بسم الله الرحمن الرحيم
عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کا دورہ واشنگٹن اور فرضی خودمختاری!
تحریر: استاد احمد الطائی - ولایہ عراق
(ترجمہ)
سنہ 2003ء میں امریکہ نے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے ذخائر کی موجودگی کا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا، حالانکہ بعد میں ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے تھے۔ پھر امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں "عبوری اتحادی اتھارٹی" نے عراق کا انتظام سنبھالا، یہاں تک کہ جون 2004ء میں ایک عراقی عبوری حکومت کو نام نہاد یا فرضی خودمختاری منتقل کر دی گئی۔ اس حکومت نے نیا نظام تشکیل دیا اور دستور وضع کیا، اور تب سے عراق ایک تاریک سرنگ میں داخل ہو چکا ہے۔ اس عرصے میں عراق نے شدید سیاسی و سیکورٹی عدم استحکام اور اس فرقہ وارانہ فتنے کا مشاہدہ کیا جس نے ہر خشک و تر کو جلا کر راکھ کر دیا، جبکہ امریکی موجودگی کا راگ ان مفاد پرست سیاست دانوں اور سیاسی قوتوں کے لیے ایک سستا سودا بنا رہا جس کی وہ تجارت کرتے رہے۔
آج کے دن تک امت کو دھوکہ دینے اور اسے لوریاں دے کر سلانے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ذلت آمیز کاموں اور فیصلوں کو ملک کے مفاد اور اسے اس تاریک سرنگ سے نکالنے کے لیے "خودمختارانہ اقدامات" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے! اسی سلسلے کی ایک کڑی عراقی وزیر اعظم علی فالح الزیدی کا دورہ واشنگٹن ہے؛ یہ ایک ایسا دورہ تھا جس کا فیصلہ خود عراق نے نہیں کیا تھا بلکہ یہ امریکی صدر ٹرمپ کی دعوت پر اسٹریٹجک معاہدوں کی غرض سے کیا گیا تھا۔
ان معاہدوں کی شرائط، استقبال کے طریقے اور شرمناک و اشتعال انگیز سوالات پر غور کرنے والا شخص بخوبی ادراک کر سکتا ہے کہ یہ ملاقات دو برابر کے فریقوں یا ایک خودمختار حکمران کی اپنے ہم منصب سے ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ماتحت کی اپنے آقا سے ذلت آمیز ملاقات تھی، جہاں ایک غلام اپنے آقا کے مفادات کے تحفظ کے لیے احکامات اور ڈکٹیشن کا منتظر ہوتا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؟ الزیدی اس عہدے کے لیے اپنی نامزدگی میں ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل کرنے کے بعد یہاں پہنچے ہیں۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کہا تھا کہ "وہ عراقی حکومت کی سربراہی کے لیے الزیدی کی جیت میں دلچسپی رکھتے تھے"، انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ الزیدی کے مدمقابل نے ایسے موقف اپنائے ہوئے تھے جنہیں انہوں نے واشنگٹن کے لیے "برے" قرار دیا۔ الزیدی نے بھی اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے علانیہ طور پر کرپشن کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا، اور ان کی حکومت نے چھاپہ مار کارروائیاں کر کے کرپشن کے الزامات میں درجنوں موجودہ و سابقہ ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری حکام کو گرفتار کیا اور بھاری رقوم ضبط کیں، جس کے ذریعے وہ وسیع عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
پس یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ ایک ہنگامہ خیز صورتحال اور طاقت کے توازن کی از سرِ نو تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ امریکہ کو عراق کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ جانتا ہے کہ عراق کا استحکام اور اس کا امریکی تسلط سے باہر نہ نکلنا واشنگٹن کے لیے ایک زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ایسے اضطراب کا باعث بن سکتی ہے جس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
اس دورے میں تین اہم اور خود مختارانہ سمجھے جانے والے راستوں پر بات کی گئی ہے، یعنی: اسلحہ، سیکورٹی اور معیشت۔
جہاں تک اسلحہ کا تعلق ہے، تو امریکہ نے عراق کے ساتھ مستقبل کے تعاون کو ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے معاملے میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔ امریکہ ان مسلح گروہوں کو عراق کا اندرونی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ انہیں ایران کے زیرِ انتظام ایک علاقائی نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتا ہے، اور ایران پر حالیہ امریکی حملے کے بعد وہ انہیں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
الزیدی نے امریکہ کے دورے سے قبل واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ان کی حکومت "قوت کے جائز استعمال پر ریاست کی اجارہ داری کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے"، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عراق نے "علاقائی محوروں اور تنازعات میں شامل ہونے کے بجائے ترقی کا راستہ منتخب کیا ہے"۔ "الحرہ" چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان صباح النعمان نے کہا کہ بغداد نے واشنگٹن کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ ستمبر کے آخر میں بین الاقوامی اتحاد کا مشن ختم ہونے کے ساتھ ہی اسلحہ صرف ریاست کے قبضے میں رکھنے کے فیصلے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس فیصلے کو "عراق کا خودمختارانہ فیصلہ سمجھتی ہے، جو آئینی قانونی حیثیت اور عوامی قبولیت پر مبنی ہے"۔ ان کے بقول بغداد کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کا مشن ختم ہونے سے وہ تمام جواز بھی ختم ہو جائیں گے جنہیں بعض گروہ اپنے پاس اسلحہ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مگر یہاں یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ معاملہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی اسے کرپشن کے معاملے کی طرح آسانی اور ہمواری سے حل کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور الجھا ہوا معاملہ ہے جس کا فیصلہ عراق کے بجائے ایک دوسرے ملک یعنی ایران سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ مسلح گروہوں اور ریاست کے درمیان مسلح تصادم، بلکہ خانہ جنگی تک کا باعث بن سکتا ہے، اسی لیے اس فائل کے ساتھ انتہائی احتیاط سے نمٹا جائے گا، ورنہ اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
جہاں تک دیگر دو راستوں یعنی سیکورٹی اور معیشت کا تعلق ہے، تو یہ زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہ ملک کی حقیقی خودمختاری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ دونوں راستے عراق پر امریکی قبضے کو مستحکم کرتے ہیں اور تیل و سرمایہ کاری پر مکمل تسلط کے ذریعے اسے قانونی حیثیت دیتے ہیں۔ اسی لیے اقتصادی معاہدوں کا مجموعہ، تیل کے منصوبے اور نئی پائپ لائنیں ایک وسیع تر امریکی وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز پر عراق کے انحصار کو کم کرنا اور اس کی معیشت کو برآمدات کے نئے نیٹ ورکس سے جوڑنا ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ عراق کے تیل کی آمدنی نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک کے ایک اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی، جو واشنگٹن کو ملک کی معیشت پر مالی اثر و رسوخ اور کنٹرول فراہم کرتا ہے۔
اسی لیے ہم کہتے ہیں: نہ تو ہماری حالت کی کوئی اصلاح ممکن ہے اور نہ ہی ایسی ریاست میں ہماری کوئی عزت ہے جو اپنی خودمختاری کھو چکی ہو، جو اپنے غاصب سے احکامات اور ڈکٹیشن لیتی ہو، اور جو الفاظ اور ناموں کے ہیر پھیر سے کام لیتی ہو؛ ایک طرف تو امریکی فوجی دستوں کے انخلاء کا اعلان کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک اسٹریٹجک سیکورٹی اور معاشی معاہدے پر دستخط کیے جاتے ہیں، اور تربیت، اسلحہ سازی اور فوجی مشاورت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا عہد کیا جاتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعلقات برقرار رکھنے کی بات کی جاتی ہے! بھلا ایک مقبوضہ ملک اور اس کے غاصب کے درمیان سیکورٹی تعلق کیسا؟! اور یہ کیسی خودمختاری ہے جب ہر کوئی جانتا ہے کہ عراق کی دولت اور اس کی معیشت امریکی فیڈرل ریزرو کے پاس گروی پڑی ہے؟!
خلاصہ یہ ہے کہ اس دورے کے اثرات الزیدی کی واپسی پر واضح ہوں گے، اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ کیا وہ انہیں حقیقت میں نافذ کر پائیں گے، یا یہ عمل کسی کٹھن مرحلے سے گزرے گا، خاص طور پر جبکہ الزیدی کی واپسی سے قبل ہی شکوک و شبہات پر مبنی بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں؟ سابق عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی کی قیادت میں "ائتلافِ تعمیر و ترقی" نے جمعہ 17 جولائی 2026ء کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ وزیر اعظم علی الزیدی امریکہ کے ساتھ جو بھی معاہدے کریں گے، انہیں منظوری یا مسترد کرنے کے لیے کوآرڈینیشن فریم ورک، سٹیٹ مینجمنٹ الائنس اور پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
پس معاملہ انتہائی سنگین ہے، اور جب ہم ہارون الرشید کے دارالخلافہ کو اس ذلت و رسوائی میں اپنے دشمن سے حل کی بھیک مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں تو دل درد سے پھٹ جاتا ہے، لہٰذا اہل عراق کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں، اور اپنی اسلامی شناخت کی طرف لوٹتے ہوئے اللہ کا حکم نافذ کریں، اور اپنے ملک کو ہر قسم کے کافرانہ تسلط سے آزاد کرائیں، تاکہ بغداد اپنی سابقہ عزت اور عظمتِ رفتہ کو دوبارہ حاصل کر سکے۔




