الإثنين، 13 صَفر 1448| 2026/07/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ اور یورپ کے مابین تعلقات میں بدلتی صورتحال

 

 

تحریر: استاد مصعب عمیر – ولایہ پاکستان

 

(ترجمہ)

 

6 جولائی 2026 کو، برطانوی حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کا ایک اہم مضمون "عالمی نظامِ نو میں برطانیہ کا مقام" کے عنوان سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا: "جیو پولیٹکس   بدل رہی ہے۔ امریکہ عالمی سلامتی کے ضامن کے طور پر اپنے روایتی کردار سے پیچھے ہٹ رہا ہے، اور  برطانیہ سمیت یورپ نے آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے، ہمیں خود کو مزید فعال کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ ہم کوئی بڑی فوجی یا اقتصادی طاقت نہ ہوں، لیکن ہم ایک 'متحد کرنے والی قوت' بن سکتے ہیں،ایک ایسی ریاست جو دوسروں کو اکٹھا کرے اور اجتماعی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ متعین کرے۔"

 

برطانوی وزیر خارجہ کا یہ مضمون وسیع تر یورپی سیاسی حلقوں میں پائے جانے والے اس ماحول کی عکاسی کرتا ہے، جو عالمی نظام کے حوالے سے امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے اثرات پر گہری توجہ دے رہا ہے۔ یہ کئی دہائیوں کے بعد ایک اہم تبدیلی ہے، جو یورپ کے اندر برسوں سے قائم اصولوں اور موقف کے حوالے سے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے درمیان تعلقات یقیناً متعدد مراحل سے گزرے ہیں۔

 

امریکہ اپنی تاریخ کے آغاز میں یورپ سے دور رہا، جب اس نے براعظم امریکہ پر یورپی قبضے کے خلاف بغاوت کی اور 'مونرو ڈاکٹرائن' جیسی حکمت عملیوں کا استعمال کرتے ہوئے بعض علاقوں سے یورپی اثر و رسوخ کو ختم کیا، یا کم از کم اسے محدود کر دیا۔

 

پھر دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ ڈرامائی انداز میں اپنی تنہائی سے باہر نکلا، کیونکہ اس نے اپنی سرزمین پر جنگ کی وجہ سے تھکے ہارے یورپ کے مقابلے میں اپنی  طاقت کا ادراک کر لیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، امریکہ نے 'مارشل پلان' کے ذریعے معاشی انحصار اور 'نیٹو' کے ذریعے فوجی انحصار پیدا کر کے اس موقع کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے کثیر الجہتی اداروں کے زیرِ سایہ ایک کثیر قطبی عالمی نظام میں خود کو ایک غالب طاقت کے طور پر منوا لیا۔

 

سویت یونین کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، امریکہ نے افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں سابقہ یورپی نوآبادیات سے یورپی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے کام کیا، اور خود کو 'آزاد دنیا' کے قائد کے طور پر پیش کیا۔ پھر اس نے روس کو بتدریج کمزور کرنے کے لیے یورپی پلیٹ فارم کا استعمال کیا، حالانکہ کینیڈی اور ان کے ہم منصب خروشیف کے دور میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات میں بہتری (Detente) کا ایک فعال دور بھی گزرا تھا۔

 

سویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ اپنے تسلط کی انتہا کو پہنچ گیا، اور اس نے غیر معمولی  طریقے سے یورپ کی قیادت شروع کر دی، اور اسے اپنے منصوبوں بشمول مسلم ممالک میں اپنی مہمات میں استعمال کیا۔ اسی دوران، اس نے جارحانہ انداز میں یورپی اثر و رسوخ کو بے دخل کرنے کا عمل تیز کر دیا اور پاکستان اور مصر جیسے اہم اسلامی ممالک سے ان کا سیاسی اثر ختم کر دیا۔

 

لیکن امریکہ نے امتِ مسلمہ کے خلاف اپنی جنگوں میں ضرورت سے زیادہ وسعت پیدا کر لی، اور اسے شدید مزاحمت کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کے علاوہ، سرمایہ دارانہ اشرافیہ کی ہوس کے نتیجے میں امریکی ریاست کے اندر معاشی تنزلی کے آثار ظاہر ہونے لگے، جو کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان تنازع کے نتیجے میں 'ڈیپ اسٹیٹ' (Deep State) کی اندرونی تقسیم کی وجہ سے ایک گہرے بحران کی صورت اختیار کر گئے۔

 

امریکہ نے اپنی کمزوری کو بھانپ لیا، کیونکہ اس کے مفکرین نے اس کے زوال کے بارے میں خبردار کرنا شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی صلاحیتوں میں کمی کے باوجود کثیر القطبی عالمی نظام میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش کی، جس کے لیے اس نے بڑی حریف طاقتوں کے درمیان اور ان کے گرد و نواح میں تنازعات کو ہوا دی۔ ان طریقوں میں سب سے نمایاں 'روسی ریچھ' کو مشتعل کرنا اور یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چھیڑنا تھا، جس نے ناگزیر طور پر یورپ کو نقصان پہنچایا۔ یورپی سیاسی فکر کی کمزوری اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ یوکرین پر دباؤ ڈال کر اس تنازع کو جلد ختم کرنے میں ناکام رہی، بلکہ اس نے یوکرین کا ساتھ دے کر ایک فاش غلطی کی، جس سے اس کے اپنے ہی خطے میں ایک تباہ کن جنگ طویل ہو گئی۔ بائیڈن کے دور میں بھی حریفوں کو کمزور کرنے کے لیے تنازعات کو بھڑکانے کا سلسلہ جاری رہا۔

 

ٹرمپ کے آنے کے ساتھ ہی عالمی نظام کو 'یک قطبی' (Unipolarity) کی طرف دوبارہ ڈھالنے کی کوششیں سامنے آئیں۔ حریفوں کو کمزور کرنے کے لیے تنازعات کو ہوا دینے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ 66 کثیر الجہتی اداروں سے امریکہ کی اچانک علیحدگی کے نتائج کا بوجھ بھی انہی حریفوں پر ڈال دیا گیا۔ اب امریکہ دنیا کی قیادت اس طرح کرنا چاہتا ہے کہ اس کے اخراجات دوسرے اٹھائیں۔ وہ اس بات کو قبول کرتا ہے کہ علاقائی اتحاد اور ادارے مضبوط ہوں گے اور نئے ادارے بھی ابھریں گے، لیکن اسے اپنی طاقت پر اتنا بھروسہ ہے کہ ان اداروں کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے وہ اپنا عالمی نظام مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

یورپ اب خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے اور اپنے قدم جمانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، خاص طور پر فوجی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں۔ روس-یوکرین جنگ کے اثرات اور کووڈ-19 کی عالمی وبا کے نتائج سے نڈھال ہونے کے بعد، یورپ غیر مستحکم نظر آتا ہے۔ امریکہ پر کئی دہائیوں کے انحصار کی وجہ سے اس کی سیاسی سوچ بھی کمزور پڑ چکی ہے۔ یورپی طاقتوں میں سے برطانیہ، امریکہ پر اپنے غلط انحصار سے بیدار ہونے کی کوشش کر رہا ہے، اور اپنی تاریخی چال بازیوں کے تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپ کو ایک ایسی نئی راہ پر لے جانے کی کوشش کر رہا ہے جو امریکہ کے مفادات سے میل کھا بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ لیکن برطانیہ اب وہ طاقت نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا، اور اس کی وزیر خارجہ کا بیان اسی آگاہی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یورپ گہرے تاریخی تنازعات کا شکار ہے جو اس کے مکمل اتحاد کے حصول کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

 

مجموعی طور پر، اللہ سبحانہ وتعالیٰ دنیا کے توازن  کو بدل رہا ہے، جس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سے عالمی سیاست (جیو پولیٹکس) کا ایک اہم ترین پہلو، یعنی امریکہ اور یورپ کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیادیں بھی شامل ہیں۔ اس تبدیلی کے مسلمانوں کی موجودہ نسل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، تو امت کو اس کے مفادات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے، اس کی سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہیے اور اس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہیے۔ رہی بات عمومی طور پر یورپ اور بالخصوص برطانیہ کی، تو امت کو ان کے لیے اپنے دروازے بند رکھنے چاہئیں اور ان کے وعدوں کے دھوکے میں ہرگز نہیں آنا چاہیے۔ یورپ نقصان پہنچانے میں امریکہ سے کسی طور کم نہیں ہے اور نہ ہی وہ دینِ اسلام کی دشمنی میں اس سے پیچھے ہے۔ اس لیے، علماء اور دعوت کے علمبرداروں کو چاہیے کہ وہ مسلم ممالک میں یورپیوں اور امریکیوں کے دوروں کے حوالے سے انتہائی بیدار رہیں اور ان کے اصل منصوبوں کو بے نقاب کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ امت کے باشعور فرزندوں کو چاہیے کہ وہ یورپ اور امریکہ کے باہمی تعلقات کی کمزوری سے پیدا ہونے والے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی شریعت کی رہنمائی میں ایک نئی عظیم طاقت تشکیل دی جا سکے۔

 

Last modified onاتوار, 26 جولائی 2026 23:00

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک