاملہ نہ تھا۔  انہوں نے واپس آ کر صحابی رسول سے کہا کہ وہاں تک کچھ بھی تقسیم نہیں ہو رہا، البتہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ، کچھ تلاوتِ قرآن پاک میں مشغول ہیں ، کچھ حلال و حرام پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ہیں۔  ابوہریرۃ ؓ نے فرمایا: تم لوگوں پر افسوس ہے ، یہی تو تمہارے نبی کی میراث ہے۔

دارمی نے عبد اللہ بن عمر و بن العاصؓ سے روایت کیا کہ ایک دفعہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور فقراء مہاجرین کا ایک گروہ بھی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا   کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے  اور ان میں آ کر بیٹھ گئے۔  میں ان کے پاس آیا۔  اور رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔  فقرا مہاجرین اس چیز کے ساتھ خوش ہو جائیں جو انہیں خوش کرے گی۔  وہ جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہو ں گے۔  عبد اللہ بن عمر وؓفرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے روشن ہو گئے یہاں تک کہ میں نے آروز کی کہ میں بھی انہی میں سے ہوتا۔

بیت المقدس کی فتح کے بعد جب عمرؓ نے بلاد الشام کا رخ کیا تو وہاں ان کی ملاقات حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ سے ہوئی۔  ایک دن عمرؓ نے ابو عبیدہؓ سے فرمایا کہ مجھے اپنے گھر لے چلئے۔  ابو عبیدہ نے جواب دیا  آپ میرے گھر میں کیا کریں گے  اور عمرؓ کو ٹالنے کی کوشش کی۔ لیکن عمرؓ کے اصرار پر انہیں ساتھ گھر لے آئے۔  ان کی گھر میں ڈھال ، تلوار اور اونٹ کے کجائے کے علاوہ کوئی خاص سامان نہ تھا۔    عمرؓ نے فرمایا: اے ابو عبیدہ کاش تم ضروری سامان تو فراہم کر لیتے۔  اس پر ابو عبیدہ بن جراح نے جواب دیا : ہمیں قبر تک پہنچانے کے لیے اتنا سامان ہی کافی ہے۔

یہ تھے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اور ان کا طرزِ عمل۔   آج حاملینِ دعوت کو صحابہ کرامؓ کے طرزِ عمل کو مشعلِ راہ بنانا ہے۔تبھی وہ کفر کے اژدھام کے باوجود آگے سے آگے بڑھ سکے گا۔  اورلوگوں کے لیے اس کی حیثیت  وہی  گی کہ جیسے اندھیری رات میں چراغ کی ہوتی ہے۔  اور اسلام کی سربلندی کا ہدف ان کے ہاتھوں اسی طرح پورا ہوگا جیسا کہ ماضی میں صحابہ ؓ کے ہاتھوں ہو ا۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے لکھا گیا

تحریر: افتخار احمد

 

 

Read more...

‫‏یمن‬ میں بحران افواج ‏پاکستان‬ ‫امریکی‬ سیاسی مفادات اور اُس کی کٹھ پتلیوں کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ اسلام اور خلافت کے لئے مسلم دنیامیں مداخلت کرے

سعودی عرب کی سربراہی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک پر مشتمل اتحاد نے 26 مارچ 2015 سے ثناء، عدن اور یمن کے دیگر شہروں میں بمباری کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں حوثی تحریک کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس اتحاد کو امریکہ اور یورپ کی حمایت حاصل ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سعودیہ نے پاکستان سے بھی اس فوجی آپریشن میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ سعودیہ کی جانب سے اس خواہش کے اظہار پر راحیل-نواز حکومت نے فوراً ایک اعلٰی سطحی اجلاس طلب کیا جس میں اس درخواست کا جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک اعلٰی سطحی وفد سعودیہ عرب بھیجا جائے جو صورتحال کا تجزیہ کرے۔ حکومت نے کہا کہ اگر سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان کا ردعمل سخت ترین ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بحران بھی مغربی استعماری طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے اپنے سیاسی و اقتصادی مفادات کے حصول کی کوششوں کا ہی حصہ ہے۔ یہ بحران سعودی عرب اور ایران یا سنی و شیعہ کے درمیان مسابقت کی وجہ سے نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگوں کو کہنا ہے بلکہ یہ بحران امریکہ اور یورپ کے درمیان مسابقت کا نتیجہ ہے جو اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے دور بیٹھ کر اپنی کٹھ پتلیوں کی ڈورے ہلا رہے ہیں۔


سعودی عرب، خلیجی ریاستیں ، اردن اور مصر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ یمن کے لوگوں اور اس کی قانونی حکومت کے تحفظ کے لئے مدد کو آئے ہیں۔ یہ وہی حکومتیں ہیں کہ جو پچھلے چار سالوں سےبشار کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام خاموشی سے دیکھ رہی ہیں، یہ وہی حکومتیں ہیں کہ جب یہودی وجود غزہ میں خوفناک بمباری کر کے اسکولوں اور مساجد میں پناہ لیے ہوئے مسلمانوں کو قتل کررہا تھا تو یہ مُردوں کی طرح چِت پڑے رہے اور یہ وہی حکومتیں ہیں کہ جنہوں نے امریکی آشیر باد سے ہونے والی سیسی کی فوجی بغاوت کی حمایت کی۔ اِن حکومتوں کے اس طرز عمل کے بعد کوئی احمق ہی ہوگا جو یمن کے حوالے سے ان کی فکر مندی سے متاثر ہوگا۔

اس صورتحال میں اگر راحیل-نواز حکومت اس اتحاد کا حصہ بنتی ہے تو یہ انتہائی شرمناک بات ہو گی کہ پاکستان کی افواج کو امریکی مفاد کے لئے استعمال کیا جائے ۔ وہ تمام لوگ جو اس منکر کو روک سکتے ہیں وہ اس کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور جو یہ نہیں کرسکتے انہیں اس خیانت کے خلاف آواز کو بلند کرنا چاہیے۔


یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان آرمی کو دوسرے ممالک میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ مسلم دنیا درحقیت ایک ہی ہے۔ مسلم دنیا میں موجود سرحدیں کافر استعماری طاقتوں کی قائم کردہ ہیں جس کا مقصد مسلمانوں کو تقسیم اور انہیں کمزور کرنا ہے۔افواج پاکستان کو مسلم دنیا میں مداخلت کرنی چاہیے لیکن امریکہ کے کہنے پر نہیں بلکہ یہ فیصلہ آزادانہ اور اسلام کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی جانب پہلا قدم تو یہ ہے کہ افواج پاکستان حزب التحریرکو خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ دیں۔ پھر خلافت مسلمانوں کے وسائل اور افواج کو کافر استعماری طاقتوں کے مفاد میں استعمال ہونے سے روک دے گی اور مسلم دنیا کو ان جنگوں سے نجات مل جائے گی جو ان طاقتوں کے مفادات کے حصول کےلئے ہی بھڑکائی جاتی ہیں۔ خلافت مسلم دنیا کو ایک وحدت بخشے گی جو اللہ سبحانہ و تعالٰی اور رسول اللہﷺ کا حکم ہے اور مسلمانوں کی خواہش بھی ہے۔


ولایہ پاکستان میں حزب التحریرکا میڈیا آفس

Read more...

"پریونٹ"(باز رکھنا)کا قانون محض ایک زہریلی چھاپ ہی نہیں بلکہ یہ زہریلا منصوبہ ہے جسے چیلنج کرنے کی ضرورت ہے

دارالحکومت کے سابق پولیس کمانڈرڈال بابو نے حکومت کی  انتہاپسندی کو روکنے کی پالیسی 'پریونٹ' (باز رجھنے) کی مخالفت کی اور کہا کہ اس نے  ایک زہریلی شکل اختیار کرلی ہے، جسےبرطانیہ کے مسلمان شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔  ان کا یہ تبصرہ  سنڈے ٹیلی گراف  کے اس اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا تھا جس میں سیکریٹری داخلہ تھریسامے نےانتہا پسندی  کا مقابلہ کرنے والے قوانین کی مدت میں  اضافے  کا اعلان کیا تھا  اور   جس  کا حزب اختلاف  کے عدلیہ کے معاملات کے شیڈو وزیر صادق خان نے پُرجوش خیر مقدم کیا۔  یہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ   "شدت پسندی " کا سب سے زیادہ مخالف ظاہر کرنے کے لئے اب سر کردہ پارٹیوں کے درمیان  گویا جیسے  ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔

تاجی مصطفی  ٰنے،جو برطانیہ میں حزب التحریر کے میڈیا  کے نمائندے ہیں ،نے اس خبر پرتبصرہ کرتے ہوئے  کہا کہ"یہ 'پریونٹ' کا قانون یقیناً ایک زہریلا نشان  ہے۔ صرف اس وجہ سے نہیں کہ اس کو غلط طور پر نافذ  کیا گیا یا اس کے حوالے سے  غلط فہمی ہوئی ہے ،  بلکہ یہ اپنی بنیاد سے ہی ایک ناقص اور زہر آلود  منصوبہ ہے ، کیونکہ اس کی   بنیاد ایک باطل مفروضے پر رکھی گئی ہے اور وہ یہ کہ ایک انسان جتنا زیادہ اسلام پسند ہوگا ،اتنا ہی وہ اندرونی طور پر خطرےکا باعث ہو سکتا ہے"۔

"یہ قانون اس مفروضے پر نافذ کیا گیا کہ ایسے  لوگ جو اسلامی اقدار کے حامل ہوتے ہیں یا ریاست  کے نقطۂ نظر کے برعکس  سیاسی رائے رکھتے ہیں، یہی لوگ مشکوک تصور کئے جائیں گے ،چنانچہ ریاست کو چینل پروگراموں کے ذریعے دوبارہ پروگرامنگ کی ضرورت ہے"۔

"اس قانون  میں جان بوجھ کر خارجہ پالیسی کو کلی طور پر نظر انداز کیا گیا ، جب کہ  برطا نیہ کے اندر تشدد کی کاروائیوں کا  خارجہ پالیسی کے ساتھ تعلق  ثابت شدہ ہے"۔

"یہ وہ  پالیسی ہے جس میں  سیاسی اور مذہبی  عقائد  سے نبٹنے کے لئے سیکورٹی  وجوہات  کو دلیل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔  یہ اُس وقت  ہی واضح ہوگیا تھا   جب دسمبر 2014 میں  پولیس چیف سر پیٹر فاہی نے کہا تھا کہ  مجھے خدشہ ہے کہ  پولیس "افکار کی نگرانی کرنے والی پولیس" میں تبدیل ہوجائے گی"۔

"یہ وہ پالیسی ہے جو اکثر جابر ریاستوں میں نظر آتی ہے۔ فاہی نے اپنے  اسی تبصرے میں اشارہ کیا تھا کہ کیونکہ  شدت پسندی کی باریکی سے تعریف نہیں کی گئی تھی  لہٰذا پولیس اپنے طور پروضع کردہ مخصوص تعریفوں کی بنیاد پر کام کرتی رہی۔ اس نے مزید  اپنے خدشات کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ   یہی "پولیس اسٹیٹ" کی طرف بڑھنے کاراستہ ہے"۔

"دہشت گردی کی روک تھام کا موجودہ قانون اور سیکورٹی ایکٹ نے فکری پولیسنگ کا  کام کرنے کی ذمہ داری  استادوں ، نرسری ورکرز، صحت کے شعبےمیں کام کرنے والوں  اور یونیورسٹیوں  پر ڈالی ہے۔   یہ پالیسی 1950 کی میک کارتھیسیزم  کی یاد دلاتی ہے،  بلکہ مشرقی جرمنی کے سٹاسی قوانین کی یاد دلاتی ہے"۔

"حزب التحریر کو اس بات کا احساس  ہے کہ   مسلم کمیونٹی اور بالعموم پورے معاشرے کے سامنے ان   ناپاک ، بے وقعت اور ناقص  ہتھکنڈوں  کو مسلسل بے نقاب کرنا واجب ہے ، اور ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم ایسا ہی کرتے رہیں گے   جیسا کہ ہم  ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کرتے چلے آرہے ہیں"۔

برطانیہ میں حزب التحریر کا  میڈیا آفس

Read more...

‫چین‬ کا ‫افغانستان‬ میں کردار ‫‏راحیل_نواز‬ حکومت ‫‏امریکی‬ ایما پر افغانستان میں چین کے کردار کی حمایت کررہی ہے


16 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں صلح صفائی اور معاشی تعمیر و ترقی کے لئے چین کے کردار کی حمایت کی۔ حزب التحریرراحیل-نواز حکومت کی جانب سے دور اندیشی سے عاری اس پالیسی کو مسترد کرتی ہے جس کے تحت اُن غیر ملکی طاقتوں سے قوت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کی مسلمانوں سے دشمنی ثابت شدہ ہے اور یہ خصوصیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام پانچ مستقل ارکان امریکہ،برطانیہ، فرانس، روس اور چین میں پائی جاتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں اس پالیسی کو اختیار کرنا جب پوری مسلم دنیا اور کئی غیر مسلم اقوام بھی ان پانچ استعماری غنڈوں کے گروپ سے تنگ آئی ہوئی ہیں اور انصاف پر مبنی ایک عالمی قیادت کی شدت سے منتظر ہیں، حکمرانوں کی محدود سوچ و نظر کی واضح مثال ہے۔
پچھلے چند مہینوں سے راحیل-نواز حکومت بہت زرو شور سے افغانستان میں چین کے کردار کی حمایت کررہی ہے تا کہ خطے میں امریکہ کو فراہم کی جانے والی غدارانہ حمایت پر پردہ ڈالا جاسکے کیونکہ اِن کے اس عمل کو پاکستان کی عوام اور افواج پاکستان انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد امت کو یہ دھوکہ دینا ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار پاکستان و افغانستان سےامریکی اثرورسوخ کو کم کرنا چاہتے ہیں اوراسی لئے چین کو امریکہ کی جگہ لینے میں مدد فراہم کررہے ہیں ۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہوسکے گا اور اس بات کو جاننے کے لئے پاک چین تعلقات کی تاریخ جاننا ہی کافی ہے۔ پچھلے پینتالیس سالوں سے پاکستان کے چین کے ساتھ قریب ترین سیاسی، معاشی اور فوجی تعاون اور تعلقات کے باوجود پاکستان میں آج بھی امریکی اثرو رسوخ سب سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سفیر تو پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں سے سب سے زیادہ ملاقاتیں کرتا اور انہیں احکامات دیتا نظر آتا ہے لیکن چین کے سفیر کا کہیں ذکر تک نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ پچھلی تقریباً نصف صدی میں دنیا کی کسی ریاست کو لندن، واشنگٹن، پیرس، بیجنگ یا ماسکو کی کاسہ لیسی کرنے سے دنیا کی طاقت بنے میں کبھی کوئی مدد نہیں ملی۔ یقیناً پانچ کے اس کلب کا کردار استعماری ہے جو کسی دوسری قوم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان کے مقام کے قریب آسکیں۔


راحیل-نواز حکومت نے کبھی بھی امریکی مفاد کی مخالفت کرنے کی ہمت نہیں کی ہے۔ یہ حکومت افغانستان کے امور میں چین کے کردار کی حوصلہ افزائی اس لئے کررہی ہے کیونکہ اس حوالے سے امریکہ اور چین کے مفادات یکجا ہیں۔ افغانستان معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق وہاں ایک کھرب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔ چین کی نازک لیکن تیز رفتارمعاشی ترقی کے لئے یہ معدنی ذخائر انتہائی اہم ہیں، لہٰذا چین افغانستان پر امریکی قبضے کے تسلسل کی حمایت کرتا ہے کیونکہ مشرقی ترکستان (سنکیانگ) میں خوفناک چینی جبر کے خلاف لڑنے والے ایغوری مسلمانوں کو افغانستان کی پٹی واخان میں موجود مسلمانوں کی حمایت میسر ہے۔اسی لئے چینی وزیر خارجہ ،وانگ یی نے 22 فروری 2014 کو اپنے کابل کے دورے میں کہا کہ "اس ملک میں امن اور استحکام کا مغربی چین پر اثر ہو گا، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس سے پورے خطے میں استحکام اور ترقی ہو گی"۔
حزب التحریرپاکستان و افغانستان کے مسلمانوں پر واضح کردینا چاہتی ہے کہ خلافت کے بغیر ، جس کے ذریعے آپ وہ طاقت حاصل کرسکتے ہیں جس کے آپ حق دار ہیں، موجود قیادت میں موجود غدار ہمیشہ انہیں دشمن اقوام کے رحم کرم پر چھوڑتے رہیں گے۔ خلافت مسلمانوں کے علاقوں اور افواج کو یکجا کرے گی ، اسلام کے نفاذ کے ذریعےعظیم قدرتی وسائل کو امت کے مفاد میں استعمال کرے گی اور خطے سے امریکہ سمیت تمام غیر ملکی طاقتوں کے اثرورسوخ کا خاتمہ کرے گی۔ اس کے علاوہ انشاء اللہ خلافت بہت جلد بہت ساری غیر مسلم اقوام کی لئے روشنی کا مینار بن جائے گی جن کی مسلمانوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے، جو خود اِن استعماری طاقتوں کے ظلم و ستم سے تنگ آئی ہوئی ہیں۔ یہ غیر مسلم اقوام دوسری خلافت راشدہ سے معاہدے کرنا چاہیں گی اور ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے جس کے نتیجے میں بل آخر وہ اسلام میں داخل ہوجاتی تھیں۔


وَلاَ تَرْكَنُوۤاْ إِلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنْ أَوْلِيَآءَ
"اور تم ظالم لوگوں کی طرف مت جھکو، ورنہ تمہیں جہنم کی آگ چھو لے گی اور اللہ کے علاوہ تمہارا کوئی مدد گار نہیں ہوگا"(ھود:113)


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

تفسیر سورۃ البقرۃ 120 تا 123

وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنْ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمْ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمْ الْخَاسِرُونَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ وَاتَّقُوا يَوْمًا لاَ تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلاَ يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَ تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ.

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان آیات میں فرماتے ہیں:

1-      بے شک یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی بھی خوش نہیں ہوں گے ،جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہ کریں، چونکہ یہ نہیں ہوگا،کیونکہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین یا ملت تو اللہ کو منظور ہی نہیں،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِينَ ) "جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں ۔"(آل عمران:85)  إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ ( آل عمران:19 ) "بے شک (معتبر )دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے"۔  اس لئے ان یہودیوں اور نصاریٰ کو یہ جان لینا چاہئے کہ ہدایت وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ۔  ان کے موجودہ دین کی اتباع ہدایت نہیں ،جیسا کہ ان کا خیال ہے۔  ان کا دین تو تحریف شدہ  دین ہے اور اس کے اندر بے تحاشا تغیر ات اورتبدیلیا ں کی گئیں ہیں اور اس میں تحریف ہونے کے بعد یہ  ملت ِکافرہ بن چکے ہیں۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ(لئن) لا کر رسول اللہ ﷺ کو قسمیہ انداز میں آگاہ کرتے ہیں، کیونکہ اس میں لام قسمیہ ہے،  آگاہی یہ  دیتے ہیں  کہ خبر دار! اگر تو  نے ان کی خواہشات کی پیروی کی  تو پھر آپ ﷺ کا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا جو اللہ کے عذاب سے بچاؤ فراہم کرے۔   یہ انداز اس بات پر دلالت کرتا ہے  کہ ان کی ملت ،ان کے دین کی حقیقت ، جس کو یہ لوگ بزعم ِخویش ہدایت سمجھے ہوئے ہیں ، بس اتنی ہے کہ یہ ان کی خواہشات ہیں اور حق سے انحراف ہے۔

 

2-       اس کے بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ بتاتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ  میں سے جو لوگ صحیح طور پر اپنی کتابوں کی اتباع کرتے ہیں اور ان کے اندر کوئی تحریف نہیں کرتے ، یہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر بھی ایمان رکھتے ہیں کیونکہ آپ کا ذکر ان کی کتابوں میں کیا گیا ہے ،اوریہی وجہ ہے کہ  آپ ﷺ کے منکرین دنیا وآخرت میں گھاٹا پانے  والوں میں سے ہوں گے۔

( يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ ) یعنی اس کی ایسی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے،جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ (وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاَهَا ) "اور (قسم ہے ) چاند کی جب وہ اس کے پیچھے پیچھے آئے" ( الشمس:2) یعنی سور ج کے پیچھے پیچھے،یا جیسے کہا جاتا ہے کہ ما زلت اتلو اثرہ ،یعنی  میں برابر اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔

 

3-      پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ بنی اسرائیل کے قصے کا اختتام  بھی اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ اس کا آغاز کیا تھا ۔  اس کا سبب ان کے گناہوں کی عادت تھی۔ اس لئے فرمایا  (يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِي ....)یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت  (وَاتَّقُوا يَوْمًا لاَ تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا .... ) کی دلالت پر ہم نے بنی اسرائیل سے متعلقہ آیات کے شروع میں بات کی تھی ،اس لئے اُسی پر یہاں بھی اکتفا کرتے ہیں اوراس کا اعادہ  کرنے کی ضرورت نہیں۔

Read more...

نیشنل ایکشن پلان‪ امریکی ایکشن پلان ہے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا مقصدنیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدارثابت کرنا ہے

راحیل_نواز‬ حکومت نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن نیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدار ثابت کرنے کے لئے شروع کیا ہے۔ حکومت نے یہ ایکشن اس لئے شروع کیا ہے تاکہ امت کو دھوکہ دیا جاسکے کہ امریکی تحریر کردہ نیشنل ایکشن پلان خصوصاًاُن لوگوں کے خلاف نہیں ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے اسلام کی ترویج اور نفاذ کی کوششوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن کا بنیادی مقصد کراچی میں مسلح جرائم پیشہ افراد یا امریکی جاسوسوں اور قاتلوں کے گرفتاری کے ذریعے امن کا قیام نہیں بلکہ اسلام کے خلاف امریکی جنگ کو غیر جاندار ثابت کر کے عوام کا اعتماد جیتنا ہے۔
جب سے نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ شروع ہوا ہے حکومت کی ایجنسیوں نے ملک بھر سے چوبیس ہزار آٹھ سو چوالیس(24844) چھاپوں میں پچیس ہزار آٹھ سو چھیانوے(25896) افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تین ہزار نو سو چھ(3906) افراد کو پولیس نے لاوڈ اسپیکر کے قانون کی خلاف ورزی میں گرفتار کیا اور ان میں سے دو ہزار آٹھ سو چوہتر(2874) افراد کو صرف پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ نفرت پھیلانے والی تقاریر کرنے کے الزام میں سات سو سینتیس (737)مقدمات قائم کیے گئے اور اسی الزام کے تحت سات سو پینتالیس(745) افراد کو گرفتار اور انہتر (69)دکانوں کو بند کردیا گیا۔اس کے علاوہ مدارس میں غیر ملکی طلبہ کے داخلے اور مدارس کے لئے بیرون ملک سے آنے والے چندوں، چاہے وہ انفرادی ہوں یا کسی ریاست کی جانب سے،پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔


اس صورتحال نے مذہبی جماعتوں اور علماءکرام میں شدید بے چینی پیدا کردی اور انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اِن تمام اقدامات کا ہدف صرف مذہبی لوگ ہیں جبکہ سیکولر و قوم پرست جماعتوں اور ان کے مسلح دستوں کو کھلی چھوٹ فراہم کی گئی ہوئی ہے۔ 2 مارچ 2015 کو اتحادِ تنظیماتِ مدارس، جو کہ پانچ مذہبی اداروں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے،نے مدارس کے خلاف حکومتی اقدامات کو سختی سےمسترد کردیا ۔ انہوں نے حکومت کے "غیر آئینی" اقدامات کی حمایت کرنے سے بھی انکار کردیا کیونکہ وہ استعماری طاقتوں کے منصوبوں کی پیروی کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اسلام کے خلاف امریکہ اور مغرب کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت علماءکرام کی گرفتاریوں اور مساجد میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کے ذریعے انہیں ہراساں کررہی ہے اور اس طرح اسلام کے خلاف منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے سربراہ نے یہ کہا کہ صرف مدارس کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اِن پر چھاپوں کا سلسلہ ایک دن کے لئے بھی روکا نہیں گیا ہے۔


نیشنل ایکشن پلان سے نہ صرف علماء میں شدید ردعمل پیدا ہوا بلکہ پاکستان بھر کے لوگوں میں بھی اس کے خلاف نفرت پیدا ہونی شروع ہوگئی۔ اس قسم کا غصہ حکومت اور واشنگٹن میں بیٹھے ان کے آقاوں کی اسلام کے خلاف جنگ کے لئے خطرناک ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے تا کہ نیشنل ایکشن پلان کو غیر جانبدار ثابت کیا جائے اور یہ کہا جاسکے کہ نیشنل ایکشن پلان تمام قسم کے مجرموں کے خلاف ہے جیسا کہ وزیرِ اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے ساتھ ہی یہ بیان دیا کہ "کوئی مجرم چاہے کسی مدرسے میں ہو یا کسی سیاسی جماعت کے آفس میں، اسے گرفتار کیا جائے گا اور اگر اس دوران کوئی بھی روکاٹ سامنے آئی تو اسے ہٹا دیا جائے گا"۔


درحقیقت ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ایک دھوکہ ہے۔ اگر یہ حکومت لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں سنجیدہ ہوتی تو اس نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کو بند کیا ہوتا جو کراچی اور اس سے بھی آگے بلوچستان تک لسانی و فرقہ وارانہ نفرتوں کو پھیلانے کا مرکز ہے۔ حکومت نے ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک کے امریکی جاسوسوں کو گرفتار کیا ہوتا جو بم دھماکوں اور قتل و غارت کی وارداتوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورا پاکستان بدامنی اور افراتفری کی لپیٹ میں ہے۔ اور اگر یہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو اس نے تمام امریکی سیاسی و فوجی اہلکاروں کو ملک سے نکال دیا ہوتا جو پاکستان کی قیادت میں موجود غداروں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں احکامات جاری کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ اگر یہ تمام اقدامات اٹھائے جاتے اور عدم تحفط کے سانپ امریکہ کا سر کچل دیا گیا ہوتا تو یہ حکومت حقیقت میں لوگوں کی عزت اور تعریف کی مستحق ہوتی۔ لیکن سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار کبھی بھی یہ اقدامات نہیں اٹھائیں گے اور اس طرح پاکستان اور خطے کے عوام کوان غدار حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ایک مستقل امن اور استحکام دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔ صرف خلافت ہی اِن ضروری اقدامات کو اٹھائے گی ، مسلمانوں کے علاقوں کو تحفظ فراہم کرے گی اور انہیں بیرونی دشمنوں کے وجود سے پاک کردے گی۔


ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

عالمی سیاست اور بیدار امت

الم . غُلِبَتِ الرُّومُ . فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ‏.‏ فِي أَدْنَى الأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ . فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ } [الروم‏:1‏ ـ4].‏

 

حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں  لکھتے ہیں کہ یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ نیشاپور کا شاہ فارس بلاد شام اور جزیرہ کے آس پاس کے شہروں پر غالب آگیا اور روم کا بادشاہ ہرقل تنگ آکر قسطنطیہ میں محصور ہوگیا۔ مدتوں محاصرہ رہا آخر پانسہ پلٹا اور ہرقل کی فتح ہوگی۔ مفصل بیان آگے آرہا ہے۔ مسند احمد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی اور مشرکین نے اس پر بہت خوشیاں منائیں۔ اس لئے کہ جیسے یہ بت پرست تھے ایسے ہی فارس بھی ان سے ملتے جلتے تھے اور مسلمانوں کی چاہت تھی کہ رومی غالب آئیں اس لئے کم از کم وہ اہل کتاب تو تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب یہ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا رومی عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ صدیق اکبر نے مشرکین کو جب یہ خبر پہنچائی تو انہوں نے کہا آؤ کچھ شرط بدلو اور مدت مقرر کرلو اگر رومی اس مدت میں غالب نہ آئیں تو تم ہمیں اتنا اتنا دینار دینا اور اگر تم سچے نکلے تو ہم تمہیں اتنا اتنا دیں گے۔ پانچ سال کی مدت مقرر ہوئی وہ مدت پوری ہوگئی اور رومی غالب نہ آئیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خدمت نبوی میں یہ خبر پہنچائی آپ نے فرمایا تم نے دس سال کی مدت مقرر کیوں نہ کی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں قرآن میں مدت کے لئے لفظ بضع استعمال ہوا ہے اور یہ دس سے کم پر اطلاق کیا جاتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ دس سال کے اندراندر رومی پھر غالب آگئے ۔

 

ان قرآنی آیات میں اللہ سبحان و تعالیٰ عالمی سیاست کو موضوع بنارہے ہیں اور یہ بحث  بھی ایسے موقع پر کی جارہی ہے جب  کفر کاغلبہ ہے۔  پھر بھی صحابہ عالمی سیاست پر کفار سے بحش و مباحثے میں مصروف ہیں اور آپ ﷺ اس معاملے میں بھی اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ  کی اسلام سے رہنمائی کر رہے ہیں جو اس بات کی  عکاسی کرتا ہے کہ مسلمانوں کا نقطہ نظر ابتدا ہی سے  ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ عالمی رہا ہے۔  جس کے بعد یہ سوال اٹھایا ہی نہیں جاسکتا کہ سیاست یا عالمی سیاسی صورت حال وغیرہ جیسے موضوع تو محض دنیاوی معاملات ہیں  وغیرہ وغیرہ۔

یہاں یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ مسلمان کفار کی سازشوں کو صرف اسی صورت میں ناکام  اور امت کو اس سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ،جب وہ اس کا صحیح ادراک کرسکتے ہوں۔ حزب اپنی کتاب "سیاسی مفاہیم" میں  لکھتی ہے کہ، " دنیا میں ہر ریاست کی پالیسی سے باخبر رہنا انتہائی ضروری ہے اور ایک مسلم سیاست دان اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ یہ بات ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم ہے کہ عمومی انداز میں عالمی طاقتوں کی  نوعیت (nature)، رازوں (secret)،  منصوبوں (plan) اور طرز عمل (style)، سے باخبر رہنا اور ان امور کا تفصیلی اور حقیقت پر مبنی فہم، روزانہ کی بنیاد  پر بدلتے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں کی بنیادوں اور ستونوں کا مکمل ادراک ہر مسلمان مفکر کے لیے ضروری ہے۔ یوں امت کو ان سے محفوظ رکھنے کا مقصد واضح  ہوتا ہے جس کے ذریعے ریاست اور امت مسلمہ کی حفاظت اور اسلامی دعوت کو دنیا میں پھیلانے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔"

اس ضمن میں اہم ترین بات یہ ہے کہ  عالمی سیاست اوراس کی بنیادوں  کو کچھ بنیادی اصولوں کے ذریعے سمجھا جائے۔ اول تو یہ کہ عالمی منظر نامے پر موجود ممالک کی موجودہ حیثیت ، ان کے سیاسی منصوبوں اور سیاسی  طرز عمل کاگہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے۔

عالمی دنیا کا فہم اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ آیا وہ کون سے ممالک ہیں جن کے ہاتھ میں دنیا کی باگ ڈور ہے  اور وہ دنیا کی سیاست پر متاثر ہوتے ہیں  اور وہ کن ممالک کو  براہ راست کنٹرول کرتے ہیں یا ان پر اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

 

بنیادی طور پر آج دنیا میں چار اقسام کی ریاستیں پائی جاتی ہیں ۔ پہلی تو وہ جسے سپر پاور ریاست کہا جاتا ہے جو دنیا میں طاقتور ترین ریاست کا کردار ادا کرتی ہے اور دوسری ریاستوں کی حیثیت  کو متاثر کرنے کی اہلیت رکھتی ہے جیسا کہ امریکا ۔ دوسری وہ  ماتحت (sub-ordinate) ریاستیں ہیں جن کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کا انحصار دوسری طاقتور ریاستوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، قطر  اور مالی وغیرہ  جیسے ملکوں کا شمار ان ہی ریاستوں میں ہوتا ہے۔  تیسری  وہ سیٹلائٹ ریاستیں ہیں جن کی داخلہ  پالیسیاں تو خود مختار ہوتی ہیں تاہم بیشتر خارجی پالیسیاں  دوسرے ممالک کے مرہون منت ہوتی ہیں۔ جیسا کہ آسٹریلیا ، کینیڈا وغیرہ۔ اور چوتھی قسم کی ریاستیں وہ ہیں جو اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی کے اعتبار سے خودمختار ہوتی ہیں جیسا کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور اسرائیل وغیرہ۔

ہمارے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ طاقتور ممالک کی اپنے مقاصد  کی حفاظت کیلیے  مرتب کی گئی سیاسی حکمت عملی (politcial plan)اور  ان  سیاسی حکمت عملیوں کو عملی جامع پہنانے کیلیے سیاسی طور طریقوں(political style) کو سمجھا جائے ۔ جیسا کہ عراق پر قبضہ اور اس قبضے کو مقامی اور عالمی  دونوں سطح پر قانونی جواز فراہم کرنا امریکا کی حکمت عملی میں شامل تھا۔ جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے  امریکا نے  مختلف  سیاسی طور طریقوں کا سہارا لیا ۔ جن میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی کا بہانہ،  جھوٹ پر مبنی  سی آئی اے رپورٹس کی تشہیر، اقوام متحدہ کے ذریعے  جارحیت کو قانونی جواز فراہم کرنا ، شیعہ سنی اختلاف کو ہوا دینا، اہل تشیعوں کو حکومت کا حصہ بنانے  اور ایرانی و شامی اثرو رسوخ کا استعمال شامل ہے۔

 

تاہم یہ بات سمجھنا بھی لازم ہے کہ  سیاسی  طور طریقے سیاسی حکمت عملی کے مطابق مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں جب کہ سیاسی حکمت عملی صرف اسی صورت تبدیل  کی جاتی ہے  جب تمام اختیار کردہ سیاسی طریقے ناکام ہوجائیں  اور سیاسی اہداف حاصل نہ ہوسکیں یا  یہ کہ سیاسی حکمت عملی کسی خاص صورت حال کی وجہ  سے سیاسی مقاصد کے ہی مخالف ہوجائے  مثال کے طور پر  پہلے چین کی امداد کرکے اسے روس کے خلاف کھڑا کیا گیا اور پھر چین ہی کا گھیرا تنگ کرکے اس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کیلیے سیاسی طور طریقوں کا سہارا لیا گیا ۔

کچھ یہی حال امریکا کا مسلم دنیا پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے کیلیے ہے جس کے لیے وہ اپنے سیاسی طور طریقوں میں ضرورت کے مطابق تبدیلی  لاتا رہتا ہے جیسا کہ  پہلے عسکری بغاوتوں  اور دیگر سیاسی اقدامات کے ذریعے مسلم ممالک کو کنٹرول کیا  گیا  اور اب مسلم زمینوں پر عسکری حملوں  کے ذریعے  اس کنٹرول کو مستحکم کیا جارہا ہے ۔لہٰذا ہماری سیاسی جدوجہد کا ہدف استعمار کی سیاسی فکر ، سیاسی حکمت عملیوں اور اس کے طور طریقوں کو بے نقاب  کرنا ہونا چاہیے۔

 

آج انبیاء کی سرزمین شام کی صورت حال  کچھ ایسی ہے کہ اقوام عالم اس پر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑے ہیں۔ امریکا  ہو ، سعودی عرب ہو، روس ہو یا ایران ۔۔ سب کے سب  یک زبان ہو کر شام کے بابرکت انقلاب اور اس کے مخلص انقلابیوں کے خلاف  کمربستہ ہیں۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں استعما ر نے اپنی سیاسی فکر  کے مطابق ہر سیاسی  حکمت عملی  کو پایہ تکمیل  تک پہنچانے کے لیے مختلف طور طریقوں کو آزمایا تاہم   شام کے عوام  نے بیدار امت کا ثبوت دیتے ہوئے  استعمار کی ہر حکمت عملی اور اس کے طور طریقوں کو خاک میں ملادیا ۔ جب کہ مصر ، تیونس ، لیبیا اور یمن وغیرہ سیاسی بصیرت اور پختگی نہ ہونے  کے باعث استعمار کی سازشوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ۔  شام میں لگ بھگ چار سال سے جاری  سیاسی بغاوت  اس بات کا ثبوت ہے کہ امت کو سیاسی پختگی اور سیاسی شعور اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اسے اسلام کی جانب مسلسل دعوت  دی جاتی رہے۔

شام کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے  شام کی عالمی حیثیت  اور پس منظر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔  شام  گزشتہ چالیس برسوں سے  حافظ الاسد اور پھر اس  کی اولاد بشار الاسد کی زیرسربراہی امریکا کے ماتحت رہا ہے۔ جب کہ کچھ لوگ  سیاسی قائدین   کی زبانی جمع  خرچ  اور کچھ سیاسی بیانات  اور اقدامات سے مرعوب ہو کر شام  اور اس کے حکمرانوں کو  امریکا مخالف سمجھ بیٹھتے ہیں جیسا کہ  مئی دو ہزار چار میں امریکا نے اس الزام پر  شام پر معاشی پابندیاں عائد کردیں کہ وہ  عراق میں عسکریت پسندوں کے داخلے کو  روکنے میں ناکام رہا۔ جب کہ حقیقت کا مفصل اورصحیح جائزہ لینےسے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شام الاسد خاندان کی کمان میں ہمیشہ امریکی ایجنٹ ہی رہا ہے۔ شام کا خلیجی جنگ میں صدام حسین کے خلاف امریکا  کا ساتھ دینا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔ شام  وہ واحد جمہوری عرب ریاست  تھی  جس نے پہلی خلیجی جنگ  میں عراق کے خلاف امریکا کا ساتھ دیا اورOperation  Desert Storm میں مدد کیلیے اپنے دستے روانہ کیے۔

 

شام نے اسلام پسندوں کے خلاف بھی امریکا کی بھرپور مدد کی۔ اور اس بات کا اعتراف خود امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے کیا کہ شام کی مدد سے امریکا کو وہ معلومات حاصل ہوسکیں جس کا اس نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔ شام ہی نے اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ شامی صدر بشار الاسد کی دوستی و  امن کی آشا کی انتہا کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ  اسرائیل نے 2007 میں شام میں  جوہری ری ایکٹر کو فضائی حملے میں تباہ  کردیا اور صدر بشار الاسد نے خاطر خواہ   جواب تک دینے کی زحمت نہ کی ۔    امریکا اور شام کے درمیان اتحاد  کی اس سے بہتر اور کیا مثال  ہوگی کہ بشارالاسد ساڑھے تین برس تک  شام کے معصوم شہریوں پر مسلسل بم برساتا رہا اور امریکا  کے ماتھے پر بل تک نہ آیا مگر جیسے ہی باغی  بشار الاسد کو اکھاڑ پھینکنے کے اہل ہوئے امریکا نے ان پر ہی چڑھائی کردی۔ مگر آفرین ہو  شام کے عوام پر  جنہوں نے ہر موڑ پر باخبر  ہونے کا ثبوت دیا اور امریکا کے سیاسی عزائم کو مسلسل ناکام بناتے ہوئے اسے اپنےسیاسی منصوبے فوری تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ یہ ثمر کوئی ایک ماہ یا ایک سال کی جدوجہد کا نہیں بلکہ برسوں کی محنت کا تھا۔ مارچ 2011میں ملک گیر احتجاج  کے آغاز کے بعد جب بات بشار کے دھڑن تختے تک جاپہنچی  تو شامی عوام میں موجود سیاسی قائدین   نے اس بات کو جانچ لیا کہ مصر، تیونس  اور لیبیا کی طرح شام میں بھی عوام کو  بشار کی حکومت کے  متبادل کی صورت میں دھوکہ دیا جائے گا۔ اور اسی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے امریکا نے بشار کے مخالفین کو صفوں میں کھڑا کرنا شروع کیا۔ اکتوبر 2011 میں   Syrian National Council قائم کی گئی۔ نومبر میں  عرب لیگ نے شام کی رکنیت معطل  کرکے اس پر پابندیاں عائد کیں تاکہ  بشار پر دباؤ ڈال کر  اور اسے پس پشت ڈال کر اس کا متبادل  تیار کیا جاسکے۔

حزب التحریر  شامی انقلاب کے آغاز سے عوام میں مضبوط جڑیں بناکر انقلابیوں کی رہنمائی میں پیش پیش  رہی ۔ حزب نے کفار کی اس سازش کو  دو نومبر 2011 کو  اپنے پمفلٹ کے ذریعے بے نقاب کیا ، " امریکا اپنے آلہ کار عرب لیگ کے ذریعے  شامی حکومت کو مزید وقت فراہم کر رہا ہے  تاکہ وہ مزید معصوم شہریوں کا خون بہا سکے اور اس دوران بشار کا متبادل تیار کیا جاسکے۔"

مخلص قائدین انقلابیوں کو  اللہ سبحان و تعالیٰ کے اس فرمان کو بار بار یاد دلا رہے تھے کہ ،

"ان لوگوں کی جانب ہرگز راغب نہ ہونا جو ظلم کرتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ تمہیں آگ پکڑ لے اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا اور تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔" {سورۃ ہود 11:113}

 

ادھر مارچ 2012 میں  اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے کوفی عنان کے غیرمشروط امن معاہدے کی توثیق کردی جس کی حمایت کا اعلان روس اور چین  نے بھی کردیا  تاہم  پھر بھی  خون کی ہولی جاری رہی۔ کوفی عنان کے مستعفی ہونے پر اقوام متحدہ نے الجزائر کے سفارتکار لخدار  براہمی  کو  اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا شام کیلیے ایلچی مقرر کردیا۔

جون 2012 میں پہلی جنیوا کنونشن کے انعقاد تک پچاس ہزار شہری  لقمہ اجل بن چکے تھے۔ 30جون 2012 کو حزب التحریر نے امت سے خطاب میں جنیوا  معاہدے  کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے   یہ واضح کیا کہ جنیوا معاہدے کی منظوری  ایسا داغ ہوگی جس کو کبھی مٹایا نہ جاسکے گا ، یہ امت سے بغاوت ہوگی۔۔۔ روس اپنے مالک کے لیے تنخواہ دار ملازم سے زیادہ کچھ نہیں۔ ۔۔۔"

امریکا شام  کی چاروں  سرحدوں  یعنی لبنان، اسرائیل، ترکی اور عراق  پر بیٹھا تھا  جب کہ روس کی موجودگی تو نہ ہونے کے برابر تھی۔ مگر وہ صرف  مادی فوائد  ، مسلمان ملکوں  میں بڑھتی  تبدیلی کی لہر  اور وسطی ایشیا کے ممالک  تک ان کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطرامریکا کی ہر چال میں اس کا اتحادی بنا رہا۔ جب کہ امریکا کا مقصد واضح تھا کہ جب تک متبادل تیار نہیں ہوجاتا شامی عوام کو خون میں نہاتے رہنے دیا جائے۔ یہاں تک کہ امریکا نے لیبیا کی طرح  شام میں نو فلائی زون کا قیام بھی درست نہ سمجھا کہ کسی طرح فضائی بمباری سے ہونے والے جانی نقصانات کو ہی روکا جاسکے۔

 

نومبر 2012 میں  قطر میں منعقدہ اجلاس میں  نام نہاد اپوزیشن جماعتیں  National Coalition for Syrian Revolutionary & Opposition Forces  کی چھتری تلے یکجا ہوگئیں  جن کا نعرہ جمہوریت کا قیام تھا۔ دسمبر 2012 میں  امریکا، برطانیہ، فرانس، ترکی اور خلیجی ریاستوں نے معاذ الخطیب کی زیرسربراہی  Syrian National Coalition کو  شامی عوام کا نمائندہ قرار دینے کی کوشش کی تو  اس موقع پر حزب التحریر نے  امت پر یہ بات واضح کی کہ ،

" یہ ایک شرانگیز منصوبہ ہے، جسے امریکا اور اس کے حواریوں نے تشکیل دیا ہے۔ شام میں بے پناہ قتل و غارت گری  کرکے دشمن  ہمیں مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ ہم اس کٹھ پتلی اتحاد کو تسلیم کرلیں ۔۔۔ ۔"

اور الحمداللہ  شام کے غیور عوام نے حزب التحریر کی مخلص پکار کا مثبت جواب دیتے ہوئے شامی اپوزیشن اتحاد کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔  میدان عمل میں بشار الاسد سے برسرپیکار اہم ترین گروہ جبہۃ النصرہ اور  التوحید نے اتحاد کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ  وہ جمہوری نہیں بلکہ اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ انہوں نے  شام کے قوم پرست جھنڈوں کو  پس پشت ڈالا اور رایہ اور لواء کو ہاتھوں میں تھامنا شروع کردیا۔ منصوبوں کی مسلسل ناکامی کو دیکھتے ہوئے  اپوزیشن  اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب نے استعفیٰ دیا اور خود یہ انکشاف کیا کہ  کچھ بیرونی عناصر اپوزیشن اتحاد  سے اپنے کام نکلوانا چاہتے ہیں۔

جس کے بعد 13مارچ 2013 کو حزب التحریر نے امت کو اللہ کے اس قول سے خبردار کیا،

"اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے  بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ ڈالا۔۔"{ سورۃ النحل:92}

شامی قومی اتحاد کی ناکامی کے بعد امریکا نے  شامی سیکولر بریگیڈز پر پیسہ لگانا شروع کیا ۔ واشنگٹن پوسٹ نے مئی 2013 کو خبر شائع کی کہ "امریکی حکومت اب سلیم ادریس  پر جوا لگا رہی ہے ۔" اخبار نے مزید لکھا کہ ،"سلیم ادریس کے اعتدال پسند  اور ذمہ دارانہ رویے پر بھروسہ کرتے ہوئے امریکی حکومت اس  پر پیشہ لگانا چاہتی ہے۔" جس کے بدلے میں سلیم ادریس  نے براک اوباما کو خط لکھ کر اس بات کا اظہار کیا کہ "اسے شام میں مداخلت  کے حوالے سے امریکی پوزیشن کا اندازہ  ہے ۔ سلیم ادریس نے امریکا سے مالی امداد اور ٹریننگ میں مدد کی درخواست کی اور یقین دہانی کروائی کہ وہ جہادی گروپوں سے نمٹنے کیلیے تیار ہے۔"

تمام منصوبے ایک طرف اور ایران اور حزب ایران کا استعمال کرکے شامی انقلاب کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کی کوشش  کا امریکی منصوبہ ایک طرف  تھا۔ ایران کو بشار الاسد کی امداد میں اپنے عوام کو یہ بہانہ پیش  کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی کہ ایران تو شام میں مقدس مقامات کی حفاظت کیلیے مداخلت کر رہا ہے۔ ادھر حمص اور لبنانی سرحد کے درمیان  میں واقع اہم ترین شامی علاقے قصیر میں حزب ایران اور عسکری گروہوں میں لڑائی کا آغاز ہوچکا تھا اور یوں امریکا اپنی اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب رہا کہ ظلم کے خلاف بغاوت  کو فرقہ ورانہ رنگ دے کر بشار کی حکومت کو محفوظ بنایا جائے۔

دوسری جانب اب اسرائیل بھی شامی عوام کے خلاف کھل کر میدان میں آچکا تھا۔ حزب التحریر نے 7مئی 2013 کو امت سے خطاب  میں ان علاقوں پر اسرائیلی بمباری کی تصدیق کی جہاں باغیوں کا پلڑا بھاری تھا " 5مئی 2013 کو اسرائیلی طیاروں نے شام پر بمباری کی ۔۔۔ یقیناً بشار حکومت  یہود، امریکا  اور اس کے حواریوں کو دشمن کے طور پر نہیں دیکھتی  بلکہ اس کے دشمن تو بس شام کے عوام ہیں۔۔ اور یہی کھیل ہے جو امریکا اور اس کے حواری کھیلتے ہیں کہ ایک ایجنٹ کو دوسرے ایجنٹ سے تبدیل کردیا جائے۔"

 

ایک طرف شامی افواج کا بدترین ظلم جاری تھا تو دوسری جانب امریکا بھی مسلسل اپنی سیاسی چالیں چلنے میں مصروف تھا ۔ جارج صابرہ کی جگہ سعودی حمایت یافتہ احمد جربا شامی قومی اتحاد کے  قائم مقام سربراہ  کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال چکے تھے۔ جب کہ عبوری وزیراعظم یہ کہہ کرعہدے سے مستعفی ہوگئے  کہ وہ باغیوں کے زیرتسلط علاقوں میں حکومت قائم نہیں کرسکتے۔

اسی اثنا ء میں  امریکا کے کئی زبانی دعووں اور دھمکیوں کے باوجود بشار نے اگست 2013میں  دارالحکومت دمشق کے علاقے غوطہ پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس میں تقریباً 300شہری جان سے گئے۔ امریکا  کے مطابق تو یہ اس کی اپنی بنائی ہوئی  سرخ لکیر تھی  جس کو عبور کرنے پر امریکی صدر براک اوباما بار بار بشار کو دھمکیاں دیتا آیا تھا مگر حملہ ہوئے ڈیڑھ برس گزر چکے، آج تک بشار کے سر سے ایک امریکی طیارہ نہ گزرا۔  کیمیائی ہتھیاروں کا سارا ڈرامہ صرف اس لیے رچایا گیا کہ شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کیا جاسکے تاکہ مستقبل قریب میں قائم ہونے والی خلافت کے پاس وہ صلاحیت ہی نہ ہو کہ وہ کفار کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے، مگر وہ شائد بھول گئے کہ جنگ صرف عسکری قوت کےبل بوتے پرنہیں بلکہ ایمان کی طاقت سے لڑی جاتی ہے۔

شام کے بیدار عوام مسلسل دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بناتے آرہے تھے چاہے وہ بشار کے خلاف مزاحمت ہو یا سفارتی محاذ۔  2014 کے اوائل میں دوسری جنیوا  کانفرنس کی ناکامی اس بات کا واضح ثبوت ہے  جب شامی اتھارٹی نے عبوری حکومت پر بحث کرنے سے انکار کردیا۔ حزب التحریر نے  امت کی رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھا" شامی عوام کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا اور اس بات کا یقین رکھنا  ہوگا  کہ فتح صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ آپ کو اپنے انقلاب  کو شفاف انداز اور انتہائی وضاحت کے ساتھ برقرار رکھنا ہوگا ، وہ انقلاب  جس کا آغاز یہ کہہ کر کیا گیا  کہ 'یہ صرف اللہ کے لیے ہے، یہ صرف اللہ کے لیے ہے' اور اس بابرکت انقلاب کو جنیوا کانفرنس کی مذاکراتی میزوں پر فروخت کرنے سے ہر صورت باز رہا جائے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنا جائے، " اے ایمان والو! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے) {سورۃ آل عمران: 118}

 

اور یقیناً امت کا نعرہ یہی تھا، "شعب یرید - الخلافۃ بالجدید"

ادھر امریکی حمایت یافتہ  FSA بھی  شدید ناکامی سے دوچار تھی۔ اسلام پسندوں نے اس کے قدم اکھاڑ کر رکھ دیے تھے ۔ پے درپے ناکامیوں کے پیش نظرFSA کی کمان  سلیم ادریس  سے  بریگیڈیئر عبداللہ البشیر کو سونپی گئی۔ مگر شکست کے بادل   مسلسل منڈلاتے رہے۔ ساری سیاسی چالیں   شکست کھاچکی تھیں اس لیے ضروری تھا کہ حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لائی جائے ۔ اور پھر ہم نے دیکھا کہ عسکری تنظیم دولۃ اسلامیہ عراق و شام کو نشانہ بنانے کی آڑ میں امریکا  بالآخر شام پر براہ راست حملہ آور ہوگیا ۔۔مگر یہ امت کے لیے کوئی  انوکھی بات نہ تھی کیوں کہ اس کے متعلق امیر حزب التحریر شٰخ عطابن خلیل ابو الرشتہ   مئی 2013 میں ہی آگاہ کرچکے تھے ۔ امیر حزب التحریر نے یہ  واضح کیا تھا کہ ، "میڈیا   کی سیکولر عناصر کو بے پناہ کوریج دینے کے باوجود سیکولر آوازیں  بالکل دب کر رہ چکی تھیں اور  امریکا  خلافت کے قیام کیلیے اٹھنے والی آوازوں سے  بوکھلاکر رہ گیا تھا۔"

امریکا اور اس کے حواریوں کے لیے صورتحال مسلسل بگڑتی جارہی تھی ۔ امیر حزب التحریر نے ڈیڑھ برس قبل  ہی اس حقیقت سے پردہ اٹھادیا تھا کہ معاملات مکمل ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر  امریکا نے تین نکات  پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ اول یہ کہ بشار کو قتل و غارت گری کی چھوٹ دی جائے  تاکہ عوام کو اپنے منصوبوں کے سامنے گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے تاکہ  شام میں سیکولر سول ریاست کا قیام ممکن بنایاجاسکے  اور پھر مکمل ریاستی ڈھانچہ اور جمہوری نظام برقرار رکھتے ہوئے  چہروں  کو تبدیل کردیا جائے۔ تاہم  کفار اور اسکے ایجنٹوں کو  بیدار امت کے مقابلے میں ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی ۔ شام کے عوام نے  معاذ الخطیب، جارج سابرا، احمد جابرا ، عبوری وزیراعظم  غسان ہیتو ، سلیم ادریس،  عبداللہ البشیر،  کوفی عنان ، لخدر براہمی ، جنیوا ون  اور جنیو ٹو  سمیت کفار کے تمام منصوبوں کو دھول چٹائی ۔

پہلا منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں ان کا دوسرا منصوبہ یہ تھا کہ  اگر وہ  اپنے حمایت یافتہ باغیوں  یا حزب اختلاف کے ذریعے بشار الاسد کو عہدے سے ہٹانے میں ناکام رہے تو  عالمی مداخلت کے ذریعے  اپنی مرضی کی حکومت منتخب کی جائے  گی ۔یہ دونوں منصوبے ناکام ہونے کی صورت میں کفار کی یہ سوچ تھی کہ معاملات اس حد تک بگڑ چکے ہیں ، ہر طرف اتنی تباہی  پھیل چکی ہوگی کہ اگر اسلام کو اقتدار حاصل ہوبھی جاتا ہے تو امت  مایوسی کے سبب نشاۃ ثانیہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے کے باوجود اپنے احیا ء کی جانب  قدم نہ بڑھا سکے گی۔

مگر کفار  اور ان کے پیروکار یہ سمجھنے میں قاصر رہے کہ  یہ ایک بہترین امت ہے جسے دنیا  کی امامت کے لیے چنا گیا ہے  اور اس امت میں ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جو  امت کو نشاۃ ثانیہ کی جانب لے جانا جانتے ہیں اور کفار و منافقین کے سارے  منصوبوں  کو ناکام بنادیں گے۔ یہ جانتے نہیں کہ یہ وہی امت ہے جس نے روم و فارس جیسے عظیم سلطنتوں کو ناکون چنے چبوانے پر مجبور کیا ، صلیبیوں  کو ان کی اوقات یاد دلائی اور یہود و ہنود پر اپنا رعب و دبدبا طاری کیا۔ رب کائنات کا  یہ فرمان کسی صورت جھٹایانہیں جاسکتا کہ ،

" تم وہ بہترین امت ہو  جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر اِن کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔"{ آل عمران:110}

 

امت مسلمہ کو اللہ نے وہ سب کچھ عطا کیا ہے جو اسے  دنیا کی دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہے  بس ضرورت  ہے تو صرف اس بات کی کہ امت میں بیدار سیاسی شخصیات اور گروہ موجود رہیں  جو امت کو کفار کے منصوبوں سے باخبر رکھیں ۔ اور اس باخبر اور باشعور حزب پر بھی  یہ لازم ہے کہ وہ  امت میں اپنی جڑیں مضبوط کرے اور امت کے ہر طبقے سے مستحکم روابط رکھے  تاکہ امت حزب کے ساتھ آگے بڑھے اور  کفار کے گھناؤنے منصوبوں  کو ملیامیٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔ امت کے فرزندوں کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم    امت میں بہترین انداز میں دعوت رکھیں ، بہترین سیاست دان بنیں اور اس امت کو اس منزل تک پہنچائیں جس کی  یہ مستحق ہے۔ یہ عمل ہمیں اس دنیا میں  بھی عزت دلائے گا اور آخرت میں بھی ہمارا حساب شہدا ، صدیقین اور صالحین کے ساتھ کیا جائے گا، انشاء اللہ۔ بے شک عزت اور ذلت دونوں اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا، " واللہ تم کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔ میں نے کہا کسریٰ بن ہرمز کے؟ آپ ﷺنے فرمایا، ہاں کسریٰ بن ہرمز کے ۔تم میں مال کی اس قدر کثرت ہو پڑے گی کہ کوئی لینے والا نہ ملے گا۔ اس حدیث کو بیان کرتے وقت حضرت عدی نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان پورا ہوا ۔ یہ دیکھو آج حیرہ سے سواریاں چلتی ہیں بےخوف خطر بغیر کسی کی پناہ کے بیت اللہ پہنچ کر طواف کرتی ہیں ۔ صادق و مصدوق کی دوسری پیشنگوئی بھی پوری ہوئی۔ کسریٰ کے خزانے فتح ہوئے میں خود اس فوج میں تھا جس نے ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور کسریٰ کے مخفی خزانے اپنے قبضے میں لئے۔ واللہ مجھے یقین ہے کہ صادق و مصدوق (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تیسری پیشین گوئی بھی قطعاً پوری ہو کر ہی رہے گی۔"

واللہ ہمیں بھی یقین ہے کہ رسول ﷺ  کی  "نبوت  کے نقش قدم پر خلافت  کے دوبارہ قیام " کی بشارت بھی ضرور پوری ہو کر رہے گی۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے لکھا گیا

انجینئرعمیر ، پاکستان

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک