الإثنين، 13 صَفر 1448| 2026/07/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ازبکستان کے صدر کا دورۂ جارجیا: یورپ تک رسائی کا راستہ یا ایک نئی غلامی؟

 

 

تحریر: استاد اسلام ابو خلیل – ازبکستان

 

(ترجمہ)

 

میرزیایوف نے جارجیا کا دورہ کیا، جسے بہت سے لوگوں نے ایک عام سفارتی واقعہ قرار دیا، لیکن حقیقت میں، یہ دورہ ان اہم اشاروں میں سے ایک ہو سکتا ہے جو اگلی دہائی کے دوران ازبکستان کے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) رخ کی نشاندہی کریں گے۔ اور اگر ہم اس دورے کو محض دو ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے طور پر دیکھیں تو ہم اس کے اہم ترین پہلو کو نظر انداز کر دیں گے۔ کیونکہ اس دورے کا بنیادی موضوع خود جارجیا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اس جیو پولیٹیکل راستے سے ہے جسے ازبکستان اکیسویں صدی کی دوسری چوتھائی میں منتخب کرے گا۔

 

گزشتہ تیس سالوں کے دوران، وسطی ایشیا کی غیر ملکی تجارت کے ٹرانزٹ (مال برداری) کا انحصار بنیادی طور پر روس پر رہا ہے۔ اس کے بعد، چین نے سرمایہ کاری، قرضوں اور انفراسٹرکچر کے ذریعے خطے میں بھرپور طریقے سے داخل ہونا شروع کیا۔ اب، بحیرہ کیسپین کے ذریعے آذربائیجان، جارجیا اور ترکی تک پھیلی ہوئی راہداری کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کو محض نقل و حمل کا مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا؛ کیونکہ نقل و حمل کا راستہ ہمیشہ سیاسی اثر و رسوخ کا راستہ ہوتا ہے اور یہ بڑے جیو پولیٹیکل حساب کتاب کا حصہ ہوتا ہے۔

 

اس لیے آج کا بنیادی سوال یہ ہے کہ: کیا ازبکستان حقیقی آزادی حاصل کرنے کے لیے روس پر مبنی ٹرانزٹ سسٹم سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، یا وہ دیگر جیو پولیٹیکل مراکز کے ساتھ ایک نئی وابستگی (غلامی) پیدا کر رہا ہے؟

 

اس سوال کا جواب ماسکو سے شروع ہونا چاہیے۔ روس کے لیے وسطی ایشیا محض ایک عام پڑوسی علاقہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی سلامتی، معیشت اور جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کا ایک حیاتیاتی حصہ ہے۔ اگر ازبکستان روسی علاقوں کو بائی پاس کرنے والی راہداریوں کے ذریعے یورپ کے ساتھ اپنے روابط مضبوط کرتا ہے، تو یہ ماسکو کے لیے اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل ایک تبدیلی ہوگی۔ ماسکو کے لیے اصل خطرہ ریلوے لائن بذاتِ خود نہیں ہے، بلکہ اصل خطرہ وسطی ایشیا کے سامنے متبادل اختیارات کے ظہور میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا، روس کا ممکنہ مشن ہر قیمت پر اس راہداری کو بند کرنا نہیں ہوگا، بلکہ خطے میں اپنے معاشی اثر و رسوخ، توانائی کے ذرائع اور سیاسی غلبے کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اور یہ عمل کسی بھی بڑی طاقت کی اپنے مفادات کے تحفظ کی کوششوں کے عین مطابق ہے۔

 

جہاں تک اس عمل کے بارے میں چین کے نقطہ نظر کا تعلق ہے تو وہ مختلف ہے، کیونکہ اس کے اثر و رسوخ کا بنیادی ذریعہ فوجی نہیں بلکہ معاشی ہے۔ چین سرمایہ کاری، صنعت، انفراسٹرکچر اور تجارت کے ذریعے اپنا دائرہ اثر بڑھا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اگر نئی قفقاز راہداری فعال ہو جاتی ہے، تو غالب امکان یہی ہے کہ چین اس سے کترانے کے بجائے اس میں شرکت کی کوشش کرے گا۔ اس کے لیے سب سے اہم بات اپنی تجارتی اشیاء کی یورپی منڈیوں تک رسائی اور معاشی تعلقات کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔ امریکہ اس عمل کو مختلف حسابات سے دیکھتا ہے۔ اس کے لیے وسطی ایشیا میں روس یا چین کا مطلق غلبہ ناقابل قبول ہے۔ اس لیے امریکہ کے نقطہ نظر سے ازبکستان کا اپنے بیرونی معاشی تعلقات میں تنوع لانا یقیناً ایک خاص اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ازبکستان اور امریکہ کے درمیان بڑے معاشی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات چیت ہوئی ہے۔ اگرچہ ان سرگرمیوں میں دونوں فریقوں کے مساوی مفادات کی بار بار تائید کی گئی ہے، لیکن کسی بھی تعاون میں فیصلہ کن سوال بدستور وہی رہتا ہے: شرائط کون طے کرے گا اور سب سے زیادہ فائدہ کسے حاصل ہو گا؟ اس لیے کسی بھی بیرونی تعاون میں، "کس کے ساتھ؟" کے سوال سے پہلے "کن شرائط پر؟" کا سوال اٹھایا جانا چاہیے۔

 

ترکی اس سلسلے میں ایک قدرتی کڑی ہے کیونکہ جغرافیہ، زبان اور ثقافتی قربت اس کے کردار کو مزید تقویت دیتی ہے۔ لیکن وہ بھی اپنے قومی مفادات کے مطابق اقدامات کرتا ہے۔ لہٰذا، کسی بھی دوسرے ملک کی طرح، ترکی بھی سب سے پہلے اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کا حساب کتاب کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں، اس معاملے کا سب سے اہم سوال کچھ اور ہے۔ ازبکستان کے بارے میں ہونے والی ہر بین الاقوامی بحث میں روس، چین، امریکہ یا ترکی کے مفادات کا تذکرہ تو کیا جاتا ہے، لیکن ازبک عوام کے مفادات کو دوسرے درجے پر کیوں ڈال دیا جاتا ہے؟ اسلام میں ریاست کا کام بیرونی طاقتوں کے درمیان توازن کا کھیل کھیلنا نہیں ہے۔ ریاست ایک امانت ہے، اقتدار ایک ذمہ داری ہے، اور زیرِ زمین و سطحِ زمین کے تمام وسائل امت کا حق ہیں۔ لہٰذا، کسی بھی بیرونی معاہدے سے پہلے سب سے پہلا سوال یہ ہونا چاہیے: یہ عوامی عقیدے، سلامتی، معیشت اور آنے والی نسلوں پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟!

 

اگر یورپ کا راستہ کھلتا ہے اور اس کے نتیجے میں ازبکستان کی صنعت مضبوط ہوتی ہے، جدید ٹیکنالوجی آتی ہے، پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور ملک خام مال کی برآمدات پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی اشیاء تیار کرنے والا ملک بن جاتا ہے جن کی قدر و قیمت زیادہ ہو، تو یہ بات عوامی مفاد میں ہوگی۔ لیکن اگر اس نئی راہداری کا مقصد صرف سونے، تانبے، یورینیم، گیس اور دیگر اسٹریٹیجک وسائل کی لوٹ مار کو تیز کرنا اور انہیں بیرونِ ملک منتقل کرنا ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا سیلاب تو آتا ہے مگر عوام کی معاشی حالت، تعلیم کے معیار اور ملکی پیداواری صلاحیت میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی، تو یہ تبدیلی محض دکھاوے کی اور سطحی ہوگی، اور غلامی و وابستگی کی اصل حقیقت نہیں بدلے گی۔

 

چنانچہ، جارجیا کے حوالے سے میرزیایوف کے دورے کا حقیقی جائزہ بندرگاہوں یا ریلوے لائنوں سے نہیں، بلکہ ان نتائج سے لگایا جائے گا جو چند سالوں بعد سامنے آئیں گے۔ کیا ازبکستان اپنی بیرونی سمتوں میں تنوع لانے کے بعد ایک ایسا ملک بن جائے گا جو اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہو؟ یا وہ بڑی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا ایک اور اہم میدان بنا رہے گا؟ فی الحال کوئی بھی اس سوال کا حتمی جواب نہیں دے سکتا۔ لیکن ایک حقیقت بالکل واضح ہے کہ ازبکستان کے مسلمان عوام کے مفادات خود بخود روس، چین، امریکہ یا یورپ کے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ اور ازبکستان کے عوام کے بنیادی مفادات کا تحفظ صرف اسی صورت میں یقینی بنایا جا سکتا ہے جب اسلام کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر نافذ کیا جائے۔

 

پس یورپ کی طرف کھلنے والا ہر راستہ کامیابی کی نوید نہیں ہوتا، بلکہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اوقات نئے کھلنے والے دروازے کے پیچھے ایک نئی قسم کی غلامی چھپی ہوتی ہے۔ اس لیے ازبکستان کے لیے سب سے اہم کام یورپ کی طرف قدم بڑھانا نہیں ہے، بلکہ ایسی سیاسی قوتِ ارادی پیدا کرنا ہے جو اپنے عوام کے مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھے، خواہ وہ کسی بھی سمت میں پیش قدمی کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾

 

"بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو۔" (سورۃ النساء:آیت 58)

Last modified onاتوار, 26 جولائی 2026 23:46

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک