بسم الله الرحمن الرحيم
سوڈانی سیاست میں سیکولرزم کی جڑیں
تحریر: ڈاکٹر احمد عبدالفضیل – ولایہ سوڈان
(ترجمہ)
سیکولرزم کا مطلب ہے دین کو زندگی سے جدا کرنا۔ یہ سرمایہ دارانہ نظریے کا وہ عقیدہ ہے جو یورپ میں نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے دور میں چرچ اور مفکرین و فلاسفہ کے درمیان ایک درمیانی حل (compromise) کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد عقل پر نہیں ہے اور نہ ہی یہ اللہ کی اس فطرت سے مطابقت رکھتا ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ انسان کے اندر مذہبی لگاؤ فطری اور جبلّی ہے جسے کوئی بھی طاقت اس سے چھین نہیں سکتی۔ عقل اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ خالق جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے درست کیا اور متوازن بنایا، وہ اسے زندگی گزارنے کے لیے کسی نظام کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا کہ وہ زمین پر اتر کر بھٹکتا پھرے، گمراہ ہو جائے اور بدبختی کا شکار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعاً فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَن تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
"ہم نے حکم دیا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔" (سورۃ البقرۃ: آیت 38)
اگر ہم سوڈانی سیاست میں سیکولرزم کی جڑوں کا سراغ لگائیں تو یہ ہمیں برطانوی استعماری دور میں پیوست ملتی ہیں جس نے فکری، سیاسی اور ثقافتی گمراہی کے ذریعے اسے یہاں متعارف کرایا۔ چونکہ سوڈان کے لوگ مسلمان ہیں، اس لیے انہوں نے ان سیکولر افکار کو کبھی پسند نہیں کیا اور نہ ہی انہیں ہضم کیا جو انہیں ان کے دین سے دور کرتے تھے، چاہے وہ جذباتی سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ سیکولرزم کو متعارف کروانے کے لیے مذہبی اور فرقہ وارانہ قیادتوں کا راستہ اپنانا ہی اسے قبول کروانے اور پھیلانے کا سب سے مناسب طریقہ تھا۔ برطانیہ نے ایسی مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتیں کھڑی کیں جن کا ظاہر تو دین اور دین داری تھا، لیکن ان کے باطن میں حکمرانی، سیاست اور معاشرت سے متعلق سیکولر افکار رچے بسے تھے۔ جب ان جماعتوں نے استعمار کے خاتمے اور ملک کی آزادی کا نعرہ لگایا تو وہ اسی جال میں پھنس گئیں۔ ان میں سے بعض نے "سوڈان سوڈانیوں کے لیے" کا نعرہ اپنایا، جبکہ کچھ نے مصر کے ساتھ اتحاد کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں سوڈان کو مصر سے الگ کر دیا گیا۔ ان میں سے کسی بھی جماعت نے اسلام کو اس حیثیت میں نہیں اپنایا کہ وہ ایک ایسا دین ہے جس سے ریاست نکلتی ہے، بلکہ انہوں نے سائیکس پیکو کی حدود والی "قومی ریاست" (National State) کے تصور کو پختہ کیا، اور اس طرح وہ عملی طور پر سیکولرزم کو نافذ کرنے والی اور حکومت میں اسے لاگو کرنے والی بن گئیں۔
انگریزوں نے صرف اسی طریقے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ سیکولرزم کو پھیلانے کے لیے ایک دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا کہ ایسی مسلح جدوجہد والی جماعتیں کھڑی کیں جنہوں نے ظلم، پسماندگی، اور خدمات و سیکیورٹی کی عدم دستیابی کا فائدہ اٹھایا۔ ان جماعتوں نے "آزادی" کا نعرہ بلند کیا، لیکن حقیقت میں وہ سیکولر تھیں بلکہ انہوں نے علیحدگی پسند افکار کو اپنایا، جیسے "حقِ خود ارادیت" کا تصور، جس کی وجہ سے جنوبی سوڈان کو شمال سے الگ کر دیا گیا اور اب دارفور بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔
استعماری کافر یہیں پر نہیں رکا، بلکہ اس نے تیسرا طریقہ اپنایا جو کہ خطرناک ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جو اسلام سے منسوب ہیں اور اسی کی دعوت دیتی ہیں اور شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں، لیکن شعور کی کمی کی وجہ سے وہ اسلامی لبادے میں لپٹے ہوئے سیکولر افکار کی طرف پھسل گئیں۔ انہوں نے ان افکار کو اسلام ہی کا حصہ سمجھ لیا؛ چنانچہ وہ جمہوریت کو شوریٰ، آزادی، انسانی حقوق، مارکیٹ پالیسیاں اور نجکاری جیسے افکار کے مترادف سمجھ کر بلا سوچے سمجھے ان کی دعوت دینے لگیں۔
جب یہ طریقے بے نقاب ہو گئے اور ان کے عیوب اور حقیقت امت پر واضح ہو گئی، تو اس کافر (استعمار) نے سیکولرزم پیش کرنے کے لیے چوتھے اور آخری طریقے کا سہارا لیا؛ یعنی بغیر کسی بناؤ سنگھار یا لگی لپٹی کے، صراحت اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ سیکولرزم کی دعوت دینا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً﴾
"وہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہوئے تم بھی اسی طرح کافر ہو جاؤ تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ۔" (سورۃ النساء: آیت 89)
چنانچہ یہ وہی سوڈانی سیاسی جماعتیں اور قوتیں تھیں جنہوں نے اپنی کانفرنسوں، سیمیناروں اور فورمز میں واضح طور پر سیکولرزم کی دعوت دی۔ دیکھئے، یہ کس طرح سوئٹزرلینڈ کے شہر نیون (Nyon) میں ہونے والی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے اڑ کر پہنچے جو 23 جون 2026 سے 27 جون 2026 تک جاری رہی۔ یہ کانفرنس فرانسیسی تنظیم "برومیڈیئیشن" (Promediation) کی دعوت پر بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کے سلسلے میں منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد سوڈانی سیاسی اور سول قوتوں کے درمیان جنگ کے خاتمے اور سیاسی عمل کے آغاز کے لیے مذاکرات کی حمایت کرنا تھا۔ ان قوتوں میں انقلابی قوتوں کا جمہوری اتحاد (صمود)، ڈیموکریٹک بلاک، تیجانی السیسی کی قیادت میں نیشنل موومنٹ فورسز کا اتحاد، علی الحاج کی قیادت میں پاپولر کانگریس پارٹی، اور مبارک الفاضل والا امہ پارٹی کا دھڑا شامل ہیں۔ اس میں 25 سوڈانی سیاسی شخصیات کے علاوہ بین الاقوامی "خماسیہ میکانزم" (Pentagonal Mechanism) کے مبصرین اور کئی بین الاقوامی کھلاڑی سوڈانی فیصلے کے مستقبل پر بحث کے لیے شریک تھے۔ یہ وہی قوتیں ہیں جنہوں نے پہلے منعقد ہونے والی کانفرنسوں، جیسے 24 مئی 2026 کی نیروبی کانفرنس، میں بھی سیکولرزم کو اپنایا تھا۔
جب استعماری کافر ان سیاسی قوتوں سے اس طرح سیکولرزم پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، تو اس کے ترکش میں اب کوئی تیر باقی نہیں بچا۔ لہٰذا یا تو وہ اسے ویسے ہی اپنائیں جیسے وہ چاہتا ہے، ورنہ وہ ان کی جگہ دوسرے ایجنٹ لے آئے گا!! دیکھئے، "قحت" (FFC) تحریک کے رہنما خالد سلک کس بے شرمی سے اعلان کرتے ہیں کہ "انہیں اس وقت تک سکون نہیں ملے گا جب تک وہ سیڈاو (CEDAW) کو نافذ نہیں کر دیتے، چاہے وہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہو یا منتخب حکومت کے ذریعے، اور چاہے عوام اس سے اتفاق کریں یا نہ کریں"!!
کیا اس طرح کی پکار کو سوڈان کی رائے عامہ میں کوئی قبولیت حاصل ہو سکتی ہے؟ سوڈان کی رائے عامہ کا جائزہ لینے والا دیکھ سکتا ہے کہ سیکولر افکار کو کبھی قبولیت نہیں ملی، اور نہ ہی انہیں کبھی دھوکہ دہی کے سوا کسی اور طریقے سے بیچا جا سکا ہے۔ اب پردہ چاک ہو چکا ہے، راز فاش ہو گیا ہے اور عیوب ظاہر ہو چکے ہیں۔ چنانچہ جب دسمبر 2019 کی تحریک کے بعد سوڈان کے سابق وزیراعظم حمدوک نے نصاب تعلیم تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اس میں سیکولر افکار شامل کیے، تو کونسل آف سٹیٹ کے سربراہ کو عوامی غم و غصے کے باعث اس نصاب کو منجمد کرنے کا حکم جاری کرنا پڑا جسے عوام نے مسترد کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ہم جنس پرستی اور سیڈاو جیسے افکار جو پیش کیے گئے، انہیں بھی کلی طور پر مسترد کر دیا گیا۔ سوڈان کے عوام ان سیکولر لوگوں کو ہی ان تمام مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کا سوڈان شکار ہے۔
جہاں تک سوڈان میں نافذ العمل نظامِ حکومت کا تعلق ہے، تو وہ مکمل طور پر سیکولر ہے۔ نظامِ حکومت، معیشت، سیاست، سزاؤں کے قوانین اور ریاست کے تمام شعبوں پر سرمایہ دارانہ نظام چھایا ہوا ہے اور ان میں سیکولرزم سرایت کر چکا ہے۔ وہ عسکری قیادت جسے امریکہ لایا ہے، اس کا کام ہی سیکولرزم کے مطابق حکومت کرنا، یہودی وجود کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور اسلام کو اقتدار کے ایوانوں میں واپس آنے سے روکنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب سوڈان کی تقسیم، دارفور کی علیحدگی اور اسے چھوٹی چھوٹی سیکولر ریاستوں میں بانٹنے کا ایجنڈا بھی شامل کر لیا گیا ہے تاکہ ان پر قابو پانا اور ان کے وسائل کو لوٹنا آسان ہو جائے۔
سوڈان کے مسائل کا حتمی اور بنیادی حل یہی ہے کہ ہم سوڈانی سیاست سے سیکولرزم کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکیں اور اسلامی عقیدے کی جڑوں سے گرد صاف کریں۔ یوں بیج کا اپنی اصل جڑوں سے تعلق قائم ہو جائے گا جس سے ایسا درخت اگے گا جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان تک ہوں گی۔ تب اسلام اپنے تمام قواعد و ضوابط کے ساتھ ایک نظامِ زندگی کی صورت میں واپس آئے گا، جس میں حاکمیت اللہ کی شریعت کے لیے ہوگی نہ کہ عوام کے لیے۔ عوام کے پاس اقتدار ہوگا، وہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک ہی خلیفہ کی بیعت کریں گے، جو صحیح اجتہاد کے ذریعے دستور اور قوانین اپنائے گا، جس کی تفصیلات حزب التحریر نے نہایت وضاحت سے بیان کر دی ہیں۔ اس طرح نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ دوبارہ قائم ہو جائے گی۔




