الإثنين، 13 صَفر 1448| 2026/07/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

یورپی معیشت کس سمت جا رہی ہے؟

 

 

تحریر: استاد نبیل عبد الکریم

 

(ترجمہ)

 

یورپ میں اب یہ سوال زیرِ بحث نہیں رہا کہ معاشی ترقی کی شرح کو کیسے بحال کیا جائے، نہ ہی یہ کہ افراطِ زر کو کیسے کم کیا جائے یا توانائی کے بحرانوں پر کس طرح قابو پایا جائے، بلکہ اب یہ سوال کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے کہ یہ براعظم اپنی صنعتی صلاحیتوں کو کھوئے بغیر اپنی اسٹریٹیجک سلامتی کو کیسے برقرار رکھ سکتا ہے، اور اپنی معیشت کو اس معاشی ماڈل سے دستبردار ہوئے بغیر عالمی مقابلے سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کی خوشحالی کو ممکن بنایا؟

 

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے، یورپی براعظم نے اپنے معاشی ماڈل کی بنیاد تین بنیادی ستونوں پر رکھی تھی: روس سے ملنے والی سستی توانائی، چینی منڈیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات، اور دفاعی معاملات میں امریکہ پر انحصار۔ اس ماڈل نے یورپی صنعت کے فروغ کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کیا، خاص طور پر جرمنی میں، جو سستی توانائی، وسیع بیرونی منڈیوں اور امریکی چھتری تلے حاصل ہونے والے دفاعی استحکام کی بدولت یورپی معیشت کا انجن بن گیا۔

 

لیکن یہ توازن بتدریج بکھرنا شروع ہوا اور پھر روس یوکرین جنگ کے ساتھ انتہائی تیزی سے منہدم ہو گیا۔ یورپ سستی توانائی کے اپنے سب سے بڑے ذریعے سے محروم ہو گیا اور پیداواری لاگت غیر معمولی سطح تک بڑھ گئی، جبکہ چین کے ساتھ معاشی تعلقات اسٹریٹیجک شکوک و شبہات کے دور میں داخل ہو گئے۔ اسی دوران امریکہ محض ایک دفاعی اتحادی کے بجائے ایک ایسے معاشی حریف میں بدل گیا جو یورپی سرمایہ کاری اور صنعتوں کو اپنی سرزمین کی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کے دوران ایک نیا چیلنج یورپی دفاعی صلاحیتوں کی ازسرِ نو تعمیر کی صورت میں سامنے آیا۔ فوجی اخراجات میں طویل عرصے تک کی جانے والی کٹوتیوں اور نیٹو (NATO) پر انحصار نے بہت سی یورپی افواج کو اس اضطراب زدہ حفاظتی ماحول کا سامنا کرنے کے لیے بہت کم تیار چھوڑا ہے۔ اسی لیے یورپی حکومتیں دفاعی بجٹ میں اضافے اور افواج کی جدید کاری اور فوجی صنعتوں کی توسیع کے لیے وسیع پروگرام شروع کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

 

تاہم، یہ دفاعی ضرورتیں ایک انتہائی پیچیدہ معاشی حقیقت سے ٹکرا گئی ہیں۔ براعظم کو بیک وقت اپنی سویلین صنعتوں کو بچانے، ماحول دوست معیشت (گرین اکانومی) کی طرف منتقلی میں مدد دینے، ٹیکنالوجی کی ترقی، جدت طرازی کے فروغ اور امریکہ و چین کے مقابلے میں اپنی مسابقت کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ محدود وسائل، عوامی قرضوں کی بلند شرح اور معاشی ترقی کی سست رفتار کی وجہ سے اب دفاعی اخراجات اور صنعتی شعبہ ایک ہی مالیاتی ذرائع کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل آ کھڑے ہوئے ہیں۔

 

یوں یورپ خود کو ایک ایسی گتھی  کے سامنے کھڑا پاتا ہے جس سے وہ دہائیوں سے ناواقف تھا، یعنی سلامتی کے لیے مضبوط صنعت درکار ہے، صنعت کو خطیر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جبکہ فوجی اخراجات میں اضافہ سویلین معیشت کی مدد کے لیے دستیاب وسائل میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔ اسی وقت، یہ براعظم چین کے لیے اپنی منڈیاں مکمل طور پر بند بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ چینی مصنوعات اور سپلائی چینز پر انحصار کرتا ہے، اور نہ ہی وہ صنعتوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے دی جانے والی بڑی مالی ترغیبات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

 

یہ تضاد محض کوئی عارضی مالیاتی بحران نہیں ہے، اور نہ ہی یہ صرف یوکرین کی جنگ کا براہِ راست نتیجہ ہے، بلکہ یہ عالمی معاشی نظام کے ڈھانچے میں آنے والی ایک گہری تبدیلی کا عکس ہے۔ اب عالمی مقابلہ صرف تجارت کے حجم یا پیداواری لاگت میں کمی سے طے نہیں پاتا، بلکہ اس کا معیار اب یہ بن چکا ہے کہ ریاستیں کس حد تک اپنی صنعتوں کا تحفظ کرنے، اپنی سپلائی چینز کو محفوظ بنانے اور معیشت کو جغرافیائی سیاسی قوت (جیو پولیٹیکل پاور) کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

 

اسی لیے، موجودہ یورپی پالیسیوں کو اسٹریٹیجک  ماحول سے الگ کر کے محض معاشی فیصلوں کے طور پر سمجھنا ممکن نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے یہ ادراک ضروری ہے کہ یورپ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مرحلے میں وہ 'کھلی منڈی کی معیشت' (اوپن مارکیٹ اکانومی) کی منطق سے نکل کر 'قومی سلامتی کی معیشت' کی منطق کی طرف منتقل ہو گیا ہے، جہاں صنعت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاعی اخراجات ایک ایسی وسیع تر جنگ کی باہم جڑی ہوئی کڑیاں بن چکے ہیں جس کا مقصد ایک ایسے بین الاقوامی نظام میں اس براعظم کے مقام و مرتبہ کا ازسرِ نو تعین کرنا ہے جو بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش اور گروہ بندی کی طرف مائل ہے۔

 

آنے والے دن بڑی حیرتوں سے بھرپور ہیں، خاص طور پر معاشی اور جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) محاذوں پر، کیونکہ مستقبل میں ہونے والی تبدیلیاں یقینی طور پر موجودہ حکمران عالمی نظام کی ہیئت کو بدل کر رکھ دیں گی۔ تمام شواہد یہ بتا رہے ہیں کہ یہ نظام روز بروز اپنی قانونی و اخلاقی حیثیت (شرعیت) کھوتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اس پر بڑھاپے اور کمزوری کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اب جیسے ہی کوئی ایسا دوسرای آیڈیالوجی (مبدأ) سامنے آئے گی جس میں قیادت کی صلاحیتیں ہوں گی، وہ اسے روئے زمین سے ختم کر دے گی۔

 

اور اسلامی آیڈیالوجی کے سوا کوئی اور نظریہ ایسا نہیں جو یہ کارنامہ انجام دے سکے، کیونکہ یہی وہ واحد نظریہ ہے جو دنیا کو امن و سلامتی کے ساحل تک لے جانے اور اسے اس معاشی تنگی اور بدحالی سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس میں وہ کئی دہائیوں سے جکڑی ہوئی ہے۔

 

پس عالمی منظرنامے پر اس (نظام) کے ظہور اور اس کے نور و عدل کے پھیلاؤ کے لیے ایسے مخلص اور سچے مردِ مومن درکار ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا ہو، اور جنہوں نے اسلامی زندگی کے دوبارہ آغاز اور خلافتِ راشدہ کے قیام کا پختہ ارادہ کر رکھا ہو، تاکہ رسول اللہ ﷺ کی اس خوشخبری کی تکمیل ہو سکے کہ: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» (پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی)۔

 

اے امتِ مسلمہ کے نوجوانو! آج فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا، ان غدار حکمرانوں اور ان کے کارندوں کا طوق اتار پھینکا، اپنے ملکوں اور وسائل پر مغربی تسلط کو ختم کر دیا اور خلافتِ راشدہ قائم کر لی، تو اللہ کے حکم سے امت کی عزت اور عظمت بہت جلد لوٹ آئے گی۔ پس آگے بڑھو اور اس کے قیام کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کرو، تاکہ ہم اس امت اور پوری دنیا کے لیے خیر و بھلائی لانے میں جلدی کر سکیں۔

 

﴿وَأَلَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاء غَدَقاً

 

"اً اور اگر وہ لوگ (دین کے) راستے پر ثابت قدم رہتے، تو ہم انہیں وافر پانی (رزق) سے سیراب کرتے۔ (سورہ الجن: آیت 16)

 

 

Last modified onاتوار, 26 جولائی 2026 23:57

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک